Sunday, March 18, 2018

ڈنکرک : مارکیز کا بے بدل ابتدائیہ




وہ ہے، وہی ہے ، ڈنکرک کا ہیرو۔ ٹام ہارڈی کی شان دار اداکاری کے باوجود، ہینز زمییر کے دل میں کھب جانے والے میوزک  کے باوجود، وہی ہے۔ 
 ڈنکرک کی اساطیر
.....................
پیرس سے 150میل دُور، لاکھوں اتحادی سپاہی ڈنکرک کے ساحل زندگی اور موت کے مابین معلق ہیں۔
کسی کو اُن کی جینے کی امید نہیں۔





فقط پانچ منٹ

یہ فلم آپ سے بس یہی تقاضا کرتی.... فقط پانچ منٹ۔
پہلا منظر: ایک جنگ زدہ شہر۔ تباہ حال نہیں، مگر آسیب زدہ۔ اچانک خالی کر دیا گیا۔ اور وہاں برطانوی سپاہیوں کا ایک دستہ... نوجوان سپاہی، جو اُس مشکل سے لاعلم ہیں، جس میں وہ پھنس چکے ہیں... اور .آسمان سے برستے پمفلٹ۔ نازی فوج کے پمفلٹ
یہ ہے پہلا منظر...مارکیز کے کسی ناول کے بے بدل ابتدائیہ جیسا۔ مگر یہ مارکیز کا میجک رئیل ازم نہیں۔ یہ توکوئی اور ہے۔ ایک فسوں گر ، جو اِن پانچ منٹوں میں آپ کو اپنی گرفت میں لے کر ایک ایسی دنیا میں لے جائے گا، جہاں نہ تو رومانس ہوگا، نہ ہی مکالمے، کوئی حسین عورت نہیں۔کوئی وجیہہ مرد نہیں۔ یہاں تک وہ رزمیہ انداز بھی نہیں، جو سپاہیوں کو عظیم سورماؤں کے طور پر پیش کرکے ہمیں گرویدہ بنا لیتاہے۔یہاں تو بے کراں سمندر ہے... بے انت آسمان ہے... وسیع ساحل ہے... سسپنس ہے... اور مسلسل رونما ہوتے واقعات ہیں۔ مسلسل اموات۔ ایک مسلسل جنگ ۔
لاکھوں اتحادی ، زخمی تھکے ہارے سپاہی ساحل پر پھنس چکے ہیں، اور وہ معجزے کے منتظر ہیں۔ 
خوش آمدیددوستو،یہ نولن کی دنیا ہے۔
کرسٹفر نولن کی دنیا۔ نولن، جس کا موازنہ فقط خود سے ہے۔ جو آپ اپنا حریف ہے۔جو ہمیں ایسی تحیر خیز داستانیں دے چکا ہے، جو تنہا ئی ہو یا محفل، جب جب ہمارے دل کے نہاں خانوں میں ہمکتی ہیں، تو ہمیں دنیا و مافہیا سے بیگانہ کر دیتی ہیں۔
یہ فلم ڈنکرک ہے: لاکھوں سپاہی، اتحادی فوج کے سپاہی،برطانوی اورفرانسیسی سپاہی، دوسری جنگ عظیم میں نازی فوج کے ہاتھوں پسپائی کے بعد پیرس سے 150 کلومیٹر دور ڈنکرک نامی بندرگار پر الجھ چکے ہیں۔وہ جینا چاہتے ہیں، گھر جانا چاہتے ہیں، مگر موت توانا ہے، دانت نکوس رہی ہے۔ 
اتحادی فوج کے تعداد میں کم ا مدادی اور جنگی بحری جہازوں پر مسلسل بارود برساتے نازی لڑاکا طیاروں کی موجودی میں جنگی سامان ہر صورت ضایع ہوجائے گا، چرچل کو فقط 30 ہزار سپاہیوں کی زندگی کی امید ہے۔ مگر تاریخ خبر دیتی ہے، اس واقعے میں تین لاکھ سپاہیوں کو بچالیا گیا تھا۔
مگر یہ معجزہ کیسے ہوا؟ 
عام ملاح ، یہاں تک کہ عورتیں اور بچے بھی برطانوی بندرگاہوں سے اپنی چھوٹی چھوٹی کشتیاں لے کر جنگ زدہ، خطرے میں گھرے ڈنکرک کی سمت چل پڑے۔ اپنے بیٹیوں، بھائیوں کو، شوہروں کو بچانے کے لیے،اپنی جان کی پروا کیے بغیر وہ نکل پڑتے ہیں۔ وہ ہمارے سامنے عزم و ہمت کی، جذبات کی بھرمار کے بغیر، ایک یادگار تصور پیش کرتے ہیں۔
نولن کی دیگر فلموں کے مانند یہاں کوئی سپر ہیرو نظر نہیںآتا۔یہاں بدی سے برسرپیکار’’ بیٹ مین‘‘ نہیں ہے۔دنیا کا رکھوالا’’مین آف اسٹیل ‘‘کا سپرمین بھی نہیں،Inception کا خوابوں کی دنیا میں ایک نیا جہاں آباد کرنے والے میرا لیونارڈو بھی نہیں،Interstellar کا انسانیت کو بچاتا خلاباز بھی نہیں،The Prestige کے جادوگر بھی نہیں، یہاں اسکرین پر کوئی طلسماتی، جادوئی، مافوق الفطرت قوت نہیں 
مگر وہ موجود ہے... ہر جگہ... ہر پل، منظر میں... کیمرے کے پیچھے ۔ نولن کی صورت۔
وہ ہے، وہی ہے ، ڈنکرک کا ہیرو۔ ٹام ہارڈی کی شان دار اداکاری کے باوجود، ہینززمیر کے دل میں کھب جانے والے میوزک کے باوجود، وہی ہے، ڈنکرک کی اساطیر۔
اگر107 منٹ دورانیے کی اس فلم کی آئی ایم ڈی بی پر ریٹنگ 8ہے، تو ایسا بے سبب نہیں۔
اگر525.6ملین ڈالر کمانے والی اس فلم کی Rotten Tomatoesپر اوسط93 فی صد ہے، تو ایسا بے وجہ نہیں۔
اگر ناقدین اسے نولن کی بہترین کاوش قرار دے رہے ہیں، تو یہ بے سبب نہیں۔
اگر یہ آسکر کے نام زد ہوئی، تو ایسا بے وجہ نہیں۔ 
میں ایک ایسے شخص کے ساتھ، جو میری طرح فلموں کا دیوانہ ہے، بلکہ مجھ سے زیادہ۔ اور مجھ سے زیادہ سمجھ دار ہے۔اور مجھ سے زیادہ توجہ نولن کی فلمیں دیکھ چکا ہے، بحث کرتا ہوں کہ 2017 کا آسکر ’’دی شیپ آف واٹر‘‘ کو نہیں،’’ ڈنکرک‘‘ کو ملنا چاہیے تھا۔
اس نے نفی میں سر ہلایا۔ کہا: کیا یہ اعزاز کم ہے کہ نولن کی فلم آسکر کے لیے نامزد ہوئی؟ اور پھر کیاڈنکرک Moonlight، Spotlight، Birdman اور12 Years a Slaveفلموں جیسی مہان ہے؟ وہ چار فلمیں، جنھیں گذشہ چار برس میں آسکر ملا؟ 
میں اس سے اختلاف نہیں کرسکتا۔ جن فلموں کا تذکرہ اس نے کیا، وہ بے شک کمال ہیں، لاجواب ہیں، دل موہ لینے والی ہے۔ مگر میں بھی ایک سوال کرتا ہوں،
ایک سادہ سا سوال،
ان دل کش فلموں کے، آسکر جیتنے والی فلموں کے باکمال ہدایت کاروں سے ہم کس قدر واقف ہیں؟ ہم ان کی کتنی فلموں کے گرویدہ ہیں؟
سوال کا جواب ایک اقراری خاموشی ہے۔ 
اور یہی جواب ہے۔
مطالبہ یہ نہیں کہ آسکر دی شیپ آف واٹر کو نہیں، ڈنکرک کو ملنا چاہیے تھا، اور یہ بھی نہیں کہ ہم مذکورہ ہدایت کاروں کے دیگر شاہ کاروں سے لاعلم ہیں، تو وہ کم تر ٹھہرے(لاعلمی فقط جہل کا جوازہے)، نکتہ یہ ہے کہ دیگر باصلاحیت ہدایت کاروں کے برعکس ہم نولن کی بابت، اس کی شاہکار فلموں کی بابت، اس کے جادو کی بابت، اوروں کے مقابلے میں زیادہ جانتے ہیں۔
یہی ہے جواب۔ یہی ہے وہ نکتہ۔ اوریہی ہے حقیقت۔
ہم اسے یوں جانتے ہیں، جیسے کسی عالمی شہرت یافتہ اداکار کو جانتے ہوں ۔ جیسے لیونارڈو کو جانتے ہیں، جیسے ہم ٹام کروز، ٹام ہینکس، کرسچن بیلے، رابرٹ ڈاؤنی جونیر کو جانتے ہیں، جیسے ہم جم کیری اور بریٹ پٹ کو جانتے ہیں۔اور سبب ہے اس کی اثر پذیری۔ جدید سنیما پر اس کا حیران کن اثر۔
یہی ہے اصل نکتہ۔یہی ہے فرق۔
پیرس سے 150میل دُور، لاکھوں اتحادی سپاہی ڈنکرک کے ساحل زندگی اور موت کے مابین معلق ہیں۔
کسی کو اُن کی جینے کی امید نہیں۔ یہاں تک کہ عظیم چرچل کو بھی نہیں۔
وہ سپاہی کسی معجزے کے منتظر ہیں۔
اور تب
منظر میں 
نولن داخل ہوتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: اقبال خورشید

No comments:

Post a Comment