Sunday, March 18, 2018

دی شیپ آف واٹر اور لیونارڈو


ہر اچھی فلم کی طرح اس آسکر یافتہ فلم میں بہت کچھ ایسا ہے، جو بیان نہیں کیا گیا، جو ناظر کو قیاس آرائی پر اکساتا تھا، وہ مرکزی کردار کے ماضی سے متعلق کہانیاں گھڑنے لگتا ہے۔ کہیں یہ تنہا یتیم لڑکی، جوکم سنی میں سمندر کنارے ملی تھی، خود بھی آبی مخلوق تو نہیں؟

تحریر: اقبال خورشید





کچھ دیر کے لیے... فقط کچھ دیر کے لیے اِس بے ہنگم شور سے، اِس غل غپاڑے سے ، بھانت بھانت کی بولیوں سے دُور چلے چلتے ہیں۔
کچھ دیر کے لیے، سینیٹ انتخابات میں ہونے والی شرم ناک خریدوفروخت کو بھول جائیں۔ مغلظات پر مبنی سیاست سے پرے، نہال ہاشمی کی اداکاری اور عدت کے دنوں کا حساب کتاب رکھتی تحقیقی صحافت سے اُدھر، فن کی دنیا کی سمت چلتے ہیں۔ ایک سوہنے دن میں داخل ہوتے ہیں۔فروری 2016 کی ایک صبح میں۔
جب میں گھر سے روانہ ہوا، تب تک شرمین عبید چنائے کے دوسراآسکر جیتنے کی خبر موصول ہوچکی تھی، مگر یہ وہ خبر نہیں تھی، جس کا میں منتظر تھا۔مجھے کسی اور واقعے کا انتظار تھا۔ دفتر پہنچ کر، جب میں دھڑکتے دل کے ساتھ، امیدوں اندیشوں کے ساتھ کمپیوٹر اسکرین آن کرتا ہوں، بی بی سی کی ویب سائٹ پر جاتا ہوں، تب یکدم میرا دل اس مسرت سے ہمکنار ہوتا ہے، جس کے سحر سے میں اب تک لاعلم تھا۔ 
آج سے قبل فروری کی کوئی دوپہر اتنی خوش گوار نہیں تھی، جتنی وہ تھی، جب میں نے اس شخص کو، جو میرے ذہن سے کمل ہاسن اور شاہ رخ خان کی یادیں محور کر دیتا ہے، آسکر ٹرافی ہاتھ میں تھامے دیکھا۔ لیونارڈو ڈی کیپریو،2015 کے بہترین اداکار کا آسکر، فلم The Revenant کے لیے جیت چکا تھا۔وہ لیونارڈو نہیں، جسے دنیا Titanicکی وجہ سے جانتی ہے۔ قطعی نہیں۔ بلکہ وہ جو The Aviator، Blood Diamond اور The Wolf of Wall Street جیسی فلموں کے وسیلے پہلے بھی آسکر کے لیے نامزد ہوچکا تھا، Martin Scorsese جسے باکمال ہدایت کا ر کی فلم Shutter Islandکا لیونارڈرو، وہ فلم، جس کا میں گرویدہ ہوں، جس کی جانب میں وققے سے وقفے سے پلٹا ہوں۔فلم، جسے میں مارکیز کے کسی ناول کی طرح چاہتا ہوں۔
وہ لیونارڈو، جو ہماری نسل کا بہترین اداکار ہے،جو The Great Gatsby، J. Edgar، اور Inception جیسی فلموں سے ہمیں گرویدہ بناتا ہے، اس دوپہر آسکر کی ٹرافی تھامے کھڑا تھا، اور وہی بات کر رہا تھا، جو وہ تسلسل سے کر تا آیاہے:’’ماحولیاتی تبدیلی ایک حقیقت ہے، اوریہ رونما ہورہی ہے!‘‘اور پھر وہ دل میں گھر کر جانے والا جملہ:. Let us not take this planet for granted. I do not take tonight for granted. 
اس حسین لمحے کو بازیافت کرنا، کچھ دیر کے لیے مجھے ان دشنام طرازیوں سے، ان بڑھکوں سے، اس سیاسی انتشار سے دور لے جاتا ہے، جس نے ہمارے آج کو داغ دار بنا دیا ہے۔ایم کیو ایم کی بیزار کن شکست و ریخت، پیپلزپارٹی کی افسوس ناک جوڑ توڑ، ن لیگ کی اداروں پرشتر بے مہار تنقید اور اداروں کی اپنے حدود کی خلاف ورزی۔ اس انتشار سے دُوری ہی بھلی۔
اس برس بہترین فلم کا آسکر جیتنے والی فلم The Shape of Water دیکھنے بیٹھا،تو خواہش یہی تھی کہ اس کھوکھلی دنیا سے کچھ فاصلہ اختیار کیا جائے۔ پانی میں اترا جائے،اس پانی کی ساخت کو پرکھا جائے۔
یہ فلم معروف میکسیکن ہدایت کار Guillermo del Toro کی کاوش ہے، جس نے باصلاحیت اداکارہ Sally Hawkinsکے اردگرد ایک فینٹسی ڈراما تشکیل دیا ہے۔یہ 1960 کی دہائی ہے، جہاں ایک گونگی ،یتیم لڑکی، جس کی گردن پر زخم کے پراسرار نشان ہیں، اپنے اپارٹمنٹ میں تنہا رہتی ہے۔وہ ایک خفیہ حکومتی لیبارٹری میں صفائی ستھرائی کا یکسانیت سے پُر فریضہ سرانجام دیتی ہے۔ اس کی زندگی سیدھی سادی اوربے معنی ہے۔مگرپھر... ایک روز وہاں،اس لیبارٹری میں ایک عجیب و غریب مخلوق کولایا جاتا ہے۔ انسانوں جیسی مچھلی نما آبی مخلوق، جسے جنوبی امریکا کے گہرے پانیوں سے پکڑا گیا ہے۔ مخلوق جس کی وہاں پرستش کی جاتی تھی۔اوروں کے برعکس، جو اُس سے دور رہتے ہیں، اس گونگی، تنہا لڑکی کی اُس مخلوق سے دوستی ہوجاتی ہے، جو جلد اتنی گہری انسیت میں تبدیل ہوجاتی ہے کہ وہ بے حیثیت لڑکی سسٹم کے خلاف جا کر اُسے آزاد کروانے کی کوشش کرتی ہے، اور اسی کوشش سے وہ جذبہ جنم لیتا ہے، جو ازل سے انسان کو گرویدہ بنائے ہوئے ہے، یعنی محبت۔ اور محبت سے جڑے وہ لطیف مناظر، جنھیں ہم برسوں سے دیکھتے آئے ہیں، مگر وہ آج بھی تازہ معلوم ہوتے ہیں۔ 
میں توقع کر رہا تھا کہ اس برس بہترین فلم کا ایوارڈ Dunkirk کو ملے گا۔ کرسٹفر نولن کی Dunkirk کو، جسے کچھ ناقدین اس بے بدل ہدایت کار کی بہترین فلم گردانتے ہیں،مگر یہ ایوارڈThe Shape of Water کے حصے میں آیا۔ ایک فینٹسی فلم کے حصے میں، بلکہ مجھے کہنے دیجیے: میجک رئیل ازم کے حصے میں۔ فلم، جہاں ایک اساطیری مخلوق کی موجودی کو بنا کسی اچنبھے کے قبول کرلیا جاتا ہے، جہاں ایک لڑکی کے اس کی محبت میں گرفتار ہونے پر ہمیں قطعی حیرت نہیں ہوتی، اور یہاں تک کہ آخر میں اس لڑکی کے زمین کو ترک کے آبی زندگی اختیار کرنے پر بھی ہم نہیں چونکتے۔اس فلم میں حیرتیں زندگی کا حصہ ہیں۔اور ہدایت کار کی یہی کامیابی تھی کہ اس نے بظاہر ایک محیر العقول واقعے کو، غیرفطری صورت حال کو اس خوبی سے منظر کیا کہ وہ ہمیں قابل یقین اور قابل قبول ہی نہیں دل آویز بھی لگنے لگی۔
ہر اچھی فلم کی طرح اس فلم میں بہت کچھ ایسا ہے، جو بیان نہیں کیا گیا، جو ناظر کو قیاس آرائی پر اکساتا تھا، وہ مرکزی کردار کے ماضی سے متعلق کہانیاں گھڑنے لگتا ہے۔ کہیں یہ تنہا یتیم لڑکی، جوکم سنی میں سمندر کنارے ملی تھی، خود بھی آبی مخلوق تو نہیں؟ کہیں اس کے زخموں کے نشانات گلپھڑے تو نہیں؟ کیا یہی وجہ ہے کہ وہ آبی مخلوق کے عشق میں مبتلا ہوجاتی ہے ؟کیا یہی وجہ ہے کہ فلم کے ایک دل کش منظر میں ہم اُسے سہولت سے زیر آب سانس لیتے ہوئے دیکھتے ہیں؟
کیا یہ Dunkirk سے بہتر فلم ہے؟ کیا اِسی فلم کو آسکر ملنا چاہیے تھا؟ میں یہ نہیں کہوں گا، لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ یہ ایک خوبصورت کاوش ہے، تحیر کو لطیف پیرائے میں، محبت میں گوندھ کر پیش کرنے والی کاوش،جسے ایک بار بہ ہرحال دیکھنا چاہیے۔
اور یوں بھی جہاں جھوٹے وعدوں کی گونج ہو، کھوکھلے دعووں کی دھمک ہو، جہاں ایک دوسرے پر کیچڑا اچھالنے کا نام سیاست اور اس کیچڑ کو سیاہی بنانے کا نام صحافت ہو، جہاں مذہب کاروبار بن جائے، اور کاروبار مذہب، وہاں سے کچھ لمحوں کے لیے دُور ہوجانا ہی بہتر ہے۔


No comments:

Post a Comment