Sunday, February 25, 2018

فلم ’’پری‘‘:کیا سیدعاطف علی کا جواکامیاب رہا؟ فلم ریویو

تحریر اقبال خورشید

کراچی کے مشہور زمانہ کیپری سنیما میں فلم کا پریمیر دیکھتے ہوئے میرے ذہن میں تمام اندیشے تھے، مگر جب لائٹیں بجھ گئیں، اسکرین روشن ہوئیں، تو میں کرداروں کے ساتھ ساتھ، تجسس کا ہاتھ تھامے آگے بڑھنے لگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب عاطف نے فلم بنانے کا اعلان کیا، تو اندیشوں پر ہماری نیک تمنائیاں غالب تھیں۔ فلم بننا شروع ہوئی... بنتی رہی... پہلے پوسٹر آیا، پھر ٹریلر(اور ٹریلر متاثر کن تھا)پھرریلیز کی تاریخ، مگر پھر... جانے کیا ہوا، ریلیز کی تاریخ بدل گئی۔

 

 

یہ ایک ایسی فلم کا تذکرہ ہے، جس کی بابت ناقدین اور ناظرین کو یقین تھا کہ یہ تین دن میں سنیما سے اتر جائے گی۔

تین ہفتے بعد جب فلم کا ہدایت اپنے آبائی شہر حیدرآباد پہنچا، تو فلم کو ریلیز ہوئے تین ہفتے بیت چکے تھے اور یہ اب بھی سنیما پر لگی ہوئی تھی۔

ویسے یہ اندیشے غیرمتوقع نہیں تھے ۔ فلم کا جو genre ہے، یعنی ہارر، پاکستان میں اس کا ماضی اور حال دونوں مخدوش ۔ اور یوں بھی جہاں فلم انڈسٹری تجدید کے عمل سے گزر رہی ہو، گو حمزہ علی عباسی کا اصرار ہے کہ تجدید ہو چکی ہے، لیکن ہم حمزہ سے جذباتی اور غیرضروری قطعیت پسند تو نہیں...وہاں تو یہ فیصلہ سراسر جوا ہے۔

جانے سید عاطف علی کے ذہن میں کیا سمائی کہ انھوں نے ایک ہارر فلم بنانے کی ٹھان لی۔

ان صاحب کا بہ طور اسکرپٹ رائٹر اپنے پیشہ ورانہ سفر میں ہم نے ایک انٹرویو کیا تھا،جو دوستانہ تعلق کی بنیاد بنا، اور جب عاطف نے فلم بنانے کا اعلان کیا، تو اندیشوں پر ہماری نیک تمنائیاں غالب تھیں۔ فلم بننا شروع ہوئی... بنتی رہی... پہلے پوسٹر آیا، پھر ٹریلر(اور ٹریلر متاثر کن تھا)پھرریلیز کی تاریخ، مگر پھر... جانے کیا ہوا، ریلیز کی تاریخ بدل گئی۔

ریلیز تاخیر کا شکار ہوئی۔

بالآخر جب رواں سال فروری میں فلم ریلیز ہوئی، تو اسے دیگر فلموں کی طرح کسی نیوز چینل کی بہ طور میڈیا پارٹنر معاونت حاصل نہیں تھی۔ یہ افسوس ناک تھا، مگر قابل فہم تھا۔ فلم میں کوئی بڑا اسٹار نہیں تھا، عاطف ایک نیا نام تھا، بجٹ کم تھا۔

کراچی کے مشہور زمانہ کیپری سنیما میں فلم کا پریمیر دیکھتے ہوئے میرے ذہن میں تمام اندیشے تھے، مگر جب لائٹیں بجھ گئیں، اسکرین روشن ہوئیں، تو میں کرداروں کے ساتھ ساتھ، تجسس کا ہاتھ تھامے آگے بڑھنے لگا۔

یہ سفر دو گھنٹے پندرہ منٹ پر نکلا۔

اور یہ ایک پریشان کن پہلو تھا۔

بھارتی ہاررفلم بنائیں، یا انگریزی، وہ دورانیہ مختصر رکھتے ہیں۔ اگر یہ فلم بھی پونے دو گھنٹے میں نمٹ جاتی، تو اس کے مثبت پہلوؤں کے اثرات زیادہ دیر پا ہوتے۔ آئیں، آغاز کرتے ہیں۔

کیا فلم میں کوئی خوبی تھی؟

ہارر فلم میں سسپنس اہم ترین عنصر ہے، جسے ’’پری‘‘ میں موزوں انداز میں برتا گیا ہے، بالخصوص فلم کے انٹرول میں یہ اوج پر پہنچ جاتا ہے۔ البتہ فلم کی طوالت کی وجہ سے کچھ مراحل پر اس کا لطف گھٹ بھیجاتا ہے۔

فلم کی لوکیشنز دل موہ لینے والی ہیں۔ انھیں بڑی خوبی سے فلمایا گیا۔ وہ فلم کے تقاضوں سے مطابقت رکھنے والا ماحول تشکیل دینے میں کامیاب نظر آئے۔

عام طور پر ہارر فلموں اختتام کے لیے مذہبی فارمولا برتا جاتا ہے، اور ایسا ہالی وڈ اور بالی وڈ میں یکساں ہوتا ہے، بدی کے خلاف نیکی کی طاقت، وظائف، عمل،جنتر منتر۔ پری میں بھی یہی کلیہ اختیار کیا گیا، جو ہر جگہ کیا جاتا ہے، مگر اسے متوازن انداز میں برتا گیا، جس کا جتنا شکر ادا کیا جائے، کم ہے۔

کیا فلم کے چند منفی پہلو بھی ہیں؟

کسی بھی فلم کی طرح، پری میں بھی جھول ہیں۔ کہانی کہیں کہیں ادھوری لگتی ہے۔ یوں لگتا ہے، کوئی ابتدائی حصہ ایڈیٹنگ میں گم ہوگیا۔ اسی طرح جب کہانی کھلتی ہے، تو چند بنیادی سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔ہم یہ نہیں سمجھ پاتے کہ وہ درخت، جو بار بار ہمیں دکھائی دیا، یا وہ بدروح،جو متعدد سینز میں موجود تھی، وہ اس کہانی سے کیا تعلق رکھتے ہیں۔

اداکاروں کے مابین موجود کشیدگی بھی یہی احساس دلاتی ہے۔جب ہمارے سامنے فساد کی وجہ آتی ہے، تب بھی ہم سوچ میں پڑ جاتے ہیں۔ (ویسے اس میں مضایقہ نہیں،سوچنا ویسے بھی صحت کے لیے فائدہ مند ہے)

طوالت بلاشبہ فلم کا منفی پہلو ہے،جس پر پہلے بھی بات ہوچکی ہے۔

میوزک اور اداکاری کو کس کیٹیگری میں رکھیں گے؟

یہ ایک مشکل سوال ہے۔ جہاں اداکار کچھ حصوں میں ہمیں متاثر کرتے ہیں، وہیں چند مناظر میں ہم بہتری کی خواہش بھی خود میں پاتے تھے۔البتہ دونوں شعبہ کمزور خانے میں تو نہیں رکھے جاسکتے۔ سو ان کے لیے ایک الگ کیٹیگری وضع کر لی ہے۔کیٹیگری، جہاں بہتری کی گنجایش ہے۔

حروف آخر:

چند ایسی کمزوریوں کے باوجود، جنھیں بہ طور فلم بین نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، پری ایک اچھی کوشش ہے۔ اس کے ذریعے فلم کے ہدایت کار نے وہ کام کر دکھایا، جسے کرنے کے لیے پاکستان میں کوئی اور تیار نہیں تھا، ایک ہارر فلم بنا کر اسے ریلیز کرنا اور فلمی سرکٹ کو اپنی موجودی کا احساس دلانا۔فلم کی ہدایت کاری کا شعبہ سب سے مضبوط ہے۔چند مناظر اتنی گرفت اور اثرانگیزی کے ساتھ فلم بند کیے گئے ہیں کہ فلم دیکھنے والے پر تادیر اپنا اثر قائم رہتا ہے۔

جیسے کسی اچھے ناول نگار کی اولین کتاب میں اس کے روشن مستقبل کے امکان دیکھے جاسکتے ہیں، ایسے ہی پری سے ہمیں خبر ملتی ہے کہ ایک باصلاحیت ہدایت کار میدان میں قدم رکھ چکا ہے۔

یہ فلم سازی کے شعبے سے جڑے افراد کے لیے بھی چیلنج ہے، انھیں اب نہ صرف ہارر فلم بنانی پڑے گی کہ اس سے مفر نہیں، بلکہ پری سے بہتر فلم بنانے ہوگی۔

یوں لگتا ہے کہ سید عاطف علیم اس جوئے میں کامیاب ٹھہرے ہیں۔

No comments:

Post a Comment