Wednesday, February 21, 2018

امرتا، جو کسی اور جہاں کی تھی، تحریر: آمنہ احسن


وہ اکیلی نہیں آتی، آہی نہیں سکتی۔ ساحر کی یادیں ساتھ لاتی ہے ۔ امروز کی پینٹنگ ہاتھ پکڑے رکھتی ہے ۔ وہ آپ کو چاند دیکھنا سیکھاتی ہے، رتجگاں کیا شے ہے یہ جاننا ہے تو امرتا کو پڑھ لیجئے



 امرتا کے بارے میں پہلی بار تب لکھا تھا جب اس کی نظم " آج آکھاں وارث شاہ نو " پڑھی تھی۔ اس نظم کو پڑھ کر لگا " ارے یہ تو میرے لئے لکھی گئی ہے، آس پاس موجود مجھ جیسی ہر صورت کے لئے لکھی گئی ہے" ۔ اس نظم کا سحر ایسا چڑھا کتنے دن اترا ہی نہیں ۔۔ پھر رسیدی ٹکٹ پڑھی ۔ دوسروں کا پتہ نہیں ، لیکن میں نے اس کتاب کو آہستہ آہستہ پڑھا ، مجھے محسوس ہوتا ہے اسے ایسے پڑھنے میں جو لطف ملتا ہے ، یہ کتاب جب آہستہ آہستہ آپ کے اندر اترتی محسوس ہوتی ہے ، اور اس کتاب کے ساتھ ساتھ، تھوڑی تھوڑی امرتا بھی آپ کی روح میں اترتی ہے تو جیسا محسوس ہوتا ہے وہ لکھ پانا ممکن نہیں ۔ جیسے جیسے آپ کتاب کو پڑھتے چلے جاتے ہیں ، امرتا کی موجودگی آپکی زندگی میں بڑھتی جاتی ہے ۔۔۔ ایسا لگتا ہے اپنی" آپ بیتی" لکھتے لکھتے امرتا آپ کے سامنے آ بیٹھی ہے ۔ وہ اکیلی نہیں آتی، آ ہی نہیں سکتی۔ ساحر کی یادیں ساتھ لاتی ہے ۔ امروز کی پینٹنگ ہاتھ پکڑے رکھتی ہے ۔ وہ آپ کو چاند دیکھنا سیکھاتی ہے، رتجگاں کیا شے ہے یہ جاننا ہے تو امرتا کو پڑھ لیجئے، رسیدھی ٹکٹ پڑھ لیجئے۔ 

 ابھی امرتا اور میں مل کے بیٹھے ہی تھے  کہ اچانک اما ترلوک کی لکھی " امرتا امروز ایک پریم کتھا " پڑھنے کا موقع ملا ۔ اما نے اتنی خوبصورتی سے امرتا کے لئے لکھا ، امروز کے لئے لکھا کہ امرتا اور امروز کے ساتھ ساتھ مجھے اما سے بھی محبت ہو گئی۔ بس ایک بات دل کو لگی ، رسیدی ٹکٹ کی ساری دنیا گھومنے والی ، ہر شہر جا، جا کر مشاعروں میں اپنا لکھا پڑھتے پڑھتے امرتا بوڑھی بھی ہو گئی اور بیمار بھی ۔۔ اما نے جس امرتا کو ہم سے ملوایا ، وہ کمزور ہو چکی تھی ، کہیں کہیں اس کی ہمت جواب دیتی محسوس ہوتی تھی ۔۔ کچھ نہ بدلہ تھا تو وہ تھا امروز ، اس نے وعدہ کیا، ایک خاموش وعدہ کہ اب کچھ بھی ہو جاۓ وہ امرتا کا ساتھ دے گا اور اس نے دیا ۔ ایک وقت ایسا آتا ہے جب امرتا کے پاس سواۓ امروز کے کوئی نہیں، لیکن امروز کی ثابت قدمی کو داد دینے کو جی چاہتا ہے، وہ ساحر کو پاگلوں کی طرح چاہنے والی امرتا سے ایسی محبت کر بیٹھا کہ اس کے لئے پورے سماج سے ٹھکر لے لی۔ 

ایک پل، ایک لمحہ بھی پیچھے ہٹنے کا سوچا بھی نہیں۔ امروز نے اس راہ پر پہلا قدم رکھا اور پھر مڑ کر دیکھا ہی نہیں ، دیکھتا تو شاید واپسی کا سوچتا لیکن وہ تو اس محبت میں ایسا گم ہوا کہ کبھی مڑنے کا سوچ ہی نہ سکا ۔ امروز آپ کو بتاتا ہے کہ جب مرد محبت کرنے پر آئے تو ایسی بھی کر سکتا ہے ۔ نبھانے کا فیصلہ کر لے تو اس سے زیادہ ثابت قدم کوئی نہیں ہوتا ۔ اپنی نظموں اور آپ بیتی سے ہمارے دل میں گھر کرنے والی امرتا کہانیاں اور افسانے بھی بے حد خوبصورت لکھتی تھیں ۔۔۔ ان کے افسانوں کی ایک کتاب طاہر منصور آفاق نے ترتیب دی ہے۔

 یہ افسانے اور کہانیاں آپکو محبت کرنا سیکھاتے ہیں ۔۔ امرتا کو لکھنا آتا ہے وہ جانتی ہے پڑھنے والا کیا پڑھنا چاہتا ہے ۔ وہ اس گھٹن بھرے ماحول میں محبت کا مقدمہ رکھتی ہے اور بار بار رکھتی ہے ۔ وہ محبت پر اتنی بات کرتی ہے کہ آپ کو محبت پر یقین ہونے لگتا ہے ۔ ان افسانوں کو پڑھتے پڑھتے آپ خود کو امرتا کے افسانے کا کوئی کردار سمجھنے لگتے ہیں ۔ اور لطف کی بات یہ ہے کہ جیسے جیسے آپ اس کتاب کو پڑھتے ہیں ، ہر افسانے ، ہر کہانی کے شدید محبت میں مبتلا کردار میں آپکو اپنا عکس نظر آنے لگتا ہے ۔ امرتا ہمیں جذبوں سے متعارف کرواتی ہے ۔ امرتا بتاتی ہے کہ سامنے بیٹھے انسان سے ایک لمحے میں ،فقط ایک لمحے میں آپکو محبت ہو سکتی ہے ۔ ایسی محبت جو آپ میں ایسے رچ بس جاۓ کہ کہ آپ اسے کبھی خود سے الگ نہ کر پائیں۔

 امرتا سیکھاتی ہے کہ ٹوٹ کے محبت صرف عورت نہیں مرد بھی کرتا ہے ، وہ مرد اور عورت کو ایک ترازو میں رکھتی ہے ، ہمیں بتاتی ہے کہ دونوں ہی جذبات سے بھرے ہیں ، دونوں تکلیف میں رونے کا حق رکھتے ہیں ، دونوں کا دل خوشی میں ناچنے کے لئے مچلتا ہے، دونوں ہجر میں جلتے ہیں اور وصل کی خواہش بھی دونوں میں موجود ہوتی ہے۔ 

 امرتا کو پڑھتے پڑھتے آپ کو احساس ہوتا ہے کہ امرتا اپنے کرداروں کو صرف لکھتی نہیں بلکہ جیتی ہے ۔ اور جب آپ ان کرداروں کو پڑھتے ہیں تو وہ آپ میں سانس لیتے ، آپ کے اندر جینے لگتے ہیں ۔ مانا کہ امرتا اس جہاں میں اب نہیں لیکن اسے پڑھتے پڑھتے احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنے لکھے کرداروں میں زندہ ہے اور بہت بھرپور سے زندہ ہے۔

 اتنی زندہ جتنے ہم چلتے پھرتے اور سانس لیتے زندہ نہیں ہیں ۔ امرتا کی بنائی دنیا خوبصورت ہے ، اس میں رنگ ہیں ، جذبات ہیں ، حقیقت ہے اور خواب بھی ۔ لیکن اچھی بات یہ ہے کہ اس دنیا میں صرف خواب نہیں ہیں بلکہ خوابوں کو پورا کرنے کی امنگ اور لگن بھی ہے ۔ امرتا ایک الگ جہاں کی تھی ، جو خود تو چلی گئی لیکن وہ جہان ، وہ سوچ اور وہ ڈھیر ساری رجائیت ہمیں دے گئی ۔ اب بس اسکا ہاتھ تھام کر پہلی سیڑھی پر قدم رکھنے کی دیر ہے ۔ پھر امرتا کا بنایا خوبصورت جہان ہوگا اور ہم ۔۔۔۔

.............................................................................................................

بلاگر آمنہ احسن ماس کمیونیکیشن میں گریجویٹ ہیں، کتابیں پڑھنے کی شوقین ہیں۔ اور ان کا کہنا ہے کہ سیاست دانوں سے پہلے عوام کو احتساب کی ضرورت ہے۔

 

 

 

No comments:

Post a Comment