Saturday, December 2, 2017

تین طلاقیں، تین سال سزا

 ہندوستان میں ایک قانون کا مسودے زیرغور ہے، جس کے تحت تین بار طلاق کہہ کر طلاق دینے والوں کو تین سال قید کی سزا دی جا سکے گی۔

اس قانونی مسودے میں قید کے ساتھ جرمانے اور عورت کے لیے معاوضے کا بھی ذکر ہے۔

 

مسودے کو صلاح مشورے کے لیے ریاستی حکومتوں کو بھجوا دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ مسلمان مرد تین بار طلاق کہہ کر یا ای میل کے ذریعے یا ایس ایم ایس کے ذریعے پیغام بھجوا کر بیوی کو طلاق دے سکتا ہے۔

اگرچہ انڈیا کی سپریم کورٹ نے رواں سال اگست میں اس کو غیر آئینی قرار دے دیا تھا لیکن اطلاعات کے مطابق انڈیا مسلمانوں میں اس طریقے سے طلاق اب بھی دی جا رہی ہیں۔

اس نئے قانون کے تحت تین بار طلاق کہہ کر طلاق دینے پر پابندی ہو گی اور ماہانہ معاوضے کی ادائیگی کے ساتھ بچوں کو سپرد کرنے کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے اعلیٰ اہلکار کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ طریقہ کار اس لیے وضع کیا گیا ہے تاکہ جب شوہر بیوی کو گھر چھوڑنے کا کہے تو اس کو قانونی سہارا حاصل ہو۔

اس مسودے کے تحت تین بار طلاق کہہ کر طلاق دینا ناقابل ضمانت جرم ہو گا۔ طلاق ای میل کے ذریعے یا ایس ایم ایس کے ذریعے کہنے کی بھی ممانعت ہو گی۔

 

No comments:

Post a Comment