Wednesday, December 20, 2017

ایک فکشن نگار اور ایک نقاد کا ”پیچھا کرتی آوازیں“: نعیم بیگ کے افسانوں پر ایک مکالمہ

اقبال، مجھے افسانوں کا یہ مجموعہ پڑھتے ہوئے ایک بات کا بڑی شدت سے احساس ہوا، یہ کہ، مصنف اس معاشرے کے اُن پڑھے لکھے لوگوں کی کہانیاں لکھتا ہے جو اس خطے کی جہالت پر مبنی روایات و نفسیات میں اب بھی بری طرح جکڑے ہوئے ہیں۔ اس بری طرح کہ المیے تک رونما ہوجاتے ہیں۔ مصنف کو اب بھی معاشرے کے لوگوں میں روشن خیالی کی تلاش ہے اور اُس کے لیے فن افسانہ نگاری اسی کوشش کا ایک ٹول ہے: رفیع اللہ میاں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

اقبال خورشید

برادرم، ایسے حالات میں جب سائبیریا سے آتی ہوائیں روشنیوں کے شہر پر یلغار کر رہی ہیں، اور میں مکان کی بالائی منزل پر ہونے کے باعث ان کی براہ راست زد پر ہوں، اور سن اکہتر کے سولہ دسمبر کے، جب مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہوا، اور دوہزار چودہ کے سولہ دسمبر کے، جب آرمی پبلک اسکول میں قیامت اتری، کے زیر اثر ہوں، جس سے یخ بستہ اداسی جنم لیتی ہے، تومناسب یہی ہے کہ میں چپ چاپ فکشن کی دنیا میں داخل ہوجاو ¿ں، اور اس کتاب کو اسی تجسس سے زیر بحث لائوں جیسے ہم ایکسپریس سے وابستگی کے دنوں میں کیا کرتے تھے۔
جیسے کہ تمھیں علم ہے، گذشتہ دنوں مجھے بے ملازمت ہونے کا کرب سہنا پڑا، اور یہ دوہرا عذاب تھا کہ اس نے توقع کے برعکس مجھے بے کار سے زیادہ مصروف کر دیا، اور میں نے ایسی بہت سی اوکھلیوں میں سر دے دیا ،جو میرے لیے یکسر اجنبی تھیں، تو ایسے میں تمھارے ذریعے مجھ تک جناب نعیم بیگ کا افسانوی مجموعہ ’پیچھا کرتی آوازیں‘ پہنچا۔ اور آج جب ہم اس پر بات کررہے ہیں، اس وقت تک میں ان کے ناول کا بھی چرچا سن رہا ہوں۔
جب میں نے کتاب کھولی تو کتاب کے فلیپ اور اندرونی صفحات پر موجود آرا کو آخر میں پڑھنے کا فیصلہ کیا۔ گویہ دشوار تھا کہ اس میں پیغام آفاقی اور نسیم سید، فرخ ندیم اور ڈاکٹر اقبال حسن آزاد جیسے نام تھے، اور سیدھا کتاب کے اولین افسانے ’لکڑی کی دیوار‘ تک جا پہنچا جس کا عنوان کہانی کے موضوع کے لحاظ سے مجھے بڑا موزوں معلوم ہوا۔ اور پھر میں پہنچا ’باو ¿نڈری لائن‘ پر اور پھر ’تسخیر‘ ، ’ڈیپارچر لاو ¿نج‘ اور دیگرپر۔
 سچ تو یہ ہے کہ میں نے ان کے افسانے تسلسل کے ساتھ پڑھے کہ وہ مختصر تھے، گنجلک نہ تھے، اور ان پر کہانی پن غالب تھا۔

 

رفیع اللہ میاں

میرا ماننا ہے کہ تنقید کا آغاز اسی وقت ہوجاتا ہے جب کوئی کسی قسم کی تحریر لکھنا شروع کرتا ہے اور پہلا لفظ یا جملہ لکھ دیتا ہے۔ مجھے خوشی ہوئی کہ تم نے کتاب پر بات شروع کرنے سے قبل ذاتی، موسمی اور مقامی تاریخی نکات کی طرف اشارہ کیا ،جو یقینا آگے جاکر کسی نہ کسی طرح متن زیر بحث سے جڑ سکتے ہیں، کیوں کہ فاضل مصنف مقامی اور عالمی سیاسی، ثقافتی، جغرافیائی حالات میں گہری دل چسپی رکھتے ہیں اور ان کی یہ دل چسپی ان کے ادبی متون میں منتقل ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ تو کہنا یہ ہے کہ جب ہم سولہ دسمبر (آج پھر یہی دن ہے) اور مشرقی پاکستان کا ذکر کریں، تو ہم موجودہ حقیقت سے خود کو کسی طور کاٹ نہیں سکتے اور اگر اپنی لکھت میں ہم اس سے گریز کرتے ہیں، تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ ہم ایک مخصوص معنی پر اپنا اجارہ قایم کرنا چاہتے ہیں ،جو موجودہ حقیقت نہیں ہوتی۔ سو، آج کی موجودہ حقیقت کا نام بنگلا دیش ہے۔
چوں کہ ہمارے درمیان ادب پر مکالمہ ہوتا ہے، اس لیے ہم نے یہ گنجایش رکھی ہے کہ اپنی توجہ متن کے علاوہ کچھ دوسری متعلقہ چیزوں کی طرف بھی مبذول کرلیتے ہیں۔ تو، تم نے جو آخری بات لکھی ہے تحریر کی سادگی کے حوالے سے، اس سلسلے میں نعیم بیگ سے میری گفتگو ہوئی ہے، وہ تحریر کو بالکل سادہ رکھنا چاہتے ہیں، تاکہ قارئین اسے پڑھ اور سمجھ سکیں۔ ایسا ادبی متن کس کام کا، جسے عام قاری پڑھتے ہوئے ہچکچائے یا پریشان ہوجائے اور نظر انداز کرنا شروع کردے۔ دراصل وہ ادبی متن کو تو حتی الامکان حد تک سادہ رکھتے ہیں ،لیکن جو اہم اور قابل ذکر بات ہے، وہ عالمی و مقامی سیاسی و سماجی حالات سے کشید کردہ فکر کو کہانی پڑھنے کی خواہش رکھنے والے قاری تک پہنچانا ہے۔ چناں چہ وہ اگر کہانی نہ لکھتے تو سیاسی و سماجی مضامین لکھتے ،لیکن چوں کہ وہ خود شروع سے کہانی کے قاری ہیں،انگریزی ادب پڑھتے ہیں،تو کہانی لکھنا بھی جانتے ہیں۔ کہانی لکھنا جانتے ہیں تو کہانی کیوں نہ لکھیں؟
چناں چہ ناول سے ہٹ کر وہ افسانوں پر مبنی دو مجموعے شایع کراچکے ہیں۔
یہاں میں قرا ¿ت کے سلسلے میں ایک اہم مسئلے کو مذکور کرنا چاہوں گا کہ، اب ادب کے قارئین اور پاپولر فکشن کے قارئین کے درمیان خلیج بہت وسیع ہوچکی ہے۔ ادب کے قارئین میں ایک قابل ذکر تعداد خود ادیبوں کی ہے۔ یہ تحریر میں نت نئے تجربات کررہے ہیں اور انھیں دوسروں سے بھی یہی توقع ہوتی ہے اور یہ نئے تجربات پر مبنی ادبی متون کو پسند کرتے ہیں اور اسے ہی اچھا ادب مانتے ہیں۔ اس سے مجھے لگتا ہے کہ ادب کا پھیلاو محدود ہوجاتا ہے۔ میں یہ تو تسلیم نہیں کرتا کہ ادبی متن غیر ادبی متن سے برتر ہے، لیکن یہ مانتا ہوں کہ ادبی متن اپنے دائرہ کار میں بڑی اہمیت رکھتا ہے اور ادبی متن جتنا زیادہ ادبی ہوتا ہے، اتنا ہی اہم بھی ہوجاتا ہے۔ لیکن سوال تو یہ ہے کہ کیا ہم اسے پاپولر فکشن پر برتر قرار دے سکتے ہیں؟
بالکل بھی نہیں۔ بات تھوڑی سی طویل ہوجائے گی، لیکن یہ ضروری بھی ہے اس لیے اقبال خورشید، اسے برداشت کرنا پڑے گا۔ ہمارا معاشرہ تیزی سے ایسے حالات سے دوچار ہورہا ہے جہاں اب ممنوعہ ساختیں کسی نہ کسی سطح پر ڈی کنسٹرکٹ ہونے لگی ہیں ،خواہ ان کا تعلق مذہبی ساختوں سے ہو یا سماجی یا نام نہاد قومی سلامتی کے ساتھ۔ چناں چہ برتری کا وہ زہر جو ہمیں اندر سے کھوکھلا کرچکا ہے، اب سوالات کی زد پر ہے۔ یہ نکتہ سمجھنے کا ہے کہ ادبی متن کی اہمیت اسی کے اندر ہے۔ اسی طرح پاپولر فکشن کی اہمیت بھی خود اس کے اندر ہے۔ یعنی پاپولر فکشن جتنا زیادہ پاپولر خواص رکھتا ہو اور فکشن جتنا زیادہ فکشن کے خواص رکھتا ہو، وہ اتنا ہی اہم پاپولر فکشن ہے۔ پاپولر فکشن کو ادب ڈی کنسٹرکٹ نہیں کرسکتا، بلکہ یہ خود کو خود ہی اندر سے ڈی کنسٹرکٹ کرسکتا ہے۔
اب میں نعیم بیگ کی کتاب ”پیچھا کرتی آوازیں“ کی طرف آتا ہوں۔ ہم اس کی سادہ زبان کو دیکھتے ہوئے اسے پاپولر فکشن میں شامل قرار دے سکتے ہیں، لیکن دوسری طرف اس کے پلاٹ کی ہیئت اسے ادب کی طرف لے جاتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ ان کی کہانیوں کے پیچھے سماج کی مختلف جہتوں سے جڑی سنجیدہ فکر بھی نظر آجاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف زیادہ سے زیادہ قارئین تک پہنچنا چاہتا ہے، جسے اس کے سیاق میں ایک منفی قدر کے طور پر‘ ڈی کنسٹرکٹ نہیں کرسکتے، یعنی یہ اپنے سیاق میں کوئی منفی قدر نہیں ہے۔

 

اقبال خورشید

جیسا کہ تم جانتے ہو، میں جدید تنقید کا آدمی نہیں، اور اشیا کو ادب کے نئے علما فضلا کے مانند حصوں بخروں میں اور بہ وقت ضرورت چیزوں سے جوڑ کر دیکھنے کا ہنر نہیں جانتا، مگر بہ ہرحال میں روایتی اصولوں سے بھی بے زار ہوں، اور مرزا اطہر بیگ کے اس خیال کو کہ ’فکشن بالخصوص ناول میں تجربہ لازمی ہونا چاہیے‘ اہم خیال کرتا ہوں۔ جیسے میلان نے کہا تھا:’ ناول کو بہ ہرحال زندگی کا کوئی نیا گوشہ دریافت کرنا چاہیے، اور جو ناول یا فکشن ایسا نہیں کرتا، وہ کچھ بھی دریافت نہ کرکے دریافتوں کے سلسلے میں شریک ہونے سے محروم رہتا ہے۔ ‘
ساتھ فکشن کی زبان سے متعلق بھی چند ایسے نظریات رکھتا ہوں، جن کی میں خود کلی تشریح نہیں کرسکتا کہ اس کی جڑیں شعور میں بہت گہری ہیں، جس کے پیچھے میری وہ آگاہی ہے، جو میرے حسی ادراکات کے تجربات کی دین ہے، ان تجربات کے تجزیے سے جنم لیتا شعور مجھے کسی اور لکھاری یا قاری سے یکسر الگ شخص بناتے ہیں۔ ٹھیک ویسے ہی، جیسے دنیا میں بسنے والا ہر فرد انفرادی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی قدرت کا فیصلہ ہے۔ تو بزرگوں کے اس قول کو کہ فکشن کی زبان حتی الامکان عام فہم اور سادہ ہونی چاہیے اور ابلاغ تو لازمی ہونا چاہیے، میں خود کو کسی صورت متفق نہیں پاتا۔ گو نیر مسعود کی رواں جاوداں نثر کا مداح ضرور ہوں۔
 فکشن کی زبان کا سادہ اور شستہ ہونا شرط نہیں، اصل مسئلہ اس میں ادبیت کی موجودی ہے، ایک تخلیقی رو، جو کہیں نیچے بہتی رہتی ہے، مگر قاری کو اپنے بہاو سے باندھ لیتی ہے۔ کچھ بین السطور ہوتا ہے۔ فکشن نگار ٹالسٹائی اور دوستوفسکی کے مانند خدائی لہجے میں بات کرتا ہے، کبھی مارکیز سے جادوگر بن جاتا ہے۔ ادبیت کے اوج پر فکشن کا مشکل اور سہل ہونا یکسر بے معنی ہوجاتا ہے۔
تو ابلاغ کی غرض سے فکشن کی زبان کو سادہ، سہل بنانے کا تقاضا گو درست تو ہے، مگر اِسے ایسا شدید نہیں ہونا چاہیے۔ فکشن اخباری مضمون یا تبلیغ کی غرض سے لکھی تحریر تو ہے نہیں۔اور بچوں کی سبق آموز کہانی بھی نہیں۔ اور اگر فکشن نگار بین السطور اسرار پیدا کرنے کی قابلیت نہ رکھتا ہو، یا کسی سبب ایسا نہ کرے، یعنی تاریخی، سماجی، اساطیری استعارے، علامات، تشبیہات نہ برتے، تب اسے کم از کم بہت شستہ اور دل موہ لینے والی نثر لکھنی چاہیے، تاکہ کوئی امکان پیدا ہوجائے۔ اگر یہ دونوں ہی صورتیں نہ ہوں ، تب توبھائی کہانی ’ایک پیش گفتہ موت کی روداد‘ جیسی انوکھی اور گتھی ہوئی ہو یا پھر’مائی نیم از ریڈ‘ اور ’اندھا پن‘ جیسی گرویدہ بنا لینے والی تکنیک کی حامل ہو۔
 اور اگر یہ بھی نہیں ہے، تو پھر سوال یہ ہے کہ ہم مطالعے کے لیے قاری کو دے کیا رہے ہیں؟
جیسا میں نے کہا، خدا نے ہر شخص کو دوسرے سے مختلف بنایا ہے، ہر بار نئے فنگر پرنٹس کا اہتمام کیا، مگر ہم اپنی انفرادیت تج دیتے ہیں۔ تو عزیز، جو میرے خیالات ہیں، زبان سے متعلق، ضروری نہیں کہ تم مجھ سے اپنی تمام تر محبت کے باوجود اتفاق کرو، یا کوئی اورپڑھنے والا ۔(وہ تو یہ سوال بھی اٹھا سکتا ہے کہ اگر میرے یہی خیالات ہیں، تو میں ون منٹ اسٹوری کے نام پر جو تماشا کرتا ہوں، وہ کیا ہے؟)
 مصنفین بھی اپنے اپنے انداز میں دنیا کو دیکھتے ہیں۔ بہ ہرحال، فکشن کی زبان سے متعلق جو شرائط اور تقاضے میرے ذہن میں ہیں، جناب نعیم بیگ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر وہ میرے محسن جناب اخلاق احمد کے مانند کہانی کے ابلاغ پر یقین رکھنے والے قبیلے سے ہیں، اور افسانے میں کہانی کو شرط جانتے ہیں، تو اس پر میں قطعی اعتراض نہیں کہ میں جانتا ہوں ، دنیا میں تغیر اکلوتی حقیقت ہے، اور اس آفاقی قانون کے سامنے میرے اپنے نظریات بے معنی ہیں۔ ممکن ہے، کل تم مجھے بھی اسی قبیلے میں کھڑا پاو ¿، جیسے روشن خیال ہونے کے باوجود اسلامسٹوں سے میرے گہرے روابط ہیں۔

 

رفیع اللہ میاں

اقبال،ادبیت کا سارا تعلق زبان سے ہے۔ یہ کوئی پراسرار شے نہیں ہے۔ فکشن لکھنے سے قبل یہ سوچنا کہ اسے کن لفظوں میں بیان کیا جائے، دراصل ادبیت سے جڑنے کا پہلا قدم ہوتا ہے۔ نعیم بیگ کا افسانوی متن یہ کہتا ہے کہ لفظ سے زیادہ کہانی کے خیال کا فریم قابل توجہ ہے جس سے فکشن کی ایک خاص ہیئت ابھرتی ہے۔ یہ ہیئت لفظ ہی کی مرہون منت ہے لیکن یہاں ’لفظ‘ کے ایک خاص استعمال کی طرف توجہ مبذول کرائی جارہی ہے؛ ایک ایسا لفظ جو کہانی کی ہیئت تشکیل دیتا ہے اور دوسرا ایک ایسا لفظ جو کہانی میں ادبیت کی ایک سطح تشکیل دیتا ہے۔ یعنی یہ لفظ کی دوسری سطح ہے۔ نعیم بیگ لفظ کو فکشن کے اندر پہلی سطح پر اس لیے استعمال کررہے ہیں تاکہ ان کے قارئین کا دائرہ محدود نہ رہے۔ ظاہر یہ کوئی خامی نہیں ہے۔ ہم جس بات کو منفی معنوں میں مذکور کرسکتے ہیں وہ یہ ہے ان کی نثر میں، جو کہ سادہ ہے، فکشن والی کشش بہت کم محسوس ہوتی ہے۔


اقبال خورشید

ادبیت بلاشبہ کوئی پراسرار شے نہیں، اسی لیے متن میں اس کی عدم موجودی فوراً ہی عیاں ہوجاتی ہے۔ جیسے ڈائجسٹ ادب میں۔ اور اگر کوئی اس سے جڑی مشکل پسندی، پیچیدگی اور الجھاوے سے اجتناب کا شعوری اہتمام کرتا ہے، تو وہ ایک پرخطر فیصلہ کر رہا ہوتا ہے۔ شاید اسی وجہ سے کرشن اور بیدی جیسے قلم کاروں نے ابلاغ کو اہمیت ضروردی، مگر ایسے کسی فیصلے سے (یعنی شعوری انتخاب سے) اجتناب برتا ۔ منٹو نے یہ فیصلہ کیا بھی، تو ایک بہت ہی خاص موضوع کے ساتھ۔ دیکھیں موضوع چند ہی توہیں ،جو گنے چنے احساسات کے گرد گھومتے ہیں، جیسے خوشی، غم، نفرت، محبت، حسد، انتقام، احسان وغیرہ۔ ان جذبات سے جنم لینے والی کہانیاں بھی نئی نہیں ہوتیں، تو پھر کیا شے ہے جو انھیں باقی کہانیوں سے مختلف، موثر، متاثر کن بناتی ہے؟
 آپ جانتے ہیں، اس عمل میں نیا پن، تجربہ، زبان، تکنیک کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ کہانی تو نئی نہیں ہوسکتی، تا آں کہ کسی بہت ہی تازہ واقعے پر لکھی گئی ہو۔ اچھا،نعیم بیگ کے ہاں ایسی چند کہانیاں موجود ہیں۔
پاپولر لٹریچر سے میں خود کو متنفر نہیں پاتا ،بلکہ اگر صنف جاسوسی ہو، تو جی لگا کر پڑھتا ہوں۔ اور پھر اگاتھا کرسٹی اور ڈین براو ¿ن جیسے نابغے ادھر ہیں، یہاں تک کہ جے کے رولنگ بھی، جسے میں بے طرح چاہتا ہوں۔ اور تمھیں یاد ہوگا، مون سون میں کیفے الحسن میں مرحوم احسن سلیم سے ہونے والی میٹنگز میں ہم نے اجرا میں پاپولر لٹریچر کا گوشہ مختص کرنے کا فیصلہ کیا تھا، اور میں نے یہ ارادہ باندھا تھا کہ اس طرز پر ایک نوویلا لکھا جائے، جو میں لکھ بھی چکا ہوں اور اب اسے دو برس کے لیے رکھ چھوڑا ہے۔
خیر، میں ادبی ناول اور پاپولر ناول میں موازنے کا قائل نہیں، برتری کی جنگ کا بھی نہیں، دونوں اپنی حیثیت میں مکمل ہیں، دونوں اپنے سروکار اور اپنے قارئین رکھتے ہیں، دونوں یک سر الگ ہیں، البتہ تجربے کی غرض سے یا دائرہ وسیع کرنے کے لیے ان کے درمیان ایک پل قائم کیا جاسکتا ہے ،مگر سوال یہ ہے کہ وہ ہو گا کس طرح؟
 اس کے تقاضے کڑے ہیں کہ ایسا متن تخلیق کرنا جو ادبیت کا بھی حامل ہو، یعنی فکشن کی زبان ہو، مگر موضوع پاپولر سروکار بھی رکھتا ہو، میرے نزدیک زبان اور تکنیک کے تجربے سے، اور کڑی تپسیا سے، مسلسل ایڈیٹنگ سے ہی ممکن ہوگا۔ اس ضمن میں اورحان پامک کے ناولز ہمارے سامنے ہیں، جو دونوں تقاضوں کو پورا کرتے ہیں۔ اگر ہم ابلاغ کے لیے زبان کو بہت سادہ رکھیں، کچھ بھی بین السطور نہ رہنے دیں، تو اس میں مضایقہ تو کوئی نہیں ہے، مگر سوال یہ ہے کہ پھر ہم اسے پاپولر لٹریچر ہی کی کیٹیگری ہی میں کیوں نہ رکھ دیں۔ اگر ہم محی الدین نواب کو پڑھیں اور اس قبیلے کے چند اور اہم ناموں کو، تو ہمیں نہ صرف سماجی، سیاسی اور مذہبی موضوعات مل جائیں گے، بلکہ ادبی رنگ بھی نمایاں ہوگا۔یہاں تک کہ فکری جھلک بھی۔
 نعیم بیگ کے ہاںسماجی اور سیاسی حقایق کہانی کا روپ دھارتے ہیں۔ یہ مختصر کہانیاں ہمیں معاشرے کا ایک مختصر منظر دکھاتی ہیں، جو ان کے کلائمکس لکھنے کی قابلیت کی وجہ سے دیرپا بھی ثابت ہوتا ہے۔ البتہ اختصار اور زبان و بیان کو عام فہم رکھنے کی شرط کی وجہ سے بہت سی جگہ یوں لگتا ہے کہ مصنف ہمیں منظر دکھانے کے بجائے منظر بتا رہا ہے۔ اردو کے قاری کی اپنی تمام تر خستہ حالی کے باوجود جن خطوط پر تربیت ہوئی ہے، وہ فکشن میں ’بتائے جانے والے منظر‘ کو ہضم کرنے میں دشواری محسوس کرتا ہے۔
میں سمجھتا ہوں، جس طرح اس کتاب میں شامل کہانیوں میں جہاں کلائمکس پر کام کیا گیا ہے، ویسے ہی ان کے ابتدائیہ بھی نکھارے جانے کا امکان رکھتے ہیں۔ میں خود دوسرے درجے کا افسانہ نگار ہوں، حکم لگاتے ڈرتا ہوں، روایتی نقاد ہوتا، تو رعونت سے کہہ جاتا کہ فلاں افسانہ ناکام افسانہ ہے، مگر میرے لیے، تم جانتے ہو کہ میںادیب کو رعایت دینے کا قائل ہوں، یہ ممکن نہیں۔
 میرا خیال ہے کہ مصنف جو کہانی لکھتا ہے، اس کے پیچھے اس کے تمام تر حسی ادراکات اور شعور کارفرما ہوتا ہے، اور اس لیے کہ میں وہ شخص نہیں ہوں ،جو اس کتاب کا مصنف ہے، میں کہانی کو کسی ایسے طریقے سے،جو اس کے طریقے سے متصادم ہے، پرکھنے اور سمجھنے پر مجبور ہوں۔ تو میرے نزدیک کہانی کا پرانا، فرسودہ اور پٹا ہوا ہونا قابل فہم ہے،البتہ مگر پلاٹ تونیا ہوسکتا ہے، ٹریٹمنٹ میں جدت آسکتی ہے۔ اگر یہ نیا پن نہ ہو، تو کہانی کا جواز تو ختم نہیں ہوتا، مگر وہ قابل مطالعہ کی کیٹیگری میں نہیں بیٹھتی۔
 نعیم بیگ کے ہاں موضوعات کا تنوع نظر آتا ہے۔ موضوعات کی رنگا رنگی ہے۔ اعترافات سنتا پادری، سرحد پر کھڑا فوجی، دہشت گردی کے باعث نقل مکانی کرتا خاندان، ایئر پورٹ پر بیٹھا مذہبی اسکالر، ایک فالج زدہ مریض تو موضوعاتی تنوع موجود ہے، جو کلائمکس کے ساتھ (چاہے وہ آپ کے توقعات کے برعکس ہو) مل کر اپنی چھاپ چھوڑ سکتے ہیں۔ حقیقت روکھی پھیکی اور تلخ ہوتی ہے، جسے کہانی کار فکشن کے سانچے میں ڈھال کر، جس میں مطالعیت بھی شامل ہے، قاری کے سامنے پیش کرتا ہے، جس کانعیم بیگ نے اہتمام کیا۔ البتہ آخر میں یہ موضوعات نہیں، اسلوب ہے جو ادب کو حقیقی ادب بناتا ہے۔ وہ احساس ،جس سے فکشن نگار گزرا، اسے قاری میں پیدا کرنا بے شک ضروری ہے دوست۔ مگریہ تقاضا نہ صرف کٹھن ہے، بلکہ کبھی کبھی مصنف کو گمراہ کرکے اس ڈگر پر بھی ڈال سکتا ہے، جو اس کی کہانی کو ادب پارے کی کیٹیگری سے نکال کر پاپولر ادب کی کیٹیگری میں ڈال دے، جس میں کوئی برائی تو نہیں، مگر پھر پاپولر ادب کے تقاضے ہمارے سامنے آن کھڑے ہوں گے اور آپ جانتے ہیں، وہاں مقابلہ زیادہ سخت ہے۔

 

رفیع اللہ میاں

ابتدا میں تم نے غیر ارادی طور پر (یعنی زیر بحث متن سے انسلاک کو ذہن میں نہ رکھ کر) کچھ موسمی اور جغرافیائی تاریخی معاملات کی طرف اشارہ کیا تھا، اور میں نے اس پر بات کی تھی، اب تم نے متن کے ساتھ انسلاک رکھنے والا یہ اہم جملہ (’نعیم بیگ کے سماجی اور سیاسی حقایق کہانی کا روپ دھارتے ہیں‘) کہہ کر تسلسل کی ایک غیر شعوری سلسلے کی طرف اشارہ کیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ’تسلسل‘ کے لیے ضروری نہیں کہ شعور اسی سمت میں متحرک بھی ہو۔ خیر یہ ایک جملہ معترضہ ہے‘ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے ہاں (یعنی اس وقت عالمی سطح مذکور نہیں) جو پاپولر فکشن لکھا جارہا ہے، یہی چیز یعنی ’نعیم بیگ کے سماجی و سیاسی حقایق‘ پاپولر فکشن سے ان کے فکشن کو الگ کرتی ہے اور فکشن کی دوسری سطح کی زبان، جس سے ادبیت کا ظہور ہوتا ہے، سے خود کو الگ رکھنا اسے کلاسیک ادب سے الگ کرتا ہے۔ یہ‘ جیسا کہ تم نے ان دونوں کے درمیان پل کی بات کی‘ ایک پ ±ل ہی ہے، لیکن یہ موضوعاتی سطح پر ہے، زبان کی سطح پر نہیں۔ مجھے یاد ہے، اجرا میں احسن سلیم نئے لکھنے والوں کو خاص طور پر جگہ دیتے تھے، اور یہ سب کلاسیک نہیں، بلکہ پاپولر فکشن ہی لکھتے تھے، اگرچہ اس کی سطح بھی ابتدائی ہی تھی، لیکن اس حوصلہ افزائی سے ان کی تربیت کا راستہ بھی کھلا۔
اب جیسا کہ تم نے بھی چند افسانوں کے نام لیے، میں اس مجموعے کے دوسرے افسانے کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں۔ مجھے خوشی ہوتی ہے جب وہ ’ٹابو‘ کو فکشن میں لے کر آتے ہیں۔ افسانہ ہے ’باو ¿نڈری لائن‘ جس کا تم نے بھی ذکر کیا، سپاٹ نثر اور بین السطور کی عدم موجودی کے باوجود افسانے کا تھیم علامتی ہے۔ بہ ظاہر کہانی اختتام پر خوش اسلوبی سے ختم ہوتی دکھائی دیتی ہے لیکن اگر تھوڑا سا غور کیا جائے تو یہ حیران کن سوال ذہن میں اٹھتا ہے کہ متن میں جو واقعہ پیش آیا ہے، اس کی معنویت کیا ہے؟ میں نے اس سوال کے جواب کی تلاش میں متن کے اندر ایک ذیلی متن پایا ،جو ادب پڑھنے والے مزاج کے لیے ایک خوش کن احساس کا حامل معاملہ ہوسکتا ہے۔ میں نے اس چیز کو دیگر افسانوں میں تلاشا، لیکن مجھے مایوسی ہوئی۔ ایک سامنے کا متن ہے ،جو سرحدی لکیر پر دو سپاہیوں کی روزانہ ڈیوٹی اور ان کے معمولات پر مشتمل ہے۔ یہ متن خوش اسلوبی سے اختتام پر جاکر اپنا معنیٰ منتقل کردیتا ہے۔ لیکن دوسرا جسے میں نے ذیلی متن قرار دیا ہے، وہ سپاہی کی ماں کی یاد کی صورت میں ہے، اور یہ ذیلی متن مرکزی متن میں ہونے والے واقعے کو لطافت کے ساتھ ڈی کنسٹرکٹ کرتا ہے۔ ماں اپنے سپاہی بیٹے کو امن کے لیے خود سے دور کرتی ہے، لیکن اس کے ہاتھوں ایک لرزہ خیز واردات ہوجاتی ہے جو امن کے معنی پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا دیتی ہے۔ ایک طرف ماں انسان کے روپ میں ہے اور دوسری طرف کتیا کے روپ میں، اور یہاں ’تقسیم‘ کے تاریخی تسلسل کو بھی بدستور ’جاری‘ دکھایا جاتا ہے‘ یہی وجہ ہے کہ میں نے اسے علامتی کہا ہے۔ مرکزی اور ذیلی متن مل کر ایک بھیانک پیراڈاکس بھی تشکیل دیتے ہیں۔ یہ کہانی پیشہ ور فوجیوں کی بے حسی اور سفاکیت کو ’معصومیت‘ کے ساتھ پیش کرتی ہے۔

 

اقبال خورشید

جب اس کتاب میں موجود افسانوں کو تسلسل کے ساتھ پڑھا جاتا ہے، اور اس تسلسل کا سبب اختصار بھی ہوسکتا ہے، مطالعیت بھی یا کسی غیرمتوقع واقعے کا نہ ہونا بھی، تو جو کہانی آپ کے ذہن میں رہ جاتی ہے، وہ ’باﺅنڈری لائن‘ ہے۔ہاں۔
 جی، بہ ظاہر ایک سادہ سی کہانی۔ ان چند کہانیوں سے مماثلت رکھتی ہوئی جو ہم پہلے بھی کہیں پڑھ چکے ہیں، مگر ایک خاص احساس تک رسائی پانے میں بڑی حد تک کامیاب۔ اچھا،مرکزی متن کے ساتھ ایک ذیلی متن کی موجودی ہمیں ’ڈیپارچر لائونج ‘میں بھی ملتی ہے، ایک تعلیم یافتہ مذہبی اسکالر کے پس منظر کی صورت، مگر کبھی کبھی وہ ذیلی نہیں رہتی، بلکہ متوازی صورت اختیار کر لیتی ہے، جس کا اختتام حالات کے جبر اور انسان کی بے بسی کو منظر کرتا ہے۔ یہ دو کہانیاں، بنا کسی اہتمام کے میرے ذہن میں محفوظ ہیں، تو سبب وہ تاثر رہا، جو مجھ پر قائم ہوا۔ جب ہم کسی کو حقیقت نگار یا مشاہدات سے کہانی ب ±ننے والا فکشن نگار ٹھہراتے ہیں، تو یہ حقایق اور مشاہدات اس کے فکشن میں جزئیات کی صورت ظاہر ہونے چاہییں، اور جزئیات کا مطلب طوالت اور تفصیلات نہیں، بلکہ وہ اہتمام ہے ،جو وہ احساس اجاگر کر دے، جو مصنف قاری میں کرنا چاہتا ہے۔
اس کتاب کے مصنف نے اپنے لیے جو سروکار متعین کیے، ان میں جزئیات نگاری کو پہلا درجہ تو بہ ہرحال نہیں دیا۔

 

رفیع اللہ میاں

اقبال، مجھے افسانوں کا یہ مجموعہ پڑھتے ہوئے ایک بات کا بڑی شدت سے احساس ہوا، یہ کہ، مصنف اس معاشرے کے اُن پڑھے لکھے لوگوں کی کہانیاں لکھتا ہے جو اس خطے کی جہالت پر مبنی روایات و نفسیات میں اب بھی بری طرح جکڑے ہوئے ہیں۔ اس بری طرح کہ المیے تک رونما ہوجاتے ہیں۔ مصنف کو اب بھی معاشرے کے لوگوں میں روشن خیالی کی تلاش ہے اور اُس کے لیے فن افسانہ نگاری اسی کوشش کا ایک ٹول ہے۔ تم ذرا ایک بار پھر نگاہ دوڑائو، تسخیر‘ ڈیپارچر لاو ¿نج‘ ہوک‘ آہٹ، یہ سب اسی طرح کی کہانیاں ہیں۔ ’تسخیر‘ کی خاتون ڈاکٹر ایک ایسی عورت دکھائی دیتی ہے، جس نے مستقبل کے انتہائی ترقی یافتہ ’پاکستان‘ میں نہ تو ترقی کے پروسیس کو خود دیکھا نہ تاریخی سماجی طور پر اس کے شعور کا حصہ بنا، بلکہ ایسا دکھائی دیتا ہے جیسے اس نے خود کو (ایک خوش گوار صبح کو) یکایک ترقی یافتہ پایا اس لیے متن میں اس کا ’عجیب‘ رویہ واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔ اگر اس کہانی کے موضوع ’موت ناقابل تسخیر حقیقت ہے‘ کو ہم متن کی سطح کی بجائے مصنف کی سطح پر دیکھیں ،تو یہ سوال پریشان کرتا ہے کہ مصنف نے ایک نہایت ترقی یافتہ پاکستان کا تصور کرتے ہوئے کہانی کے لیے ایک نہایت غیر متحرک موضوع کیوں چنا؟ یعنی ہم سوچ سکتے ہیں کہ چاہیں جتنی بھی ترقی کرلیں، ایک دن مر ہی جانا ہے، سو مٹی پاو ¿ اس سب پر۔
 ’ڈیپارچر لاو ¿نج‘ کا مذہبی اسکالر ایک پرعزم انسان ہونے کے باوجود متن کے زیریں سطح پر ایک جاہل آدمی ثابت ہوتا ہے، جسے تہذیب چھو کر بھی نہیں گزری۔ ’ہوک‘ سے ایسا لگتا ہے جیسے مشرقی ہونا واقعی ایک گالی ہے۔ ایک ڈاکٹر خاتون جو بیرون ملک ملازمت بھی کرکے آئی ہے، پھر بھی ماں کے جہالت پر مبنی روایتی رویے کے آگے خود کو بے سبب بے بس پاتی ہے۔ اسے نہ صرف زندگی کا اہم ترین فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے بلکہ وہ اس اختیار کو سمجھنے اور استعمال میں لانے کے شعور سے بھی عاری ہے۔ اور پھر جہالت، بے اختیاری اور بے شعوری مل کر ایک جذباتی المیے کو جنم دیتے ہیں۔ ’آہٹ‘ اور ’ہوک‘ میں بہت کچھ مشترک ہے۔ یہاں میں ایک بار پھر علامت کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ یہ ایک عام سی بات ہے کہ جب تک ہم علامت کو سمجھ نہیں پاتے، تب تک متن لایعنی محسوس ہوتا ہے۔ ایسا ہوا میرے ساتھ، افسانہ ’چھتا‘ میں۔
مجھے کافی مایوسی ہوئی اسے پڑھ کر جس میں ’کون اصل میں کیا ہے‘ کا پتا نہیں چل رہا تھا۔ جب میں نے چھتے کے عنوان سے اسے علامتی دائرے میں سمجھنا شروع کیا تو مصنف کی ذہانت سامنے آگئی۔ جی ہاں، مجھے کہنے دیں کہ اپنے متن میں یہ مصنف کبھی کبھی بہت ذہانت سے کام لیتا ہے۔ اس کہانی کے اس جملے ’لیکن یہ طے تھا کہ بھنبھناتی ہوئی مکھیاں دنیا مافیہا سے بے خبر صرف اپنے کام سے کام رکھے ہوئے ہیں‘ نے صورت حال کے لایعنی پن کو نمایاں کیا۔ عام سپاہی کو اس سے غرض نہیں ہے کہ شمالی علاقوں میں اسٹیبلشمنٹ نے کیا کھیل رچایا۔ وہ تو صرف اس سبق کو توتے کی طرح رٹتے ہیں کہ انھیں ملک بچانا ہے اور اسی میں اپنی جانیں گنواتے جاتے ہیں جسے وہ ’قربانی‘ کی دل کش قلعی میں لپیٹ کر خوش ہوجاتے ہیں۔ اس سلسلے کے المیے کو افسانہ ’جہاز کب آئیں گے‘ زیادہ وضاحت کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ افسانہ ’حلف‘ میں مصنف نے کردار کے نام (تہذیب) کے ساتھ کھیل کر اسے علامت کا رنگ دے دیا ہے۔ چند افسانوں میں ایسا لگتا ہے جیسے عنوان الگ کہانی سنارہے ہیں تو متن الگ، جن میں گہرا اشتراک ہوتا ہے۔ ’حلف‘ ان میں سے ایک ہے، تاہم اس کا اختتام وہیں پر ہوجاتا ہے جہاں فاخرہ کہتی ہے کہ گل دان تو میں نے مارا تھا۔
 نعیم بیگ نے خطے میں موجود پراکسی وار کو کئی افسانوں کا موضوع بنایا ہے اور ان میں سے، اگر ہم افسانے کی افسانویت کو مدنظر رکھیں، تو سب سے اچھا ’آخری معرکہ‘ ہے۔ کبھی کبھی مصنف کہانی کے ابتدائی مناظر میں اظہار کا ایک ہنر دکھاتا ہے‘ معلوم کچھ ہوتا ہے اور نکلتا کچھ ہے، جیسا کہ ’زرد پتے‘ میں ابتدائی منظر نگاری سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دفتر کے کمرے کا ذکر ہورہا ہے اور دفتر کا محل وقوع ایسا ہے کہ آس پاس درخت ہیں، لیکن وہ باغ نکلتا ہے۔ اسی طرح ’جہاز کب آئیں گے‘ میں معلوم ہوتا ہے کہ صحن ہے لیکن وہ ٹریکٹر ٹرالی نکلتی ہے۔ مطلب یہ کہ اگر مصنف لفظ کی اسی متنوع کارکردگی کو پورے متن پر پھیلادیں، تو ایک بہتر ادبی متن کا حصول ہوسکتا ہے۔ کبھی کبھی مصنف کسی یک لمحاتی افسانوی خیال کے بھی زیر اثر آجاتا ہے اور وہ محض اس ’ٹوئسٹ‘ کو پیش کرنے لیے کہانی لکھ دیتا ہے۔ اس کی مثالیں ’ڈیپارچر لائونج‘ اور ’لکڑی کی دیوار‘ ہیں۔ ایک مذہبی اسکالر ایئر پورٹ کے ڈیپارچر لاو ¿نج پر ہائپرٹینشن کی وجہ سے دنیا ہی سے ڈیپارٹ کرجاتا ہے ،یعنی اس کہانی کو لسانیاتی سطح پر ایک ٹوئسٹ نے کہانی بنایا ہے۔ ’لکڑی کی دیوار‘ میں اختتام پر رشتے کے ایک ٹوئسٹ کے ذریعے دو الگ مذاہب کی قربت سے المیہ ابھارا گیا ہے۔

 

اقبال خورشید

تم نے نعیم بیگ کے کرداروں کا ذکر کیا: پڑھے لکھے، مگر خطے کی جہالت پر مبنی روایات اور نفسیات میں بری طرح جکڑے!
 میں اس سے متفق ہوں۔ اس میں دہشت گردی کے جبر کا شکار ہونے والے کردار بھی شامل کرلو۔ اس بار بھی چند پڑھے لکھے، مگر حالات میں جکڑے ہوئے!
 اپنے عدسے سے، جس طرح تم نے ’ڈیپاچر لاو ¿نج‘ اور ’ہوک‘ کو دیکھا، اس سے مجھے اختلاف نہیں۔ اور جو کچھ تم نے ’تسخیر‘ سے متعلق کہا، اس میں یہ اضافہ کروں گاکہ اگر وہ کہانی مریض کی موت سے ذرا پہلے ختم ہوجاتی، تو افسانے کو زندگی مل جاتی۔ ’جہاز کب آئیں گے‘ اور ’چھتا‘ میں، یہ اول الذکر افسانہ ہے، جو دہشت گردی اور ہجرتوں سے جڑے پرپیچ، ناقابل فہم انسانی المیے تک نسبتاً مو ¿ثر انداز میں ہمیں لے جاتا ہے۔ جہاں تک ’چھتا‘ کی بات ہے، اس کی وہ علامت جو مصنف کی ذہانت کی عکاس ہے ، اس کے آگے کہانی کا پلاٹ اور ٹریٹمنٹ ایک دھند سی طاری کر دیتے ہیں۔ جیسے کہ میں نے پہلے کہا، یہ کلائمکس اور ٹوئسٹ ہے جہاں ہمیں نعیم بیگ کی فن کی گرفت نظر آتی ہے، اس ضمن میں ’آہٹ‘ اور ’زرد پتے‘ دونوں قابل ذکر ہیں، اور دونوں میرے ذہن میں محفوظ ہوں۔ آہٹ کے معاملے میں تو یہ ٹوئسٹ ہی تھا، جس کی جانب ویٹر کے رویے نے اختتام سے بہت پہلے ایک واضح اشارہ کر دیا تھا۔
 ہاں ’زرد پتے‘ اپنے ابتدائیہ (اور ابتدائیہ کے معاملے میں یہ کتاب کی مو ¿ثر کہانیوں میں سے ایک ہے) اور اختتامیہ کے باعث ایک مکمل افسانہ ہے‘ البتہ اس کے وسطی حصے سے مجھے مزید کی توقع تھی۔ بات یہ ہے عزیز کہ جب ہم حقیقت کو سیدھے سبھاﺅ بیان کرنے کا بیڑا اٹھاتے ہیں، تو ہم ایک مشکل کام اپنے سر لے رہے ہوتے ہیں۔ حقیقت تو بے رنگ ہوتی ہے، یہ تو فکشن کا منشور ہے، جس سے گزر کر وہ اپنے سات رنگ ظاہر کرتی ہے۔ اس کہانی میں عورت کا کردار حقیقت کے قریب تر رنگنے کی کوشش نے اور حقیقی مکالموں کو بُننے کے مقصد نے ابتدائیہ اور اختتامہ میں اچھا خاصا خلا پیدا کر دیا۔
 آہ مکالمے ان سے تو مارکیز جیسا عہد ساز ادیب بھی دامن بچا کر گزرنا پسند کرتا تھا۔
اچھا، ایک چیز کی میں ضرور نشان دہی کرنا چاہوں گا۔ کتاب میں موجود بیش تر کہانیاں ایسی کہانیاں ہیں، جو کبھی نہ کبھی، کہیں نہ کہیں یا تو ہم پڑھ چکے ہیں یا سن چکے ہیں یا اس سے ملتا جلتا کوئی منظر دیکھ چکے ہیں۔ اب یہی دیکھ لو، اعترافات سنتے پادری کا اعتراف کرنے سے والے سے تعلق ایک ڈاکٹر جو موت نامی حقیقت کے سامنے خود کو شکست خوردہ محسوس کرتی ہے ایک فالج زدہ مریض جو موت کی آروز کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کا بیٹا اس کی معاونت کرے ایک شخص جس کے تخیل میں اس کی محبوبہ موجود ہے ایک بچہ جس نے اپنی ماں کو جنسی عمل کے دوران دیکھ لیا ہے یا عدالت میں چلنے والا ایک مقدمہ
میرے نزدیک جب آپ کسی کو ان مناظر سے ملتے جلتے مناظر دکھاتے ہیں، جو وہ پہلے دیکھ چکے ہوتے ہیں، تو آپ کے کاندھوں پر بڑی بھاری ذمے داری آن پڑتی ہے۔
ذرا دیکھو سر آرتھر کونن ڈویل کے لازوال کردار شرلاک ہومز کو صدیوں سے ہر طرز کے میڈم، جیسے کتاب، کومکس، ریڈیو، ٹی وی، ویڈیو گیم، تھیٹر اور فلم میں برتا جارہا ہے۔ ادھر جین آسٹین کے ناول ’تکبر و تعصب‘ کو (بی بی سی کے سروے کے مطابق یہی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا ناول ہے،ٹالسٹائی کا ’وار اینڈ پیس‘ نہیں) سیکڑوں بار درجنوں میڈیمز میں برتا گیا، یہاں تک کہ ولاگز (ویڈیو بلاگز) کی صورت بھی، ذرا سوچو تو مطلب میرا یہ ہے کہ جب کوئی ہمارے سامنے شرلاک یا الزبتھ کو ایک بار پھر پیش کرنے کی سعی کرتا ہے، چاہتا ہے کہ ہم اسے پھر سے دیکھیں، تو ہم بہت سی توقعات کے ساتھ اس کی سمت متوجہ ہوتے ہیں اور ہم غلط بھی نہیں ہوتے۔ ہماری من پسند کہانیاں دہرانے والے خوب جانتے ہیں کہ اس بار یہ کہانی کی ٹریٹمنٹ، نیا پن اور اس میں شامل تجربہ اور سب سے بڑھ کر تخلیقیت ہوگی، جو ہمیں ایک بار پھر وہ کہانی پڑھنے پر یا دیکھنے پر مجبور کر دے۔ اس لیے میں نے پہلے بھی ذکر کیا اور پھر دست بستہ کہوں گا، کہانی کو سادہ، ابلاغ کے تقاضے کو سرفہرست رکھنے کا مصنف کا فیصلہ پرخطر اور ایک حد تک نقصان دہ تھا۔
کیوں ایسے فیصلوں کا مطلب جمالیاتی اور تخلیقی سطح پر سمجھوتے کی صورت نکلتا ہے۔ اس سمجھوتے سے یوں تو مفر نہیں اور ایک حد تک یہ لازم بھی ہے، لیکن اس ڈگر میںبہت آگے تک جانا اسلوب کی سطح پر سمجھوتے کا خطرہ پیدا کردیتا ہے۔اوراگر ایسا ہوجائے، تو فکشن کی زبان کا اسرار اور شکوہ کھونے کا حادثہ قریب آجاتا ہے۔
 اس فیصلے نے موضوعات کے تنو ّع، چند کہانی کے متاثر کن کلائمکس ، کچھ واقعات سے جڑی علامتوں، سب کو متاثر کیا ہے۔
 ’حلف‘ تمھارے تجزیے سے اختلاف کیے بغیر کہنا چاہوں گا، ایک ایسی کہانی ہے جسے اس مجموعے میں نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اس کہانی میں علامتوں کا استعمال کتنا ہی موثر ہو، یہ خوداتنی روایتی، متوقع، سنی سنائی اور کلیشوں پر مبنی ہے کہ کوئی شے اسے بچا نہیں سکتی، اور اختتامی سطریں، اس میں موجود قربانی کے جذبے کو بھی سبوتاژ کر دیتی ہیں۔ یہی معاملہ افسانے ’نیا سماج‘ کا ہے ،جو میرے ذہن میں یہ سوال بھی پیدا کرتا ہے کہ جب مصنف کہانی کے ابلاغ کو ترجیح دینے کا فیصلہ کرتا ہے، تب وہ ضرور اپنے قاری کی عمر اور تعلیمی قابلیت کا تعین بھی کرتا ہوگا کہ اسے کس عمر کے افراد پڑھیں۔

 

رفیع اللہ میاں

اقبال! تمھاری بہ طور افسانہ نگار افسانہ نگار،جو تجزیے کی بہترین صلاحیت بھی رکھتا ہے اس رائے سے کہ مصنف کا کہانی کو سادہ رکھنے کا فیصلہ نقصان دہ تھا‘ میں اختلاف نہیں کرسکتا۔ ٹھیک ہے‘ میں سادہ طرز تحریر کو ادبیت سے بھرپور (یا بعض حالات میں مملو) تحریر سے کم تر نہیں سمجھتا‘ سادہ طرز تحریر خود اپنے اندر اپنی خامی اچھائی رکھتی ہے۔ اور نعیم بیگ صاحب کی تحریر اس حوالے سے سادہ لکھتوں سے مختلف سمجھتا ہوں کہ اس میں کسی حد تک سماجی و سیاسی شعور مل جاتا ہے۔ بہرحال‘ ایک کہانی اگر بہت ساری کہانیوں والے معاشرے میں پیدا ہوتی ہے، تو اسے اپنی پیدایش کا جواز دینا پڑتا ہے، یعنی اپنی انفرادیت بتانی پڑتی ہے، اسی پر اس کی زندگی کا انحصار ہوتا ہے۔ ہم نے اس کتاب پر جتنی بحث کی ہے‘ ممکن ہے کہ اگر دو اور افراد ہماری طرح بیٹھ کر اس پر بات کریں تو ہم سے بالکل مختلف باتوں کو مذکور کریں۔ بات یہ ہے کہ فکشن صنف اور لکھے ہوئے فکشن کو کس گہرائی اور گھیرائی سے دیکھا جارہا ہے۔
اب میں اس افسانے کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو مجھے سب سے زیادہ پسند آیا۔ یہ ہے ’زرد پتے‘۔ تاہم اس کا عنوان مجھے پسند نہیں۔ تم اگر منتظر ہو کہ میں اس افسانے کے بارے میں کچھ کہوں، تو بھول جاو ¿ اسے، میں اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتانا چاہتا اس لیے کہ قاری اس کو مکمل لاعلمی میں پڑھے اور اس کا حقیقی لطف اٹھائے۔ بہرحال، ایک حقیقت سے تو میں واقف ہوں کہ ممکن ہو مزاج کے فرق سے کسی کو یہ پسند نہ آئے یا ایک بہت نارمل کہانی لگے، تاہم اس کے اختتام پر ایک جھٹکے کی صورت میں جو لطف پوشیدہ ہے، اس سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا۔

 

اقبال خورشید

آپ نے درست کہا، دو الگ الگ فکری، علمی، جغرافیائی زمینوں سے تعلق رکھنے والے قارئین کا نقطہ ¿ نظر اور ادبی مکالمے کا ڈھب الگ ہونا چاہیے۔ کتاب پر، بالخصوص فکشن کی کتاب پر جتنے تجزیے اور تبصرے جنم لیں گے، اور چاہے وہ کڑی تنقیدی ہی کیوں نہ ہوں، وہ بہ ہر حال فکشن کی ترویج میں معاون ہوں گے۔ مجھے امید ہے کہ نعیم بیگ صاحب کا فکشن کہ اب وہ تواتر سے چھپ رہا ہے، مزید زیر بحث آئے، اور ان کی آوازیں ہمارا پیچھا کرتی رہیں۔
اچھا،اپنی زندگی میں آنے والی چند ہنگامہ خیز تبدیلیوں کے باعث اجرا کی سمت میں یوں توجہ نہیں دے پارہا، جیسی دینی چاہیے، اب جو یہ مکالمہ ہوا، تو سوچتا ہوں، ہمیں پرچے میں بھی اس نوع کے مکالموں کی طرح ڈالنا چاہیے۔ تم بھی مشورہ دو۔
خدا تمھاری حفاظت کرے۔

No comments:

Post a Comment