Thursday, November 23, 2017

جو کتابیں آپ نے پڑھی ہوتی ہیں، اُن ہی سے نئی کتاب جنم لیتی ہے: محمد حنیف

میرا نہیں خیال کہ قانون کی کسی کتاب میں یہ لکھا ہے کہ ناول نگار یہ لکھ سکتا ہے، اور یہ نہیں لکھ سکتا! کم از کم میں نے تو نہیں پڑھا۔

لکھنے سے پہلے تخلیق کار کے ذہن میں یہ ڈالنا کہ فلاں چیز لکھی جاسکتی ہے، اور فلاں نہیں، ایک بے سود کوشش ہے۔


نٹرویو نگار: اقبال خورشید

 

بین الاقوامی اعزازات سے نوازے جانے والے کسی پاکستانی ناول نگار سے مکالمہ، جو اظہار کے لیے ۔ انگریزی زبان برتتا ہو، دشوار ثابت ہو سکتا ہے کہ ایک ٹھوس دیوار کی موجودی کا احساس رہتا ہے، جسے پھلانگتے وقت سوالات ہانپ جاتے ہیں۔ البتہ اگر آپ محمد حنیف سے ملنے جا رہے ہیں، تو پریشان ہونے کی چنداں ضرورت نہیں کہ سعودی قونصل خانے کی چڑھائی پر آپ کی موٹرسائیکل تو ہانپ سکتی ہے، مگر سوالات اِس تجربے سے محفوظ رہیں گے۔ انٹرویو بہ آسانی گپ شپ کی شکل اختیار کر لے گا۔ وقفے وقفے سے قہقہے بلند ہوں گے۔ ایک خاص نوع کی سہولت ماحول میں تیرتی رہے گی، جو دھیرے دھیرے اتنی شدت اختیار کر جائے گی کہ ایک اندیشہ جنم لے گا۔ اندیشہ کہ ”وائس ریکارڈر“ میں محفوظ ہونے والی گفت گو اتنی فطری، حقیقی اور رواں ہے کہ اِسے ”ادبی گفت گو“ قرار دینا شاید روایت پسندوں کے لیے دشوار ہو۔

حنیف ایسے ہی ہیں۔ جہاں اُن کی گفت گو میں، بے ساختگی کا عمل دخل نظر آتا ہے، وہیں اُن کی شخصیت میں لمحہ موجود سے خفیف سی لا تعلقی بھی جھلکتی ہے۔ یہ عام مشاہدہ ہے کہ ہمارے ادیب، عام انسان ہونے کے باوجود، عام انسانوں سے کچھ الگ دکھائی دیتے ہےں، مگر حنیف — اس شہرت کے باوجود، جسے بین الاقوامی شہرت کہا جا سکتا ہے، کچھ خاص نہیں بدلے۔ اوکاڑہ، اُن کا آبائی وطن، شاید اب بھی اُن کے اندر ہے۔ اور شاید یہی اُن کی انفرادیت ہے۔
گذشتہ دنوں اِس منفرد تخلیق کار کی بیٹھک میں گفت و شنید کا ایک دور چلا، جس کے تذکرے سے پہلے مناسب ہے کہ اُن کے حالاتِ زیست پر ایک نظر ڈال لی جائے۔
جیون کتھا:
محمد حنیف کی کہانی میں روایت شکنی کا رنگ غالب ہے۔ ایک زمیں دار کے گھر انھوں نے آنکھ کھولی، تاہم زراعت سے خود کو بے زار پایا۔ پاک فضائیہ کا حصہ بنے، لیکن پرواز، خیالات تبدیل نہیں کر سکی۔ یونیفارم سے آزاد ہونے کے بعد صحافت کا پیشہ اختیار کیا، جو اُنھیں برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی لے گیا، جہاں کئی برس اردو سروس کے سربراہ کی ذمے داری نبھائی۔ اِسی عرصے میں A Case of Exploding Mangoes جیسا منفرد ناول تخلیق کیا، جسے دنیا بھر میں سراہا گیا۔ حسّاس موضوع اور منفرد بیانیے کی وجہ سے یہ ناول آج بھی زیربحث ہے۔
محمد حنیف نے 1965 میں اوکاڑہ سے چند میل کے فاصلے پر واقع ایک گاﺅں ”چک نمبر 2/4 ایل“ میں آنکھ کھولی۔ مذہبی ماحول میں پروان چڑھے۔ اُن کے والد، محمد صدیق خاصے سخت مزاج آدمی تھے۔ 79ءمیں اوکاڑہ سے میٹرک کرنے کے بعد ایک سال ایف سی کالج، لاہور میں گزرا۔ پھر پاک فضائیہ کا حصہ بن گئے۔ چھے سال پی اے ایف کالج، سرگودھا میں بیتے۔ اس عرصے میں پاک فضائیہ کی لائبریری سے خوب استفادہ کیا۔ ملکی و بین الاقوامی ادب جم کر پڑھا۔ ڈیڑھ سال تک بہ طور پائلٹ آفیسر کراچی میں تعینات رہے۔ 87ءمیں ایئرفورس چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ پیشہ ¿ صحافت میں قسمت آزمانے کی خواہش نے کراچی میں ڈیرا ڈالنے کی تحریک دی۔ کچھ عرصے فری لانسر کی حیثیت سے لکھتے رہے۔ 89ءمیں ”نیوز لائن“ سے وابستہ ہوگئے۔ اس عرصے میں بین الاقوامی اخبارات میں بھی اُن کے مضامین شایع ہوئے۔ 92ءمیں اُنھیں ”واشنگٹن پوسٹ“ کی فیلو شپ ملی۔
95ءمیں وہ اپنی دفتری ساتھی، نمرہ بُچہ کے ساتھ رشتہ ¿ ازدواج میں بندھ گئے۔ اُسی عرصے میں تھیٹر کا شوق پروان چڑھا۔ ”مرنے کے بعد کیا ہوگا؟“ نامی اسٹیج پلے لکھا۔ 96ءمیں بی بی سی سے وابستگی کے بعد ریڈیو ڈراما “What Now, Now That We Are Dead?” تحریر کیا، جو ”مرنے کے بعد کیا ہوگا؟“ کا تسلسل تھا۔ ”رات چلی ہے جھوم کے“ نامی فلم تحریر کی، جس کا ردّ ِعمل بہت مثبت رہا۔ یہ فلم کئی فیسٹولز میں دکھائی گئی۔
2002 میں بی بی سی اردو سروس کے سربراہ کا عہدہ سنبھالا۔ 2008 تک ذمے داری نبھائی۔ لکھنے کی قوی خواہش کے تحت 2004 میں یونیورسٹی آف ایسٹ Anglia سے ”کریٹو رائٹنگ“ میں ماسٹرز کیا۔ پھر ناول A Case of Exploding Mangoes پر کام شروع کیا۔ جون 2008 یہ میں ناول شایع ہوا۔ ردّ ِعمل حیران کن رہا۔ یہ ”گارجین فرسٹ بک ایوارڈ“ اور ”جمیز ٹیٹ بلک ایوارڈ“ کے لیے شاٹ لسٹ ہوا، ”مین بکر پرائز“ کے لیے نام زد ہوا، اور ”کامن ویلتھ رائٹرز پرائز“ کا فاتح ٹھہرا۔ جرمنی کی حکومت اور ہندوستانی کی ایک نجی تنظیم نے اُنھیں خصوصی ایوارڈز سے نوازا۔ اِس ناول کا اب تک 21 زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔
ایک مسیحی نرس کی کہانی بیان کرتا دوسرا ناول Our Lady of Alice Bhatti سال 2011 میں شایع ہوا۔ ملکی و بین الاقوامی ناقدین کی جانب سے اِسے خاصا سراہا گیا۔ یہ ”ویلکم ٹرسٹ بک پرائز“ کے لیے شارٹ لسٹ ہوا۔ بلوچستان سے متعلق لکھے مضامین "The Baloch Who Is Not Missing & Others Who Are” کے نام سے کتابی صورت میں شایع ہوئے، جنھیں ”غائبستان میں بلوچ“ کے زیر عنوان اردو کے قالب میں ڈھالا گیا۔ اس وقت محمد حنیف بی بی سی کے نمایندہ خصوصی کے طور پر ذمے داریاں نبھا رہے ہیں۔ کراچی کے علاقے ڈیفینس میں مقیم ہیں، اور وہیں اس منفرد شخصیت کے حامل ادیب اور صحافی سے گفت گو ہوئی۔ ملاحظہ کیجیے

!
سوال: ایک ایسا ناول لکھنا، جس میں جنرل ضیا کی موت کا معمّا حل کرنے کی کوشش کی گئی ہو، حقیقی واقعات کو فکشن کے قالب میں ڈھالا گیا ہو، کیا تخلیقی نقطہ ¿ نگاہ سے پُرخطر فیصلہ نہیں تھا؟
محمد حنیف: دیکھیں، ناول لکھنے سے پہلے میں نے ادب تو پڑھ رکھا تھا، البتہ میرا پس منظر اُن معنوں میں ادبی نہیں تھا،جیسے یونیورسٹیوں میں ادب پڑھنے والوں کا ہوتا ہے۔ اُنھیں پتا ہوتا ہے کہ فلاں ناول اِس کٹٹیگری کا ہے، فلاں اُس کٹٹیگری کا۔ دراصل جنتا کم آپ جانتے ہیں، آپ میں خوف بھی اُتنا ہی کم ہوتا ہے۔ لکھتے ہوئے تو قلم ہاتھ میں ہوتا ہے، اور کاغذ سامنے۔ اس وقت کوئی اندیشہ نہیں ہوتا۔ شروع میں تو مجھے لکھنے کا عمل بالکل پُرخطر نہیں لگا، بلکہ یہ بہت پُرتجسس تھا کہ میں ایک حقیقی واقعے پر کہانی لکھ رہا ہوں۔ ہاں! جب اس کا پہلاڈرافٹ لکھ لیا، اور چند دوستوں کو دکھایا — ہمارے زیادہ تر دوست صحافی ہے، اور صحافی جلدی جوش میں آجاتے ہیں — تو انھوں نے مجھے ڈرایا کہ یہ کیا کر رہے ہو، مارے جاﺅ گے۔ ایک دوست نے تو مشورہ دیا کہ کرداروں کے نام بدل دو۔ تب میں نے کہا، اگر یہ لکھا جائے گا، تو اِن ہی ناموں کے ساتھ لکھا جائے گا۔ کیوں کہ یہ بہت ہی فضول بات ہوتی۔ جنرل ضیا کا نام کچھ اور ہوتا، تب بھی لوگ پہچان لیتے۔ لیکن یہ بات بھی ہے کہ جیسے جیسے حالات بدلتے ہیں، ویسے ویسے کہانیوں کی قبولیت بھی گھٹتی بڑھتی رہتی ہے۔ اگر میں کچھ برس پہلے یہ ناول لکھتا، تو ممکن ہے کہ تھوڑی مشکل پیش آتی۔ اب سے کچھ برس بعد کوئی ایسا ناول لکھے گا، تو شاید اُسے مشکل ہو۔ البتہ جب میں نے لکھا، اُس وقت جن افراد کے ناراض ہونے کا امکان تھا، ان کے لیے میرے ناول سے زیادہ بڑے مسائل موجود تھے۔
سوال: ناول کے لیے اِسی واقعے کا انتخاب کیوں کیا؟
محمد حنیف: دیکھیں، آپ بھی کہانیاں لکھتے ہیں۔ اور لکھتے ہوئے آپ کو پتا نہیں ہوتا کہ آپ یہی کہانی کیوں لکھ رہے ہیں۔ دراصل کوئی خیال ذہن میں اٹک جاتا ہے۔ اور برسوں اٹکا رہتا ہے۔ اُسے نکالنے کا حل یہی ہوتا ہے کہ اُسے لکھا جائے۔ چناﺅ کی وجہ بیان کرنا میرے لیے مشکل ہے۔ شاید یہ واقعہ، اس وقت کا ماحول میرے ذہن میں آکر اٹک گیا تھا۔ پھر ”مرڈر مسٹری“ میں دل چسپی تھی۔ مجھے لگتا تھا کہ اس طرز کی کہانی میں کسی عہد کو بھی بیان کیا جا سکتا ہے۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ لکھتے ہوئے آپ یہ سب نہیں سوچ رہے ہوتے۔
سوال: پاک فضائیہ کا ایک آفیسر آپ کے ناول A Case of Exploding Mangoes کا مرکزی کردار ہے۔ آپ خود بھی پاک فضائیہ میں رہے۔ تو کیا آپ کے بیان کردہ مناظر، حالات اور کرداروں کو حقیقی سمجھا جائے؟
محمد حنیف: یہ ایسے ہی ہے کہ آپ اخبار میں کام کرتے ہیں۔ آپ کو پتا ہے کہ کاپی کس وقت ڈاﺅن ہوتی ہے، سب ایڈیٹر کا کیا کردار ہے، ایڈیٹر کی کیا ذمے داری ہے۔ یہ بائیوگرافیکل انفارمیشن آپ کے پاس ہے۔ اب آپ ایک صحافی کی کہانی لکھنے بیٹھیں، جس میں نیوزروم کا منظر ہو، تو ظاہر ہے کہ آپ وہاں کے ماحول اور ردھم سے واقف ہوں گے۔ تو پاک فضائیہ کے تجربے سے مدد ملی۔ آپ کو پتا ہے کہ وردی کیسے پہنی جاتی ہے، جہاز کیسے اڑایا جاتا ہے، سنیئر آفیسر جونیر آفیسر سے کیسے بات کرتا ہے۔ یعنی آپ کو Texture (بُنت) کا علم ہے، مگر اُس معلومات میں کہانی نہیں ہوتی۔ کہانی آپ کو خود لکھنا ہوتی ہے۔
سوال: آپ کا کاٹ دار اسلوب، گہرا طنز اور پیش کردہ واقعات جنرل ضیاالحق کے کردار کو سبوتاژ کر دیتے ہےں۔ کیا آپ کے نزدیک ایک فکشن نگار کسی حقیقی کردار کو اِس طرز پر پیش کرنے کا حق رکھتا ہے؟
محمد حنیف: میرا نہیں خیال کہ قانون کی کسی کتاب میں یہ لکھا ہے کہ ناول نگار یہ لکھ سکتا ہے، اور یہ نہیں لکھ سکتا! کم از کم میں نے تو نہیں پڑھا۔ اکثر ایسا ہوا ہے کہ ایک حقیقی واقعے پر ناول لکھا گیا، اس پر اعتراض ہوا، اسیکنڈل بن گیا۔ اس قسم کے اعتراضات کے جواب میں بہت کچھ کہا جاسکتا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ فکشن نگار کو اِس کا حق حاصل نہیں۔ میرے نزدیک تخلیق کار کا تخیل ہی اُسے درپیش اکلوتی رکاوٹ ہے۔ وہ ہی آپ کو اظہار سے روک سکتا ہے۔ ورنہ مجھے نہیں لگتا کہ کوئی اور شے تخلیق کار کو روک سکتی ہے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ادب میں کوئی اخلاق باختہ بات نہ ہو، اُن کی نہ تو پہلے سنی گئی ہے، نہ ہی مستقبل میں سنی جائے گی۔ کتاب فقط اسی بنیاد پر پڑھی جاتی ہے کہ اس میں پڑھنے لائق کچھ ہو۔ ہاں، اُس پر اعتراض ہوسکتا ہے، چیر پھاڑ ہو سکتی ہے، مگر یہ سب تب ہی ہوگا، جب کچھ لکھا جائے۔ لکھنے سے پہلے تخلیق کار کے ذہن میں یہ ڈالنا کہ فلاں چیز لکھی جاسکتی ہے، اور فلاں نہیں، ایک بے سود کوشش ہے۔
سوال: ناول لکھتے سمے کُلّی طور پر اپنی یادداشت، مشاہدات پر بھروسا کیا، یا معلومات کھوجنے کے لیے دیگر ذرایع بھی برتے؟
محمد حنیف: ہمارے زمانے میں فوجیوں کی زندگی بہت محدود ہوتی تھی۔ آپ بہت کم عمری میں اکیڈمی جاتے ہیں۔ آپ کو اندازہ نہیں ہوتا کہ بیس یا کنٹونمنٹ کے باہر کیا ہو رہا ہے۔ مجھے بھی اُس زمانے میں باہر کی دنیا کا علم نہیں تھا۔ ایئرفورس چھوڑنے کے بعد مجھے اس کا پتا چلا۔ جہاں تک کہانی کی بات ہے، وہ آپ کے ذہن سے نکلتی ہے۔ بعض اوقات آپ کو تکنیکی معلومات درکار ہوتی ہے، جس کے لیے ریسرچ کی جاتی ہے۔ مگر یہ ایسی ہی ہوتی ہے کہ آپ ”یو ٹیوب“ پر جا کر دیکھ لیں کہ پریڈ کیسے ہوتی ہے۔ ناول لکھتے ہوئے اُس زمانے کے بارے میں لکھی کتابیں ضرور پڑھیں، جن سے سمجھنے کی کوشش کی کہ اس وقت کیسی زبان استعمال ہوتی تھی، اخبارات کی سرخیاں کیسی ہوتی تھیں، اداریوں میں کیا لکھا جاتا تھا، لوگوں کا روّیہ کیا تھا۔ یہ معلومات براہ راست تو ناول میں استعمال نہیں ہوتی، مگر رائٹر کو اُس ”فریم آف مائنڈ“ میں لے جانے میں معاون ہوتی ہے۔
سوال: اندھی زینب کا کردار کیوں کر سوجھا؟ کیا یہ ان دنوں تشکیل پارہا تھا، جب آپ نوجوانی کے مراحل طے کر رہے تھے؟
محمد حنیف: اُس زمانے میں ایسا ایک کیس بہت مشہور ہوا تھا۔ میں نے اخبارات میں اُس سے متعلق تھوڑا بہت پڑھا تھا۔ البتہ کسی دستاویز سے یہ پتا نہیں چلتا کہ بعد میں اس عورت کے ساتھ کیا ہوا۔ دراصل زینب ایک طرح سے حدود آرڈیننس کے تضادات کی علامت بن گئی تھی۔ پھر میرے ساتھ ایک اور مسئلہ بھی تھا۔ ناول کی کہانی بَیس، میس، کنٹوٹمنٹ، جیل یا کسی افسر کے دفتر میں چل رہی ہے۔ تو کہانی کو باہر کی دنیا میں لے جانے کی ضرورت تھی، تاکہ اندازہ ہو کہ مرکزی کرداروں کے فیصلوں کا معاشرے پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔
سوال: مغرب میں آپ کے ناول کو خالص فکشن کے طور پر دیکھا گیا، یا ایک نیم تاریخی دستاویز کے طور پر؟
محمد حنیف: مغرب میں بھی مختلف طرح کے قاری ہیں۔ برطانوی اور طرح سے پڑھتے ہیں۔ وہ اِسے ناول کے طور پر لیتے ہیں۔ امریکی اس زاویے سے دیکھتے ہیں کہ اس میں ”کولڈ وار“ کا ذکر ہے۔ جرمنی میں لوگ ایسی باتوں پر ہنستے ہیں، جس پر میں حیران ہوتا ہوں کہ کمال ہے، اِن باتوں پر بھی ہنسا جاسکتا ہے (قہقہہ)۔ دراصل ایک ہی کتاب کو پڑھنے والے مختلف افراد اُس پر الگ الگ ردّ ِعمل ظاہر کرتے ہیں۔ البتہ مغرب میں جو ردّ ِعمل یک ساں تھا، وہ کچھ یوں تھا کہ ”اچھا، یہ کتاب پاکستان میں چھپی، پاکستان میں پڑھی گئی، مگر کسی نے کچھ نہیں کہا، کوئی ردّ ِعمل نہیں آیا!“ یہ بات چند لوگوں نے ضرور کہی۔
سوال: توقع تھی کہ پہلا ہی ناول اتنا مقبول ہو جائے گا؟
محمد حنیف: (مسکراتے ہوئے) بھئی جب آپ لکھ رہے ہوتے ہیں، تو سب سے بڑی توقع یہی ہوتی ہے کہ یہ کسی طرح ختم ہو جائے۔ ناول ایسا ہو کہ اسے پڑھ کر اُبکائی نہ آئے۔ کچھ دوست پڑھ لیں۔ کوئی اسے چھاپ دے۔ پڑھنے والوں تک پہنچ جائے۔ تو یہی میری توقعات تھیں۔ دراصل کتاب چھپنے سے پہلے آپ کوئی پیش گوئی نہیں کر سکتے۔ میرا خیال تھا کہ شاید صحافتی حلقے کے چند لوگ اِسے پڑھیں گے۔ غلطیاں نکالیں گے، اور مجھے اُنھیں بتانا پڑے گا کہ بھائی یہ ناول ہے، تاریخ نہیں۔ مگر مجھے اس بات پر حیرت ہوئی کہ ناول نوجوانوں میں بہت پڑھا گیا۔ جب کبھی میں اپنے بیٹے کے ساتھ اُس کے اسکول جاتا ہوں، تو وہاں اُس کی عمر کے بچے مجھ سے اِس کتاب کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ تو نوجوانوں کے ردّ ِعمل سے مجھے خوش گوار حیرت ہوئی، کیوں کہ میں اِس کی توقع نہیں کر رہا تھا۔
سوال: بریگیڈیر ٹی ایم کی موت سے مماثل ایک واقعہ، حقیقی دنیا میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی زندگی میں پیش آیا تھا۔ فکشن کی دنیا میں اِسے ضیا دور میں رونما کروانے کا کیا سبب رہا؟
محمد حنیف: (ہنستے ہوئے) یہی کہا جا سکتا ہے کہ میں اگلے Chapter تک جانے اور کہانی کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ دراصل بریگیڈیر ٹی ایم کی طرح اُس میں اور بھی کردار تھے، جو حقیقی دنیا میں وہاں نہیں تھے، جہاں اُنھیں ناول میں دِکھایا گیا، لیکن جیسے میں نے کہا، A Case of Exploding Mangoes ایک ناول تھا، کوئی تاریخی کتاب نہیں۔
سوال: گو کہ آپ کے ناول کا موضوع سنجیدہ ہے، مگر اس میں ایک خاص نوع کا مزاح ملتا ہے۔ مزاح کو بہ طور آلہ برتنے کا سبب کیا رہا؟
محمد حنیف: دیکھیں، کوئی کتاب خلا میں پیدا نہیں ہوتی۔ لوگ کہتے ہیں، یہ زندگی سے پیدا ہوتی ہے، تجربے سے جنم لیتی ہے، مگر حقیقت میں ہم جانتے ہیں کہ جو کتابیں آپ نے پہلے پڑھی ہوتی ہیں، اُن ہی کی تحریک سے نئی کتاب جنم لیتی ہے۔ تو مرڈر مسٹری، جس میں مزاح بھی ہو، مجھے پسند ہے۔ میرا تعلق ایک چھوٹے شہر سے ہے۔ وہاں کلچر ہے کہ نُکڑ پر بیٹھے لوگ کسی بہت سنجیدہ بات پر بحث کر رہے ہوتے ہیں، مگر آخر میں بات کسی لطیفے پر ختم ہوتی ہے۔ یعنی مزاح ہمارے معاشرے میں ہے۔ مجھے یاد ہے، ہمارے زمانے میں لطیفے بہت چلا کرتے تھے۔ آج کراچی میں آپ نے ایک چٹکلا سنا، کل پشاور میںکوئی آپ کو یہی لطیفہ سنا رہا ہوگا۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون نہ ہونے کے باوجود یہ لطیفے حیرت انگیز طور پر پورے ملک میں پھیل جاتے تھے۔ تو مجھے محسوس ہوتا تھا کہ شاید ایک ہی لمحے، ایک سے زیادہ لوگ مختلف جگہوں پر بیٹھے، ایک جیسی بات سوچ رہے ہیں۔ مختصر یہ کہ جو کتابیں میں نے پڑھیں تھیں، اور نُکڑ پر ہونے والے گفت گو سے، جس کا میں نے بچپن میں تجربہ کیا تھا، مجھے یہ تحریک ملی۔
سوال: محسن حامد کے ناول پر فلم بنی۔ کیا آپ کے ناول کو فلم کے قالب میں ڈھالا جاسکتا ہے؟
محمد حنیف: کافی لوگوں نے رابطہ کیا۔ ہر چار چھے ماہ بعد کوئی پیش کش آجاتی ہے، مگر اب تک کوئی میرے دل کو نہیں لگی۔ فلم بننی ہوئی، تو بن جائے گی۔ ایک زمانے میں میرا خیال تھا کہ اس ناول پر ایک میوزیکل اسٹیج پلے بن سکتا ہے، مگر یہ بھی کسی اور کے کرنے کا کام ہے۔
سوال: جب قلم تھاما تھا، تب کیا ادبی ناول لکھنے کا ارادہ تھا؟
محمد حنیف: میرا خیال تھا کہ میں ایک ”پولیٹیکل تھرلر“ لکھ رہا ہوں۔ مجھے اِس طرح کی کتابیں پسند ہیں، اور جس طرح کی کتابیں آپ کو اچھی لگتی ہیں، آپ اسی طرح کی کتاب لکھتے ہیں۔ اپنے طور پر تو میں نے پولیٹیکل تھرلر ہی لکھا۔ مجھے یاد ہے، اسے پڑھنے کے بعد برطانیہ کے ایک بزرگ پبلشرز نے مجھ سے کہا، ”تم نے زندگی میں کبھی پولیٹیکل تھرلر پڑھا بھی ہے؟ پولیٹیکل تھرلر ایسے نہیں ہوتے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ برا لکھا گیا ہو۔ تم سے غلطی ہوگئی ہے۔ لٹریری ناول چھاپنے والے پبلشر سے رابطہ کرو۔“
سوال: آج دنیا بھر سے داد بٹورنے والے اس ناول کو کس کٹٹیگری میں رکھنا پسند کریں گے؟
محمد حنیف: میں اس بارے میں سوچتا نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کل بھی چند بچے اسے پڑھ رہے ہوں، اور اپنے انداز میں اِسے دیکھیں۔ فروخت کرنے کے لیے تو آپ کتاب پر کوئی لیبل لگا سکتے ہیں، مگر قاری کو پابند نہیں کرسکتے کہ اس بات پر ہنسو، اس بات پر روو ¿! جب قاری پڑھنا شروع کرتا ہے، تو پھر کتاب اُس کی ہوجاتی ہے۔ لکھنے کے مانند پڑھنا بھی ایک ذاتی فعل ہے۔ کتاب آپ تنہا پڑھتے ہیں۔ دو لوگ مل کر کتاب نہیں پڑھ سکتے۔ میرے خیال میں پڑھنے والے کے ذہن میں ازخود کیٹیگری بن جاتی ہے۔
سوال: آپ کا دوسرا ناول Our Lady of Alice Bhatti بھی بہت پسند کیا گیا۔ بہ ظاہر تو یہ ایک رومانوی کہانی ہے، مگر چند حلقوں کا خیال ہے کہ اس کے ذریعے آپ نے اقلیتوں کے مسائل اُجاگر کرنے کی کوشش کی ہے؟
محمد حنیف: میرا ایسا ارادہ نہیں تھا۔ مجھے بھی پاکستان کے دیگر لوگوں کی طرح اقلیتوں میں کوئی دل چسپی نہیں۔ اصل میں ناول کے آغاز میں آپ فیصلہ کرتے ہیں کہ مرکزی کردار کون ہوگا۔ اس ناول کا مرکزی کردار ایک نرس ہے۔ اب تو حالات بدل گئے، مگر میرے تجربے میں سرکاری اور چرچ کے اسپتالوں میں عام طور پر نرسیں کیتھولک ہوا کرتی تھیں۔ تو جب طے ہوگیا کہ یہ ایک نرس کی کہانی ہے، تو آپ کردار کے ساتھ چلتے ہوئے اس کے گھر بھی جائیں گے، اُس کے ابّا سے ملیں گے۔ اس کے مسائل کا بھی ذکر آئے گا۔ میرے خیال میں اقلیتوں کے مسائل پر لکھنے کے لیے ناول سے بہتر اخبار ہے۔ پریس کلب کے سامنے آپ مظاہرہ کرسکتے ہیں، مگر جب آپ کے کردار کا تعلق اقلیتی برادری سے ہے، تو اُس کا ماحول اور مسائل خود بہ خود در آئے۔ تو یہ شعوری نہیں تھا۔ کچھ لوگ لکھنے سے پہلے دو تین سال سوچتے ہیں۔ ہر واقعے کا تعین کرتے ہیں، مگر میرا یہ معاملہ نہیں۔ جب میں لکھنا شروع کرتا ہوں، تو آغاز میں کردار کا ہیولا ہوتا ہے، کوئی آواز ہوتی ہے، اور اس آواز، اس ہیولے کے ساتھ میں چل پڑتا ہوں۔
سوال: پہلے ناول کی بے پناہ مقبولیت کے بعد دوسرے ناول کے موضوع کا چناﺅ کرتے ہوئے کیا کوئی دقت پیش آئی؟
محمد حنیف: لوگ اکثر یہ سوال کرتے ہیں۔ شاید کسی سطح پر پہلی کتاب کی مقبولیت آپ پر اثر انداز ہوتی ہو، مگر یہ مقبولیت آپ سے دوسری کہانی نہیں لکھوا سکتی۔ آپ کو نئے سرے سے، نئے کرداروں کے ساتھ آغاز کرنا ہوتا تھا۔ لوگ کہتے ہیں کہ مقبولیت آپ کو بدل دیتی ہے، مگر اِس عمر میں کوئی انسان بھلا کتنا بدلے گا؟ ہاں، پہلی کتاب لکھتے ہوئے آپ کو یہ نہیں پتا ہوتا کہ اُسے کون پڑھے گا، کون چھاپے گا۔ البتہ دوسری کتاب لکھتے ہوئے آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ پبلشر مل جائے گا، کچھ لوگ پڑھ بھی لیں گے۔
سوال: کس ناول نے خود کو دریافت کرنے کا زیادہ موقع فراہم کیا؟
محمد حنیف: دوسرے ناول نے۔ وجہ یہ ہے کہ پہلا ناول ایک تاریخی واقعے کے گرد گھومتا تھا۔ ایسی کہانی میں لکھنے سے پہلے ہی آپ کو انجام کا پتا ہوتا ہے، بس اُس تک پہنچنا ہے۔ البتہ دوسرے ناول میں یہ معاملہ نہیں تھا۔ تو اس نے خود کو دریافت کرنے کے زیادہ مواقع فراہم کیے۔
سوال: دونوں ہی ناولز میں آپ نے سماجی اور سیاسی مسائل کا احاطہ کیا، پسے ہوئے طبقے کے اَلم کی منظرکشی کی، اس نقطہ ¿ نگاہ سے تو آپ ادب میں تھوڑے تھوڑے ترقی پسند ہوئے؟
محمد حنیف: یہ لمبی بحث ہے۔ جب ہم پیدا ہوئے، اس وقت تک یہ بہت اُلجھ چکی تھی، مگر جہاں تک پِسے ہوئے طبقے کے مسائل اجاگر کرنے کی بات ہے، اِس کے لیے کسی Ideology کی ضرورت نہیں۔ اگر آپ صحافی ہیں، ادیب ہیں، لوگوں تک اپنی بات پہنچا سکتے ہیں، تو یہ خود بہ خود طے ہوجاتا ہے۔ صحافت میں یہی ہوتا ہے ناں کہ جو اپنی بات خود نہیں کرسکتا، اس کی بات کی جائے۔ جس کی بات کوئی نہیں سنتا، اسے سنا جائے۔ تو اس میں اخلاقی برتری والی بات نہیں ہے۔ یہ اکلوتا انتخاب ہے۔ اگر آپ ادب کے دھندے میں پڑے ہیں، تو ان مسائل پر آپ بات کریں گے۔
سوال: آج اس خطے کے انگریزی فکشن نگاروں کا چرچا ہے، انھیں ایوارڈز سے نوازا جا رہا ہے۔ کیا یہ ادیب واقعی بین الاقوامی معیار کا ادب لکھ رہے ہیں؟
محمد حنیف: میاں! یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ اگر کوئی کتاب چھپنے کے چالیس پچاس سال بعد بھی پڑھی جارہی ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ اُس نے جگہ بنائی ہے۔ اس وقت اچھی کتابیں بھی چھپ رہی ہیں، بری بھی چھپ رہی ہیں۔ ہاں، آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ انگریزی میں لکھنے والوں کو زیادہ پیسے مل رہے ہیں۔ دراصل آپ ادب کو اپنےEconomic system سے الگ نہیں کر سکتے۔ البتہ ایک چیز ضرور تبدیل ہوئی ہے۔ اب مڈل کلاس خاندان بھی اپنے بچوں کو انگریزی اسکولز میں پڑھا رہے ہیں۔ مڈل کلاس طبقہ ہی کتاب خرید سکتا ہے، اس کے پاس پڑھنے کے لیے وقت ہے۔ غریب کے پاس نہ تو وقت ہے، نہ ہی پیسے۔ اب اگر یہ بچے انگریزی میں تعلیم حاصل کریں گے، تو انگریزی ادب ہی پڑھیں گے۔ اس عمل سے دیگر زبانوں میں لکھنے والے کے لیے مسائل جنم لے رہے ہیں۔ مجھے اکثر اسکول اور کالجز میں بلایا جاتا ہے۔ جب میں بچوں سے پوچھتا ہوں کہ پچھلے سال ان میں سے کتنوں نے اردو کی کوئی کتاب پڑھی، تو سو میں ایک یا دو لڑکیاں کہتی ہیں کہ انھوں نے پروین شاکر کو پڑھا ہے۔ تو پاکستانی نوجوانوں میں اردو ادب پڑھنے کا رجحان گھٹا ہے۔
سوال: اس خطّے میں تخلیق ہونے والا انگریزی ادب کیا میلان کنڈیرا اور مارکیز کے ادب کے سامنے کھڑا ہو سکتا ہے؟
محمد حنیف: میرا تو نہیں خیال کہ ایسا ممکن ہے۔ حالیہ برسوں میں شاید ہی ایسا ادب تخلیق ہوا ہو، جو مارکیز اور میلان کے ادب کا ہم پلہ قرار پاسکے۔ مگر یہ بھی یاد رکھیں کہ وہ گذشتہ چالیس پچاس سال سے لکھ رہے ہیں۔ موجودہ ادب کی حیثیت کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا۔
سوال: پاک و ہند کے انگریزی لکھاریوں کو ملنے والے حیران کن ردّ ِعمل کی وجہ کہیں مغرب کی اِس خطّے میں بڑھتی دل چسپی تو نہیں؟
محمد حنیف: (ہنستے ہوئے) مجھے اس کا جواب تو نہیں پتا، میں بس تُکا لگا سکتا ہوں۔ دیکھیں، اگر پاکستان کے بارے میں امریکا کے اخبارات میں تواتر سے خبریں شایع ہورہی ہیں، تو شاید وہاں کے پبلشر کو اِس پر کتاب چھاپنے کا خیال آئے، اور قاری میں پڑھنے کی خواہش پیدا ہو۔ مگر جیسا میں نے کہا، کوئی شخص مصر کی صورت حال جاننے کے لیے چار پانچ مصری ادیبوں کو نہیں پڑھے گا۔ ہاں، اِس طرح کی خبروں کی وجہ سے پڑھنے والے کو ایک راہ ضرور مل سکتی ہے۔ اِس طرح کے عوامل آپ کی توّجہ ضرور مبذول کرواتے ہیں، مگر آخر میں کسی کتاب کو اِس بنیاد پر اچھا قرار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ ہندوستان کے مسائل کے بارے میں تھی یا پاکستان کی مشکلات کے بارے میں۔ اب آپ مارکیز کو اس لیے تو نہیں پڑھتے ناں کہ آپ کو کولمبیا کے حالات سے آگاہی ہو۔
سوال: شناخت اور شہرت کے حصول کے لیے انگریزی فکشن نگاری کو منافع بخش میدان تصوّر کیا جا رہا ہے۔ آپ کے نزدیک کیا واقعی ایسا ہے، یا پھر یہاں بھی کئی گُم نام ادیب تاریک راہوں میں مارے جاتے ہیں؟
محمد حنیف: جی بالکل۔ اردو ہو یانگریزی، ہر زبان میں یہ معاملہ ہے۔ سو افراد لکھنا شروع کرتے ہیں، تو تیس ہی کتاب ختم کر پاتے ہیں، جن میں سے چند ہی چھپ پاتی ہیں۔ میرے بہت سے ایسے دوست ہیں، جنھوں نے لکھنا شروع کیا، مگر کتاب ختم نہیں کر سکے۔ کچھ نے ختم کر لی، اور اچھی کتاب لکھی، مگر چھپ نہیں سکی۔ یہ ایک عام مسئلہ ہے۔
سوال: انگریزی میں طبع آزمائی کرنے والے پاکستانی تخلیق کاروں نے شاعری سے بے اعتنائی کیوں برتی؟
محمد حنیف: شاعری ہوئی ہے، مگر بہت کم ہوئی۔ میرے خیال میں گذشتہ چار پانچ برس میں جو ”ٹرینڈ“ آیا ہے، اس میں Narrative Non-Fiction مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔ اب واقعات اور سفر ناموں کو دل چسپ انداز میں لکھا جا رہا ہے۔ شاعری اس کے مقابلے میں کم ہوئی۔
سوال: آپ جیسا بین الاقوامی شہرت یافتہ ناول نگار اردو میں شایع ہونے والے ایک ضخیم اور پُرپیچ ناول کا مطالعہ کرتا ہے، ناول نگار کا انٹرویو بھی کرتا ہے — یہاں ”غلام باغ“ کا ذکر ہورہا ہے— تو کیا آپ کے مانند دیگر انگریزی لکھاری بھی اردو ادب میں دل چسپی رکھتے ہیں؟
محمد حنیف: زیادہ تر تو اردو پڑھ نہیں سکتے۔ جو پڑھ سکتے ہیں، اُن میں سے چند ضرور پڑھتے ہوں گے۔ کیوں کہ میں نے اردو میڈیم میں پڑھا ہے، اِس لیے اردو پڑھ لیتا ہوں۔ پھر صحافی ہوں۔ صحافی سوچتا ہے کہ ہر کام کر لیا جائے۔ مضمون لکھا جائے، انٹرویو کیا جائے، رپورٹ تیار کی جائے۔ باقی رائٹرز خود کو ادب تخلیق کرنے اور اِسے پروموٹ کرنے تک محدود رکھتے ہیں۔ خیر، جہاں تک ”غلام باغ“ کا تعلق ہے، وہ بڑا Ambitious ناول ہے۔ بیچ میں کبھی کبھی لگتا ہے کہ وہ گر پڑے گا۔ وہ گرتا ہے، اور پھر اٹھ کر چل پڑتا ہے۔ یہ بات مجھے بہت پسند آئی۔ پھر اس میں ناول نگاری کے حوالے سے پوری ایک بحث ہے۔ مرکزی کردار کا خود سے مکالمہ ہے کہ وہ ناول لکھے، نہ لکھے؟ لکھے تو کیا لکھے؟ اطہر بیگ صاحب کا جو دوسرا ناول ہے: ”صفر سے ایک تک“ وہ مجھے پہلے ناول سے بھی زیادہ پسند آیا۔ وہ خاصا Composed ہے۔
سوال: اردو ادیبوں کو پڑھا، کون پسند آیا؟
محمد حنیف: ایک زمانے میں کرنل محمد خان مجھے بہت پسند تھے۔ پھر عبداﷲ حسین کو پڑھا۔ میری ان سے ملاقات بھی رہی۔ کیا شان دار آدمی ہیں! حالیہ دنوں میں جس ادیب کو Rediscover کیا، وہ ہیں محمد خالد اختر۔ ان کا فکشن تو کمال ہے ہی، مگر ان کا نان فکشن بھی شان دار تھا۔ نئے لکھنے والوں میں علی اکبر ناطق ہیں، خالد طور ہیں۔
سوال: کیا سبب ہے کہ اردو ادب اور اردو ادیب بین الاقوامی سطح پر شناخت نہیں بنا سکے، جب کہ اِسی ملک کے انگریزی فکشن نگار اعلیٰ ترین اعزازات کے حق دار ٹھہرے؟
محمد حنیف: دیکھیں اس کے دو اسباب ہیں۔ ایک تو اردو میں کم ناول لکھے گئے۔ اور ان میں جو اچھے ناول ہیں، اُن کی تعداد اور بھی کم ہے۔ ترجمے یا تو ہوئے نہیں، یا ہوئے، تو وہ اچھے نہیں ہوئے۔ اس کے باوجود بھی انتظار حسین ”مین بکر پرائز“ کے لیے شارٹ لسٹ ہوئے۔ اردو کے چند ناولز کا یورپی زبانوں میں ترجمہ ہوا۔ بڑے ناول کے ترجمے میں برسوں لگ جاتے ہیں۔ یہ اداروں کے کرنے کا کام ہے۔ اب بندہ اگر یہی کام کرے گا، تو کھائے گا کیا؟ مارکیز، میلان اور روسی ادب کا انگریزی میں ترجمہ کرنے والوں نے حکومتی سرپرستی میں، یونیورسٹیوں میں بیٹھ کر یہ کام کیا۔ ہمارے ہاں یہ تصوّر نہیں ہے۔ میں نے سنا ہے کہ گجرات کی ایک یونیورسٹی نے ”لٹریری ٹرانسلیشن“ کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ میرا نہیں خیال کہ کسی اور یونیورسٹی میں ایسا کوئی شعبہ ہے۔
سوال: آپ کی مادری زبان پنجابی ہے۔ کیا پنجابی ادب بھی مطالعے میں رہتا ہے؟
محمد حنیف: پڑھتا ہوں۔ کسی زمانے میں مَیں پنجابی میں تھوڑی بہت شاعری کیا کرتا تھا۔ آج جب کبھی غصّہ آتا ہے، تو پنجابی میں شاعری کرنے لگتا ہوں۔ پنجابی میں اچھا ادب لکھا گیا، مگر پڑھا نہیں گیا۔ کیوں کہ پنجابی پڑھنا نہیں سکھائی جاتی۔ شاید پنجابیوں کو اپنی زبان پسند نہیں۔ جس زبان میں آپ پڑھ نہیں سکتے، اس میں لکھے گا کون؟
سوال: ادب میں آپ کا نظریہ کیا ہے؟
محمد حنیف: مزہ آنا چاہیے، لکھنے والا لکھتے ہوئے، اور پڑھنے والا پڑھتے ہوئے اُس سے لطف اندوز ہو۔
سوال: کیا ادب تبدیلی کا آلہ بن سکتا ہے؟ کیا ادیب کو مصلح بننا چاہیے؟
محمد حنیف: میرے خیال میں ادیب کو اصلاح معاشرہ کی کوشش ضرور کرنی چاہیے۔ غالب امکان ہے کہ وہ ناکام ہوگا۔ ہماری آبادی کا بڑا حصہ ناخواندہ ہے۔ جو پڑھ سکتے ہیں، وہ کتاب خرید نہیں سکتے۔ جو خرید سکتے ہیں، وہ سوچتے ہیں کہ کتاب خریدنے سے بہتر ہے کہ کسی ریسٹورنٹ چلا جائے۔ میرا نہیں خیال کہ وہ مصلح بن سکتا ہے، مگر اسے کوشش ضرور کرنی چاہیے۔
سوال: صحافی اور ادیب میں کس طرح توازن رکھا، کیا یہ آپس میں ٹکراتے ہیں، یا تال میل اچھا تھا، ساتھ ساتھ چلتے رہے؟
محمد حنیف: دونوں ساتھ ساتھ چلتے رہے۔ کتاب لکھتے لکھتے اُکتا جاﺅں، تو صحافیوں کے ساتھ بیٹھ جاتا ہوں۔ وہاں دل نہ لگے، تو خواہش ہوتی ہے کہ گھر میں بیٹھ کر ناول لکھا جائے۔
سوال: کیا شہرت نے آپ کو تبدیل کیا؟
محمد حنیف: (ہنستے ہوئے) شہرت کھلاڑیوں اور فلم اسٹارز کی ہوتی ہے۔ رائٹر کی شہرت تو بس اتنی ہے کہ اُسے دوچار لوگ جانتے ہیں۔ اور یہ بھی آپ جیسے وہ لوگ ہیں، جو خود لکھتے ہیں۔ اور وہ بھی سوچتے ہیںکہ اِس سے اچھا تو ہم لکھ لیتے ہیں (قہقہہ)۔ یا پھر آپ کو وہ لوگ جانتے ہیں، جو چاہتے کہ آپ کسی پبلشر سے ان کی بات کروا دیں۔ ان کی کتاب پر رائے دے دیں۔ اب آپ اِسے شہرت کہنا چاہیں، تو کہہ سکتے ہیں۔ میری بیوی ایکٹر ہے، میں اس کے ساتھ کبھی اتوار بازار جاتا ہوں، تو وہاں بھیڑ لگ جاتی ہے۔ شہرت یہ ہوتی ہے۔
(یہ انٹرویو چند برس قبل سہ ماہی اجرا میں شایع ہوا تھا)

No comments:

Post a Comment