Tuesday, November 14, 2017

عثمان کی وہ دھن، جس میں سماج سانس لیتا ہے

نظم ایک بانسری ہے، جس میں شاعر سانس پھونکتا ہے، ایک دھن بنتا ہےاور اگر اس دھن میں اُس کی روح شامل ہو، اس کا گیت احساس سے گندھا ہو، اس میں سچائی ہمکتی ہو، تو سارا جنگل شاعر کے ساتھ گانے لگتا ہے...اگر تم کسی جنگل کو گاتے ہوئے پاؤ،تو سمجھ لینا، وہاں ایک شاعر بانسری بجا رہا ہے۔

 

میرا شہر بھی ایک جنگل ہے، ایک تاریک جنگل۔ یہاں خاموشی اور سناٹا ہے، مگر کبھی کبھی ایک حزنیہ دھن سنائی دیتی ہے۔ اور جوں جوں وہ واضح ہوتی جاتی ہے، اُس کا طربیہ پہلو ابھرنے لگتا ہے۔ اور میں سمجھ جاتا ہوں کہ جنگل کے قلب میں، آبشار کے پاس، کسی پتھر پر عثمان جامعی بیٹھا ہے۔ یہ اُس کی بانسری کی دھن ہے،یہ اُس کی نظم ہے،جو مجھے اپنے اور کھینچتی ہے۔

عثمان جامعی آج کا شاعر ہے۔ آج کا شاعر، جس نے اپنا ماضی کھونے نہیں دیا۔جب وہ اپنی خواہش، احساس، خواب اور آشاؤں کو ایک تھیلے میں ٹھونسے پھینکنے نکلتا ہے، تو ہم دعا کرتے ہیں کہ وہ دشت وصحرا،گگن ،سمندر کہیں جگہ نہ پائے ۔ عاجز آکرلوٹ آئے،اور ایک دل سوز نظم کہے۔

ہاں،اس کی شاعری میں تلخی تیرتی محسوس ہوتی ہے کہ آس پاس کرب ہے، گریہ ہے،پھر وہ ایک صحافی بھی تو ہے، مگراُس کی دھن وحشت، بربریت اور شورسے آلودہ ہونے کے بجائے اپنا حسن برقرار رکھتی ہے کہ اُس کا دل ایک شاعر کا دل ہے۔ وہ اپنے مشاہدے اور تجربے کو خبر نہیں بننے دیتا۔ حالات سے شاکی ضرور ہے، مگر اُس کی شاعری شکوہ نہیں،سچ بیان کرنے کی ستھری نکھری، ادبی کاوش ہے۔

فقط یہی کہہ دینا کافی ہے کہ عثمان جامعی ’’خط‘‘ جیسی لازوال نظم کا خالق ہے، جس میں روشنیوں کے شہر کی تاریکی حرکت کرتی ہے۔ وہ ایک خواب سہانا، جنت میں شجر پُرانا ڈھونڈ رہا ہے۔ اس کتاب کے وسیلے ہم اِس تلاش میں اُس کے ہم رکاب ہوتے ہیں۔ ساتھ ساتھ چلتے ہیں، تاکہ اس کی دھنوں پر جنگل کے ساتھ رقص کر سکیں۔دھنیں، جو تلخ ہیں، مگر گرویدہ بنا لیتی ہیں۔ دھنیں، جن میں سماج سانس لیتا ہے۔

اقبال خورشید

No comments:

Post a Comment