Wednesday, November 29, 2017

خان کا دھرنا اور میرا اعتراف : اقبال خورشید

یوں تو دیگر صحافیوں کے مانند میں بھی شہوت شہرت میں مبتلا ہوں، اور اپنے نام کے ساتھ کئی سابقے لاحقے لگانا پسند کرتا ہوں، مگر میں حقیقت سے بھی خوب واقف ہوں۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ انٹرویوکاری ہے، جہاں میں اپنی کارگردگی سے کچھ حد تک مطمئن ہوں۔ 

 

 اور پھر فکشن نگاری۔ اگرچہ میں دوسرے درجے کا فکشن نگار ہوں، مگر یہ اطمینان ہے کہ میں نے اس صنف میں اپنی بھرپور صلاحیتوں کے اظہار کی کوشش کی۔ (یہاں فلیش فکشن کا ذکر نہیں ہورہا)۔ اب آتے ہیں کالم نگاری کی سمت۔
میں خود کو ایک غیرمعروف، غیراہم کالم نگار گردانتا ہوں۔ گو میں نے ہمیشہ اپنے کالم کو سجانے سنوارنے کی کوشش کی (اور ایک دو بار کام یاب بھی رہا، جیسے باب ڈیلن یا بدھ سے متعلق لکھتے ہوئے، یا پھر مارکیز یا تارڑ پر قلم اٹھاتے ہوئے) مگر میرا کوئی حلقہ نہیں، کوئی پیروکار نہیں۔ اور اس کا کوئی خاص امکان بھی نہیں، کالم نگاری کا مستقبل پنجاب سے وابستہ ہے، کراچی، کوئٹہ یا پشاور کی دال یہاں نہیں گلنے والی۔ اسباب پر پھر بات ہوگی۔
اس کے باوجود، صرف اس باعث کہ میں گذشتہ پانچ برس سے مسلسل کالم لکھ رہا ہوں، دنیا اور ایکسپریس جیسے اخبارات میں چھپتا رہا ہوں، اور شاید بیس تیس لوگ مجھے پڑھتے بھی ہوں، مجھ پر لازم ہے کہ میں خان سے متعلق ایک صحافتی اعتراف کروں۔
اب یہ اعتراف یہ تو نہیں ہوسکتا کہ پی ٹی آئی میری گاڑی میں بنی تھی یا یہ کہ جب خان کو فلاں فلاں کا فون آیا، میں موجود تھے، یا میں نے اسے درویش سے ملوایا، یا دعا دی۔
اس اعتراف کا تعلق چار ماہ تک جاری رہنے والے دھرنے سے ہے۔
میں اعتراف کرتا ہوں کہ اس حساس موقع پر میں نے اپنے قلم کا وزن غلط پلڑے میں ڈالا، اور کبھی ڈھکے چھپے الفاظ میں، اور کبھی برملا دھرنے کی حمایت کی کہ میں اسے درست سمجھ بیٹھا تھا۔
گو مجھے جلد اپنی غلطی کا احساس ہوگا کہ چار ماہ تک لگاتار بولنے والا شخص کچھ نہیں چھپا پاتا، مگر خادم حسین رضوی کے دھرنے کے موقع پر یہ بوجھ میرے ضمیر یکدم بڑھ گیا، اور اسے دوٹوک الفاظ میں اتارنا لازم ٹھہرا۔
میں اپنے گذشتہ کالم میں بھی یہ اعتراف کر چکا ہوں، اور سمجھتا ہوں؛ دیگر کالم نگاروں کو بھی، جو حقیقت میں رائے عامہ کے نمایندے ہیں، اس معاملے میں اپنی غلطی کا اعتراف کرنا چاہیے۔

No comments:

Post a Comment