Tuesday, November 28, 2017

ہم نے مذہب کی ایجنسی مولوی کو دے کر غلط کیا:ممتاز ترقی پسند دانش ور ڈاکٹر شاہ محمد مری سے رانا محمد آصف کا یادگار مکالمہ

عرب اسپرنگ انتہائی واہیات چیز تھی, چوہدری نثار سے بڑا فاشسٹ دوست کوئی نہیں تھا

کیپیٹل ازم نے ہماری ساری اچھی خصوصیات کا بیڑہ غرق کردیا
سرمایہ داری کو لوگوں کے انقلابی بننے سے کوئی خطرہ نہیں منظم ہونے سے ہے

انٹرویو: رانا محمد آصف

عکاسی: شاہ رخ خان

 

 

 

کوئٹہ کی شامیں سرد ہونا شروع ہو چکی تھیں اور ہم فاطمہ جناح روڈ پر مری لیب میں میز کے سامنے بیٹھے تھے، جس پر کاغذات پھیلے ہوئے تھے۔ سامنے کرسی پر ریڈنگ گلاس لگائے صاحب تشریف فرما تھے جن کی دائیں جانب لگے ہوئے کمپیوٹرز پر کمپوزر کام میں مصروف تھے تو بائیں جانب لیب سے بار بار انہیں کوئی رپورٹ تھمائی جاتی، جس پر وہ دستخط کرتے تو کبھی کوئی نسخہ تحریر کرتے۔ ٹیسٹ رپورٹس اور کتابوں کے مسودے جس طرح اس میز پر حرکت میں رہتے ہیں ایسا شاید ہی کہیں اور ہوتا ہو۔ جسم کے روگ اور سماج کے امراض دور کرنے میں ہمہ وقت مصروف اس شخصیت کا نام ہے ؛ڈاکٹر شاہ محمد مری، جو بلوچستان میں علم و آگاہی اور نظریاتی جدوجہد کی علامت تصور ہوتے ہیں۔

شاہ محمد مری 23 نومبر 1954 کو بلوچستان کے ضلعے کوہلو کے ایک علاقے ’’ماوند‘‘ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد حاجی محمد مراد خود تو تعلیم حاصل نہیں کرسکے لیکن اس کی اہمیت سے واقف تھے اور اسی لیے وہ اپنے لوگوں کو اس زیور سے آراستہ کرنے کے لیے مصروف عمل رہے، شاہ محمد مری کو یہ جذبہ والد ہی سے ورثے میں ملا۔ ڈاکٹر مری نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے میں مکمل کی اس کے بعد مڈل کی تعلیم بارکھان اور میٹرک کے لیے لورالائی کی تحصیل دکی کا رُخ کیا۔ 1979 میں بولان میڈیکل کالج کوئٹہ سے ایم بی بی ایس کی سند حاصل کی۔ ابتدائی دور میں مذہبی تعلیم بھی حاصل کی اور درس نظامی کی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔ ’’بلوچ اسٹوڈنٹس فیڈریشن‘‘ ان کی سیاسی سفر کا نقطہ آغاز تھا۔ بعد ازاں ’’سوشلسٹ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن‘‘ میں شامل ہوئے اور ملکی سطح پر اس کے جنرل سیکریٹری بھی رہے۔ ’’پاکستان پروگریسو اسٹوڈنٹس الائنس‘‘ کی تشکیل ہوئی تو احتجاجی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کی۔ ضیاالحق کے دور میں مارشل لا کے خلاف بھی سرگرم رہے اور دوسری جانب افغانستان میں آنے والے انقلاب کا دفاع بھی جاری رکھا، حالات ساز گار نہ تھے اس لیے سرگرمیاں خفیہ طور پر جاری رہیں۔ کئی کوششوں کے باوجود انھیں گرفتار نہیں کیا جاسکا۔ اس کے بعد وہ سی آر اسلم کی ’’پاکستان سوشلسٹ پارٹی‘‘ سے منسلک ہوگئے۔ ان کی ادارت میں نکلنے والے ’’عوامی جمہوریہ‘‘ کے لیے مضامین لکھے۔ 1990 میں پنجاب یونیورسٹی سے پیتھالوجی میں ایم فل کیا اور بولان میڈیکل کالج میں تدریس کا آغاز کیا۔

شاہ محمد مری نے 1975 کے بعد تراجم کا سلسلہ شروع کیا، پہلا ترجمہ کیوبا کے صدر فیڈل کاسترو کے طویل انٹرویو کا کیا۔ اس کے بعد یہ سلسلہ ایسا چلا کہ کئی اہم کتابیں ڈاکٹر مری کے طفیل اردو روپ میں ڈھلیں اور بلوچی کے دامن کو بھی اس سے بہت وسعت ملی۔ بلوچ قوم ، تاریخ، زبان، سیاست اور ثقافت ان کی تصنیفی سرگرمیوں کا خاص محور ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے ترجمہ و تالیف دونوں میدانوں میں گراں قدر کام کیا۔ معروف روسی اسکالر پیکولین کی کتاب’’بلوچ‘‘ کا اردو میں ترجمہ کیا۔ کارل مارکس پر لکھی جانے والی والکوف کی کتاب ’’برتھ آف اے جینیس‘‘ کا ترجمہ ’’نیست پیغمبر‘‘ کے نام سے کیا۔ 1986 میں ’’بلوچ قوم‘‘ تین جلدوں میں شایع ہوئی۔ فکشن میں بھی تراجم کیے،’’ اسپارٹیکس‘‘ تو ان کا محبوب ترین ناول ہے، ہاروڈ فاسٹ کے ایک ناول ’’سٹیزن ٹام پین‘‘ کا بھی ترجمہ کیا۔ اسی طرح افغانستان کے بلوچ ادیب عبدالستار پُردلی کے ناول کا ’’گندم کی روٹی‘‘ ، افغانستان کے معروف انقلابی کی کتاب’’اباسین پر سحر ہوتی ہے‘‘ اور نور محمد ترہ کئی کے ناول کا ’’پہاڑوں کا بیٹا‘‘ کے نام سے اردو میں ترجمہ کیا۔ شاہ محمد مری ’’عشاق کے قافلے‘‘ کے عنوان سے ایک سلسلہ بھی شروع کیے ہوئے ہیں جس میں مختلف ادوار میں طبقاتی جدوجہد سے منسلک مختلف شخصیات پر کتابیں شایع کی جارہی ہیں۔ اس سلسلے میں شاہ عنایت، ماوزے تنگ، شاہ عبداللطیف بھٹائی، مستیں توکلی سمیت کئی شخصیات پر کتابیں شایع ہوچکی ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔

عرصہ بیس برس سے وہ ماہنامہ’’ سنگت ‘‘شایع کررہے ہیں۔ تصنیف و تالیف اور ادبی خدمات کی یہ محض ایک جھلک ہے، ان کی ہمہ جہت شخصیت کو بیان کرنے کے لیے نوجوان صحافی اور ادیب عابد میر، ڈاکٹر شاہ محمد مری کی شخصیت اور خدمات پر کتاب مرتب کرچکے ہیں۔ ڈاکٹر شاہ محمد مری سے گفتگو ایک دلچسپ تجربے سے کم نہیں۔ وہ ایک استاد، ایک مارکسسٹ اور ایک بلوچ ہیں، قصہ گوئی کا فن اس لیے بہت خوب جانتے ہیں۔ انہیں بوریت سے سخت چڑ ہے ،اس لیے اپنے تحریر کے اسلوب اور گفتگو میں وہ اسے راستہ نہیں دیتے، ان سے ہونے والی نشست کے احوال سے ممکن ہے کہ قارئین کو بھی اس کا اندازہ ہوجائے۔

*فکشن میں آپ کی پسندیدگی کا معیار کیا ہے۔ موضوع، اسلوب یا کچھ اور؟
شاہ محمد مری: برناڈ شاہ کے بارے میں رسل نے ’’ڈنڈا مار‘‘ تبصرہ کیا تھا کہ وہ ادب کا آدمی نہیں تھا۔ میں اصل میں ادب کا آدمی نہیں اور نہ فکشن کا۔ میں ایک سیاسی کارکن رہا اور پسند بھی اسی اعتبار سے رہی۔ مثلاً مجھے کرشن چندر، گورکی، افغانستان کے نور محمد ترکئی، ہارورڈ فاسٹ اور اس طرح کے ادیب پسند رہے۔ ہم فکشن کو سیاست کی نظر سے دیکھنے والے لوگ ہیں۔ پھر سارے ہی مورچے خالی ہیں نا جی! میں نے کہیں لکھا ہے کہ میں شاعری کو زیادہ پسند نہیں کرتا بالخصوص اردو شاعری کو۔ پھر ساحر وغیرہ آئے لیکن میں نے کہیں لکھا کہ اب تو میں بہت ’مستند قسم کا نقاد‘ ہوچکا ہوں۔ جو اچھے لوگ تھے وہ گزر گئے باقی لوگ بلاگ ولاگ میں لگے ہوتے ہیں تو ہمارے حصے میں یہ چیزیں آجاتی ہیں۔ فکشن میں روانی، اسٹوری جو آپ کو کلائمکس تک اپنے ساتھ ساتھ رکھے، وہ فکشن کام یاب ہے۔ سیاست دان، مقرر اور محبوب وہی کام یاب ہے جو آپ کو ساتھ ساتھ رکھے(مسکراتے ہوئے)۔ سپارٹیکس میں یہی کمال ہے کہ قاری کو ساتھ ساتھ رکھتا ہے۔ پھر میں اس ناول کے تناظر میں ہی لیڈروں کو بھی دیکھتا تھا کہ غوث بخش بزنجو یا نواب خیر بخش مری کہاں کہاں اسپارٹیکس کے قریب ہیں، لیکن وہ ایک اور ہی کردار تھا۔ یا پھر اس کی وجہ ہے کہ ہیرو پرستی جین میں ابھی تک تو باقی ہے نا۔ حالاں کہ ہیرو گیری کا دور تو اب ختم ہوگیا۔

*آپ کا پسندیدہ ناول’’ اسپارٹیکس‘‘ ہے، اس کے علاوہ بھی کوئی ناول جو بہت پسند آیا ہو؟
شاہ محمد مری: ’’دی تھورن برڈ‘‘ اس کی بنیادی تھیم یہ تھی کہ جب بھی اس پرندے کی موت قریب آتی تھی تو وہ کسی لمبے لمبے کانٹوں والے درخت پر جا بیٹھتا تھا اور اپنا جسم ان کانٹوں کے ساتھ مَس کرکے گانا شروع کردیتا تھا۔ نغمہ کی لے بڑھتی جاتی اور کانٹے پر وہ اپنے جسم کا دباؤں بڑھاتا جاتا، کانٹا اس کے جسم میں پیوست ہونا شروع ہوتا تو اس کی آواز بھی مدھم پڑ جاتی اور آخر میں اس کی موت ہوجاتی۔ وہ بہت خوب صورت اور منفرد ناول تھا۔ اس کے بعد اسپارٹیکس ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ہم نے ناول ہی بہت کم پڑھے ہوں۔ ہمارے ہاں ایک آدمی تھا جو صبح، دوپہر ، شام بی بی سی سنتا تھا، اس سے اگر پوچھتے کہ فلاں خبر کب کی ہے تو وہ کنفیوز ہوجاتا کیوں کہ وہ سنتا ہی اتنا زیادہ تھا۔ اس لیے ہمارے جیسے جو لوگ کم سنتے ہیں ہمیں پوری طرح معلوم ہوتا ہے۔

* ’’اسپارٹیکس‘‘ کی اس قدر پسندیدگی کا سبب کیا ہے؟
اس ناول میں روانی بہت زیادہ ہے۔ پھر یہ دیکھیں کہ اسے لکھنے والا آدمی کہاں کا، یہ کہانی کہاں کی ہے۔ اس میں جتنے بھی غلاموں کا تذکرہ ہے وہ ایک جگہ سے نہیں آئے۔ کوئی تھریس سے آیا ہے تو کوئی مصر سے۔ یہ مصنف کا کمال ہے کہ اس نے یہ ساری تفصیلات اس ناول میں سمیٹی ہیں۔ ہارورڈ فاسٹ کا دوسرا ناول ٹام پین پر ہے۔ یہ ایک دل چسپ آدمی کی کہانی ہے، جس کا تعلق برطانیہ سے ہے، پھر وہ امریکا چلا جاتا ہے پھر وہاں سے فرانس کے انقلاب میں جا کر حصہ لیتا ہے۔ ان تین چار ممالک کے سیاسی، سماجی حالات اور سارے پس منظر کو لے کر فاسٹ اپنے کریکٹر کو بیان کرتا ہے۔ یہ بات بہت کم لوگوں میں ہے کہ آپ ورائٹی آف کلچر کو بھی ساتھ ساتھ رکھیں اور کہانی بھی چلاتے رہیں، اور اس میں روانی بھی رہے۔ ایک ناول میں جو خصوصیات ہونی چاہئیں وہ سب اس میں موجود ہیں۔ ہمارا ایک شاعر تھا اس نے کہا کہ حسن کو کیسے بیان کیا جائے تو ہم نے ایک محبوبہ کا نام لیا کہ بس حسن یہی ہے ،اب لمبی چوڑی بات کیا کرنی کہ پلکیں ایسی ہونی چاہیے اور آنکھیں ایسی۔ تو بس اچھا ناول ’’سپارٹیکس‘‘ ہے۔

* آپ کے خیال میں نظریاتی جدوجہد اور سیاست ممکن رہی ہے یا سرمایہ دارانہ جمہوریت سب نظاموں اور نظریات کو نگل جائے گی؟
شاہ محمد مری: سرمایہ داری کا ایک حربہ رہا ہے جو 1830سے چلا آرہا ہے۔ جب دیکھتے ہیں کہ تضادات بہت شارپ ہورے ہیں اور تبدیلی آنے ہی والی ہوتی ہے تو بڑی مہارت سے حالات کا رُخ موڑ دیا جاتا ہے۔ یہ سوشل میڈیا اور انفارمیشن ٹیکنالوجی بھی ایسی ہی چیز ہے۔ اسے تو کم از کم پندرہ بیس سال تک مزید چلنا چاہیے کیوں کہ اس میں بہت جان ہے۔ آپ سب انقلابی بن جائیں، اس بات سے سرمایہ داری کو کوئی خطرہ نہیں، لیکن جس دن منظم ہوگئے تو اسے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ اس لیے وہ منظم نہیں ہونے دیتے۔ یہ سوشل میڈیا اور سمارٹ فون وغیرہ میرے خیال میں تنظیم کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ اور جب آپ کو ایک نظام کے خلاف لڑنا ہو تو بہت سارے ہتھ کنڈے استعمال کرنے ہوتے ہیں۔ سب کچھ سرعام تو نہیں ہوتا۔ مثلاً یورپ میں ایک زمانے تک پیغام رسانی کے لیے خط لکھنے کے بجائے کتابوں کے اندر دودھ سے پیغام لکھ دیا جاتا تھا جسے خاص لائٹ میں پڑھا جاتا تھا۔ بہت عرصے تک حکومتوں کو پتا ہی نہیں چلا کہ اس طرح رابطے ہورہے ہیں۔ میں نے ایک جگہ پڑھا کہ ایک خاتون راہبہ کا لباس پہن کر ایک گدھے پر پمفلٹ لاد لیتی تھی اور ان کے اوپر بائبل رکھ دیا کرتی تھی۔ سپاہی اسے روکتے تو بائبل کے نسخے خرید لیتے اور اس سے دعائیں لیتے تھے۔ وہ اسی طرح ساتھ کے گاؤں میں جاکر پارٹی کے لوگوں کو وہ لٹریچر پہنچا دیا کرتی تھی۔ جدوجہد کے اس انداز کو تو اس ٹیکنالوجی نے متاثر کیا ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ بھوک سب سے زیادہ طاقت ور ہے۔ سمارٹ فون سے تفریح تو مل جاتی ہے لیکن بھوک تو یہ بھی ختم نہیں کرتا۔ جب بھی روٹی کا مسئلہ پیدا ہوگا لوگ خود ہی منظم ہوں گے اور یہ چیزیں درمیان میں نہیں آئیں گی۔

*جیسا کہ آپ نے کہا کہ سرمایہ داری کے خلاف تو جدوجہد ہر جگہ ہونی ہے، لیکن اب دنیا کا تناظر بدل گیا۔ عالمی سیاست میں نان اسٹیٹ ایکٹر کی اصطلاح کثرت سے استعمال ہونے لگی، ایسے حالات میں یہ جدوجہد کیسے ممکن ہوگی؟
شاہ محمد مری: کنفیوژن تو بہت زیادہ ہے۔ اب تو معاملہ یہ ہے کہ جو اصطلاحات میری اپنی تھیں وہ میں اپنے ہی خلاف استعمال کررہا ہوں۔ مثلاً نان اسٹیٹ ایکٹر کون ہے، یہ تو انقلابی پارٹیاں ہوتی تھیں۔ لیکن وہ پارٹیاں دوسرے ملک میں نہیں جاتی تھیں، دوسرے ممالک میں مداخلت نہیں کرتی تھیں۔ تماشا یہی ہے کہ اب یہ ’’نان اسٹیٹ ایکٹر‘‘ آرگنائزیشن نہیں ہے۔ چند لوگوں کا گروہ بن جاتا ہے اور وہ ہتھیار اٹھا لیتے ہیں، یہ تنظیم تو نہیں ہے۔ اور آرگنائزیشن صرف ایک مخلوق بنا سکتی ہے اور وہ انسان ہے۔ ریورڑ بنتے ہیں لیکن تنظیم صرف انسان بناتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام اس راہ میں رخنے ڈالتا ہے، نفاق پیدا کرتا ہے ، انسانوں کی خریدوفروخت کرتا ہے۔ ٹریڈ یونینز اسی طرح تباہ ہوئیں۔ یہ ان کے پرانے حربے ہیں۔ لیکن دیکھیے سوویت یونین کے خاتمے کے بعد ان کا خیال تھا سب کچھ ختم ہوگیا۔ اینڈ آف ہسٹری کا ڈرامہ لکھا گیا۔ یہ بات کرنے والے کو پتا ہی نہیں تھا کہ اب ایک نیا تماشا شروع ہوگا۔ وہ منظم لوگ تھے، ان کا ایک نظریہ تھا اور اس سے بڑھ کر کمیونسٹوں کی اخلاقیات ہوا کرتی تھیں ،یہ ان کی ایسی خصوصیت تھی کہ دنیا میں آپ کو کسی اور کا علم ہو یا نہ ہو لیکن کمیونسٹ کے بارے میں پتا ہوتا تھا کہ اگر ایسا کیا جائے تو اس کا ردّ عمل کیا ہوگا۔ کمیونسٹ کے ردّ عمل کی پیش گوئی آسانی سے کی جاسکتی تھی۔ مثلاً آپ ان کے لوگ مار بھی دیں تو وہ قتلِ عام نہیں کریں گے۔ لیکن اب کسی بات کا اندازہ ہی نہیں لگایا جاسکتا۔ اب دنیا میں باہم متصادم قوتوں کی اخلاقیات کے بارے میں سرے سے کچھ کہا ہی نہیں جاسکتا کہ وہ کیا کر بیٹھیں۔ پھر سرمایہ دارانہ نظام نے جب دیکھ لیا تھا کہ کمیونسٹ تو ایک روایتی آدمی ہے، اس کے بارے میں انہیں علم تھا کہ وہ فلاں فلاں کام نہیں کرے گا تو اس سے کھیلا جاسکتا ہے۔ پھر یہ بحث بھی شروع ہوئی کہ ایک بداخلاق دشمن کے خلاف اخلاقیات جاری رکھیں؟ یہ اخلاقیات انسانی جذبوں سے بھی جڑی ہوئی تھیں۔ کیپٹل ازم نے ہماری ساری اچھی خصوصیات کا بیڑہ غرق کردیا۔ انہوں نے تو پھولوں میں خوش بو نہیں رہنے دی۔ ’’تھرو اَوے‘‘ کلچر لے آئے، چیز استعمال کی اور پھینک دی۔ یہ بات اس حد تک بڑھے گی کہ آپ انسانوں کے ساتھ بھی یہی رویہ رکھیں گے۔اب رشتے تک ڈسپوزایبل ہوجائیں گے۔

*ٹیکنالوجی کے بارے میں یہ باتیں ’’ترقی مخالف‘‘ قرار دی جاسکتی ہیں، چیزیں تو بنیں گی تو کہا جاسکتا ہے کہ آپ لوگ دنیا کو پیچھے لے جانا چاہ رہے ہیں؟
شاہ محمد مری: ایک امریکی کمیونسٹ کا مضمون میری نظر سے بھی گزرا۔ اس نے لکھا تھا کہ تم چھوٹے چھوٹے انقلابات پر خوش ہوجاتے ہو جیسے افغانستان میں آیا تو تم خوش ہوگئے۔ تم تصور کرو کہ امریکا میں سوشلزم آئے تو کیا ہوگا اور اس بنیاد پر بہت سی باتیں فرض کرکے اس نے کچھ چیزیں لکھیں۔ مثلاً اس نے لکھا کہ انقلاب آیا تو میرے پاس سُپر کمپیوٹر ہوگا، جسے صرف دفاعی اور ایسے مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ میں اسے عام آدمی کی بھلائی کے لیے استعمال کروں گا تو کیا سے کیا ہوجائے گا۔ ٹیکنالوجی بری نہیں ہے لیکن سب کے لیے ہونی چاہیے، اسے عام آدمی کے لیے ہونا چاہیے۔ میرا مطلب ہے کہ کیا ضروری ہے کہ مزدور آٹھ گھنٹے کام کرے۔ ٹیکنالوجی آئے گی تو مزدور بہت فارغ ہوجائے گا۔ آٹھ کے بجائے اس سے چھے گھنٹے کام لو اور باقی وقت اسے تفریح کے لیے دیں۔ ٹیکنالوجی وقت بچارہی ہے تو کلچرلی مزدور کو اوپر لانے کے لیے اس وقت کا استعمال کیا جائے۔ لوگوں کی چھوٹی چھوٹی خواہشیں ہیں، کسی نے مری نہیں دیکھا کسی نے کوئٹہ۔ ٹیکنالوجی اگر سب انسانوں کے لیے ہو تویہ لوگ حاصل ہونے والی فراغت میں یہ خواہشیں پوری کریں۔ ٹیکنالوجی اگر کوالٹی آف لائف کو ختم کررہی ہے تو مارے گئے۔ ہم ترقی کے خلاف نہیں، سوال یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کیوں چند لوگوں کے قبضے میں ہے، اسے آزاد کریں۔ ٹیکنالوجی آزاد ہوگی ، یہ کبھی غلام نہیں رہ سکتی۔ نئے آدمی کو اس سے دور رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔ صرف ٹیکنالوجی تک ہر کسی کو رسائی دے دی جائے تو کسی نظریاتی انقلاب کی ضرورت نہیں ہے۔ جب ٹیکنالوجی چند انسانوں کے گروہ کے بجائے سب کے لیے یکساں ہوگی، اس کا تو کوئی جواب نہیں۔

* زیادہ تر قوم پرست تحریکیں سوشلسٹ اور مارکسسٹ شناخت کو اپناتی ہیں، لیکن ان میں سے اکثر تحریکیں شاؤنسٹ بھی ہوجاتی ہیں، ایسا کیوں ہے؟
شاہ محمد مری: اگر میری بادشاہی آ جائے تو یہ جو لفظ بنا لیا گیا ہے ’’مارکسزم‘‘ میں سب سے پہلے اسے ختم کروں۔ بنیادی طور پر یہ ’’ڈائلیکٹیکل مٹیرئیل ازم‘‘ ہے۔ اس کی بنیاد یہ ہے کہ آپ ایک تھیوری دیتے ہیں میں اس کے خلاف ایک اور تھیوری دیتا ہوں تو ایک بحث کا آغاز ہوگا۔ ہم نے اس کا نام مارکسزم رکھا ہوا ہے۔تحریکوں کا معاملہ یہ ہے کہ جب وہ رواں دواں رہیں، چلتی رہیں تو ان میں شاؤنزم پیدا نہیں ہوگا، خالص مال ہی آگے جائے گا۔ پھر کسی تحریک کے مقاصد آپ کو یہ گنجایش ہی نہیں دیتے کہ آپ دوسروں کو خود سے کم تر محسوس کریں۔ اگر میں کسی کو اس کی زبان کی وجہ سے کم تر سمجھوں گا تو اسے کامریڈ کیسے بناؤں گا۔ جب کہ تحریک میں ہمیں ساتھی چاہیے ہوتے ہیں۔ اگر میں یہ ذہنیت تبدیل نہیں کروں گا تو ناکامی میری ہوگی۔ شرط یہ ہے کہ میں حرکت میں رہوں۔ تحرک، نظم و ضبط کی واحد شرط ہے۔ پانی کی طرح ہے، اگر چلتا رہے تو ٹھیک اور کھڑا ہوجائے تو بدبو پیدا ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ اس لیے مذہبی شاؤنزم ہو یا قومی شاؤنزم یہ اسی وقت ختم ہوں گے جب تحریک چلتی رہے۔ ہم نے اسے بہت عرصے سے جمود کا شکار کردیا ہے۔

*آپ کے خیال میں کیا دہشت گردی کا مسئلہ معیشت سے جڑا ہوا ہے؟
شاہ محمد مری: ہے تو معیشت ہی لیکن اس میں ہم گڑ بڑ کرتے ہیں۔ دہشت گردی کے لیے ایک ہی لفظ ہے؛ فاشزم، چاہے وہ مذہبی ہو یا قومی ہو یا طالبان وغیرہ۔ فاشزم صرف ایک معیشت کے ساتھ چلتا ہے اور وہ کیپٹل ازم ہے، یہ اس کے بغیر چل ہی نہیں سکتا۔ سرمایہ داری نظام جنگ کے بغیر چلتا ہی نہیں۔ ایٹم بم آنے کے بعد اب ممالک کے درمیان جنگیں مشکل ہوگئیں۔ لہٰذا اب کچھ تو کرنا تھا کیوں کہ جنگ کے بغیر کیپٹل ازم دو دن نہیں چل سکتا۔ امریکا اسلحے کے بغیر رہے یہ ممکن ہی نہیں ہے، وہ اپنے زور ہی سے سرمایہ دار نظام چلاتا ہے۔ اس کے ردِعمل میں اس کے اتحادی بھی فاشسٹ طریقے استعمال کرتے ہیں۔ 1918میں یہ نعرہ سامنے آیا تھا، سوشلزم یا فاشزم، یعنی تیسرا راستہ کوئی نہیں۔ فاشزم بندھا ہوا ہے کیپٹل ازم کے ساتھ۔ ایسا نہیں ہے فاشزم ، سوشلز میں نہیں ہوگا، برے لوگ نہیں رہیں گے، لیکن تعداد میں کم ہوں گے، کنٹرول میں ہوں گے اور ان کے لیے مخالف فضا ہوگی۔ یہاں تو سب کچھ آزاد ہے۔ پاکستان میں فاشزم کا سب سے بڑا چوکیدار ہمارا وزیر داخلہ تھا۔ چوہدری نثار سے بڑا فاشسٹ دوست کوئی نہیں تھا۔ وہ جن لوگوں سے ملتا رہا اور جلسے کرتا رہا ان کے بارے میں سب کو معلوم ہے۔ اسی طرح امریکا بکواس کرتا ہے، کیا وہ حقانی کو اپنے پاس نہیں لے کر گیا تھا، ریگن کے ساتھ ان کی تصویریں ہمارے حافظے میں محفوظ ہیں۔ امریکا کو بھی فاشزم پسند نہیں بلکہ یہ اس کی مجبوری ہے، کیوں کہ اسلحے کے بغیر اس کا گزارہ نہیں ہوگا۔

*آپ کے والد صاحب نے بھی تعلیم عام کرنے کے لیے اپنے زمانے میں کچھ کام کیا تھا، آپ اس کو کتنا آگے بڑھا سکے؟
شاہ محمد مری: وہ درویش لوگ تھے۔ ان کا سب سے بڑا سفر مکہ تک تھا۔ میرے والد نے حج کیا، سکھر میں جاکر مولویوں سے ملتے تھے۔ مشکوۃ شریف اور حدیث کی کتابیں پڑھتا تھا۔ انہوں نے وہ بھیانک صورت حال نہیں دیکھی تھی جو ہم دیکھ رہے ہیں۔ میرا والد تو ایک چھوٹا آدمی تھا، اس زمانے میں مارکس ، لینن جیسے سبھی بڑے آدمی تعلیم کی بات کرتے تھے۔ ہم یہاں بحثیں کرتے ہیں کہ تعلیم تو اہم ہے اور امریکا میں سو فی صد خواندگی ہے لیکن یہ افغانستان اور عراق میں کیا کررہا ہے۔ پھر ہم کہتے ہیں کہ اس خطے میں تعلیم اور کلچر کا سب سے بڑا مرکز ایران تھا۔ حافظ و سعدی جیسے لوگ یہاں پیدا ہوئے۔ فارسی بولنے والے خطے میں سب سے زیادہ عالم فاضل لوگ پیدا ہوئے۔ لیکن آپ دیکھیں کہ وہی ایران ملّا کے ساتھ گزارہ کررہا ہے۔ اس کا مطلب واضح ہے کہ صرف تعلیم ضروری نہیں ،اس کے ساتھ تربیت اور آرگنائزیشن ضروری ہے۔ والد کے کام کو ہم کتنا آگے بڑھا سکے مجھے نہیں پتا، رحمان بابا کی ایک کہانی میں آپ کو سناتا ہوں۔ رحمن بابا کے بارے میں مشہور ہے کہ ان کی شاعری پڑھنے والا پاگل ہوجاتا ہے۔ ایک مسجد کے نوجوان مولوی نے سوچا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ میں کوئی کتاب پڑھوں اورپاگل ہوجاؤں، اس نے وہ کتاب پڑھ لی اور دیکھا کہ اسے کچھ نہیں ہوا۔ اس کے دل میں خیال آیا کہ وہ لوگوں کو بھی بتائے کہ ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ اس نے کتاب لے جا کر ایک درخت پر باندھ دی اور دور کھڑے ہو کر اسے پتھر مارنے لگا، لوگوں نے پوچھا یہ کیا کرتے ہو تو اس نے جواب دیا کہ میں تمھیں بتانا چاہتا ہوں یہ کتاب کسی کو پاگل نہیں کرتی، اس پر لوگوں نے اس سے کہا کہ تم جو یہ حرکت کررہے ہو تو پھر یہ کیا ہے؟ بات یہی ہے کہ میں اور آپ جو گفتگو کررہے ہیں یہ کیا ہے؟ میں اور آپ لکھ رہے ہیں، اس کا اثر ہو یا نہ ہو مگر کسی کونے میں کسی اعزاز نذیر پراس کا اثر پڑتا ہے۔ ہم نے علم کی شکلیں بدلی ہیں۔ اسکول کالج سے زیادہ ہمارے خیال میں بڑے پیمانے پر پولیٹیکل ایجوکیشن فراہم کرنا تھا۔ میری نظر میں صرف خواندہ بنانا تعلیم نہیں۔ سب سے زیادہ خواندہ لوگ لاہور میں رہتے ہیں لیکن ابھی تک بلوچ کو ’’بلوچی‘‘ کہتے ہیں۔ دنیا میں ہونے والے ایک سروے کے مطابق سب سے بے شعور عوام امریکا کا ہے، اسے یہ نہیں معلوم کہ کیوبا کہاں ہے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ شعور بھی لانا ہوگا۔ ایک زمانے میں یہ شعور میں اور آپ نہیں دیتے تھے، یہ گلی محلے سے ملتا تھا۔ مہنگائی بڑھتی تو جلوس نکلتے تھے، پولیس روکتی تھی، ڈنڈے پڑتے تھے لوگ تھانے جاتے تھے تو انہیں معلوم ہوجاتا تھا اس مہنگائی کے پیچھے تو سرکار کھڑی ہوئی ہے۔ سارا شعور ایک جلوس، جلسے اور جیل میں مل جاتا تھا۔ وہ رک گیا، گلی محلوں سے اٹھنے والی تحریکیں ختم ہوگئیں۔ اب نواز شریف اچھا ہے یا برا ہے بس اس پر بحث ہورہی ہے، اس سے شعور تو نہیں بڑھے گا۔ اب وہ زمانہ تو رہا نہیں کہ میں یا آپ بادشاہ بن جائیں، اس لیے اب تو لوگوں کو ہر صورت باشعور بنانا ہوگا۔

*سرمایہ داری اور طاقت کی سیاست کے اس دور میں کیا آپ کو محسوس نہیں ہوتا کہ نظریہ کی بنیاد پر سیاسی جدوجہد اب ہاری ہوئی جنگ ہوچکی؟
شاہ محمد مری: ایسا کب نہیں تھا۔ حضرت عیسیٰ کیا یہودیوں، ربیوں اور مذہبی پیشواؤں کے ساتھ ہاری ہوئی جنگ نہیں لڑ رہے تھے؟ اسلام نے اپنے دور میں یہ جنگ نہیں لڑی؟ تاریخ نے اسے یہ موقع دیا اور کام یابی مل گئی۔ ہمیں وہ موقع نہیں مل رہا تو کیا کریں، راستہ چھوڑ دیں؟۔ جتنے بھی اچھے لوگ گزرے ہیں، وہ سب کے سب ہاری ہوئی جنگ لڑتے رہے۔ جو جیتے ہوئے ہیں ،ان کے خلاف ہی تو ہماری جنگ ہوتی ہے اور اس میں اگر ایک فی صد بھی کام یابی مل جائے تو محبت میں ایک فی صد کام یابی بھی کیا کم ہوتی ہے۔

*’’لبرل ازم‘‘ کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟
شاہ محمد مری: مری اور بگٹی ایک دوسرے کے پڑوسی بھی ہیں اور دشمن بھی۔ کہتے ہیں کہ ایک مری بگٹیوں سے قتل کا بدلہ لینے جارہا تھا، جس سے اسے بدلہ لینا تھا اس آدمی کا نام جلب تھا، راستے میں اسے ایک آدمی ملا جس کا نام شاہ علی تھا، بدلہ لینے والے نے کہا کہ یار شاہ علی ہویاجلب ہو ، ہے تو بگٹی نا! اور اسے مار دیا۔ چاہے لبرل ہو، فاشسٹ ہو یا کسی بھی ازم سے تعلق رکھتا ہو انسانیت کے نام پر جو بھی منظم جدوجہد نہیں کرتا ہمارے لیے سب برابر ہیں۔ یہ تو اور بھی خطرناک ہیں۔ گورکی کہا کرتا تھا کہ کمیونسٹ بھگوڑے اور زیادہ خطرناک ہوتے ہیں، اس لیے کہ یہ ہماری زبان میں جھوٹ بولتے ہیں، تو لبرل زیادہ خطرناک اس لیے ہیں کہ وہ ہماری زبان استعمال کرتے ہیں۔ میں اصطلاحات کے اس دھندے میں نہیں پڑتا۔ میرا ایک جھنڈا ہے، آپ کو پسند ہے تو آپ میرے ساتھ آجائیں لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ میں آپ کی فرمائش پر اپنا جھنڈا بدل دوں، اور وہاں تو روز شیڈز بدلتے رہتے ہیں۔ مثلاً فیمینزم ایک لفظ ہے اور اب دیکھتے ہیں تو اس کی اٹھارہ اقسام بنالی ہیں۔ ایک فیمینزم جو کہ خود ہمارا دشمن ہے اس کی بھی انہوں نے الگ الگ اقسام بنا لیں۔ عیسائیوں نے ایک ’’لبریشن تھیالوجی‘‘ کے نام سے تحریک بنائی تھی وہ کمیونزم کے بہت قریب تھی لیکن وہ آخر میں جاکر ڈنڈی مارتے تھے۔ اس لیے میں خود کو آپ کے معیار پر پرکھوں، اس سے بہتر ہے کہ معیار میرا اپنا ہو۔

*’دائیں بازو‘ اور ’بائیں‘ بازو کی اصطلاح بھی بہت خلط ملط ہوگئی۔ عام طور پر مذہب کی مخالفت کو لیفٹ کے کھاتے میں ڈالا جاتا ہے اور وہ مخالفت جس میں استہزا اور اہانت تک شامل ہے۔ اس بارے میں آپ کیا کہیں گے؟
شاہ محمد مری: لیفٹ ، رائٹ کے بارے میں جو بات آپ نے کی وہ مجھے بہت اچھی لگی۔ لیفٹ تو بورژوا پارلیمنٹ سے جنم لینے والی اصطلاح ہے اس لیے ہم اسے کچھ نہیں سمجھتے۔ دوسری بات انتہائی اہم ہے۔ میرے نزدیک وہ آدمی انسان ہی نہیں جو مذہب کے خلاف بات کرے۔ ایک تو اس وجہ سے بھی کہ مذہب میرے باپ، دادا اور پھر اوپر تک جاتا ہے۔ میں یہ تو کہہ دوں گا کہ ان کا زمانہ پس ماندہ تھا لیکن میں انہیں احمق تو نہیں کہہ سکتا۔ اس سے میری ایک اونرشپ جڑی ہوئی ہے۔ پھر مذہب کی بنیادی تعلیمات میں کوئی غیر انسانی بات مجھے کوئی بتا دے۔ بعد میں ریاست ملی اور طاقت آنے کے بعد کیا ہوا، اس سے بحث نہیں، ہم بنیادی تعلیمات کی بات کرتے ہیں۔ پیغمبرؐ نے اس زمانے میں جو تعلیمات دیں ان میں سے کوئی ایک بھی غیر انسانی نہیں۔ آج سے اس کا موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس وحشت کے زمانے میں ایک قبائلی سماج میں جہاں انسانی غلام تھا، اس کو آزاد کیا گیا۔ یہی تو ہم بھی چاہتے ہیں۔ ملّا سے ہمیں کیا غرض وہ تو جھوٹ بولتا ہے۔ ہم اس دن مر گئے جب ہم نے قوم پرستی ، مذہب اور ہر معاملے کی ایجنسی بنا کر کسی کو دے دی۔ ہم نے مذہب کی ایجنسی ملا کو دے دی۔ اب وہ اچھا یا ہم اچھے، اس وجہ سے نہیں کہ داڑھی ہے یا نہیں بلکہ تقویٰ میں کون زیادہ ہے۔ میں ساٹھ سال سے اپنی جگہ پر کھڑا ہوں لیکن وہ کبھی کہیں ہے تو کبھی کہیں۔ ہم نے مذہب کی ایجنسی دے کر غلط کیا۔ اسی طرح ہم نے کمیونزم کی ایجنسی لوگوں کو دے رکھی ہے۔ حقیقی سیاسی ورکر اپنے کام خود کرتا ہے۔ ملاّ میرا نکاح کیوں پڑھے، مجھے نہیں آتا نکاح پڑھانا؟۔ ہمارے ڈیرہ غازی خان کے قریب جو بلوچ ہیں وہ نماز کی نیت سرائیکی میں کرتے ہیں، کیوں کہ ان کا مولوی سرائیکی بولتا ہے۔ رہبانیت کا جو تصور عیسائیت میں ہے مسلمانوں میں نہیں۔ مولوی کے بغیر سب کچھ ممکن ہے، جس بھی عام آدمی کو یہ آتا ہو تو وہ میت کو غسل دے سکتا ہے، جنازہ پڑھا سکتا ہے، نماز پڑھا سکتا ہے۔ مجھے تو یہ بات بھی پسند نہیں جب کوئی کہتا ہے کہ مولوی کا کام مردہ نہلانا ہے، میں کہتا ہوں یہ بھی اس کا کام نہیں۔ کوئی بھی مسلمان اپنی مذہبی رسوم خود ادا کرسکتا ہے۔ دوسری بات یہ مذہب کیا میرے کلچر کا حصہ نہیں ہے؟ ہم عربی نہیں جانتے لیکن کیا ہمارے نام عربی والے نہیں؟۔ میں اپنے کلچر پر تو کلہاڑی نہیں چلا سکتا۔ مذہب جب منظم ہوجاتا ہے تو وہ سیاسی ہوجاتا ہے اور اس میں لڑائی ہوگی۔ مولوی پولیٹیکل ہے۔ مذہب پاک چیز ہے جو ہر کسی کے پاس تھی، اپنی سستی کی وجہ سے ہم نے اسے اس کا مالک بنا دیا۔ اب وہ جو چاہے فتویٰ دے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ عام آدمی نے یہ اختیار اسے دیا۔ اکبر بگٹی مذہب کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا، لیکن اپنے گھر میں ہونے والی شادیوں میں نکاح خود پڑھایا۔ مذہب کے معاملے میں آپ استہزا کی بات کرتے ہیں، میرے خیال میں تو کوئی بے عمل آدمی ہی اس کی مخالفت کرسکتا ہے۔ مذہب کہتا ہے کہ بڑوں کی عزت کرو، اب یہ کوئی بری بات ہے؟ مذہب میں یونیورسل ٹرتھ تھا، جبھی تو وہ زندہ ہے۔ میں نے ایک جگہ لکھا کہ عام آدمی حساب کتاب کا اتنا پکا ہے کہ چینی خریدنے بھی جائے تو چار پیسے پر بحث کرتا ہے یہ دو ہزار سال سے اس نے ایک مذہب کو سر پر اٹھایا ہوا ہے یہاں اس کا حساب کتاب ختم ہوگیا کیا؟ آخر کوئی چیز دیکھتا ہے جبھی تو اسے رکھا ہوا ہے۔ مذہب میں کچھ چیزیں اچھی تھیں ،جبھی ہزاروں سال سے لوگوں میں سینہ بہ سینہ منتقل ہورہا ہے۔ مذہب بنیادی سچائیوں کا نام ہے، جہاں آپ نے اسے ادارہ جاتی سطح پر منظم کیا وہاں سے بات خراب ہوتی ہے۔

* آپ علامہ اقبال کو بہت پسند کرتے ہیں جب کہ وہ جس نظریے کے ترجمان ہیں اس کی آپ مخالفت کرتے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟
شاہ محمد مری: ترجمان نہیں ہے، یہاں بھی ہم نے ایجنسی’’ایوانِ اقبال‘‘ کو دے دی۔ میں اقبال کو نہیں ملا اور نہ ہی جانتا ہوں۔ میرے بزرگ اقبال کو جانتے تھے اور یہاں سے اٹھ کر اس سے ملنے جاتے تھے اور اس سے سیکھتے تھے۔ اقبال کی شاعری پولیٹیکل ہے۔ اقبال کا کوئی ایک مصرعہ نہیں دکھایا جاسکتا جو نان پولیٹکل ہو۔ وہ بہت فصیح شاعر تھا۔ وہ لوگوں کو اٹھانے والا شاعر تھا۔ اس میں خامیاں بھی تھیں اور کس میں نہیں ہوتیں۔ اس زمانے میں وہ آدمی برصغیر، ایران اور افغانستان میں پڑھا جاتا تھا۔ میں سوویت یونین گیا تو وہاں ایک آدمی مجھ سے اس بات پر لڑنے لگا کہ ’’شاعر بزرگ در پاکستان اقبال لاہوری است‘‘ (پاکستان میں سب سے بڑا شاعر اقبال لاہوری ہے) میں اسے کہتا تھا ایسا نہیں ہے لیکن آج میں مانتا ہوں۔ جو باتیں آپ کو پسند نہیں ،انھیں چھوڑ دیں۔ اچھی چیزیں اس میں زیادہ ہیں۔ ہمارے تمام اکابرین اور اساتذہ اس آدمی سے متاثر رہے۔ اس سے تحریک لیتے تھے۔ میں بہت عرصے سے اقبال پر کتاب لکھ رہا ہوں، ابھی شایع نہیں کررہا، اس میں اس کی خوبیوں خامیوں پر بات کی ہے۔ اقبال کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ نفی کا شاعر ہے۔ وہ قبائلیت، جاگیرداری، پیر ، سرمایہ دار کو نہیں مانتا اور ان کی نفی کرتا ہے۔ کیا آپ ان سب کو مانتے ہیں ؟ نہیں تو پھر ادھر تک تو اقبال صرف آپ کا ساتھی نہیں بلکہ استاد ہے۔ فرق یہ ہے کہ آپ اس مرحلے کے بعد متبادل دیتے ہیں اور وہ نہیں دے سکا۔ ہم اس نفی کے ساتھ چلتے چلتے بعد میں کہتے ہیں کہ متبادل سوشلزم ہے، اقبال یہ بات نہیں کرسکا۔ اس کی وجہ ماحول، عمر، حالات، ملا یا جو بھی ہو، لیکن نفی تک تو وہ آدمی آپ کا مرشد اور پیر ہے۔ یوسف عزیز مگسی ہمارا بہت بڑا آدمی تھا، اقبال کا ہم عصر تھا اور اس سے بہت متاثر تھا۔ میں جب اس کا موازنہ اقبال سے کرتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ اقبال کے مقابلے میں آگے بڑھا۔ لیکن بات وہی ہے کہ جن چیزوں کی وہ اور آپ نفی کرتے ہیں، وہاں تک تو وہ آپ کا روحانی نظریاتی لیڈر ہے، اس آدمی کو چھوٹا مت سمجھیں۔ باقی ٹھیک ہے کہ نیل کے صحرا سے لے کر تابخاکِ کاشغر جیسی باتیں بھی آدمی سے ہوہی جاتی ہیں، آخر کو وہ انسان ہے۔

  جب ’’اسپارٹیکس‘‘ نے کامریڈ کی جان بچائی
ہمارا خیال ہے کہ قلم میں کوئی طاقت نہیں ہے۔ کراچی میں کمیونسٹوں کا ایک بڑا لیڈر تھا اعزاز نذیر۔ میں کراچی گیا تو کسی دوست نے کہا کہ اس سے ملنے چلتے ہیں۔ ہم جب ملے تو وہ بیمار تھا۔ تعارف ہوا، بات چیت ہونے لگی، اس نے پوچھا کہ آپ نے کیا نام بتایا تھا۔ میں نام دہرا دیا۔ پھر پوچھا کہ آپ کیا لکھتے ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ خود تو نہیں لکھتا ترجمے کرتا ہوں۔ پوچھا کیا ترجمہ کیا ہے تو میں نے سپارٹیکس کا نام بتایا۔ وہ بھاری بھرکم جسامت والا بیمار آدمی یک دم کھڑا ہوگیا اور کہا آپ مجھ سے گلے ملیں۔ پھر اس نے بتانا شروع کیا ’’ میں ٹریڈ یونین والا ہوں، اسی سلسلے میں روہڑی کی بیڑی کارخانے والوں کے پاس میں گیا۔ اس زمانے میں روس ٹوٹ چکا تھا۔ میں نے ساری زندگی کمیونزم میں گزاری تھی اس لیے یہی سوچتا تھا کہ زندگی تو ضایع گئی اور اب کس کس سے منہ چھپاتا پھروں میرے لیے تو غیرت کا مسئلہ تھا۔ میں نے خود کُشی کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ بس پر بیٹھا واپس کراچی آرہا تھا، اسٹاپ پر اخبار اور کتابوں کے اسٹال سے مجھے سپارٹیکس نظر آیا۔ یہ ناول پڑھتا ہوا میں کراچی آگیا اور جب کتاب ختم کی تو میں نے خود کُشی کا ارادہ ترک کردیا۔ اس لیے میں تم سے گلے ملا ہوں کہ یہ میری زندگی تم نے لوٹائی ہے۔‘‘ میرا کیا کمال ہے، اس مصنف نے اگر کسی اعزاز نذیر کی چار دن کی زندگی بھی بچائی ہے تو بڑی بات ہے۔ یہ اس طرح کا ناول ہے۔

بے برکتی

’’ایک زمانہ تھا کہ ہمیں کتابیں ملتی نہیں تھیں۔ اب تو انٹر نیٹ نے بہت آسانی کردی ہے۔ آپ کا حلقہ ہی دس پندرہ آدمیوں پر مشتمل ہوتا تھا۔ رابطے کرنے میں مہینوں لگ جاتے تھے۔ اب بہت کچھ آسان ہوگیا لیکن معاملہ یہ ہوگیا کہ ہمارے ایک گوجراں والا کے دوست خلیج میں ہوتے تھے، وہاں سے لوٹے تو کچھ دوستوں کے ساتھ ان سے ملنے گئے۔ انہوں نے دوستوں کو بیئر کی بوتلیں تحفے میں دیں، ان کے پاس بڑی بوتلوں کے کریٹ تھے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ جب آپ اکیلے ہی پیتے ہیں تو بڑی بوتلیں کیوں رکھتے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ بحرین میں ہمارے کچھ بلوچ دوست ہیں، میں ان کے پاس چھوٹی بوتلیں لے کر گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ مت لایا کریں اس میں برکت نہیں ہوتی(قہقہہ) ان آسانیوں نے برکت کو رخصت کردیا۔ حُسن میں برکت نہیں ہے، تفریح میں نہیں ہے حتیٰ کہ دشمنی میں برکت نہیں ہے۔ ’’آئی لو یو‘‘ بولا بات شروع ہوگئی اور ’’آئی ہیٹ یو‘‘ بولا تو بات ختم۔
کتابوں میں تو ایک زمانے میں جان ہوا کرتی تھی۔ اب تحریر بے برکت ہوگئی۔ اس تحریر کی تو خیر ہے، آسمانی تحریروں کا کیا اثر رہا۔ لوگ ایک دوسرے کو قتل کررہے ہیں۔ پھر بدھا کے قصے ہیں۔ میں تو کبھی اس سے متاثر نہیں رہا۔ مگر بدھ کے ماننے والے اپنی جوں مارنے کو بھی قتل تصور کرتے ہیں، اتنے پُرامن لوگ ہیں۔ لیکن اب وہ کیا کررہے ہیں۔ بہت سی باتیں تو چلو پاکستانی میڈیا کرتا ہے لیکن آپس میں یہ لوگ لڑ پڑے ہیں۔ جو کسی کیڑ ے کو مارنا جرم سمجھتے تھے وہ مہاتما بدھ کے نام پر ایک دوسرے کو قتل کررہے ہیں۔ ہر چیز کی تاثیر ختم ہوتی جارہی ہے، اب دوستی کے وہ معنی نہیں رہے۔ ٹیکنالوجی نے ہمیں تن آسان بنا دیا، ہر چیز ’’ایزی پیسہ‘‘ ہوگئی۔ ہمارا خیال ہے کہ انقلاب بھی ’’ایزی پیسہ‘‘ کی طرح خود بخود آئے گا، ایسا تھوڑی ہوتا ہے۔

ٹیکنالوجی نے کیا کیا؟
’’یہ آسانی ہمارے علم اور شعور کو بڑھاتی اس کے بجائے اس نے ہمارے معاشرے کے فیبرک کو اڑا کر رکھ دیا۔ ہماری سوسائٹی کے جو نارمز ہوا کرتے تھے وہ تو گئے نا۔ یا تو اس ٹیکنالوجی کے ساتھ سوسائٹی بھی وہی ہوتی جیسی امریکا اور یورپ کی ہے، پھر تو ٹھیک ہوتا۔ سوسائٹی آپ کی خانہ بدوشوں اور بھیڑ پال ہے۔ ہمارے علاقوں ایک دل چسپ چیز دیکھنے میں آئی ہے۔ ہمارے چرواہے پگڑی پہنتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹی سولر پینل مل جاتے ہیں وہ اس نے پگڑی پر رکھے ہوئے ہیں، اس سے موبائل چارج ہوتا رہتا ہے اور وہ مال بکریاں چراتے ہوئے میوزک سنتا رہتا ہے۔ سولر پینل کی وجہ سے چارجنگ بھی ہوتی رہتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی کسی اور مقصد کے لیے بنی تھی اور ہم اس کا کچھ اور استعمال کررہے ہیں۔ آپ اندازہ لگائیں کہ عرب بہار اسی کے ذریعے آئی۔ عرب اسپرنگ انتہائی واہیات چیز تھی۔ صدام یا قذافی کی حکومتیں اچھی تھیں یا بری مستحکم تو تھیں۔ ان کو ختم کردیا گیا اور اس کی جگہ انارکی نے لے لی۔ کہیں آپ نے سنا ہے کہ یہ سمارٹ فون اور سوشل میڈیا کوئی انقلاب لایا ہے۔ ’’اسپرنگ‘‘ اور انارکی لایا ہے، کوئی اچھی چیز نہیں لایا۔ اس لیے کہ دیکھنا ہوگا کہ استعمال کرنے والا کون ہے۔ ہماری زندگی کے معمولات کا تعین ہم خود نہیں کرتے یہ بہت بڑے سرمائے والے کرتے ہیں،وہی یہ ٹیکنالوجی لے کر آئے ہیں۔ میرا بھائی گاؤں سے آیا تو پہلے دن اس نے کہا کہ تم لوگوں کو کیا ہوگیا ہے، تم میں محبت ختم ہوگئی ہے۔ ہم نے پوچھا کیا ہوا تو اس نے کہا کہ تم سب ٹی وی دیکھتے رہتے ہو اور آپس میں بات نہیں کرتے۔ وہ جب آٹھ دس دن ہمارے ساتھ رہا تو میں نے دیکھا کہ وہ بھی ٹی وی دیکھ رہا تھا ،باتیں نہیں کررہا تھا۔ گھر چھوٹا ہو یا بڑا ،اب یہ موبائل اور ٹی وی کی وجہ سے لوگ آپس میں بات نہیں کرتے۔ بامقصد زندگی کہاں رہی۔ پھر یہ شیطان کا چرغہ اس لیے ہے کہ رنگین ہے۔ ہمارا ایک آدمی تھا، لینن اور ایک اس کا استاد تھا پلیخانوف۔ پلیخانوف بہت بڑا لکھنے والا تھا۔ لینن نے ایک دفعہ اس پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ پلیخانوف آپ اپنے مطالعے کے کمرے سے باہر نکلو، دنیا بہت رنگین ہے۔ سو سارے رنگ اس چھوٹی سی اسکرین میں جمع ہوگئے ہیں۔ جب یہ چھوٹی سی چیز انسان کی ہر ضرورت اور ایپیٹائٹ پورا کررہی ہے تو پھر معاشرے کا کیا ہوگا۔‘‘
……………………… 

ادارتی نوٹ:

یہ انٹرویو روزنامہ 92 نیوز کے 27 نومبر 2017 کے سنڈے میگزین میں شائع ہوا۔.

 

No comments:

Post a Comment