Sunday, November 26, 2017

خواب دیکھنے والا : شکیل عادل زادہ سے خصوصی مکالمہ


ستر فی صد لفظ جو ہم بولتے ہیں، وہ ہندی میں بھی بولے جاتے ہیں۔ کوئی تیس فی صد الفاظ ایسے ہیں، جو عربی اور فارسی کے ہیں، جو دونوں زبانوں کو ممتاز کرتے ہیں۔ اب دیکھیں:”وہ لڑکی بڑی سندر ہے.“ اس میں تمام لفظ ہندی کے ہیں۔ گرامر بھی ہندی کی ہے۔ اب : ”وہ لڑکی بڑی خوب صورت ہے.“ اس میں ”خوب صورت“ فارسی کا لفظ ہے، باقی سب ہندی ہے۔ بہت سے لوگوں کو یہ نہیں پتا کہ ہم جو بولتے ہیں، اس میں ستر فی صد ہندی ہے۔

 .............

 

انٹرویو نگار: اقبال خورشید


انٹرویو نگار بھی کیسے کیسے تجربات سے گزرتا ہے۔

میں نے ادبی میلوں میں نوے سالہ انتظار حسین کو چھڑی ٹیکتے مزے سے زینے چڑھتے دیکھا۔ وہ میرے اُن سوالوں کا جواب بھی دے دیا کرتے تھے، جنھیں پوچھنے کا خیال ابھی ذہن میں ابتدائی جنبش کر رہاہوتا۔ عبداللہ حسین کے دبدبے اور اُن کی ناراضی کوکرسی بھر کے فاصلے سے محسوس کیا،اور پھران کی مخصوص مسکراہٹ، جو اشارہ ہوتی کہ انھوں نے غصہ ضبط کر لیا ہے۔ اورتارڑ صاحب کی گرم جوشی، جو کبھی ماند نہیں پڑی۔ محمد حنیف کا پریشان کن حد تک Down to earth اور فہمیدہ ریاض کا عمومی تصور کے برعکس انتہائی سادگی اور خوش مزاج ہونا۔ یہ متعدد ملاقاتیں ہی ہیں، جن کے وسیلے آج میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اسد محمد خاں اور حسن منظر جیسے فکشن نگاری میں ہمالیہ سے بلند ہیں، ویسے ہی بہ طور انسان بھی اُن کا قد بادلوں کو چھوتا ہے۔

اور ان ہی ملاقاتوں کی بنیاد پر میں وثوق سے کہہ سکتاہوں کہ جس محبت اور احترام کے ساتھ آپ شکیل عادل زادہ سے ملتے ہیں ملاقات کے اختتام پر اس میں خاطرخواہ اضافہ ہوچکا ہوتا ہے۔ وہ ایک سادہ آدمی ہیں، جن سے مل کر کشادگی اور سہولت کا احساس ہوتا ہے۔ البتہ ان تک رسائی سہل نہیں۔تھوڑے بہت پاپڑ ہمیں بھی بیلنے پڑے۔ ان سے میری عقیدت کا ایک سبب الفاظ کے وہ نئے اور درست ہجے بھی تھے، جن سے میں محترم احفاظ الرحمان کی سرپرستی میں آشنا ہوا، اور جنھیں اخبارات و رسائل میں رائج کرنے کی تحریک میں شکیل عادل زادہ کا کلیدی کردار رہا۔

شکیل بھائی کی جیون کہانی دل چسپ ہے۔

بچپن میں گھر سے بھاگ گئے تھے۔قرآن پاک حفظ کیا، برتن فروخت کیے، نوجوانی میں شکیلہ جمال کے نام سے ادیبوںکوخط لکھے،اداکارہ مینا کماری کو گرویدہ بنا لیا، امروہوی برادرز کی صحبت سے فیض یاب ہوئے ،اور پھراردو کا مقبول ترین ڈائجسٹ”سب رنگ“ نکالا۔

شکیل عادل زادہ کی زندگی کے دیگر دلچسپ پہلوﺅں پرپھر بات ہوگی، فی الحال توجہ” سب رنگ“ پر مرکوز رکھتے ہیں۔

یوں تو پاکستان میں کئی ڈائجسٹ نکلے، مگریہ اعزا زفقط ”سب رنگ“ کے حصے میں آیا کہ آج اِسے ڈائجسٹ کے بجائے ایک ادبی جریدے کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ شکیل عادل زادہ نے پانچ کارنامے انجام دیے۔پہلا کارنامہ اس کی سرکولیشن پونے دو لاکھ تک پہنچنا تھا۔ دوسرا کارنامہ: شستہ ترجموں کے ذریعے قارئین کوعالمی ادب کے عظیم لکھاریوں سے متعارف کروایا۔ تیسرا کارنامہ :زبان اور املا کی درستی ۔آج جو ہم” امریکہ“کو ”امریکا “اور” دھماکہ “کو ”دھماکا“لکھتے ہیں،تویہ ”سب رنگ“ ہی کی دین ہے۔چوتھا کارنامہ: کہانیوں کا کڑاانتخاب۔ کبھی سمجھوتا نہیں کیا، معیارپرپوری نہ اتریں ،تو کرشن چندر اور ممتاز مفتی کی کہانیاں بھی رد کر دیں۔ اورپانچواں کارنامہ تھا،انکا ،امبربیل، اقابلااور بازی گرجیسی کہانیاں لکھنا ، جو ایڈونچر سے بھرپور ہونے کے باوجودادبیت کی حامل ہوتیں۔

یہ بات بلامبالغہ کہی جاسکتی ہے کہ شکیل عادل زادہ نے اردو ادب پر اپنے ہم عصرمدیروں سے زیادہ گہرے اثرات مرتب کیے۔اور یہ بھی سچ ہے کہ دیگر فکشن نگاروں کے برعکس اُن سے ہم کہانی سے متعلق زیادہ سیکھ سکتے ہیں۔ اُن کا علم فقط کتابوں سے کشیدہ کردہ نہیں۔کتنے ہی شہر دیکھے،جید شخصیات کی صحبت میں وقت گزرا، نشر و اشاعت کی دنیا میں نئے رجحانات متعارف کروائے۔

سوال و جواب کا سلسلہ شروع کرنے سے قبل مختصر ان کے حالات زندگی پر نظر ڈالتے ہیں۔ اگر آپ کو تفصیلات درکار ہیں، تو عرفان جاوید کی لاجواب کتاب ”دروازے“ پڑھیے۔

وہ 1938 میںمراد آباد میں پیدا ہوئے ۔کم سنی میں والد، محمد عادل ادیب کے سائے سے محروم ہوگئے۔ نانا نے حافظ قرآن بنانے کے لیے جامعہ قاسمیہ میں داخل کروا دیا، جہاں حافظ صاحب سبق یاد نہ کرنے پر اتنی پٹائی کرتے کہ جسم پر نیل پڑ جاتے۔ تنگ آکر دس سال کی عمر میں گھر سے بھاگنے کا فیصلہ کر لیا۔قصہ یہ طویل ہے، مختصر یہ کہ بنا ٹکٹ سفر کیا، نقاہت کے باعث ممبئی اسٹیشن پر بے ہوش ہوگئے، پھر رشتے کی دادی کے ہاں پہنچے، آخر مراد آباد لوٹ آئے۔

قرآن حفظ کیا۔تعلیمی سلسلہ بھی بحال ہوا،مطالعے کا شوق بھی ترقی کرتا گیا۔ انگریزی کی شدبد ہوگئی۔پھر لکھنے کا شوق چرایا۔ اسی زمانے میں لڑکی کا روپ دھار لیا، شکیلہ جمال کے فرضی نام سے پاک و ہند کے کئی ممتاز ادیبوں کو خط لکھے۔ ایک معروف شاعر تو عاشق ہوگئے ، اوردِلّی سے مراد آباد ملنے چلے آئے تھے۔ دوسری بار وہ گھر سے بھاگے، تو پاکستان پہنچ گئے۔ کچھ عرصے یہاں رہنے کے بعد واپس مراد باد چلے گئے، مگر وہاں کی فضاﺅں پر جمود چھایا تھا، کوئی مستقبل دکھائی نہیں دیتا تھا، تو پھر پاکستان پلٹے ۔

 آنے والے چند برس والد کے دوست اور معروف شاعر رئیس امروہوی کے ساتھ رہے۔ ان کے اخبار ” شیراز“ کو سنبھالنے کی کوشش کی، مگر یہ بیل منڈھے نہ چڑھی۔ جون ایلیا پاکستان آچکے تھے، اورایک ہی فلیٹ میں رہائش تھی۔ جلد اُن میں اور شکیل بھائی میں گاڑھی چھننے لگی۔ ان کی ادبی تربیت میں جون صاحب کا بڑا دخل رہا۔ جب انھوں نے ”انشا“ کا ڈیکلریشن لیا، توشعبہ ¿ اشتہارات شکیل عادل زادہ کوسونپ دیا۔ وہاں ”داستان شہر زرنگار“ کے زیر عنوان شہر کی ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں پرمضامین لکھنے لگے،جن میں بڑی کاٹ ہوتی۔ ” اردو ڈائجسٹ“کے کام یاب تجربے کودیکھتے ہوئے انشا کوبھی”عالمی ڈائجسٹ “کا روپ دے دیاگیا۔ جون ایلیا ادبی سرگرمیوں کی وجہ سے دھیرے دھیرے ڈائجسٹ سے دورہوتے جارہے تھے۔ شکیل عادل زادہ ہی نے ادارتی ذمے داریاں سنبھال لیں۔ دل جمعی سے کام کر رہے تھے، مگر جب یہ تقاضا کیا کہ پرچے میں اُن کا بھی برابری کی بنیاد پر حصہ ہونا چاہیے، تو معاملات بگڑ گئے۔انھوں نے عالمی ڈائجسٹ سے الگ ہونے کا فیصلہ کرلیا۔

جیب میں ڈیڑھ ہزار روپے تھے، مگر اچھے دوست میسر تھے، ویژن تھا۔ جنوری 70ءمیں ”سب رنگ “کا پہلا شمارہ آیا۔

بعد کی کہانی تاریخ کا حصہ ہے۔

چلیں، اب آپ بھی اس جید کہانی کار اور مدیر سے ہونے والی گفت گو میں شریک ہوجائیں:


اقبال:یوں لگتا ہے کہ اردو بولی کی حیثیت سے تو باقی رہے گی، مگر رسم الخط کا مستقبل مخدوش ہے!

شکیل بھائی:ہاں،مستقبل کم زور ہے۔ تقسیم کے وقت یہ پورے ہندوستان کی زبان تھی، جب پاکستان بن گیا، تو ہندوستان نے یہ کہا کہ یہ مسلمانوں کی زبان ہے۔ انھوں نے اردو کو بالکل ہی ختم کر دیا۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ اردو فلاںہندوستانی اسٹیٹ کی دوسری بڑی سرکاری زبان ہے، یہ سب جھوٹ ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ وہاں پانچ چھے ریاستوں میں صرف ہندی پڑھائی جاتی ہے، باقی جگہ انگریزی کے ساتھ علاقائی زبانیں سکھائی جاتی ہیں۔ وہاں ہندی بولی کی زبان ہے،اور انگریزی وہاںبین الصوبائی رابطے کی زبان بن گئی ہے۔ پاکستان بننے کے کچھ برس بعدبنگلادیش کا واقعہ ہوگیا۔ اردو کودیس نکالا کر دیا۔ اب آجائیں پاکستان میں۔ یہاںبدقسمتی سے یہ تصور ابھرا کہ یہ مہاجروں کی زبان ہے۔ جب کہ مہاجر تو گجراتی بھی تھے، مدراسی بھی تھے۔ لطف اللہ خان مدراسی تھے۔ یعنی مختلف صوبوں سے لوگ آئے تھے۔تویوں لگا کہ اردو سے بے اعتنائی برتی گئی۔ انگریزی کا عروج ہوا۔ ہمارے ہاں جو تھوڑا سا مال دار ہوجاتا ہے، وہ پھراپنے بچے کو اردو کو نہیں پڑھاتا۔ انگریزی اخبار لگوا دیتا ہے، انگریزی اسکول میں پڑھاتاہے۔ پنڈی کا ایک واقعہ ہے۔وہاں امام باری بزرگ کا مزار ہے، اُن کے نام پر ایک صاحب نے ایک اسکول کھولا، تو لوگوں نے توجہ نہیں دی۔ جب انھوں نے سینٹ میری کر دیا ہے، تووہ چل پڑا۔


اقبال: کیا اس میں ٹیکنالوجی کا بھی دخل ہے؟

شکیل بھائی:جب سے کمپیوٹر آیا ہے، آپ کا رسم الخط رومن ہوگیا ہے۔ اب سب بل بورڈ رومن میں ہوتے ہیں۔یعنی ہم تیزی سے رومن رسم الخط کی طرف بڑھ رہے ہیں۔


اقبال: یہ خطر ناک ہے؟

شکیل بھائی: اسے خطرناک، دہشت ناک، الم ناک، جو بھی کہیں، لیکن ہے یہی۔


اقبال: انگریزی چینلز کے تجربات ناکام ہوئے، تمام چینلز اردو میں ہیں، نئے نئے اخبارات آرہے ہیں، کیا یہ خوش آیند نہیں؟

شکیل بھائی: یہ درست ہے، انگریزی چینلز کے تجربے ناکام ہوئے۔ آپ نے شروع میں کہا، اردو بولی کے طور پر باقی رہے گی، تو یہ درست ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہندی اور اردو بولی میں کوئی خاص فرق نہیں ۔ ان کی فلمیں بھی اردو بولی کو سپورٹ کرتی ہیں۔ وہاں کے پانچ چھے صوبوں میں بولی جانے والی زبان وہی ہے، جو ہم بولتے ہیں۔تو اردوبولی کی حدتک تو رہے گی۔ رسماً اسکرپٹ بھی رہے۔ اسکرپٹ ایسے نہیں مرتے۔ مگر کوئی اچھی صورت حال نظر نہیں آتی۔


اقبال: ہندوستان نے تو کہہ دیا کہ اردومسلمانوں کی زبان ہے، مگرکچھ غلطیاں تو ہم سے بھی ہوئیں۔ ہندی کے رائج الفاظ نکال کر ان کی جگہ عربی اور فارسی برتنے کی کوشش کی گئی؟

شکیل بھائی: بے شک۔ آپ نے بڑی صحیح بات کی۔ ایک اندازہ ہے کہ ستر فی صد لفظ جو ہم بولتے ہیں، وہ ہندی میں بھی بولے جاتے ہیں۔ کوئی تیس فی صد الفاظ ایسے ہیں، جو عربی اور فارسی کے ہیں، جو دونوں زبانوں کو ممتاز کرتے ہیں۔ اب دیکھیں:”وہ لڑکی بڑی سندر ہے!“ اس میں تمام لفظ ہندی کے ہیں۔ گرامر بھی ہندی کی ہے۔ اب : ”وہ لڑکی بڑی خوب صورت ہے!“ اس میں ”خوب صورت“ فارسی کا لفظ ہے، باقی سب ہندی ہے۔ بہت سے لوگوں کو یہ نہیں پتا کہ ہم جو بولتے ہیں، اس میں ستر فی صد ہندی ہے۔


اقبال: چاند ، سورج بھی ہندی، دھرتی آکاش بھی ہندی، ایک دو تین بھی ہندی؟

شکیل بھائی: بالکل۔ دراصل اب فیصلہ کرتے ہیں اخبارات اور چینلز۔ جو وہاں بولا جائے گا، وہی رائج ہوگا۔البتہ چینلز کا عجیب معاملہ ہے کہ اینکرز کو بھاری تنخواہیں دی جاتی ہیں، مگر زبان جاننے والوں کو نہیں رکھا جاتا۔


اقبال:”سب رنگ“ کی اشاعت ڈیڑھ لاکھ سے اوپر تھی، اس نے املاکی درستی پر بہت کام کیا، اس کا کیا نتیجہ نکلا؟

شکیل بھائی:کچھ حد تک اثر رہا۔ کچھ ہم ”جیو “میں بھی کوشش کرتے ہیں۔ جہاں موقع ملتا ہے، درست کرا دیتے ہیں۔ ایک زمانے میں تو میں ڈھائی گھنٹے نیوز ڈیسک پر بیٹھتا تھا۔ ہمارا معاملہ کچھ عجیب ہے، ہم” الف“ پر ختم ہونے والے بہت سے لفظ ”ہ “پر ختم کرتے ہیں، جیسے پلازا، امریکا۔ اب جیسے ڈھانچا اور دھماکا ہندی کے ہیں، جس کے بیچ میں ”ھ “آگئی،وہ سب الفاظ ہندی کے ہیں، اور الف پر ختم ہوں گے۔ دھوکا، تھانا، ٹھکانا،ڈھاکا، گھرانا۔ہماری کوشش کو کچھ لوگوں نے زیادتی قرار دیا، مگر کچھ نے توجہ کی، اور غلطی درست کی۔


اقبال :اردو فکشن پر آپ کی گہری نظر ہے، اب ادبی میلے اور کانفرنسیں تواتر سے ہوتی ہیں،کیا ان سرگرمیوں کا کچھ فائدہ ہوتا ہے؟

شکیل بھائی:یہ چیزیںفائدہ مند تو ہوتی ہیں، مشاعرے بھی فائدہ مند ہیں، ایک ماحول قائم ہوتا ہے۔ البتہ اردو فکشن میں اب مجھے وہ نمایاں چیزیں نظر نہیں آتیں، جو پہلے دکھائی دیتی تھیں۔ ہمارے ہاں کتنے بڑے بڑے نام تھے۔ کرشن چندر، بیدی، عصمت، قاسمی صاحب، اشفاق صاحب،رام لال وغیرہ۔مگر اب ان جیسے لوگ نظر نہیں آتے۔


اقبال: انتظار صاحب کو مین بکر پرائز کے لیے نام زد کیا گیا تھا، کیا وہ خاص واقعہ نہیں تھا؟

شکیل بھائی: وہ چیز تو بہت اچھی تھی۔اگر اس جیسے واقعات نہ ہوں، تو پھر کچھ بھی نہ رہے۔ کچھ ذکر ہوتا رہنا چاہیے۔ لوگوں کی حوصلہ افزائی ہو، مگر جب اثرات کی بات ہوتی ہے، تو دیکھنا ہوگا کہ ہو کیا رہا ہے۔کیا لوگ اچھا اور بڑا فکشن لکھنے لگے ہیں؟ یہ نہیں ہورہا۔پہلے جیسی سرگرمی نہیں ہے۔


اقبال:ناشروں کے استحصال پر کیا رائے ہے، وہ تو قرة العین اورن م راشد سے کہہ دیا کرتے تھے کہ آپ کی کتاب کا پہلا ایڈیشن ابھی ختم نہیں ہوا؟

شکیل بھائی: اس کو کسی حد تک نیشنل بک فاﺅنڈیشن نے روکا ہے۔ وہ دو ہزار ایڈیشن چھاپتے ہیں، سستا ایڈیشن ہوتا ہے، مصنف کو دس فی صد دیتے ہیں۔ دوسرا ایڈیشن شایع کرتے ہیں، تو اس کے پیسے بھی دیتے ہیں۔


اقبال: مگر یہ جو ملک بھر میں ناشر کام کر رہے ہیں، ان کے استحصال کو روکنے کا کوئی طریقہ نہیں ؟

شکیل عادل زادہ:نہیں۔ کوئی طریقہ نہیں ۔ وہ کہہ دیتاہے کہ پانچ سو کتابیں چھاپی تھیں، ابھی پہلا ایڈیشن نہیں بکا ہے، دوسرے کی باری نہیں آرہی۔ اوردوسری طرف وہ چھاپ رہا ہے،بیچ رہا ہے۔اس سے اردو ادب کو نقصان پہنچا۔مصنف کو کچھ نہیں ملتا۔ بالخصوص شاعرکو تو کچھ ملتا ہی نہیں۔ پھرہمارے ہاں پڑھنے کا رجحان بھی کم رہا۔ شروع سے کم رہا۔ کتاب سے دل چسپی کبھی زیادہ نہیں رہی۔ پہلے کون سی کتابیں زیادہ چھپتی تھی؟ ابن صفی کی چھپا کرتی تھی، چودہ پندرہ ہزار کاپیاں۔ اور بار بار ایڈیشن آتے تھے۔ یا پھر قدرت اللہ شہاب اور ابن انشا کی چھپیں۔ یعنی ثابت ہوا کہ جو دل چسپ اور معلومات افزا لکھنے والے ہیں، ان کی کتابیں بک جاتی ہیں۔


اقبال: پاپولر لٹریچر تو بک رہا ہے،عمیرہ احمد، نمرہ احمد، ہاشم ندیم وغیرہ۔

شکیل بھائی: پہلے بھی اے آر خاتون کی کتابیں بکا کرتی تھیں۔ پھر یہ بھی ایک مسئلہ ہے کہ جسے آپ پاپولر لٹریچر کہتے ہیں،یا جسے ڈائجسٹ ادب کہا جاتا ہے (کھانستے ہوئے) معاف کیجیے گا، طبیعت تھوڑی خراب ہےتو اس سے متعلق بحث ہوتی ہے کہ وہ کس حد تک ادب ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ادب نہیں، یا کم تر درجے کا ادب ہے۔ بعض بڑے ادیبوں کی تخلیقات پر بھی یہ اعتراضات ہوئے، مثلاً کرشن چندر سے متعلق کہا گیا۔”ایک گدھے کی سرگزشت “کو پاپولر لٹریچر میں رکھا گیا، مگر بعد میں وہ ادب تسلیم کر لیا گیا۔ ہم ڈائجسٹوںمیں موپساں، ایڈگر ایلن پو کی کہانیاں چھاپتے تھے، جو مسلمہ طور پر ادب ہےں۔ ڈائجسٹ میں چھاپتے، تو وہ غیر ادب ہوجاتا۔ وہی ادبی جراید میں چھپتیں، تو ادب کہلاتیں۔ ہم نے” سب رنگ“ میں جو عالمی ادب چھاپا، وہ ادبی جراید سے لیا گیا تھا، نقوش سے فنون سے لیا۔ عجیب بات ہے کہ ہمارے چھاپنے پر وہ غیر ادب ہوگیا۔خیر!


اقبال: کیا یہ درست ہے کہ اس بحث کو طول دے کر ہم نے معروف ادیبوں سے زیادتی کی؟مغرب میں توپاپولر ادیبوں کا بڑا مقام ہے!

شکیل بھائی: ہاں، ہم نے زیادتی کی۔ مثلاًاگاتھا کرسٹی کا بڑا مقام ہے۔ ایڈگر ایلن پو نے تین بہترین جاسوسی کہانیاں لکھیں، جن کا ابن انشا نے ترجمہ کیا، جو پڑھنے کی چیز ہیں۔ ادب اور غیرادب میں ایک بنیادی فرق ہے، شاید آپ اس سے اتفاق کریں، اوروہ ہے اظہار۔ یعنی آپ اظہار کس پختگی سے کرتے ہیں۔expression آپ کا کیسا ہے۔ بعض expression بہت بودے ہوتے ہیں۔ البتہ ادب، غیرادب عام آدمی کا مسئلہ نہیں ہے۔ اسے جو چیزیں دل چسپ لگتی ہے، وہ پڑھ لیتا ہے۔


اقبال: تو آپ دل چسپی کو ادب کا بنیادی عنصر سمجھتے ہیں؟

شکیل:دل چسپی نثر اور شاعری، دونوں میں بنیادی عنصر ہے۔ عالمانہ قسم کی تحریر غیردل چسپ ہوسکتی ہے۔ اچھا، ایسا بھی نہیں ہے کہ ادب غیردل چسپ نہیںہوسکتا۔ دل چسپی زبان میں بھی ہوسکتی ہے ۔ زبان شائستہ اور شگفتہ ہو، جیسے مختار مسعود، ابن انشا، مشتاق احمد یوسفی اور کرنل محمد خان کمال کی نثر لکھتے تھے۔پطرس بخاری تھے۔دل چسپی کو آپ بری شے نہ سمجھیں، دل چسپ سے مراد چھچھورا پن نہیں ہے ۔یعنی ہمارا دل لگ رہاہے۔ اب جس کتاب میں دل ہی نہ لگے، اسے کیا پڑھا جائے۔


اقبال: سب رنگ ایک ڈائجسٹ تھا، مگر عجیب بات ہے کہ آج ہر شخص اس کا یوں تذکرہ کرتا ہے، جسے وہ ایک ادبی جریدہ ہو، یہ کایا کلپ کیسے ہوئی؟

شکیل بھائی:یہ اب ہوا ہے۔ اُس وقت بھی تھوڑے بہت لوگ ماننے لگے تھے۔ شروع میں توڈائجسٹ ہی کا رنگ غالب تھا، مگر بعد میں ہم نے رفتہ رفتہ اس میں تبدیلیاں کیں۔ہماری سمجھ میں آتا رہا کہ یہ لفظ غلط ہے، اسے یوں درست لکھا جائے۔ انور شعور نے بڑا کام کیا۔ اور بھی لوگوں نے نشان دہی کی۔ ہم لسانیات کے آدمی نہیں تھے، مگر ہم نے کوشش کی، شروع میں لفظ غلط بھی لکھے، مگر دھیرے دھیرے انھیں درست کرتے گئے۔


اقبال: کس چیز نے ”سب رنگ“ کو ہم عصر جراید سے ممتاز کیا؟

شکیل بھائی: انتخاب۔بنیادی طور پر انتخاب نے۔ ہم نے اردو ادب کی وہ چیزیں چھاپیں، جو عوام میں مقبول ہوں، جو جمیل جالبی بھی پڑھیں، عام آدمی بھی پڑھے، اور دونوں کو پسند آئےں۔ اس میں سب سے بڑے نام ہےں؛ منٹو اور کرشن چندر۔انھوں نے ایسی تحریریں لکھیں، جو دونوںطبقوں میں مقبول تھیں۔


اقبال: آپ کا انتخاب اتنا کڑا تھاکہ کرشن چندر کا ناول بھی واپس کر دیا ، وہ کیا قصہ ہے؟

شکیل بھائی: ہاں۔ دراصل میں ادیبوں سے یہ نہیں کہتا تھا کہ آپ ہمیں کہانی بھیجیں۔ فرض کریں ،قاسمی صاحب نے ایک کہانی بھیجی، اور وہ ”سب رنگ“ کے پیمانے سے کم دل چسپ ہوئی،تو اب انھیں کہانی واپس کرنا ایک مسئلہ ہوجاتا ہے۔ ایک واقعہ سناتا ہوں: مجھے ابن انشا نے ممتاز مفتی کا ایک افسانہ دیاکہ اِسے چھاپیں۔ میں نے وہ افسانہ پڑھا اچھا،صرف میں نہیں پڑھتا تھا ۔”سب رنگ“ میںایک غیررسمی قسم کا بورڈ بنا ہوا تھا۔تو ہمارا کیشیر بھی پڑھتا تھا، پانچ چھے آدمیوں کا گروپ تھا۔اور ان پر لازم تھا کہ اپنی رائے اعداد میں دیں۔ سب کو یکساں نمبر دینے کی آزادی تھی۔ جب کوئی کہانی مجموعی طور پر پچاس نمبر حاصل کر لیتی تھی، تو وہ ہم شایع کر دیا کرتے۔ تو ممتاز مفتی کی کہانی ہم نے اس کسوٹی سے گزاری۔وہ کسی کو پسند نہیں آئی۔ اب جناب کیسے لوٹائیں۔ میں نے کہا، ایک ہی صورت ہے کہ اسے روک دو۔ تو وہ دو تین سال تک رکی رہی۔ ابن انشا لندن چلے گئے تھے، وہ واپس آئے، تو آرٹس کونسل میں ملے۔پوچھے: اس کہانی کا کیا کیا؟ اچھا، میں نے ایک جملہ ایجاد کیا تھا کہ ”سب رنگ“ کے خانے میں پوری نہیں اترتی،تو کہہ دیا کہ ”سب رنگ“ کے خانے سے بڑی تھی۔وہ فوراً سمجھ گئے۔ کہا، ارے یار تم واپس کر دیتے۔ میں نے کہا: آپ یہاں تھے نہیں، بس، کل ہی واپس کردیتا ہوں،مگرآپ کو،مفتی صاحب کو نہیں۔ تو ایسا ہی کچھ کرشن چندر کے ساتھ ہوا۔ ہم ان کی کہانیاں چھاپتے تھے۔ معاوضہ دیا کرتے، معاوضہ سب کو دیتے تھے۔ آخر کے دنوں میں وہ اسپتال میں داخل ہوگئے، تو مجھے خط لکھا کہ کچھ پیسے بھجوا سکتے ہو۔ میں نے دبئی میں اپنے دوست سے رابطہ کیا، جو ممبئی جاتے رہتے تھے۔ وہ خود گئے۔ کرشن چندر کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور کہا، آئندہ جوبھی ضرورت ہو،مجھے بتادیا کریں۔ وہ بعد میں بھی ان کی مدد کرتے رہے۔ تو اُنھوں نے میرا بڑا شکریہ ادا کیا۔ انتظار کرتے رہے کہ میں ممبئی جاﺅں، تو اُن سے ملوں۔ جب میں گیا، تب تک ان کا انتقال ہوچکا تھا۔ ان کی بیوہ سلمیٰ صدیقی سے ملا۔ انھوں نے ایک کمرہ مجھے دکھایا کہ یہ تمھارے لیے رکھاہوا تھا۔ کچھ چیزیں دیں، ان میں اُن کا قلم بھی تھا۔


اقبال: تو کرشن جی کی جوتخلیق آپ نے ”سب رنگ“ میں شایع نہیں کی، وہ کب بھجوائی تھی؟

شکیل بھائی: وہ بیماری سے پہلے بھجوائی تھی۔ میں نے ان سے کہا تھا کہ آپ ہمارے لیے کچھ لکھیں۔ انھوں نے ”سونے کا سنسار “نامی ناول بھجوایا ۔ وہ سب سے پڑھوایا۔کسی کوکوئی خاص پسند نہیں آیا۔ اب کیسے واپس کریں۔ خیر، انھیں بتایاکہ بورڈ کی خواہش ہے کہ آپ”ایک گدھے کی سرگزشت“ جیسی کوئی چیزیں لکھ کر دیں۔ کہا: تم کچھ بتاﺅ۔میں نے کہا: آپ الف لیلہ جدید لکھیں۔ اس میں بڑا امکان ہے۔ انھوں نے کہا، اچھا میں کوشش کرتا ہوں، مگر پھروہ لکھ نہیں سکے۔


اقبال: ایسا بھی ہوا کہ کسی نے کہانی بھجوائی، آپ کو پسند نہیں آئی، آپ نے معاوضہ دے دیا، مگر نہیں چھاپی؟

شکیل بھائی: دو تین معروف ادیبوںکے ساتھ ایسا ہوا، جیسے ستار طاہر۔لیکن یہ بھی ہوا کہ ادیبوں نے ہم سے غلط بیانیاں کیں،جھوٹ بولا۔ ہم سے معاہدے کیے، پیسے بھی لے لیے، اور وہ معاہدے سے پھر گئے۔


اقبال: ”سب رنگ“ کی تجدید کی خبریں بھی ایک عرصے سے گردش میں ہیں؟

شکیل بھائی: دراصل رﺅف کلاسرا” سب رنگ“ کے بڑے پرستار ہیں۔وہ خواہش مند تھے۔ اوراب سے چھے سات سال پہلے انھوںنے رابطہ کیا تھا۔ میں نے کہا، بھئی پیسے نہیں ہےںمیرے پاس۔ انھوں نے پوچھا، کتنے پیسوں کی ضرورت ہوگی؟ میں نے کہا:پچاس لاکھ کے لگ بھگ۔ میں نے ایسے ہی کہہ دیا تھا۔ بعد میں انھوں نے ایک کالم لکھا، جس میں دیگر سینئر صحافیوں سے ہونے والی ملاقات کا تذکرہ کیا، جس میں ایک فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اب یہ میری خواہش یا التجا نہیں تھی،کلاسرا صاحب کی اپنی کوشش تھی۔ خیر،وہ ہو نہ سکا۔ وقت گزرتا رہا۔ پھر کسی طرح ڈیکلریشن مجھے دوبارہ مل گیا۔ کچھ برس وہ میرے پاس رہا۔ ایک بہت بڑے پرستار ہیں، خلیل احمد نون۔ اُنھوں نے کہا: ہم نکالیں گے۔اچھے پیسوں کی آفر کی۔ مجھے لگا، یہی غنیمت ہے۔میں نے ڈیکلریشن ان کے نام کر دیا۔ وہ بہت پرعزم ہیں۔ کہا ہے: آپ کی مدد کی ضرورت ہوگی۔ میں نے جواب میں کہا ہے کہ پوری مدد کروں گا۔ غالباً وہ اسے اسلام آباد لے جائیں۔وہ صاحب حیثیت ہیں۔ دیکھیں، اب کیا ہوتا ہے۔میرے خیال میں 2017 میں”سب رنگ“ آجائے گا۔ انتخاب کچھ میں کروں گا، کچھ لوگ وہ رکھیں گے۔


اقبال: انور شعور پرچے کے معاون مدیر تھے۔ اُن کا کہناہے کہ اب سب رنگ کی تجدید مشکل ہے کہ شکیل بھائی اب چالیس برس کے نہیں رہے؟

شکیل بھائی: یہ بات ٹھیک ہے۔اور میرے لیے بھی اس طرح توممکن نہیں۔ البتہ جو ”سب رنگ“ نکال رہے ہیں، وہ بازی گر شروع کرنے کا اصرار کر رہے ہیں۔ لاہور میں ایک صاحب نے اس پر سیریل بنانے کے حقوق لے لیے ہیں۔ اسکرپٹ میں نہیں لکھوں گا۔ البتہ مجھے آخری قسط لکھنی ہے۔ وہ میں لکھوں گا۔


اقبال: تو کیا وہ کسی ادبی جریدے میں شایع ہوگی؟

شکیل بھائی: کسی بھی جگہ ہوجائے گی، پہلی شرط تو یہ ہے کہ لکھی جائے۔اصل میں اس کی قسطیں تو بہت باقی تھیں، پسند کی جارہی تھیں، مگر جو آخری قسط چھپی، اس میں کہانی ایسی جگہ پہنچ گئی تھی کہ اُسے ختم بھی کیا جاسکتا تھا۔جیسے کہ آپ کو پتا ہے، درمیان میں میںنے ”سب رنگ “کا ڈیکلریشن اپنے دوست اسلم ملک کے بیٹے راشدملک کے نام کر دیا تھا،جو کراچی سے کچھ پرچے نکالنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ اس وقت میری میر شکیل الرحمان سے بھی بات چیت چل رہی تھی۔ یہ اچھا ہوتا کہ جنگ کے بینر تلے ”سب رنگ“ نکلتا، مگر وہ ٹی وی میں مصروف ہوگئے، اور تین سال نکل گئے۔ میرے مالی مسائل کم ہوتے گئے۔ 2003 میں راشد ملک نے رابطہ کیا۔ میری تمام شرائط مانتے ہوئے پرچا لے لیا۔ یہ طے ہوا تھا کہ ہم اسے سال بھر میں ماہوار کر دیںگے، مگر کوشش کے باوجود یہ ممکن نہ ہوسکا۔ دو سال بعد اس بات پر ان سے تنازع ہوا۔ آخر میں نے کہہ دیا: ڈیکلریشن آپ کے پاس ہے، آپ نکال لیں۔ میں الگ ہوگیا۔ انھوں نے بڑا کہا کہ آپ بازی گر لکھتے رہیں۔ میں نے بڑی کوشش کی، مگر لکھی نہیں گئی کہ جو پرچا میرانہیں رہا، اس کے لیے کیسے لکھوں۔ انھوں نے اور لوگوں سے لکھوائی، جومیں نے نہیں پڑھی، مگر لوگوں نے بتایا کہ اس میں دم نہیں تھا۔ اب بازی گر ایک شخص سن 75 ءسے لکھ رہا تھا، اور اس کی وجہ سے پرچا لیٹ ہوتا تھا، گویا وہ اپنا مالی نقصان کرتا تھا، تو لوگوں نے غالباً خلاصے پڑھ کر کہانی کو آگے بڑھایا، مگر اسے پسند نہیں کیا گیا۔ سرکولیشن کم ہوگئی۔ پرچا ختم ہوگیا۔


اقبال: پھر آپ کو ڈیکلریشن دوبارہ کب اور کیسے ملا؟

شکیل بھائی: میں تو 2005 کے لگ بھگ الگ ہوگیا تھا۔” سب رنگ“ کچھ سال بعد بند ہوگیا۔ میں تو سمجھ رہا تھا کہ ڈیکلریشن ان کے پاس ہے،مگر اس کے لیے لازم ہے کہ ڈمی کی صورت ہی سہی، اسے چھاپتے رہیں۔ انھیں دل چسپی نہیں تھی، تو ان کا ڈیکلریشن ختم ہوگیا۔ کسی نے مجھے بتایا۔ میں نے ڈیکلریشن کے لیے درخواست دے دی۔ چار پانچ ماہ لگے، کیوں کہ انھوں نے پچھلی پارٹی سے پوچھا۔ انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا، تو نتیجے میںیہ مجھے مل گیا۔ مجھے وہ دن یاد ہے۔ میں بہت خوش تھا۔ پھر خلیل احمدنون نے اس کا ڈیکلریشن خرید لیا۔


اقبال: ماضی میں چلتے ہیں، کن ادبی شخصیات سے زیادہ قربت رہی؟

شکیل بھائی: رئیس امروہوی، جون صاحب، سید محمد تقی۔ ان کے گھر میں رہا ناں پندرہ سولہ سال۔


اقبال:کہا جاتا ہے کہ جون ایلیا بہت خود پسند تھے؟

شکیل بھائی: بھئی ہر شاعر خود پسند ہوتا ہے۔ خیر، ہم نے تو شروع ہی ان کے ساتھ کیا۔ ان سے بہت کچھ سیکھا۔ جب میں کچھ لکھتا تھا، تو پہلے انھیں سناتا۔


اقبال: پہلے آپ رئیس صاحب کے اخبار”شیراز “کا حصہ تھے، اس سے ایک بدمزگی کے باعث الگ ہوئے، پھر جون ایلیا کے عالمی ڈائجسٹ سے بھی الگ ہوگئے، تو رشتے میں تلخی نہیں آئی؟

شکیل بھائی:نہیں ۔ ساری زندگی ان کے ساتھ گزری تھی۔ گھر جیسا معاملہ تھا۔ ہاں، جب ”سب رنگ“ نکالا ، تب کچھ عرصے تعلق خراب رہا۔ جون صاحب نے میرے خلاف عالمی ڈائجسٹ میں اداریے بھی لکھے۔(ہنستے ہوئے) وہ لکھتے تھے: جس شخص کو آپ لکھنا سکھائیں، وہ کل آپ کے محضر قتل پر دستخط بھی کرسکتا ہے۔ یہ چھپا۔ میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ہم نے اپنا سب کچھ داﺅ پر لگا دیا تھا، مگر ”سب رنگ“ بڑھا اس تیزی سے کہ دوسرے سال 42 ہزار، تیسرے سال 62 ہزار اور پانچ سال میں ڈیڑھ لاکھ پر پہنچ گیا۔ سن 70 میں غالباً جون صاحب کی شادی ہوئی۔ انھوں نے مدعو کیا۔ میں چلا گیا۔ پھر دوستی ہوگئی۔ پھر یوں ہوتا ہے کہ جون صاحب دوپہر کو ”سب رنگ “ کے دفتر آجاتے تھے، کھانا وہیں کھاتے تھے، وہیں سو جاتے تھے۔ اچھا، ایک بار انھوں نے پیش کش کی کہ تم عالمی ڈائجسٹ مجھ سے خرید لو۔ میں نے سوچا ایک دو دن، مگر کوئی جواب نہیں دیا۔ ایک گرتے ہوئے پرچے کو سنبھالنا بڑا مشکل ہوتاہے۔


اقبال:” سب رنگ“ کی کہانیوں کے علاوہ آپ کے دفتر کا کچن بھی بڑا مشہور تھا؟

شکیل بھائی:جی ہاں، ہمارے ہاں دوپہر کا کھانا باقاعدگی سے پکتا تھا۔ چھے کمرے تھے، ایک چھوٹے سے کمرے کو کچن بنا دیا تھا۔ مجھے کھانا پکانے کا شوق تھا۔ کبھی کبھار میں بھی پکاتا تھا۔ اچھی خاصی مقدار ہوتی تھی۔ کوئی بھی آجائے، توکم نہیں پڑتا تھا۔ دس بارہ لوگ تو دفتر کے ہوتے تھے، کچھ لوگ باہر سے بھی آجاتے ۔ کبھی بیس ہوگئے، کبھی تیس ۔اس کچن پرکئی کالم بھی لکھے گئے۔


اقبال: اب بھی کچن میں جاتے ہیں، کوکنگ کرتے ہیں؟

شکیل بھائی: (مسکرا کر) بیوہ اجازت نہیں دیتی(وہ اپنی بیگم کو بیوہ کہتے ہیں)ورنہ مجھے توشوق ہے۔ اور مجھے تجربے کرنے کا شوق ہے۔ کبھی اچھا پک جاتا ہے، کبھی نہیں پکتا۔ اچھی پکی ہوئی ہر چیزپسند ہے، مگر زیادہ پسند ہے، قورمہ۔ دلی کا قورمہ نہیں ،جو خوشبوﺅں سے لدا ہوتا تھا۔مجھے پسند ہے بھنا گوشت۔سبزیوں کے ساتھ بھی گوشت پسند ہے۔


اقبال: نوجوانوں کو کن ملکی اور بین الاقوامی ادیبوں کو پڑھنا چاہیے؟

شکیل بھائی: جتنے بڑے افسانہ نگار ہیں، انھیں تو پڑھنا ہی چاہیے۔ منٹو کہانی لکھنا جانتے تھے۔ یعنی پلاٹ اچھا برا ہو، یہ الگ بات ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کہانی لکھی کیسی گئی ہے۔ ان کی بڑی مضبوط تکنیک تھی۔ ہاتھ پکڑ کر بٹھا دیتے تھے۔ اسی طرح کرشن چندر تھے، عصمت آپا تھیں۔ روسی ادیبوں کو لازماً پڑھیں، روس میں شان دارفکشن لکھا گیا ہے۔ ٹالسٹائی اور چیخوف کو پڑھیں فرانس کا ادب بہت اچھا ہے۔


اقبال: آپ کے پسندیدہ ناول کون سے ہیں؟

شکیل بھائی: عالمی ادب میں مجھے میکسم گورگی کا ”ماں “بہت پسند ہے۔ اگرچہ وہ دو سو صفحات کے بعد شروع ہوتا ہے۔ اور اردو میں ”آگ کا دریا “بہت اچھا لگا۔


اقبال: تو جس دل چسپی کو آپ نے” سب رنگ“ میں پیش نظر رکھا، کیا وہ” آگ کا دریا“ میں ہے؟

شکیل بھائی: نہیں۔ دراصل جب بھی ہم نے قرة العین کی کہانی اپنے بورڈ کو دکھائی، تو وہ نمبر نہیں ملے، جو اشاعت کے لیے ضروری ہوتے تھے۔ہاں، ان کی ایک کہانی ”حسب نسب “ہم نے پسند کی تھی،مگر وہ عالمی ڈائجسٹ میں چھپ گئی۔ قرة العین سے ہماری بڑی دوستی تھی۔ انھوں نے مجھے خط بھی دیا تھا کہ پاکستان میں میری جتنی کتابیں چھپیں، شکیل اُن کے نگراں ہیں۔میں ہندوستان سے وہ خط لے آیا۔ ایک دو پبلشرزکو خط لکھا۔ پھر زاہدہ حنا سے تذکرہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ انھیں بھی قرة العین نے ایسا خط دے رکھا ہے۔پھر پروین شاکر نے بھی بتایا کہ ان کے پاس بھی ایسا ایک خط ہے۔ دراصل وہ بہت مضطرب تھیں کہ پاکستان میں کوئی ان کی کتابوں کی رائلٹی کی دیکھ بھال کرے۔ مگریہ ممکن نہیں تھا۔


اقبال: شعرا میں کون پسند ہے؟

شکیل بھائی: فیض صاحب بہت پسند ہیں۔ اُن سے ملاقاتیں بھی رہیں۔ جب ہم نے پرچا نہیںنکالا تھا، تب میں اورانور شعور فیض صاحب سے ملنے گئے۔وہ کہنے لگے: بھئی آپ کے پاس پیسے ویسے کتنے ہیں؟ میں نے کہا: جناب، پیسے سے تھوڑی نکلتا ہے پرچا! وہ چپ ہوگئے۔ پھر بولے: پھر تو آپ پرچا نکال لیں گے۔ فیض صاحب آدمی بہت اچھے تھے۔ مختصر بات کرتے تھے۔ مجھے منیر نیازی بھی بہت پسند ہیں۔


اقبال: اب اردو ادب میں فیض، جالب اور منیر جیسے رائے عامہ کے نمائندے نہیں رہے۔

شکیل بھائی: بات وہی ہے کہ اب اردو میں معاملات نہیں رہے۔زبان کی اہمیت کم ہوئی ہے۔ البتہ پنجاب میں میں دیکھتا ہوں کہ بہت اچھے شاعر آرہے ہیں۔ لاہورمیں اچھی شاعری ہورہی ہے۔


اقبال: کس قسم کی فلمیں پسند ہیں؟

شکیل بھائی:آج کل تو وقت نہیں ملتا، مگر فلمیں ایک زمانے میں میں نے بہت دیکھیں۔ فکشن نگار کے لیے فلمیں دیکھنا بہت ضروری ہے۔


اقبال:یہ ماورائی کہانیوں کا سلسلہ کیوں کر شروع ہوا ؟

شکیل بھائی:دراصل کراچی کی ڈائجسٹوں نے ماورائی کہانیاں شایع کرنی شروع کی تھیں۔عالمی ڈائجسٹ یوں مقبول ہوا کہ بہزاد لکھنوی نے ”کالی مائی“ اور”کالا علم“ جیسے سلسلے شروع کیے ۔”سب رنگ“ میں پہلی کہانی تھی: سونا گھاٹ کے پجاری۔ اس کے ساتھ شروع ہوئی؛ انکا۔ پھر ہم نے اقابلا چھاپی۔ پھر احساس ہوا کہ ماورائی کہانیوں میں یکسانیت آگئی ہے۔ امبربیل میں کوشش کہ کہانی حقیقی زندگی کے قریب تر ہو، ماورائی پہلو کم کر دیا۔ بازی گر شروع کی، تو وہ مکمل طورپر حقیقی زندگی پر تھی ۔ اور وہ دیگر کہانیوں سے زیادہ پسند کی گئی۔


اقبال: بازی گر آپ کی تخلیق، یہی معاملہ انکا، اقابلا، امبربیل کا، مگر کچھ اور لوگ بھی اس کے دعوے دار ہیں؟

شکیل بھائی:دراصل یہ کہانیاں پہلے انوار صدیقی لکھتے تھے۔ سونا گھاٹ کے پجاری تو تقریباً انھوں نے ہی لکھی۔ ہم کرتے یہ تھے کہ جو کہانی ہمارے پا س آتی، اس پر کام بہت کرتے۔ انوار صدیقی کی دیگر ڈائجسٹوں میں شایع ہونے والی کہانیوں کو سامنے رکھیں، تو فرق نظر آجاتا ہے۔ انکا کا معاملہ یہ ہے کہ احمد صغیر صدیقی ڈیڑھ صفحے کی ایک کہانی لائے۔ وہ یہ تھی کہ ایک صاحب کا قتل ہوگیا۔ قاتل کہتا تھا، میرے سر پر ایک عورت بیٹھی ہے، اس نے قتل کروایا ہے۔ میں نے کہا، ڈیڑھ صفحے کی کہانی کیا چھاپیں گے، اسے قسط وارسلسلہ بناتے ہیں۔ انوار صدیقی لکھنے لگے۔ہم تیرہ تاریخ کی شام کو بیٹھ جاتے۔ ڈسکس کرتے تھے، وہ پوائنٹ لیتے رہتے۔ پھر کہانی لکھتے تھے۔ جب لکھ کر لاتے، تو ہم اس پر بہت کام کرتے۔ ڈیڑھ سال انکا کا سلسلہ چلتا رہا۔ پھر مجھے لگا کہ ان کا ذخیرہ ¿الفاظ محدود ہے۔ نئی نئی کیفیات کے لیے نئے نئے الفاظ ہونے چاہییں، تو وہ میں نے لکھنی شروع کر دی۔ آخری دو سال میں نے لکھی۔ اب اس المیے کو کیا کہیے کہ انوار صدیقی نے وہ تمام سلسلے، جن پر اُن کا ضمیر جانتا ہے کہ کتنی انھوں نے لکھیں، کتنے میں نے لکھیں، کتابی صورت میں اپنے نام سے چھاپ دیں۔امبربیل شروع اُنھوں نے ضرور کی تھی، بعد کی سب میں نے لکھی۔سنا ہے، اُنھوں نے کسی پبلشر سے 90 ہزار روپے لے کر اُس کی آخری قسط لکھ دی اور اُس کے پیش لفظ میں میری برائی بھی کی۔اقابلا عربی ڈکشن کی کہانی تھی، جوعذرا اور عذرا کی واپسی،تائیس ، دیگر عربی تراجم اور جون صاحب کی وجہ سے میرا پسندیدہ طرز تحریر تھا۔میںبچپن ہی سے اس ڈکشن سے آشنا ہوگیا تھا۔اقابلا بھی انھوں نے پوری اپنے نام سے چھاپ دی اور میں دیکھتا رہ گیا۔


اقبال: ان واقعات کے بعد کبھی انوار صدیقی سے ملاقات ہوئی؟

شکیل بھائی: نہیں، میں ان سے نہیں ملتا، اور ملنا بھی نہیں چاہتا۔ میں کسی شخص کی برائی نہیں کرتا، مگر مجھے اس کا صدمہ رہا۔ اتنا تعلق تھا، گھر آنا جانا تھا، انھوں نے ایسا کیا اور ذکر بھی نہیں کیا۔ میں نے ان کا مسودہ اور اپنا مسودہ محفوظ کیا ہوا ہے۔ ہم تو اسے پورا پورا ری رائٹ کیا کرتے تھے۔ ایک بار ناراض ہو کر انھوں نے پیسے بھی واپس کر دیے تھے کہ اگر تم لکھتے ہو، تو میں پیسوں کیوں لوں۔ یہ بھی ثبوت ہے۔


اقبال:” سب رنگ“ خوب بکتا تھا، یہاں چلتے ہوئے کاروبار کو نظر لگ جاتی ہے، بھتے کی پرچی آجاتی ہے، کبھی ایسا کچھ ہوا؟

شکیل بھائی: نہیں ،کبھی نہیں۔ اس وقت نہیں آتی تھی پرچیاں۔ بعد میں بھی ہمارے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔


اقبال:ادیب تو تذکرہ کرتے ہی ہیں کہ ”سب رنگ“ نے ان پر گہرا اثر چھوڑا،مگر ایسے لوگ بھی ملیں ہوں گے، جنھوںنے پرچے کا ذکر کرکے آپ کو حیران کر دیا ؟

شکیل بھائی:بہت سے لوگ ہیں۔ مثلاً ایک قیدی تھا۔ کسی سلسلے میں میرا عدالت جانا ہوا، تو وہاں اس سے ملاقات ہوئی۔ وہ پڑھا کرتا تھا۔فوراً میرا دوست بن گیا۔ بازی گر شروع ہوگئی تھی۔ اس نے بڑی مدد کی۔ چاقو کے استعمال کا بتایا۔ اور بہت سے لوگ تھے۔


اقبال: زندگی کے کسی فیصلے پر افسوس ہے؟

شکیل بھائی: ہماری خامی یہ تھی کہ ہم منتظم اچھے نہیں تھے، جو معراج رسول صاحب تھے۔ اُنھوں نے ادارہ بنا لیا۔ میں ادارہ نہیں بنا سکا، کیوں کہ میں لکھنا شروع ہوگیا تھا۔ ایڈیٹر کو لکھنا نہیں چاہیے۔ اس کی وجہ سے ”سب رنگ“ ختم ہوگیا۔


اقبال: آپ بیتی کا سوچا؟

شکیل بھائی: بہت لوگ کہتے ہیں، مگر میرا اب لکھنے کا جی نہیں چاہتا۔ نہ لکھنے کو، نہ پڑھنے کو۔


اقبال: زندگی سے متعلق آپ کا نظریہ ترقی پسندانہ ہے؟

شکیل بھائی: ہم رہے ترقی پسندوں میں۔البتہ انتہا پسندی غلط چیز ہے۔ جون صاحب کے بعض دوستوں میں انتہاپسندی تھی، جو اب بھی ہے۔وہ غلط بات ہے۔


اقبال: کیا ادب کو نظریے کا پابند ہونا چاہیے؟

شکیل بھائی:بالکل نہیں ہونا چاہیے۔ہماری سوسائٹی کا اپنا ڈھب ہے۔اورادیب نظریے کا سو فی صد پابندنہیں ہوسکتا۔ تخلیق اسے ادھر ادھر لے جاتی ہے۔ اگر ادیب نظریے کا پابند ہوجائے،تو جانب دار ہوجاتا ہے۔


اقبال: تو ادب کا مقصد کیا ہے، تفریح طبع؟

شکیل بھائی:ہاں،ایک معنوں میں آپ نے ٹھیک کہا۔ مگر شاید یہ لفظ موزوںنہیں۔ ادیب پر لازم ہے کہ حقائق لکھے، زندگی لکھے۔ سبط حسین نے بہت اچھی تحریر یںلکھیں، مگر وہ ہمیشہ ایک ہی طرح لکھتے رہے۔ دوسری طرف بھی زندگی ہے، اچھے لوگ ہیں۔ٹھیک ہے، نظریے کی کہیں نہ کہیں جھلک آجائے، مگر وہ جھلک ہی ہو۔


اقبال: زندگی میں کن چیزوں کو آپ اہم مانتے ہیں؟

شکیل بھائی: تین چیزیں ہیں۔ پہلی تعلیم، دوسری دولت، تیسری دیانت، تینوں کی یکساں اہمیت ہے۔


اقبال: نوجوان ادیبوں کو کیا مشورہ ہے؟

شکیل بھائی: مطالعے کی بہت اہمیت ہے۔ مطالعے کے بغیر آپ نہیں لکھ سکتے۔ پھر جو شخص خواب نہیں دیکھتا ہو، اس کے ہاں خیال نہیں آسکتا۔ خیال نہ ہو، تو لکھا نہیں جاسکتا۔ زندگی کو طرح طرح سے محسوس کرنے کی خواہش ہونی چاہیے۔ تب ہی انسان لکھ سکتا ہے۔


اقبال:آخری سوال، ڈائجسٹ میں اصل مصنف کا نام نہیں آتا، مختلف نام ہوتے ہیں، تو اس سے آپ کے اندر کا ادیب کہیں ضایع تو نہیں ہوا؟

شکیل بھائی: دراصل ڈائجسٹ میں یہ مناسب نہیں ہوتا کہ بہت سی چیزوں پر آپ کانام ہو، توہم مختلف ناموں سے لکھا کرتے تھے۔ باقی لوگ بھی یہی کرتے تھے۔ جون صاحب نام رکھنے کے ماہر تھے۔ طرح طرح کے نام رکھتے۔ تو بہت سے ناموں سے لکھا۔ بعد میں افسوس ہوتا تھا کہ اچھی چیزتھی، مگر اب دوسرے کے نام سے آئے گی۔


''''''''''''''''''''''''


جب مینا کماری نے پاﺅں چھوئے

یہ 60 ءکا ذکر ہے، رئیس صاحب کی بیگم نے امروہے جانے کاارادہ کیا، تو شکیل عادل زادہ نگراں کی حیثیت سے ساتھ ہولیے۔ ممبئی بھی جانا ہوا، جہاں قیام رئیس صاحب کے چچا زاد بھائی، ممتاز فلم ساز کمال امروہوی کے گھر تھا۔وہ اپنی دوسری بیوی نامور اداکارہ مینا کماری کے ساتھ باندرا میں رہتے تھے۔گو میاں بیوی فلمی ہستیاں تھیں ،مگر وہ گھر بڑا سادہ تھا۔ وہاں اس دل کش اور باکمال اداکارہ کوقریب سے دیکھا، جس کی آنکھوں میں گہری سوچ کے سائے تھے۔وہ مذہبی مزاج کی حامل خاتون تھیں، اور روزقرآن شریف پڑھا کرتیں۔

دو ہفتے وہاں رکے۔ تکلف کی دیوار جلد ڈھے گئی۔ وہ مینا کماری سے فلمیں باتیں کرنے سے اجتناب برتتے کہ وہ اس نگری کو دکھاوا اور جھوٹ کہا کرتی تھیں۔ شخصیت میں رنجیدگی نمایاں تھی۔زیادہ گفت گو شاعری پر ہوتی ، وہ خود بھی شعر کہتی تھیں، اور ناز تخلص کرتی تھیں۔جب انھیں پتا چلاکہ ”انشا “میں شائع ہونے والا سلسلہ”امیر علی ٹھگ کے کارنامے“ اِسی نوجوان کا ترجمہ ہے، تو بڑی حیران ہوئیں۔

کمال امروہوی اور مینا کماری کے ساتھ فلم دیکھنے بھی گئے، جہاںخاصی ہلڑ بازی ہوئی۔گھر میں رات کے فارغ وقت میں تاش کی بازی لگتی۔ ہارنے والی ٹیم کو جیتنے والوں کے پاﺅں چھونے پڑتے۔ایک بازی وہ جیت گئے، تو ان کے لاکھ منع کرنے کے باوجود مینا کماری نے ان کے پاﺅں چھو لیے، اور کہا: ”ہم ہار گئے بھئی، تم جیتے۔“

مینا کماری چاہتی تھیں کہ وہ وہیں رک جائیں، مگر یہ ممکن نہیں تھا۔ انھیں رخصت کرتے ہوئے وہ بہت اداس نظر آتی تھیں۔ انھوںنے نوجوان شکیل کو ایک لفافہ بھی دیا تھا،جس میں سو سو کے دس نوٹ تھے۔ بعد میں بھی کچھ عرصے خط کتابت رہی، پھر وقت کی گردمیں سب کچھ کہانی ہوگیا۔

''''''''''''''''''''''''


 جنرل ضیا نے پوچھا:کیا سرورق پر عورت کی تصویر ضروری ہے؟

سی پی این ای کا اسلام آباد میں اجلاس ہوا۔ وہاںصدر ضیاءالحق ان سے ملے، تومسکرا کر کہا،”آپ ہی سب رنگ نکالتے ہیں ناں۔ آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔“ وہ مسرور تھے کہ ضیاءالحق بھی ”سب رنگ“ کے قاری ہیں،خواتین کاجو رسالہ وہ برسوں سے نکالنا چاہتے ہیں، اب اس کا ڈیکلریشن مل جائے گا۔اگلے روز ایوان صدر میں ملاقات تھی۔ وہ شیروانی پہن کر، سب رنگ کا تازہ پرچے لیے پہنچ گئے۔صدر نے پرچے کے رنگ ڈھنگ کی تعریف کرتے ہوئے فرمایش کر دی کہ وہ اس کے ذریعے اسلام کی بھی خدمت کریں۔ انھوں نے کہا: اس میں اولیائے کرام پر باقاعدگی سے تحریریں شائع ہوتی ہیں، مگر صدر کی خواہش تھی کہ تصوف کے ساتھ شریعت پر تحریریں شائع کی جائیں۔ تازہ پرچہ دیکھ کر سوال کیا: ”کیا سرورق پر عورت کی تصویر ضروری ہے، پھول یا قدرتی مناظر بھی توہوسکتے ہیں؟“

شکیل بھائی نے اپنے طور وضاحت تو کر دی مگر شایدبات نہیں بنی۔ملاقات بظاہر خوش گوار رہی۔ ضیا ءالحق رخصت کرنے گاڑی تک آئے، خود ہی دروازہ کھولا۔بعد میں وزرات اطلاعات نے ”سب رنگ“ کے پرانے پرچے بھی منگوائے مگر خواتین کے ڈائجسٹ کا ڈیکلریشن ملنے کے بجائے الٹا” سب رنگ“ کے اشتہارات اور کاغذ کا کوٹابند کر دیاگیا۔اس ”کرم فرمائی“کا سبب شایدسرورق اورتصوف پر شائع ہونے والی تحریریں بنیں۔خیر، بڑی تگ و دو کے بعد وہ اشتہارات اور کوٹا بحال ہوا۔



No comments:

Post a Comment