Thursday, November 2, 2017

شاید ہندو کمل ہاسن کو مسلمان سمجھ بیٹھے

 

سچائی کی جیت ہوا کرتی تھی لیکن اب طاقت کی جیت ہوتی ہے


 

ہندوستانی تاریخ کے بہترین اداکاروں میں سے ایک کمل ہاسن آج کل شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ یوں تو وہ ماضی میں بھی تنقید اور تنازعات کی زد میں رہے ہیں مگر مودی سرکار میں ہندو شدت پسندی کو ملنے والے فروغ کو دیکھتے ہوئے یوں لگتا ہے کہ اب کی بار اس رجحان ساز فن کار کو خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس مسئلے کا سبب کمل ہاسن کا ایک کالم بنا، جس میں انھوں نے ہندو دہشت گردی پر سوالات اٹھائے تھے۔ 

انھوں نے ایک تمل میگزین میں اپنے ہفتہ وار کالم میں لکھا: 'آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہندو دہشت گردی موجود نہیں ہے پہلے ہندو شدت پسند بات چیت کرتے تھے، اب تشدد کرتے ہیں'۔

اپنے کالم میں کمل ہاسن نے یہ بھی کہا کہ سچائی کی جیت ہوتی ہے اس بات سے لوگوں کا بھروسہ اٹھ گیا ہے۔انہوں نے لکھا 'سچائی کی جیت ہوا کرتی تھی لیکن اب طاقت کی جیت ہوتی ہے'۔

کمل ہاسن کے اس کالم پر شدید ردِ عمل سامنے آیا ہے۔

راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ یعنی آر ایس ایس کے راکیش سنہا نے ٹوئٹ کیا 'کمل ہاسن کے اس بیان کا وقت بہت اہم ہے کیوں کہ مرکزی حکومت پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے خلاف کارروائی کا اشارہ دے رہی ہے تب کمل ہاسن ہندو شدت پسندی کے موضوع کو بیچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے لکھا کہ کمل ہاسن کو ہندو تہذیب کا ہتک کے لیے معافی مانگنی چاہئیے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان جی وی ایل نرسمہا راؤ نے سوال کیا کیا وہ ڈی ایم کے پارٹی کے نزدیک آنے کے لیے ہندووں کی بے عزتی کر رہے ہیں۔

جب سے مودی حکومت آئی ہے، کمل ہاسن جیسے روشن خیال فن کار اور انسانیت کے علم بردار فن کار شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ پاکستانی فن کاروں کے کام پر روک لگانا بھی اسی کی ایک کڑی تھی۔

(رواں نیوز) 

No comments:

Post a Comment