Monday, October 9, 2017

ہم جو بولتے ہیں، اس میں ستر فی صد ہندی ہے: شکیل عادل زادہ

دیکھیں:”وہ لڑکی بڑی سندر ہے۔“ اس میں تمام لفظ ہندی کے ہیں۔ گرامر بھی ہندی کی ہے۔ اب : ”وہ لڑکی بڑی خوب صورت ہے۔“ اس میں ”خوب صورت“ فارسی کا لفظ ہے، باقی سب ہندی ہے۔ بہت سے لوگوں کو یہ نہیں پتا  

معروف کہانی کار اور سب رنگ کے مدیر اعلی، شکیل عادل زادہ کا یہ انٹرویو اجرا کے سلور جوبلی نمبر میں شایع ہوا۔ ہندی اردو تنازعے کے تناظر میں اس صاحب الرائے قلم کار سے کیے جانے والے چند حصے، جو اس مدعا پر روشنی ڈالتے ہیں، یہاں شیئر کیے جارہے ہیں۔ اقبال خورشید

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 


اقبال: یوں لگتا ہے کہ اردو بولی کی حیثیت سے تو باقی رہے گی، مگر رسم الخط کا مستقبل مخدوش ہے۔

شکیل بھائی : ہاں،مستقبل کم زور ہے۔ تقسیم کے وقت یہ پورے ہندوستان کی زبان تھی، جب پاکستان بن گیا، تو ہندوستان نے یہ کہا کہ یہ مسلمانوں کی زبان ہے۔ انھوں نے اردو کو بالکل ہی ختم کر دیا۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ اردو فلاں ہندوستانی اسٹیٹ کی دوسری بڑی سرکاری زبان ہے، یہ سب جھوٹ ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ وہاں پانچ چھے ریاستوں میں صرف ہندی پڑھائی جاتی ہے، باقی جگہ انگریزی کے ساتھ علاقائی زبانیں سکھائی جاتی ہیں۔ وہاں ہندی بولی کی زبان ہے،اور انگریزی وہاںبین الصوبائی رابطے کی زبان بن گئی ہے۔ پاکستان بننے کے کچھ برس بعد بنگلادیش کا واقعہ ہوگیا۔ اردو کودیس نکالا کر دیا۔ اب آجائیں پاکستان میں۔ یہاں بدقسمتی سے یہ تصور ابھرا کہ یہ مہاجروں کی زبان ہے۔ جب کہ مہاجر تو گجراتی بھی تھے، مدراسی بھی تھے۔ لطف اللہ خان مدراسی تھے۔ یعنی مختلف صوبوں سے لوگ آئے تھے۔تویوں لگا کہ اردو سے بے اعتنائی برتی گئی۔ انگریزی کا عروج ہوا۔ ہمارے ہاں جو تھوڑا سا مال دار ہوجاتا ہے، وہ پھراپنے بچے کو اردو کو نہیں پڑھاتا۔ انگریزی اخبار لگوا دیتا ہے، انگریزی اسکول میں پڑھاتاہے۔ پنڈی کا ایک واقعہ ہے۔وہاں امام باری بزرگ کا مزار ہے، اُن کے نام پر ایک صاحب نے ایک اسکول کھولا، تو لوگوں نے توجہ نہیں دی۔ جب انھوں نے سینٹ میری کر دیا ہے، تووہ چل پڑا۔

اقبال: کیا اس میں ٹیکنالوجی کا بھی دخل ہے؟
شکیل بھائی:جب سے کمپیوٹر آیا ہے، آپ کا رسم الخط رومن ہوگیا ہے۔ اب سب بل بورڈ رومن میں ہوتے ہیں۔یعنی ہم تیزی سے رومن رسم الخط کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

اقبال: یہ خطر ناک ہے؟
شکیل بھائی: اسے خطرناک، دہشت ناک، الم ناک، جو بھی کہیں، لیکن ہے یہی۔

اقبال: انگریزی چینلز کے تجربات ناکام ہوئے، تمام چینلز اردو میں ہیں، نئے نئے اخبارات آرہے ہیں، کیا یہ خوش آیند نہیں؟
شکیل بھائی: یہ درست ہے، انگریزی چینلز کے تجربے ناکام ہوئے۔ آپ نے شروع میں کہا، اردو بولی کے طور پر باقی رہے گی، تو یہ درست ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہندی اور اردو بولی میں کوئی خاص فرق نہیں ۔ ان کی فلمیں بھی اردو بولی کو سپورٹ کرتی ہیں۔ وہاں کے پانچ چھے صوبوں میں بولی جانے والی زبان وہی ہے، جو ہم بولتے ہیں۔تو اردوبولی کی حدتک تو رہے گی۔ رسماً اسکرپٹ بھی رہے۔ اسکرپٹ ایسے نہیں مرتے۔ مگر کوئی اچھی صورت حال نظر نہیں آتی۔

اقبال: ہندوستان نے تو کہہ دیا کہ اردومسلمانوں کی زبان ہے، مگرکچھ غلطیاں تو ہم سے بھی ہوئیں۔ ہندی کے رائج الفاظ نکال کر ان کی جگہ عربی اور فارسی برتنے کی کوشش کی گئی؟
شکیل بھائی: بے شک۔ آپ نے بڑی صحیح بات کی۔ ایک اندازہ ہے کہ ستر فی صد لفظ جو ہم بولتے ہیں، وہ ہندی میں بھی بولے جاتے ہیں۔ کوئی تیس فی صد الفاظ ایسے ہیں، جو عربی اور فارسی کے ہیں، جو دونوں زبانوں کو ممتاز کرتے ہیں۔ اب دیکھیں:”وہ لڑکی بڑی سندر ہے!“ اس میں تمام لفظ ہندی کے ہیں۔ گرامر بھی ہندی کی ہے۔ اب : ”وہ لڑکی بڑی خوب صورت ہے!“ اس میں ”خوب صورت“ فارسی کا لفظ ہے، باقی سب ہندی ہے۔ بہت سے لوگوں کو یہ نہیں پتا کہ ہم جو بولتے ہیں، اس میں ستر فی صد ہندی ہے۔

اقبال: چاند ، سورج بھی ہندی، دھرتی آکاش بھی ہندی، ایک دو تین بھی ہندی؟
شکیل بھائی: بالکل۔ دراصل اب فیصلہ کرتے ہیں اخبارات اور چینلز۔ جو وہاں بولا جائے گا، وہی رائج ہوگا۔البتہ چینلز کا عجیب معاملہ ہے کہ اینکرز کو بھاری تنخواہیں دی جاتی ہیں، مگر زبان جاننے والوں کو نہیں رکھا جاتا۔

اقبال:”سب رنگ“ کی اشاعت ڈیڑھ لاکھ سے اوپر تھی، اس نے املاکی درستی پر بہت کام کیا، اس کا کیا نتیجہ نکلا؟
شکیل بھائی:کچھ حد تک اثر رہا۔ کچھ ہم ”جیو “میں بھی کوشش کرتے ہیں۔ جہاں موقع ملتا ہے، درست کرا دیتے ہیں۔ ایک زمانے میں تو میں ڈھائی گھنٹے نیوز ڈیسک پر بیٹھتا تھا۔ ہمارا معاملہ کچھ عجیب ہے، ہم” الف“ پر ختم ہونے والے بہت سے لفظ ”ہ “پر ختم کرتے ہیں، جیسے پلازا، امریکا۔ اب جیسے ڈھانچا اور دھماکا ہندی کے ہیں، جس کے بیچ میں ”ھ “آگئی،وہ سب الفاظ ہندی کے ہیں، اور الف پر ختم ہوں گے۔ دھوکا، تھانا، ٹھکانا،ڈھاکا، گھرانا۔ہماری کوشش کو کچھ لوگوں نے زیادتی قرار دیا، مگر کچھ نے توجہ کی، اور غلطی درست کی۔

اقبال :اردو فکشن پر آپ کی گہری نظر ہے، اب ادبی میلے اور کانفرنسیں تواتر سے ہوتی ہیں،کیا ان سرگرمیوں کا کچھ فائدہ ہوتا ہے؟
شکیل بھائی:یہ چیزیں فائدہ مند تو ہوتی ہیں، مشاعرے بھی فائدہ مند ہیں، ایک ماحول قائم ہوتا ہے۔ البتہ اردو فکشن میں اب مجھے وہ نمایاں چیزیں نظر نہیں آتیں، جو پہلے دکھائی دیتی تھیں۔ ہمارے ہاں کتنے بڑے بڑے نام تھے۔ کرشن چندر، بیدی، عصمت، قاسمی صاحب، اشفاق صاحب،رام لال وغیرہ۔مگر اب ان جیسے لوگ نظر نہیں آتے۔

ا

No comments:

Post a Comment