Wednesday, October 4, 2017

کہانی، عابد اور بلوچستان: چند مختصر، پراثر کہانیاں

 اپنی نسل کے جن قلم کاروں کے سامنے میں نے سر تسلیم خم کیا، اور دل سے کیا، عابد میر ان میں سے ایک ہے




کبھی کبھار مانوس ہونے کے باوجود مجھے وہ اجنبی لگتا ہے۔ ہنس مکھ ہونے کے باوجود سنجیدہ۔ یوں لگتا ہے اس کے شانت من کے نیچے ایک بے انت ہل چل ہے۔ زیر آب کچھ حرکت کر رہا ہے۔

میں ایک شخصیت پرست ہوں، اور اپنی نسل کے جن قلم کاروں کے سامنے میں نے سر تسلیم خم کیا، اور دل سے کیا، عابد ان میں سے ایک ہے۔ پہلے پہل یہ اس کے کالم تھے، اور پھر اس کی ناول نما کتاب؛ جدائی کا پیش لفظ ۔ اور پھر جنگ محبت اور کہانی۔

اچھا، اس سے میرے تعلق کے دو اسباب اور تھے۔ ایک سبب تو بلوچستان تھا، بلکہ کہہ لیجیے، کوئٹہ تھا۔ اس زمانے میں کراچی اور کوئٹہ، دونوں کے حالات یک ساں طور پر سنگین تھے، دونوں کے عوام یک ساں طور پر استحصال کا شکار، یک ساں طور پر سادہ لوح اور بیوقوف۔

اور دوسرا سبب تھا، ڈاکٹر شاہ محمد مری سےاس کی قربت۔ میں ڈاکٹر کا گرویدہ ہوں۔ وہ ایک قابل تقلید پروگریسو استاد ہے۔ عظیم روسی ادیبوں کے مانند زودنویس اور قابل مطالعہ۔

  عابد کو مسلسل پڑھ کر مجھ پر چند پریشان کن انکشافات ہوئے۔

پہلا انکشاف :میں بلوچستان کی بابت کچھ نہیں جانتا۔

دوسرا انکشاف: میں کہانی کے بارے میں بھی کچھ نہیں جانتا۔

اور تیسرا انکشاف: اب میں عابد کو تھوڑا تھوڑا جاننے لگا ہوں۔

جانے ان میں زیادہ پریشان کن انکشاف کون سا ہے۔

یوں تو عابد کے افسانے مختصر ہوتے ہیں۔ مگر اس نے چند کہانیاں انتہائی مختصر لکھیں۔ ویسی کہانیاں، جو مجھے جیسے صحافی قلم کار لکھتے ہیں۔ بس فرق یہ ہے کہ وہ ہماری کہانیوں سے بہتر ہیں۔  نئے لکھے والے اس سے تلخ حالات کو کہانی کے بنیادی لوازمات کے ساتھ، جیسے رواں زبان، زندگی سے جڑے سے کردار، معاشرے میں گڑے موضوعات، چست پلاٹ ۔ ۔ ۔  افسانے کا حصہ بنانے کا فن سیکھ سکتے ہیں۔

میں یہ نہیں کہوں گا کہ آغا گل (جس پر پھر کبھی بات ہوگی) اور عابد میر بلوچستان فکشن کے نمایندہ ادیب ہیں۔ میں تو انھیں اردو فکشن کے  اہم ناموں کے طور دیکھتا ہوں

نام ۔ ۔ ۔ جن سے اردو والے ۔ ۔ ۔ بے خبر ہیں۔

یہاں عابد میر کی چند مختصر کہانیاں پیش کی جارہی ہیں۔ آپ بھی اپنی رائے دیں۔

اقبال خورشید

۔۔۔۔۔۔


خبر
(پہلی کہانی)

 سنا ہے بہت بڑا دھماکا تھا؟

 ہاں .... کہتے ہیں پورا شہر لرز اٹھا۔

 کیا بچا؟ 

صرف خبر بچ گئی، باقی تو سب راکھ ہو گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔


چیک پوسٹ پر تفتیش
(دوسری کہانی)

’’کون ہو؟‘‘
’’شاعر ہوں‘‘
’’کام کیا کرتے ہو؟‘‘
’’شاعری کرتا ہوں‘‘
وہ تو سب کرتے ہیں، کام بتا۔۔۔‘‘
’’جی، یہی کام ہے!‘‘
’’اچھا،کوئی شعر سنا؟‘‘
’’جی، یاد نہیں‘‘
’’توکیا یاد ہے؟‘‘
’’آج اکتیس تاریخ ہے!‘‘
’’او چل جا یار۔۔۔‘‘

شاعر چل پڑا۔۔۔

پیچھے سے آتے قہقہوں کا طوفان دُور تک اُس کے ساتھ چلتا رہا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔


محبت کی کہانی کا مرکزی کردار
(تیسری کہانی)


دل نے آنکھوں سے سے کہا : تمہارے کیے کا تاوان میں کب تک بھرتا رہوں؟‘

 آنکھ مسکائی اور بولی: ’’ تم جب جلتے ہو تواس تاوان کے عوض تمہاری آگ پہ پانی میں ہی بھر لاتی ہوں۔"

یہ گفت گو لبوں نے سنی تو یوں گویا ہوئے: ’’ ہم پیش قدمی نہ کریں تو تم دونوں کی آغاز کردہ کہانی آگے ہی نہ بڑھے۔۔۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سنت
(چوتھی کہانی)

ابا، دو کلو دودھ میں کتنا پانی ملاؤں؟

  دو کلو تو ڈال دو بیٹا۔

دال میں ریتی کتنی ہو؟

 ’’وزن میں کچھ فرق پڑے، مگر اتنی ہو کہ پتہ نہ چلے۔  

چاو ل میں چنے ڈال دوں؟

 ہاں، مگر ذرا حتیاط سے بیٹا۔

 چینی کا کیا کروں؟

  کلو پہ دو چار روپے بڑھا دو، کوئی نہیں پوچھتا۔

  اور یہ گھی میں بھی کوئی بچت نہیں، بیس کلو کے ڈبے پہ بیس روپے بھی نہیں بچتے۔

  اس کی اصل قیمت مٹا کرپچاس روپے بڑھا کر لکھ دو، بولو کمپنی سے ہی ایسا مل رہا ہے۔

 اچھا ، یہ ٹھیک ہے۔
چلو بیٹا، اب افطار کر لیں، اذان کا وقت ہو رہا ہے۔

ٹھیک ہے ابا، آپ چلیں ، میں نماز کے لیے وضو کر کے آتا ہوں۔

 اچھا سننا بیٹا، کھجور یاد سے لانا۔ کھجور سے افطارکرنا سنت ہے۔۔۔

 باپ نے اپنی مشت بھر داڑھی پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔

 سیلابی عشق
(پانچویں کہانی)


’’سچ بتاؤ، تمہیں مجھ سے کتنا گہراپیار ہے؟‘‘
’’گیارہ لاکھ کیوسک‘‘
’’ارے پاگل، اتنے میں توسیلاب آ جاتا ہے، میں تو اس میں ڈوب جاؤں گی۔۔۔‘‘
’’عشق سب کچھ ڈبو دینے والا سیلاب ہی تو ہے، اس میں بھلا کبھی کچھ بچا بھی ہے؟!‘‘

 

3 comments:

  1. بہت اعلی
    ان کی یہ مختصر کہانیاں پڑهنے کے بعد سوچتی هوں کہ ان کی لکهی تمام کہانیاں پڑه لوں

    ReplyDelete
  2. Bohuth khoob.representative reality

    ReplyDelete