Thursday, October 19, 2017

جب مبشر علی زیدی کی کہانیاں مسترد کر دی گئیں


”ایساخال خال ہی ہوتا ہے کہ ایک قلم کار ادب میں نہ صرف نئی صنف متعارف کروائے، بلکہ اسے اوج بھی بخشے۔ گو، اردو میں مختصر کہانی یا مائیکرو فکشن کا تصور نیا نہیں، مگر گنے چنے الفاظ کی کہانیوں کی، مبشر علی زیدی سے پہلے کوئی مثال تلاش کرنااگر ناممکن نہ بھی ہو، تب بھی مشکل ضرور ہے۔ اپنی بے بدل صلاحیت اور قابلیت سے ”سو لفظوں کی کہانی“ کو جو مقبولیت اُنھوں نے عطا کی، اُسے الفاظ میں سمونا دشوار ہے۔ اخبارات کے ادارتی صفحات پرکہانیوں کی اشاعت کا سلسلہ اُن ہی کے باعث شروع ہوا۔اِس باکمال لکھاری کی چند کہانیاں اپنے موضوع اور کاٹ کے سبب اخبار میں مسترد شدہ ٹھہریں۔ یہاں ایسی ہی چند کہانیاں پیش کی جارہی ہیں۔“

ادارہ: سہ ماہی اجرا

۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ڈگڈگی

صاحب شکار سے لوٹے تو ایک بندر بھی ساتھ لائے۔

انھوں نے وہ بندر جنگل سے پکڑا تھا۔

صاحب نے حکم دیا،

بازار جا اور کسی بندر سدھانے والے کو لے آ!

میں نے پوچھا،

سرکار!اس کی پہچان کیا ہوگی؟

صاحب نے فرمایا،

اس کے ہاتھ میں ڈگڈگی ہوگی۔

میں نے سر کھجاکر عرض کیا،

حضور!ڈگڈگی میں ایسا کیا جادو ہے

کہ بندر اس پر ناچتا ہے؟

صاحب نے کہا،

ڈگڈگی میں کوئی جادو نہیں ہوتا۔

ناچنے والا کبھی ناچنے سے انکار بھی کردیتا ہے۔

اس لیے ڈگڈگی والے کے دوسرے ہاتھ میں ہمیشہ ایک چھڑی ہوتی ہے۔

٭٭٭

فارمولا

سیاست میں دو طرح کے عناصر ہوتے ہیں۔

سیاسی قوتیں اور غیر سیاسی قوتیں۔

میرے دوست کاشف نے بتایا۔

یہ کیا بات ہوئی؟

میرے منہ سے نکلا۔

سیاسی قوتیں پہلے سوچ بچار کرتی ہیں۔

پھر فیصلہ کرتی ہیں۔

ان کے پاس ہر مسئلے کو حل کرنے کے لیے الگ فارمولے ہوتے ہیں۔

کاشف نے بات جاری رکھی،

غیر سیاسی قوتیں پہلے نتیجہ نکالتی ہیں۔

پھر عمل کرتی ہیں۔

پھر سوچ بچار کرتی ہیں۔

ان کے پاس ہر مسئلے کو حل کرنے کا ایک ہی فارمولا ہوتا ہے۔

میں نے پوچھا،

کون سا فارمولا؟

کاشف نے انکشاف کیا،

مائنس ون فارمولا۔

٭٭٭

 

ایفکٹ سائیڈ

تھا۔ شکار کمتری احساس میں

ڈرتا، سے نکلنے سے گھر

کرتا۔ پرہیز سے جانے میں تقریبات

کتراتا۔ سے کرنے بات سے اجنبیوں

واحد۔ تھا، دوست ہی ایک میرا میں دنیا پوری

ہے، بات کی پہلے سال چھ

بتائی۔ مشکل اپنی کو واحد نے میں

”ہے۔ دوا ایک کی کرنے ختم کمتری احساس“

کیا۔ انکشاف نے واحد

نکالی۔ بوتل ایک سے بغل پھر

تھا۔ مشروب کا رنگ سرخ گہرے میں اس

لیا۔ گھونٹ ایک بس نے میں

ہوگیا۔ختم لخت یک کمتری احساس بعد کے اس

ہاں، لیکن

ہوگئے، سال چھ

ہوں۔ شکار کا جرم احساس

٭٭٭

 

افسر

”تمہاراعہدہ کیا ہے؟“

ڈوڈو نے سوال کیا۔

”اپنے چینل کا کنٹرولر نیوز ہوں۔“

میں نے جواب دیا۔

”کیا تم کسی کو ملازم رکھوا سکتے ہو؟“

”نہیں۔“

”کسی کا تبادلہ کروا سکتے ہو؟“

”نہیں۔“

”کسی کی تنخواہ بڑھوا سکتے ہو؟“

”نہیں۔“

”کسی کو وقت پر تنخواہ دلوا سکتے ہو؟“

”نہیں۔“

”اپنی مرضی سے کوئی خبر چلوا سکتے ہو؟“

”نہیں۔“

”کوئی خبر رکوا سکتے ہو؟“

”نہیں۔“

ڈوڈو نے منہ بنا کر پوچھا،

”تو پھر دفتر میں کرتے کیا ہو؟“

میں نے کہا،

”کھیت میں پرندوں کو ڈرانے کے لیے جیسے پتلا کھڑا کیا جاتا ہے،

نیوزروم میں ویسے کھڑا رہتا ہوں۔“

٭٭٭

 

ایمنسٹی

مبشر رات کو دوسروں کے آئیڈیے چوری کرکے کہانیاں لکھتا ہے۔

اجمل کمال نے الزام لگایا۔

مبشر غالب کی زمینوں کی چائنا کٹنگ کرکے افسانوں کے پلاٹ بناتا ہے۔

اصغر ندیم سید نے تنقید کی۔

مبشر روزانہ گن پوائنٹ پر کسی نہ کسی کالم نگار کے سو الفاظ لوٹ لیتا ہے۔

سہیل وڑائچ نے انکشاف کیا۔

مبشر کتابوں کی دکانوں پر ڈاکے مارتا پھرتا ہے۔

حمید شاہد نے سرگوشی کی۔

ایک منٹ، ایک منٹ! میں بلبلایا،

میں ایف بی آر کی ایمنسٹی اسکیم میں ایک فیصد ٹیکس جمع کراچکا ہوں۔

اب میرا ہر طرح کا کالا دھن جائز ہوچکا ہے۔

 ٭٭٭

آلو کہانی

پوری دنیا میں آلو کی کھپت ہے لیکن اسے صرف بارہ ممالک برآمد کرتے ہیں۔

نہ جانے کیسے آلو کی عالمی قیمتیں کم ہونے لگیں۔

ایک سو پچیس روپے کلو کا آلو پچاس روپے پر آگیا۔

ہماری معیشت کو سخت خطرات لاحق ہوگئے۔

ہم نے آلو ممالک کا اجلاس طلب کیا۔

اجلاس میں تجویز پیش کی گئی کہ آلو کی مصنوعی قلت پیدا کی جائے۔

دو آلو ملکوں کے درمیان جنگ چھیڑنے پر اتفاق ہوا۔

جنگ کے نتیجے میں آلو کی عالمی قیمتیں بڑھنے لگیں۔

ہم نے آلو کی پیدا واری لاگت میں جنگی اخراجات کو بھی شامل کرلیا ہے۔

٭٭٭

کیس

میں ڈاکٹر ہوں اِس لیے دردِ دل رکھتی ہوں۔

شاید اِسی لیے وہ لڑکی میرے پاس آئی تھی۔

وہ بہت پریشان تھی، روہانسی ہورہی تھی۔

کہہ رہی تھی کہ اس کی ماں نہیں ہے،

شوہر اتفاق سے دوسرے شہر گیا ہوا ہے۔

پہلا موقع تھا اِس لیے گھبرارہی تھی۔

میں نے اسے تسلی دی اور اپنے میٹرنٹی ہوم میں داخل کرلیا۔

اگلے دن وہ کلموہی کوئی پیسہ دیے بغیر غائب ہوگئی۔

بچہ چھوڑ گئی۔

میں ایک کیس کے بیس ہزار روپے لیتی ہوں۔

بچے کا کیا کرتی، اسے ایک بے اولاد جوڑے کو دے دیا،

فقط پچاس ہزار روپے میں۔

٭٭٭

 

کالعدم

ایک تنظیم کے ارکان پابند ہیں کہ صرف خود کش دھماکے کریں گے۔

انھیں دیگر اقسام کے دھماکے کرنے کی ہرگز اجازت نہیں۔

دوسری تنظیم کو پابند کیا گیا ہے کہ صرف ٹارگٹ کلنگ کرے گی،

بلا امتیاز فائرنگ نہیں کراسکتی۔

تیسری تنظیم کے لیے ایک ہفتے میں تین سے کم دستی بم پھینکنے پر پابندی ہے۔

تین سے زیادہ بم پھینکنے پر البتہ کوئی اعتراض نہیں۔

چوتھی تنظیم ہر مہینے ایک ٹائم بم نصب کرنے کی پابند ہے۔

اس طرح لگائی جاتی ہے کچھ تنظیموں پر پابندی

آپ لوگ تنظیموں پر پابندی کا پتا نہیں کیا مطلب سمجھتے ہیں!

٭٭٭

ہدف

ہم نے اس راکٹ میں اناج کی بیسیوں بوریاں رکھ دیں۔

پھر بھی بہت سی جگہ خالی رہ گئی۔

ہم نے اس راکٹ میں کپڑے کے سیکڑوں تھان رکھ دیے۔

پھر بھی بہت سی جگہ خالی رہ گئی۔

ہم نے اس راکٹ میں ہزاروں درسی کتابیں رکھ دیں۔

پھر بھی بہت سی جگہ خالی رہ گئی۔

ہم نے اس راکٹ میں ہزاروں کھلونے رکھ دیے۔

اب وہ بھرا بھرا لگنے لگا۔

ہم نے راکٹ کے نیچے آگ لگا کے اسے چلادیا۔

وہ ٹھیک نشانے پر جا لگا۔

اگلے دن تمام اخبارات نے شہ سرخی جمائی

’جدید ایٹمی مزائل کا کام یاب تجربہ‘

٭٭٭

نوٹ : یہ کہانیاں سہ ماہی اجرا کے سلور جوبلی نمبر میں شایع ہوئی ہِیں

1 comment: