Monday, October 2, 2017

وہ میری موت کا انتظار کر رہے ہیں، تاکہ میری پینٹنگز مہنگے داموں فروخت کرسکیں: تصدق سہیل


  مصوری سے تو کوئی تعلق نہیں تھا، مگر خوب صورت لڑکیوں کی بڑی تعداد کے پیش نظر خوشی خوشی فیس جمع کروائی، اور کلاس میں جا بیٹھا۔ جلد ہی معاملے کی سنگینی کا احساس ہوگیا کہ کلاس روم میں داخل ہوتے ہی سب کو رنگ اور کینوس تھما کر نیوڈ ماڈل کے رو بہ رو بٹھا دیا گیا
اقبال خورشید





نوٹ: ممتاز مصور اور فکشن نگار، جناب تصدق سہیل کا یہ انٹرویو مارچ دو ہزار دس میں روزنامہ ایکسپریس کے لیے کیا گیا تھا، جو ان کے انتقال کے بعد رواں نیوز کے بلاگ پر اپ لوڈ کیا جارہا ہے۔
۔۔۔۔۔
انوکھا چترکار اپنی تصویروں ہی کے مانند رنگا رنگ اور دل چسپ ہے
 آنکھوں میں شوخی، ہونٹوں پر مسکراہٹ لیے، اور چٹکلوں کے درمیان رنگ سے سجی کہانیاں سناتے سمے یہ 80 سالہ فن کار زیست کی توانائی سے پُر ایک نٹ کھٹ نوجوان معلوم ہوتا ہے۔ تصدق سہیل کی صحبت میں ہر غیر متوقع ردعمل ”متوقع“ معلوم ہوتا ہے، مکالمے کے روایتی اصول توڑ دیے جاتے ہیں، اور یوں سامع ایک نئی دنیا سے روشناس ہوتا ہے۔ تصدق صاحب کو دنیائے مصوری میں اپنی منفرد تکنیک کے باعث خاص مقام حاصل ہے۔ کینوس سے جھلکتا اُن کا ہر رنگین کردار ایک کہانی سناتا ہے۔ وہ ایک منجھے ہوئے افسانہ نگار بھی ہیں۔ تصدق سہیل حادثاتی طور پر فن مصوری کی جانب آئے، لندن میں ایک طویل عرصہ ”ہپیوں“ کے مانند گزارا، نام بھی کمایا۔ گزشتہ چند برس سے وہ پاکستان میں ہیں، 
اپنے چھوٹے سے فلیٹ میں، جس سے وہ شاذ و نادر ہی باہر نکلتے ہیں۔
اس منفرد فن کار نے جالندھر میں آنکھ کھولی۔ اپنی تاریخ پیدایش کی بابت وہ حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے کہ اُس زمانے میں اِن معاملات کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی تھی۔ ”ایسا نہیں تھا کہ بچے کی پیدایش کے بعد باپ بھاگتا ہوا جائے، اور برتھ سرٹیفکیٹ بنوالے۔ ایک ماہ تو یہی اندازہ لگانے میں گزر جاتا تھا کہ ایسی کون سی تاریخ طے کی جائے، جس کی بدولت بچہ جلد از جلد میٹر کرکے ملازم لگ جائے، اور گھر والوں کی کفالت کی ذمے داری سنبھالے۔ تو میرا سن پیدایش 1930 لکھا گیا۔“ والدین کا دیا ہوا نام تصدق رسول تھا، بعد میں وہ تصدق سہیل ہوگئے۔ کہتے ہیں کہ لفظ ”سہیل“ فارسی ادب کے مطالعے کا حاصل تھا، اور دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ پہلے پاکستانی ہیں، جس نے یہ نام اختیار کیا۔ جالندھر کی حسین یادیں ذہن میں محفوظ ہیں۔ ”وہاں مسلمانوں اور ہندوئوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے ماننے والے بھی آباد تھے، اور سب محبت سے رہا کرتے تھے۔“ اُن کے والد گل باغ خان کچہری میں سول ناظر تھے۔ چار بہنوں اور دو بھائیوں میں تصدق سہیل بڑے تھے۔ بچپن میں خاصے کم گو تھے۔
اپنے خول میں بند یہ بچہ کھیلوں سے دور مطالعے میں غرق رہتا۔ ابتدا میں ”نونہال“ سے سابقہ پڑا، جب شوقِ مطالعہ سنجیدہ ادب کی جانب لایا، تو پریم چند اور کرشن چندر سمیت تمام بڑے ادیبوں کو پڑھ ڈالا۔ بچوں کے لیے کہانیاں لکھیں، جو نونہال میں شایع ہوئیں۔ شمار ذہین طلبا میں ہوتا تھا، ابتدائی تعلیم 
اینگلو ہائی اسکول اور کرسچن ہائی اسکول سے حاصل کی۔
سن چوالیس میں جالندھر کے بگڑتے حالات نے ہجرت پر مجبور کردیا۔ اُن کے مطابق آبائی شہر چھوڑنے 
کا کرب اتنا شدید تھا کہ اُسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ قتل و غارت کے کئی ہیبت ناک مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ اُن کے خاندان نے بھی مصائب کا سامنا کیا۔ ابتدائی دور میں لاہور کو مسکن بنایا۔ اُسی عرصے میں ایک پرائیویٹ اسکول سے میٹرک کیا۔ پھر وہ کراچی آگئے۔ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ جوان ہو رہے تھے، اور خاندانی جھگڑوں کا موجب بن رہے تھے۔ ایک سبب یہ بھی تھا کہ وہ اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کے آرزو مند تھے۔
کراچی آنے کے بعد ایک انشورنس کمپنی سے وابستہ ہوگئے۔ تعلیم جاری رکھنے کی غرض سے اسلامیہ کالج میں داخلہ لے لیا، جہاں نصاب سے زیادہ محمد حسن عسکری کی شخصیت اُن کی توجہ اور دل چسپی کا محور رہی۔ ”میں تو اُن کا دیوانہ تھا۔ میں نے اُن کی تمام کتابیں پڑھ ڈالیں۔ فرانسیسی ادب بھی پڑھا۔ پہلی کلاس میں، میں نے ایسی ڈینگیں ماریں کہ مجھے مانیٹر بنا دیا گیا۔ عسکری صاحب ایک طرح سے میرے گرو بن گئے۔“ اُن کا پہلا افسانہ کراچی سے نکلنے والے جریدے ”شہلا“ میں شایع ہوا۔ وہ بہ طور مترجم کام کرنے کے خواہش مند تھے، تاہم پروفیسر صاحب نے اُنھیں ترجمے کرنے کے بجائے اپنی حقیقی صلاحیتوں کے اظہار کا مشورہ دیا۔ اُس زمانے میں اُن کے افسانے ملک کے کئی ادبی جریدوں میں شایع ہوئے۔ عسکری صاحب کو متاثر کرنے کے لیے وہ نصابی کتب کے بجائے اُن کے مضمون کی کتابیں پڑھتے رہے۔ نتیجہ؟ سیکنڈ ایئر میں فیل ہوگئے! شرمندگی کے باعث اُنھوں نے کالج ہی چھوڑ دیا، اور پھر کبھی عسکری صاحب نہیں ملے۔
سن اکسٹھ میں وہ لندن چلے گئے۔ اُن کے مطابق اِس کا بنیادی سبب گرل فرینڈ سے ہونے والا جھگڑا تھا۔ ایک وجہ لندن کی رنگینی بھی تھی، جس سے ہم آہنگی کی خواہش قوی تھی۔ اُس دور میں برطانیہ اور یورپ کے دیگر ممالک میں افرادی قوت درکار تھی، اس لیے ویزا بہ آسانی مل گیا۔ وہ ایک گودام میں کام کرنے لگے، لیکن کام میں من نہیں لگتا تھا، سو بیماری کا بہانہ بناکر ہر دوسرے روز ڈاکٹر کے پاس پہنچ جاتے۔ ڈاکٹر جلد ہی اِس ایشیائی نوجوان کا حربہ سمجھ گیا، اور ایک روز پوچھ لیا۔ ”نوجوان، تم کیا کرنا چاہتے ہو؟“ اور اُنھوں نے سچائی بیان کردی۔ ”کچھ نہیں!“ ڈاکٹر نے ہم دردانہ لہجے میں اُنھیں ”پارٹ ٹائم“ ملازمتیں کرنے کا مشورہ دیا، جسے اُنھوں نے قبول کیا۔
پھر ایک روز ”ایس ٹی مارٹنز اسکول آف آرٹ“ کے باہر لڑکیوں کی طویل قطار دیکھ کر ٹھٹک گئے۔ پتا چلا کہ شام کے پروگرام میں داخلے ہو رہے ہیں۔ مصوری سے علاقہ تو نہیں رہا تھا، مگر خوب صورت گوپیوں کی بڑی تعداد کے پیش نظر خوشی خوشی فیس جمع کروائی، اور کلاس میں جا بیٹھے۔ جلد ہی اُنھیں معاملے کی سنگینی کا احساس ہوگیا کہ کلاس روم میں داخل ہوتے ہی طلبا و طالبات کو رنگ اور کینوس تھما کر نیو ماڈل کے رو بہ رو بٹھا دیا گیا۔ اُن کے تو ہاتھ پائوں پھول گئے۔ دائیں بائیں دیکھا، تو پایا کہ ہر طالب علم ماڈل کے جسم کے پیچ و خم کو خوب صورتی سے پینٹ کر رہا تھا۔ ”مرتا کیا نہ کرتا“ کے مصداق اُنھوں نے بھی رنگ کینوس پر بکھیر دیے، جن کے امتزاج سے کُہرے کا سا منظر بن گیا۔ بغیر چہرے اور ہاتھوں والی جسمانی ساخت (چھاتیاں)بھی ابھر آئی، اور یوں معلوم ہونے لگا کہ ایک ”ممی“ دھند اور اندھیرے کے دبیز پردے سے برآمد ہو رہی ہے۔ اب وہاں تعینات معلمہ نے طلبا و طالبات کی پینٹنگز کا جائزہ لینا شروع کیا۔ اُس کے تنقیدی جملے تصدق سہیل کے کانوں میں بھی پڑ رہے تھے، اور وہ اپنے حشر کا سوچ سوچ کا پریشان ہو رہے تھے۔ تاہم اُن کی تصویر دیکھ کر کہا گیا، ”شان دار!!“ خوف سے کانپتے تصدق سہیل کو دیگر طلبا و طالبات کے سامنے تخیل کے آزادانہ استعمال کی مثال کے طور پر پیش کیا گیا، اور خوب سراہا گیا۔
کلاس ختم ہونے کے بعد اُنھیں مصوری کی جانب سنجیدگی سے توجہ دینے اور مشق جاری رکھنے کا مشورہ دیتے ہوئے اِس امر سے آگاہ کیا گیا کہ مستقبل میں اِس کام کا اچھا معاوضہ بھی ملے گا۔ بعد میں تو تصدق سہیل اسی درس گاہ کے ہوکر رہ گئے۔ وہ تیس سال تک کسی نہ کسی شکل میں اُس درس گاہ سے منسلک رہے۔ تصاویر کی فروخت کا سلسلہ بھی وہیں سے شروع ہوا۔ کہتے ہیں کہ پاکستان آنے کے بعد جب اُنھوں نے اپنے پروفائل میں ایس ٹی مارٹنز اسکول آف آرٹ کا ذکر کیا، تو اُن کی حوصلہ شکنی کی گئی کہ ”آپ کے پاس ڈگری موجود نہیں!“ اس اعتراض نے اُنھیں پریشان کردیا تھا، تاہم بعد میں اُنھیں معاملے کے تکنیکی پہلوئوں کا اندازہ ہوا، اور پھر وہ برملا اِس بات کا اظہار کرنے لگے۔ اُنھوں نے لندن کے سینٹرل اسکول آف آرٹ میں بھی کچھ وقت گزارا۔ پھر ”ہپی گروپ“ میں شامل ہوگئے، اور بعد کی زندگی ہپیوں کے مانند گزاری۔
خیالات کے اظہار کے لیے وہ عام طور سے روغنی رنگوں کا چنائو کرتے ہیں، تاہم جب ضرورت پیش آئی، تو واٹر کلر بھی استعمال کیے۔ اُن کے مطابق برطانیہ میں وہ رات تین بجے بیدار ہوجاتے تھے، اور پھر رنگوں میں کھو جاتے۔ اُن کے بیش تر فن پارے چھوٹے کینوس پر ہیں۔ اُن کے مطابق چھوٹے کینوس کے چنائو کا فیصلہ لاشعوری تھا۔ ”ہمارا ہپی گروپ تھا، اور ہم اسی طرز پر زندگی گزارنا مناسب سمجھتے تھے۔ بڑے کینوس لے کر سفر کرنا بھی خاص مشکل تھا۔“ لندن کے علاقے ”بیس واٹر“ میں لب سڑک، سیاحوں کے لیے پینٹنگ کرتے اُن کا خاصا وقت گزرا۔ وہ لندن میں بیتے پلوں کی رُو داد دل چسپ پیرائے میں بیان کرتے ہیں، اور مسکراتے ہوئے کہتے ہیں کہ اُس پورے عرصے میں وہ خواتین میں گھرے رہے۔
جس دور میں اُنھوں نے مصوری کا آغاز کیا، مغرب میں مختلف تحاریک زوروں پر تھیں، تاہم وہ اُن سے دور ہی رہے۔ پاکستان آنا جانا بھی لگا رہا۔ یہاں عوامی ردعمل تو حوصلہ افزاءتھا، تاہم فن مصوری کے چند ٹھیکے داروں کا رویہ اُن کے لیے افسوس کا باعث بنا۔ ”مجھے کہا گیا کہ آپ کی پینٹنگز کا سائز چھوٹا ہے، آپ پہلی مرتبہ آئے ہیں، تو ان کی قیمت کم رکھیں۔ یہاں دوستوں کو نوازا جاتا ہے۔ ابتدا میں میری تصویروں کی قیمت چھے سو سے ڈیڑھ ہزار روپے تک رکھی گئی۔ مجھے تو طریقہ ¿ کار کا علم نہیں تھا، اور گزر بسر کے لیے پیسوں کا انتظام کرنا تھا۔ مجھ سے کہا گیا کہ اگلی بار جب آپ پاکستان آئیں گے، تو قیمتیں بڑھا دیں گے، لیکن پچیس سال تک میرے فن پارے اسی قیمت پر فروخت ہوتے رہے۔“
76ءمیں لندن کی Hawthorndon گیلری میں اُن کی پہلی نمایش ہوئی۔ 78ءمیں انڈس گیلری کراچی میں اُنھیں اپنا فن پیش کرنے کا موقع ملا۔ اگلے ہی برس اکٹوبر گیلری لندن میں اُن کی تصاویر سجائی گئیں۔ اُسی سال بی بی سی نے اُن کے فن پر ایک ڈاکو مینٹری پیش کی۔ لندن اور کراچی میں نمایشوں کا سلسلہ جاری رہا۔ 87ءمیں لاہور میں اُن کی پہلی نمایش ہوئی۔ اُسی سال چینل فور نے اُن کی زندگی اور فن پر ایک جامع ڈاکو مینٹری پیش کی۔ اگلے برس ناٹنگھم، برطانیہ میں اُن کے فن پارے پیش ہوئے۔ 89ءمیں اُن کی تصاویر کی نمایش روہتاس، فیض آباد (ہندوستان) میں ہوئی۔ 92ءمیں اُن کا فن سوئیڈن پہنچ گیا۔ ہالینڈ میں اُن کی پہلی نمایش 93ءمیں ہوئی۔ اُسی برس اُنھیں دہلی میں اپنا فن پیش کرنے کا موقع ملا۔ یوں دھیرے دھیرے اُن کا کام شناخت حاصل کرتا گیا۔ گزشتہ برس ان کے فن پارے نوبل سیج آرٹ گیلری لندن میں نمایش کے لیے پیش کیے گئے۔ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں کہ اُنھوں نے کبھی اپنی تصاویر اور نمایشوں کی تعداد کا حساب نہیں رکھا۔ آج فن پاروں کی فروخت کا طریقہ یہ ہے کہ قدرداں خود اُن کے دروازے تک پہنچ جاتے ہیں۔ 
تصدق سہیل اِس امر سے بے پروا ہیں کہ حکومتی سطح پر اُن کی خدمات کا اعتراف کیا جاتا ہے یا نہیں! وہ کسی تمغے یا ایوارڈ کے خواہش مند نہیں۔ ناگفتہ بہ حالات کے باوجود وہ نوجوانوں کو اِس جانب آنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ”جس انسان میں صلاحیت ہوتی ہے، وہ اپنی جگہ خود بناتا ہے۔ میں تو یہی کہوں گا کہ نوجوان آئیں، اور خود کو منوائیں۔ جو لوگ آج مصوروں کے وفود کا حصہ بن کر بیرون ملک جاتے ہیں، کیا وہ سب حقیقی فنکار ہیں؟ قطعی نہیں!“
حالات میں اُس وقت تھوڑی بہتری آئی، جب برطانیہ میں ہونے والے Bonhams اوکشنز 2007 اور 2008 میں اُن کے فن پارے اچھے داموں فروخت ہوئے۔ اُن کا کہنا ہے کہ اِس سودے سے حاصل ہونے والی آمدنی کے طفیل خوش حالی کا ایک مختصر عرصہ ضرور نصیب ہوا، تاہم حالات اب بھی پہلے جیسے ہیں۔ اِس خیال کی بابت کہ تصدق سہیل کے فن پارے بڑی تعداد میں فروخت ہو رہے ہیں، وہ کہتے ہیں، ”اِس پورے عمل کی حقیقت یہ ہے کہ چند افراد میری موت کا انتظار کر رہے ہیں، تاکہ میری پینٹنگز مہنگے داموں فروخت کرسکیں، لیکن میں اتنی جلدی مرنے والا نہیں! (قہقہہ)“ وہ اپنے نام سے فروخت ہونے والی جعلی پینٹنگز کے حوالے سے بھی فکر مند ہیں۔ تصدق سہیل اپنے فن کی بابت کہتے ہیں کہ اُن کی تصویروں سے جھلکتے برہنہ وجود درحقیقت علامتی ہیں، جن کے پیچھے اصل معنی پوشیدہ ہوتے ہیں۔ ”میری پوری مصوری علامتی ہے۔“ اُن کے ہاں جل پری فقط اساطیری کردار نہیں، بلکہ یہ معاشرے کے اُن افراد کی جانب اشارہ ہے، جو خفیہ دہری زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ اپنی تصاویر کے ٹائٹل بڑی احتیاط سے چنتے ہیں۔
اُنھوں نے ادب اور مصوری کو یک ساں اہمیت اور حیثیت دی، اور دونوں ہی شعبوں کو اپنی شناخت تصور کرتے ہیں۔ پاکستان میں پبلشنگ کے مروجہ طریقہ ¿ کار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ اس شعبے کا بیڑا غرق ہوگیا ہے۔ ”پبلشر خود تو پیسے کماتے ہیں، لیکن لکھنے والے کو ایک ڈھیلا بھی نہیں دیتے۔“ اُن کے افسانوں کا مجموعہ ”تنہائی کا سفر“ دس سال قبل شایع ہوا تھا، جس کے دوسرے ایڈیشن کی اشاعت جلد متوقع ہے۔ اِس مجموعے کے لیے اُن افسانوں کا چنا ¶ کیا گیا، جو لندن کے زمانے میں لکھے گئے۔ آپ بیتی بھی تکمیل کے مراحل میں ہے، جو ”مہ رخوں کے لیے“ کے عنوان سے شایع ہوگی۔ اُن کے چند افسانوں کا محمد عمر میمن نے انگریزی میں بھی ترجمہ کیا۔ وہ ادب اور مصوری کو کسی خاص نظریے اور تحریک تک محدود رکھنے کی مخالفت کرتے ہیں، اور اِس عمل کو آزادی کے حسین رنگوں سے مزین کرنے کے حامی ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ مغرب میں پاکستان کے نام ور مصوروں کو مصور ہی تسلیم نہیں کیا جاتا۔ اُن کے مطابق بہ ذریعہ رنگ پیغام دینا ہر ایک کے بس کی بات نہیں، اور بیش تر افراد اِس حوالے سے لاحاصل کوششیں کرتے ہیں۔ ”کچھ لوگ فقط تمغے حاصل کرنے کے لیے اور پیسے کمانے کے لیے مصور بنتے ہیں۔ پیسے کمانے پر مجھے اعتراض نہیں، لیکن فن کا احترام لازمی ہے۔“ رنگوں کے اِس جادوگر نے شادی نہیں کی، اور وہ دوسروں کو بھی یہی مشورہ دیتے ہیں، اُن کے نزدیک شادی کے جھمیلوں سے آزاد انسان یک سوئی کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرسکتا ہے۔ اُن کے نزدیک مصوری شاعری ہی کی ایک 
شکل ہے۔ ”یہ رنگوں کی شاعری ہے، جو صدیوں سے ہوتی آتی ہے۔“
عام طور سے وہ پینٹ شرٹ پہنتے ہیں، رنگوں کا انتخاب مزاج کے تابع ہے۔ لندن کا موسم بہار خوش
 گوار یاد کی صورت اُن کے ذہن میں محفوظ ہے۔ ہندوستانی فلم ”دہلی 6“ اُنھیں پسند آئی۔ اُنھیں جانوروں سے بہت محبت ہے، جس کا اظہار اُن کی پینٹنگز سے بھی ہوتا ہے۔ آج کل غلام علی کو سن رہے ہیں۔ شاعری میں وہ فراز، فیض اور جالب کو پڑھا کرتے تھے۔ نثر میں تمام افسانہ نگاروں کو دل چسپی سے پڑھا۔ وہ سیاست سے بے زار ہیں، اور حکم رانوں کے رویے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔


No comments:

Post a Comment