Thursday, October 19, 2017

ایک نقاد، ایک فکشن نگار اور ایک کتاب

منزہ احتشام گوندل کی کتاب ”آئینہ گر“پر رفیع اللہ میاں اور اقبال خورشید کا مکالمہ

”اقبال خورشید“

برادرم

اوپر والا تمھیں بھلا چنگا رکھے، اور تمھارے علم کا دائرے وسیع کرے۔ گو میں جدید تنقید کی کلی تفہیم کا دعوے دار نہیں، اور شاید کچھ تحفظات بھی رکھتا ہوں۔ البتہ مھاری تنقیدی صلاحیتوں کامعترف ہوں۔ اور ابھی جو میں منزہ احتشام گوندل کا افسانہ ”سیملے کیڑے“ پڑھ کر بیٹھا ہوں، اور اس سے قبل ”کبالہ “پڑھا تھا، تو یہی مناسب سمجھا کہ تمھیں یاد کیا جائے۔ پہلا سبب تو یہ کہ ہم ”آئینہ گر“ کی مصنفہ کے فن سے متعلق موسم گرما میں، گو سرسری، مگر بات کر چکے ہیں۔ اور دوسرا سبب یہ ہے کہ اب ہمارے ہاں بنا پڑھے تبصرے کرنے کا چلن مسلسل ترقی کر رہا ہے۔(اس ضمن میں آپ کو جناب خرم سہیل کے ساتھ بیتا واقعہ تویاد ہوگا!) اگرچہ میں دعویٰ کرتے ہوئے کمزور پڑجاتا ہوں کہ اب ہر شے مجھے مشکوک دکھائی دینے لگی ہے، مگر یہ بات میں سہولت سے کہہ سکتا ہوں کہ اپنے ہم عصر فکشن نگاروں میں( اور یہاں میں فقط خواتین لکھاریوں کی بات نہیں کر رہا ) مجھے منزہ کا کام پسند آیا۔


”رفیع اللہ میاں“

بہت شکریہ اقبال خورشید۔

 اللہ آپ کا اقبال مزید بلند فرمائے۔ اگر میں یہ کہوں کہ میں آپ کے فن افسانہ نگاری کا معترف ہوں، تو اس سے زیادہ بہتر یہ کہنا ہوگا کہ میں ہی کیا، نوجوان افسانہ نویسوں میں اقبال خورشید وہ نام ہے، جو سرفہرست ہے اور میں نے اس کی توثیق پاکستان کے ساتھ ساتھ بھارتی دوستوں کی طرف سے بھی ہوتی دیکھی ہے۔

یہ ایک عجیب صورت حال ہے کہ اتنی کتابیں چھپنے لگی ہیں کہ جوپڑھنے والے ہیں ،وہ پریشان ہیں کہ کس کو پڑھا جائے اور کس کو چھوڑا جائے، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بغیرپڑھے تبصرہ کردیا جاتا ہے، یعنی ایک ٹوکن وہ بھی جعلی!

تو ایسے میں کسی افسانوی مجموعے پر مکالمے کا یہ انداز منفرد اور اپنی طرف کھینچتا ہے۔ آگے بڑھنے سے قبل یہ اعتراف کرتا ہوں کہ منزہ احتشام گوندل سے میرا تعارف محض اتنا ہے، جتنا ایک عام فیس بک فرینڈ کے ساتھ کسی بھی دوسرے ممبر کا۔ لیکن یہ کتاب جس کا نام ”آئینہ گر “ہے، میرے خیال میں آتھر کا ایک بہترین تعارف ہوسکتا ہے۔ میں یہ اعتراف بھی کرنا چاہتا ہوں کہ منزہ اپنی ہم عصر خواتین افسانہ نگاروں میں سب سے زیادہ حیران کرنے کی تخلیقی صلاحیت رکھتی ہیں۔


”اقبال خورشید“

جی ہاں، میرے نزدیک ایک مضمون کے برعکس ایک مکالمہ گو ہمیشہ نہیں، زیادہ اثر انگیزثابت ہوسکتا ہے۔

اچھا، منزہ کی جس شے نے مجھے پہلے مرحلے پر متاثر کیا، اور یہ خوبی کم یاب ہوتی جارہی ہے، وہ فکشن کی زبان لکھنے کی صلاحیت ہے۔ اور یہاں بحث اچھی زبان لکھنے کی نہیں کہ جب کسی ورق پر فکشن کی زبان لکھی جائے، وہ پھرعام ورق نہیں رہتا، ایک بیش قیمت ورق بن جاتا ہے۔ آئینہ گر چند ایسے اوراق کی حامل کتاب ہے۔

 منزہ کی یہ خوبی ہمیں کتاب میں شامل اولین افسانے”آخری خواہش“ ہی میں نظرآجاتی ہے، اگرچہ وہ ایک مختصر کینوس کا افسانہ ہے، جس پر چند اعتراضات ہوسکتے ہیں۔البتہ اگر فقط زبان کی بات کی جائے، تو آگے بڑھتے ہوئے یہ احساس پختہ ہوتا جاتا ہے کہ جلد یا بہ دیر مصنفہ کے ہاں اس ذایقے کی دست یابی امکانی ہے، جو ہمیں معیاری ادب فراہم کرتا ہے۔

اور پھر، افسانہ، مختصر افسانہ لکھنا ایک پرپیچ فن ہے۔ اختصار کو نبھانا دشوار ہوجاتا ہے۔ منزہ البتہ ایسا کر گزرتی ہیں۔ اس ضمن میں مجھے افسانے ”اوڈ کالونی“ اور” سیملے کیڑے“ بھایا، جس میں فقط چند مناظر کا بیان ہے، مگر وہ جڑ کر ایک بڑی تصویر بن جاتے ہیں۔(آپ جانتے ہیں، اب جزئیات نگاری کے چکر میں نوویلا لکھ کر انھیں افسانہ کہنے پر اصرار کرنے کا چلن بڑھتا جارہا ہے)تواسی صلاحیت کی وجہ سے ایسے افسانے، جس میں سوانح نگاری کا رنگ غالب ہے، جیسے ”کمرے سے کمرے تک“ اور” جنس گراں“، وہ بھی آڑٹسٹک ڈھب کی وجہ سے فکشن کی صنف میں آن کھڑے ہوتے ہیں۔

میرے خیال میں یہ اسلوب ہے، جیسے کہ احسن سلیم نے کہا تھا، جو ادب کو جنم دیتا ہے، اور اسی اسلوب کی ہمیں منزہ کی کہانیوں میں ہلکی سے جھلک نظر آتی ہے۔ پھر وہ تحیر کو بھی کام میں لاتی ہیں، بالخصوص ابتدایے میں، جیسے ”دم کشی“، مردانہ کرداروں سے بھی کسی حد تک انصاف کرنے میں کام یاب رہیں۔

اچھا، گو میں خود فکشن میں فلسفے بگھارتا رہا ہوں، مگر بطور قاری فلسفے بگھارتے ادیبوں سے ا کتا جاتا ہوں۔ منزہ کے ہاں ہمیں کہیں کہیں مصنف منظر دکھانے کے بجائے ہمیں بتانے لگتا ہے، جیسے کتاب کی نمایندہ کہانیوں” کبالہ “اور” تقلیب“ میں، اس میں رعایت کا صرف یہ پہلوہے کہ دونوں کہانیاں صیغہ واحد متکلم ہیں۔


”رفیع اللہ میاں“

میں آپ کے ساتھ اس نکتے پر متفق ہوں کہ منزہ کے ہاں فکشن کی زبان لکھنے کی صلاحیت چھب دکھاتی ہے۔ میرے لیے اس کتاب کے فکشن کا آغاز اسی وقت ہوگیا تھا جب میں اس کا پیش لفظ بہ عنوان اعتراف پڑھ رہا تھا۔ یہ پڑھنے کے بعد مجھے لگا تھا کہ آگے کچھ حیران کرنے والا میرا منتظر ہے۔ لیکن اقبال، کیا یہ کہنا کافی ہے کہ فکشن کی زبان سادہ ورق کو معتبر بنادیتی ہے؟ آپ نے پہلے افسانے ”آخری خواہش“ کا اس ضمن میں ذکر کیا ہے، تو میں بھی اپنی بات کا اسی سے آغاز کرتا ہوں۔ واضح رہے یہ کتاب میں نے دو مرتبہ پڑھی۔ پہلی بار ایک عام قاری کی طرح اسے پڑھتا چلا گیا اور متاثر ہوتا گیا۔ دوسری بار ایک ناقد کے طور پر پڑھی اور جگہ جگہ اٹکتا رہا۔ یہ افسانہ ایک لمیٹڈ تھرڈ پرسن نریشن ہے، یعنی نریٹر کردار کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا، زیادہ تر وہی معلومات سامنے آتی ہیں جو کردار خود منھ زبانی بتاتا ہے۔ اس تناظر میں کردار کی فکر کو جتنا ڈیولپ ہوتے دکھایا گیا ہے ،اسے اس جملے سے سمجھا جاسکتا ہے جب وہ جذبات کی شدت سے سوال اٹھاتا ہے کہ:

”خدا محبت کے خلاف کیوں ہوتا ہے؟“

یہ سوال ایک نتیجہ بھی ہے جس تک وہ تب پہنچتا ہے، جب مولوی مرکزی کردار کے آٹھ سالہ بیٹے کے ساتھ بدفعلی کرتا ہے اور وہ مرجاتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہاں واقعے اور اس کے نتیجے کے درمیان موجود غیر فطری فاصلے میں ہے۔ کیا بیٹے کے ساتھ بدفعلی جیسا گھناو ¿نا جرم اور اس کی موت رد عمل کے لیے کافی نہیں تھے؟ کردار کو اس ردعمل کے لیے عورتوں کے خلاف مولوی کی روایتی تقریر کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کیا یہ کردار کی ’ضرورت‘ تھی یا افسانہ نگار کی؟

مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہ افسانہ مولویوں کی عورتوں کے خلاف روایتی طرف فکر سے پھوٹا ہے لیکن اس خیال کے ساتھ بچوں کے ساتھ بد فعلی والا موضوع جوڑ کر کوئی چونکانے والی صورت حال کری ایٹ کرنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن دونوں میں کوئی منطقی ربط بن سکا نہ فکری نہ تخلیقی۔ یوں اس کتاب کا آغاز ایک کم زور افسانے سے ہوتا ہے۔ اس افسانے میں مذہب اور عورت کا جو ٹکراﺅ نظر آتا ہے اور پدر سری سماج کے عورت کے مکمل وجود پر تسلط کے جو حیلے نظر آتے ہیں، وہ ایک تانیثی اپروچ کا نتیجہ تو ہیں، لیکن متن کی سطح پر انھیں بچوں کے ساتھ بد فعلی کے ایک بالکل ہی الگ تصور یا صورت حال کے ذریعے کاو ¿نٹر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ فکر کے اس عدم ارتکاز کو دیکھتے ہوئے مجھے یہ افسانہ منتشر خیالی پر مبنی معلوم ہوا۔

جہاں تک اسلوب کی بات ہے تو اقبال، فکشن کی زبان لکھنے کی صلاحیت اور اسلوب کی تشکیل کے درمیان خاصا فاصلہ ہوتا ہے۔ میں آپ کی مدد سے (یعنی منزہ کے بارے میں آپ کی فکشن کی زبان لکھنے کی صلاحیت والی رائے) یہ کہوں گا کہ منزہ کے ہاں جو ادب جنم لیتا ہے ،وہ اسلوب سے نہیں، ان کی فکشن کی زبان لکھنے کی صلاحیت سے ہوتا ہے۔ یہ صلاحیت اگر ہو تو اختصار کو نبھانے کا امکان کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ آپ نے ”اوڈ کالونی“ اور ”سیملے کیڑے“ کی مثال دی ہے۔ میں متفق ہوں۔ ”اوڈ کالونی“ دراصل اوڈ سماج کے اوڈ جنسی‘ معاشی‘ سماجی رویوں کو موضوع بناتا ہے اور ”سیملے کیڑے“ متضاد انسانی رویوں کو آشکار کرتا متن ہے۔

 ”کمرے سے کمرے تک“ ایک اچھا اور دل چسپ خیال ہے، لیکن دراصل ماضی و حال، قدیم و جدید یا روایت و جدت کے درمیانی عرصے کی کتھا ہے جس کے اندر جامد اور ترقی کرتے متضاد انسانی رویے آشکار ہوتے ہیں۔ دوسری طرف ”جنس گراں“ مجھے ایک اصلاحی افسانہ معلوم ہوا ،جس کے ذریعے شادی کے لیے عورت کے جسم کے متعین کردہ معیار کو ڈی کنسٹرکٹ کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ صرف اچھا جسم ہی واحد معیار نہیں ہے، بلکہ اچھے مستقبل کے لیے معاشی و سماجی معیارات بھی دیکھے جاتے ہیں۔


”اقبال خورشید“

بے شک فکشن کی زبان ورق کو معتبر بناتی ہے۔ مگر یاد رہے، فکشن نگاری فقط زبان کا کھیل نہیں، اگر ہم معروضی انداز میں دیکھیں، تو زبان ایک جزو ہے، ان اجزا کا، جن سے فکشن بنتا ہے، یعنی موضوع، پلاٹ، کردار، اسلوب اور احساس۔ اور پھر اس کے اوپر ادبیت۔ البتہ المیہ ہے کہ اب فکشن کی زبان لکھنے کی صلاحیت بھی عنقا ہوئی، یہی وجہ ہے کہ جب منزہ کی نثر پر نگاہ جاتی ہے، تو خوش گوار احساس ہوتا ہے۔ اچھا، جنس گراں کو آپ اصلاحی افسانہ کہہ سکتے ہیں، گو اصلاحی افسانہ کہنے سے کسی تخلیق کا قد کم یا زیادہ نہیں ہوتا، مگر یہ افسانہ مجھے کچھ دل چسپ منظر دکھاتا ہے، اور میرے تجسس کو ہوا دیتا ہے، مگر اختتام توقع کے برعکس نکلتا ہے۔ وہ تحیر اور تجسس جسے مصنفہ پیداکرنا جانتی ہیں، اختتام میں ہمیں دغا دے کر نکل جاتا ہے۔

ادھر مصنفہ کا مطالعہ پختہ معلوم ہوتا ہے، البتہ اس کا اظہار فکشن سے نہ ہو، یہی بہتر۔ کیوں کہ فکشن فکر کا حامل ہوسکتا ہے، مگر اس کی ترسیل و ترویج کا ذریعہ نہیں ہوسکتا۔ اس نوع کی باتیں مضامین کی صورت زیادہ بہتر کہی جاسکتی ہیں۔ جیسے ان کا افسانہ ”یہ دنیا چار دن کی ہے“ ،اس میں جو کچھ بیان کرنے کے لیے فکشن کی زمین تیار کی گئی، وہ ایک مضمون میں زیادہ بہتر انداز میںسمویا جاسکتا تھا۔ البتہ کیوں کہ مصنفہ فکشن کا جملہ لکھنے کا فن جانتی ہیں، اس لیے ایسے افسانے بھی، جہاں یہ مسئلہ جنم لیتا ہے ( جیسے ”بس یونہی“) معاملہ کچھ حد تک سنبھل جاتا ہے۔

”آخری خواہش“ سے متعلق میں نے بھی یہی کہا کہ یہ مختصر کینوس کا افسانہ ہے۔ گو میں فکشن میں دو جمع دو چار کے کلیے کو درست نہیں سمجھتا، اور ورجینا وولف کی اس بات کا قائل ہوں کہ فکشن میں جہان بھر کی چیزیں سما سکتی ہیں۔ البتہ اس پر آپ کے اعتراضات کو میں نظرانداز بھی نہیں کرسکتا۔ ذرا ٹھہریں، میں ان پر غور کرنا چاہوں گا۔

 شاید واقعے اور اس کے نتیجے کے درمیان موجود فاصلہ غیر فطری ہو، اورایک روایتی تقریر کو، یا کلیشے کو کام میں لایا گیا ہو، شاید یہ افسانے سے زیادہ افسانہ نگار کی ضرورت ہو۔ البتہ میرے لیے اسے منتشر خیالی کہنا ذرا دشوار ہے۔ دراصل فکشن نگار، بالخصوص نیا فکشن نگار ، اظہار کی شدت کے ہاتھوں مجبور ہو کر، اس فن کے تقاضوں سے واقف ہونے کے باوجود کبھی کبھی بھٹک سکتا ہے، جسے نقاد منتشر خیالی کا نام دے سکتا ہے۔ منزہ کے افسانے تقلیب میں، جو گو مکمل نہیں، اور جس میں ہر تخلیق کی طرح چند سقم ہیں، یہ صورت نظر آتی ہے۔ البتہ خوبیاں خامیوں پر غالب آنے کی قوت رکھتی ہیں۔


”رفیع اللہ میاں“

تو ٹھیک ہے، بات آگے بڑھاتے ہیں، بجائے اس کے کہ ہم گزشتہ کہی ہوئی باتوں کو مزید ٹٹولیں۔

آپ نے تقلیب کے بارے میں اپنی رائے دی ہے۔ آپ کی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہم اس کے متعلق کسی حد تک متفق ہوسکتے ہیں۔ لیکن مجھے ذرا تفصیل سے بات کرنی ہوگی۔ بات منتشر خیالی سے چلی ہے اور یہاں جو اصل مسئلہ ہے وہ متن میں فکری تضاد کا ہے۔ میں اس افسانے کے یہ تین جملے کوٹ کرتا ہوں:

”یہ بھی میرے وجدان کا قصور تھا کہ جو سمجھتا رہا کہ میں ایک غیر نسوانی بدن رکھنے والی عورت کی افلاطونی محبت میں مبتلا ہوں اور میرا یہ خیال میرے مثانے اور فوطوں پر بوجھ پڑنے سے پہلے کا تھا۔“

” محبت تو مثانے میں رکے ہوئے پیشاب جیسی چیز ہے۔“

”اس کے استخوانی ہاتھ کو میں نے اپنے کندھے پر محسوس کرلیا تھا مگر اپنے بدن میں کوئی برقی رو محسوس نہ کرسکا۔ شاید وہ غلط وقت پر آئی تھی۔“

ان جملوں پر غور کریں تو افسانے کے یہ تین جملے دراصل افسانے کے آغاز (یعنی افلاطونی محبت میں مبتلا ہونا)، مرکز (بہ معنی بنیاد،یعنی محبت کے بارے میں ایک تشکیلی رائے) اور اختتام (یعنی متن کی سطح پر محبت کی کہانی کا انجام) کو ری پریزنٹ کرتے ہیں۔ باقی جو کچھ ہے، اس میں ایک بڑا حصہ بہ طور زیب داستان ہے، جس سے طوالت کا احساس جنم لیتا ہے یا لے سکتا ہے۔ جب اس کہانی کو میں ڈی کنسٹرکٹ کرتا ہوں ،تو تضاد سامنے آتے ہیں۔ افسانے کے پہلے ہی صفحے پر یہ اعتراف موجود ہے: ”کیوں کہ (وہ) میری نگاہ، دل اور شعور کی طلب ہے اور میری روح کو پسند ہے۔“

آپ دیکھیں کہ افسانے کا آغاز بتاتا ہے کہ متن کے دو کرداروں کے درمیان موجود ”رشتے“ میں کتنی گہرائی پائی جاتی ہے، جس کا سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ یہ کسی ایک دن کی دریافت نہیں ہے، بلکہ جانے کتنی راتوں کی سیاہی اور دنوں کا اجالا دیکھ چکا ہے۔ نگاہ، دل، شعور اور روح کے استعاروں کو دیکھیں، سب کے سب گہرائی کے حامل۔ لیکن وقت کی پروردہ اور شعور کی طرف سے توثیق شدہ محبت کو کردار ایک کم زور لمحے میں فوطوں پر ہارمونی دباﺅ کا شاخسانہ قرار دے کر اس کے انجام کا اعلان کردیتا ہے۔

 ایک تضاد یہ ہے کہ اگر سب کچھ غلط فہمی کا نتیجہ تھا اور حقیقتاً محبت اور سیکس یا جنسی طلب میں کوئی تفریق نہیں تھی، تو مرکزی کردار ایک عرصے تک ایک غیر نسوانی بدن رکھنے والی عورت کی طرف کیوں مائل رہا؟ متن اس کا نفسیاتی تجزیہ پیش نہیں کرتا۔ آپ نے کہا کہ خوبیاں خامیوں پر غالب آنے کی قوت رکھتی ہیں، اگر آپ نے یہ بات اس افسانے کے حوالے سے کی ہے تو میری رائے یہ ہے کہ جس افسانے میں اس طرح کے تضادات ہوں اس میں کسی ایسی خوبی کا ہونا جو خامیوں پر بھاری پڑ جائے، نہ ہونے کے برابر امکان رکھتا ہے۔

دراصل میں نے یہ نوٹ کیا ہے کہ پہلی قرا ¿ت میں اپنی طرف کھینچنے والے یہ افسانے دوسری قرا ¿ت میں فکر کی بالائی سطح پر کارفرما دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی ایک بہترین مثال افسانہ” غلام بنت غلام “بھی ہے۔ یہاں غلام وہ ہے جو چاردیواری میں قید ہے، کہیں آجا نہیں سکتا۔ اور آزاد وہ ہے، جسے کہیں بھی آنے جانے کی آزادی ہے۔ لیکن دیکھا جائے تو جو آزاد ہے، اس کی عصمت حویلی کے مرد کی دست رس میں ہے اور وہ پوری آزادی کے ساتھ اس کا جنسی استحصال کرسکتا ہے۔ اسی طرح ”آئینہ گر“ کو دیکھیں، ایک فیمنسٹ اپروچ کی علامتی کہانی، لیکن ذات کی ٹوٹی کرچیوں کو جوڑنے کے لیے صنف مخالف میں آئینہ گر کو تلاش کرتی ہے۔ کیا یہ ٹوٹا وجود خود اپنے اندر آئینہ گر کو دریافت نہیں کرسکتا؟

دیکھیں اگر آپ کہیں گے کہ افسانوی متن کو فکر سے الگ کرکے دیکھا جائے، تو ایسا ممکن تو ہے لیکن کم از کم میرے لیے نہیں ہے، کیوں کہ اس حوالے سے میری تربیت کلاسک افسانوں نے کی ہے اور کلاسک کا مطلب روایت نہیں ہے۔

منزہ کے افسانوں میں کچھ طبقاتی اور نفسیاتی مسائل بھی ملتے ہیں، جس کی ایک مثال “خانے اور خوف” ہے لیکن فکر کی سطح گہری نہیں ہے۔ بعض اوقات بڑی اہم کڑی مسنگ ہوتی ہے، جیسے اسی افسانے میں یہ دیکھیں:

”دنیا میں سب سے زیادہ مال دار طبقہ فلمی اداکاراو ¿ں، طوائفوں کا ہے اور ان کے پاس پیسہ بھی زیادہ ہوتا ہے اور یہ بات تو سبھی جانتے ہیں کہ اس طبقے کی عورتیں اور مرد جسم اور شکل و صورت کی کمائی کھارہے ہیں۔“

متن میں اس جملے اور اس کے سیاق کو دیکھیں تو اداکاری کے فن اور اس فن کو بروئے کار لانے کی محنت یہاں مکمل مسنگ ہے۔


”اقبال خورشید“

جیسے میں نے کہا، نئے لکھنے والوں میں، اس کے باوجود کہ وہ اچھے لکھنے والے ہیں، خامیوں کا جنم لینا، اور ایک ماہر نقاد کی نگاہ سے گزرنے کے بعد ان کا ضرورت سے زیادہ عیاں ہوجانا فطری ہے۔ ”غلام بنت غلام“ ایک روایتی موضوع کو منظر کرتی کہانی ہے، جس کا انجام بھی متوقع ہے، یہاں تک کہ مرکزی کردار کا احساس بھی۔البتہ کیا میں یہ کہہ دوں کہ اسے پڑھ کر میں لطف اندوز نہیں ہوا؟

 یہ بات ہمیشہ میرے پیش نظر رہی کہ فکشن، جو کتابی صورت میں شایع ہوتا ہے، وہ تین کیٹیگریز کے قارئین تک پہنچا ہے، ایک وہ، جو فقط قاری ہیں، ان کی عینک مختلف اور ان کے جانچنے پرکھنے کا انداز جدا۔

اور پھر وہ، جو خود تخلیق کار ہیں، وہ چیزوں کو الگ ڈھب پر آنکیں گے۔ اور کبھی کبھار خود اپنے معاملے میں‘ میں جانتا ہوںکہ میں اسے کیسے آنک رہا ہو تا ہوں، جیسے عبداللہ حسین کہتے تھے: ”ناول نگار سے ناول کی بابت پوچھنا بے کار ہے، جیسے گھاس زمین سے اُگتی ہے، ٹھیک ویسے ہی ایک صبح ناول نگار بیدار ہوتا ہے،اور اس کے پاس سنانے کے لیے ایک کہانی ہوتی ہے۔“

 اور تیسرا قاری : نقاد،جو نظری تنقید کے آلات سے لیس ہو، اور انھیں برتنے میں طاق ہو۔

ماریو برگس یوسا یاد آتا ہے، جس نے کہا تھا: تنقید تعقل اور ذہانت کا ثمر ہوتی ہے، اور ادبی تخلیق میں دوسرے عوامل، بعض اوقات اس کے لیے فیصلہ کن اہمیت کے حامل، وجدان، حسیت، عمدہ قیاس آرائی، حتیٰ کہ اتفاق، دخیل ہوتے ہیں۔

دوسری قرا ¿ت میں فکری پہلو کا عیاں ہونا فطری ہے۔ البتہ ہم یہ بات نہیں بھول سکتے کہ قارئین کی پہلی کیٹیگری، جو اکثریت میں ہے، دراصل پہلی پڑھت کو عزیز رکھتی ہے، اور اس کی بنیاد پر اپنا فیصلہ کرتی آئی ہے۔ اور قاری کا سفر مسلسل ہوتا ہے۔ ایک سے دوسری، دوسری سے تیسری کتاب۔ ایک کے بعد دوسرا اور پھر تیسرا افسانہ نگار۔ اور اسی ڈھب پر دنیا بھر میں مطالعے کا چلن رہا ہے۔ البتہ کسی ادیب کی ذہنی، فکری اور ادبی ترقی کے لیے ضروری کہ اس کی تخلیق پراچھے اور کڑے ناقدین اظہار خیال کریں، اور ان خیالات کو فکشن نگار خود بھی سمجھے۔ اس کتاب پر جو میرا بنیادی اعتراض ہے، اور اس کا تعلق فکشن نگاری کے فن سے نہیں، وہ اس کا ٹائٹل اور عنوان ہے۔ دونوں مجھے روایتی لگے۔ عین ممکن ہے کہ اس میں مصنف کی تخلیقی اپچ کا، بالخصوص ٹائٹل میں، دخل نہ ہو۔



”رفیع اللہ میاں“

جس طرح آپ نے ٹائٹل اور عنوان پر اعتراض کیا ہے، اور مجھے اس سے اختلاف نہیں ہے، اسی طرح میں آپ کی توجہ اس کتاب کے انتساب کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں:

”امی کے نام۔ وہ ’سرسوتی‘ جو دھرتی سے پھوٹتے سات ساگروں کی ماں ہے۔“

 اقبال خورشید، کیا آپ کو نہیں لگتا کہ اس کتاب کا انتساب ایک ایسی کلیت کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو اپنے مرکز میں فیمنسٹ ہے۔ لیکن آتھر خدا کے وجود کے ساتھ ساتھ شیطان اور پہلے انسان کے وجود میں آنے کے مابعد الطبیعاتی قصوں پر بھی ایمان رکھتی ہے (پیش لفظ دیکھیے)۔ یقینا یہ بھی جانتی اور مانتی ہوں گی کہ عورت کا وجود ( ان قصوںکے مطابق) آدم کے بدن سے پھوٹایعنی انسانی وجود پدرمرکزیت کا حامل ہے۔ توکیا‘ انتساب میں دیے گئے اشارے اور پیش لفظ کو دیکھتے ہوئے اس معاملے کو فکری تضاد کہا جاسکتا ہے؟


”اقبال خورشید“

انتساب پر میں نے غور کیا۔ اساطیر اور مابعدالطبیعیاتی قصوں کو برتنے کا چلن ادب میں عام ہے۔ ہاں، اگر یہ اعتقاد کا حصہ ہیں، یا مصنف انھیں اپنے اعتقاد کا حصہ ٹھہراتا ہے، اور پھر اس کا فکشن الگ یا متضاد فکر کو منظر کرتا ہے، تو ہم اسے فکری تضاد کہیں گے۔ ڈی کنسٹریکشن کا عدسہ تضادات کو ، جیسے میں نے پہلے کہا، قاری کے تقاضے سے زیادہ عیاں کر دیتا ہے۔میرے نزدیک یہ کتاب اپنے عنوان اور ٹائٹل کے باوجود، گو ان کا اثر ابتدائی تھا، رواں سال شایع ہونے والے قابل ذکر کتابوں میں سے شمار کی جاسکتی ہے، اور منزہ سے مستقبل میں اچھا فکشن لکھنے کی امید باندھ سکتے ہیں۔ اور ایسی امید کم ہی لکھاریوں سے باندھی جاتی ہے۔

البتہ اس کے لیے ضروری ہے، اور بے حد ضروری ہے کہ فکشن نگار بار بار اپنے لکھے کو ایڈٹ کرے، یہاں تک کہ آخر لمحے تک نکھارتا رہے، بہ قول اسد محمد خاں’کہانیوں کو مانجھتے رہنا‘۔ اور اس بات کو‘ آپ اور میں‘ اپنے صحافتی تجربے کے باعث زیادہ بہتر سمجھ سکتے ہیں۔


”رفیع اللہ میاں“

میرے خیال میں ”ضرورت سے زیادہ“ کا پیمانہ ایک مجہول پیمانہ ہے۔ تاہم میں نے انتساب کا فکشن کے ساتھ موازنہ نہیں کیا ،بلکہ فیمنسٹ فکر میں جو تضاد ہمیں متن کی سطح پر ملتا ہے، اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ میں آپ کے ساتھ متفق ہوں اس بات پر کہ یہ کتاب اس سال شایع ہونے والی کتابوں میں قابل ذکر کتاب ہے۔ آپ نے بجا طور پر ایڈیٹنگ کی بات کی ہے۔ یہ ایک ایسا نہایت ضروری کام ہے، جس سے اردو ادیب عموماً ناآشنا ہیں اور ایک تعداد تو اسے گناہ بھی سمجھتی ہے کہ بھلا تخلیق کو اصلاح کی گنجایش کب ہوتی ہے۔

چوں کہ یہ بات اس کتاب ”آئینہ گر“ کے سلسلے میں ہورہی ہے ،تو میں تین چیزیں بہ طور مثال بتانا چاہوں گا۔ پہلے افسانے ”آخری خواہش‘ میں خضوع و خشوع کی ترکیب استعمال کی گئی ہے۔ یہ خشوع و خضوع ہے اور یہ عاجزی، فروتنی اور دل میں خوف کی کیفیات کے لیے مستعمل ہے۔ یہ کہنا کہ اس نے بڑے خضوع و خشوع کے ساتھ وضو کیا، اس ترکیب کا بالکل غلط استعمال ہے۔ اسی طرح، افسانے ’تصویر‘ میں ایک بڑی غلطی ہے۔ لکھا ہے کہ اگر نفی اور اثبات مل جائیں تو بھی نتیجہ وہی ہے اثبات۔ جب کہ نفی اور اثبات کا نتیجہ نفی ہوتا ہے۔ تیسرا یہ کہ متن میں کاما اور فل اسٹاپ کا استعمال بہت کم ہے، جس سے معلوم نہیں ہوتا کہ کب کون سا جملہ ختم ہوا اور کب دوسری بات شروع ہوئی۔ ایک اچھے رواں نثر کے لیے یہ چیزیں بے حد ضروری ہوتی ہیں۔


”اقبال خورشید“

رموز و اوقاف سے متعلق آپ کی نشان دہی نہ صرف درست، بلکہ پریشان کن ہے۔ بالخصوص آج کے دور میں، جب اس کے استعمال پر اصرار بڑھتا جارہا ہے، ان کی عدم موجودی واقعی مجھے الجھاتی ہے۔ یہاں ایک رپورٹ کا تذکرہ ضروری، جو بی بی سی نے شایع کی، یہ ممتازانگریزی ادیبہ جین آسٹن سے متعلق تھی۔

جین اسٹین کو صاحب اسلوب ادیبہ کہا جاتا تھا، مگر عشروں بعد ہونے والی تحقیق سے خبر ہوئی کہ یہ اسلوب درحقیقت اس سب ایڈیٹر کی دین تھا، جو اس کے ناشر کے ہاں ملازم تھا۔ اسی کے رموز و اوقاف نے جین کو ایک مخصوص اسلوب عطا کیا۔ خیر، یہ تو جملہ معترضہ تھا۔


”رفیع اللہ میاں“

رموز و اوقاف سے ادیب کی یہ لاتعلقی کیوں ہے؟


”اقبال خورشید“

اردو ادب میں ایک عرصے یہ رجحان غالب رہا، یہاں تک کہ صحافت میں بھی، اور اب بھی ہے، بھلا ہو ان قابل مترجمین کا، شاہد حمید، عمر میمن، آصف فرخی اور اجمل کمال کا اور پھر بیرونی ادب پر گہری نظر رکھنے والے ادیبوں کا، حسن منظر کا اور دیگر، سب سے بڑھ کر’ سرگزشت‘ کا ، جنھوں نے اس جانب بھرپور توجہ دی، اور اب زمین سے چند کونپلیں پھوٹنے لگی ہیں۔


”رفیع اللہ میاں“

یہ خوشی کی بات ہے۔ لیکن ہم عصر ادیبوں کو اس طرف ضرور توجہ دینی ہوگی۔ مجھے نہیں لگتا کہ زبان کے ساتھ غیر محتاط رویہ رکھنے والا ادیب کوئی اہم اور اثرپذیر ادب تخلیق کرسکتا ہے۔


”اقبال خورشید“

ہاں، اگر تخلیق کرے گا، تو بھی جلد یا بدیر اپنی اثر پذیری کھو دے گا۔


3 comments: