Wednesday, October 11, 2017

کوئی ملک فوج کے بغیر نہیں چل سکتا ہے۔ مل کر چلنا ہوتا ہے: عبداللہ حسین ہارون


 سن 1990 کے بعد پاکستان کی کوئی خارجہ پالیسی نہیں

بھٹو نے شملہ معاہدے میں واضح کردیا تھا کہ ان کا کشمیر ان کے پاس اور ہمارا ہمارے پاس رہے گا

 ضیاءالحق کو آزاد کشمیر میں یک طرفہ طور پر استصواب رائے کا مشورہ دیا

نوٹ: گذشتہ دونوں معروف صحافی رانا محمد آصف نے عبداللہ حسین ہارون سے روزنامہ ۹۲ نیوز کے لیے اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق مستقل مندوب، عبداللہ حسین ہارون سے خصوصی گفت گو کی، جس میں پاک امریکا تعلقات، بھٹو اور ضیا دور، کشمیر پالیسی، ڈورون حملوں، عرب اسپرنگ اور حسین حقانی سے متعلق اہم انکشافات کیے۔ قارئین کی دل چسپی کے لیے اس انٹرویو کے چند حصے یہاں پیش کیے جارہے ہیں۔ 

رواں نیوز

۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ پاک امریکا تعلقات کے لیے ”دوستی“ کے لفظ کو بے معنی قرار دیتے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟

حسین ہارون: جب امریکا نے سیٹو اور سینٹو بنایا، جان فاسٹر ڈیلس اس وقت سیکریٹری اسٹیٹ تھے، ان کی ڈومینو تھیوری تھی کہ جب ایک گرے گا تو قطار میں کھڑے سبھی گر جائیں گے۔ پاکستان کو اس زمانے میں اہمیت دی گئی۔ اس وقت کسی حد تک دوستی تھی۔ دیکھیے، لیاقت علی خان ایک ماہ امریکا میں گزار کر آئے تو انھیں یہاں قتل کردیا گیا۔ اس کے بعد کوئی اس طرح وہاں گیا ہی نہیں۔ ایوب خان گئے تو کینڈی نے بہت اچھا سلوک کیا۔ جس کے بعد جان کینیڈی کو قتل کردیا گیا۔ اب سوال آتا ہے سیٹو سینٹو چلا۔ 65کی جنگ میں ایوب خان نے اسلحہ ختم ہونے کی بات کی اور بعد میں کہا گیا کہ اسلحہ لے کر بحری جہاز امریکا سے آرہا ہے لیکن وہ آج تک نہیں آیا۔ امریکا نے جو خفیہ دستاویز عام کی ہیں اس میں بتایا گیا ہے کہ وہ بحری جہاز مصر کی حکومت کو کہہ کر نہر سوئز پر رکوا دیا گیا تھا۔ ہم پہلے سمجھتے تھے یہ ہندوستان کا کام ہے لیکن ایسا نہیں تھا۔ 71کی جنگ میں ساتواں بیڑہ آنے کا شور اٹھا لیکن وہ نہیں آیا۔ ان باتوں سے تو واضح ہوگیا کہ دوستی کوئی نہیں۔ بھٹو کے وقت میں اسلامی سربراہی کانفرنس ہوئی۔ او آئی سی کے چیدہ چیدہ بڑے لیڈر سب مارے گئے۔ آپ خود سمجھ سکتے ہیں کہ اس کے نتائج کیا ہوئے۔ جب روس نے افغانستان پر حملہ کیا ، تو اس کے باوجود کہ ہم نے بھٹو کے دور میں امریکا سے جو لاتعلقی اختیار کی اس کا شدید نقصان اٹھایا تھا، لیکن ہم پھر ان کی مدد کے لیے تیار ہوگئے۔ ضیاءالحق کی بے پناہ مدد سے روس کو ہم نے امریکا کے ساتھ مل کر شکست دی۔ روس نکل گیا تو پھر امریکا نے ویرانے میں ہمارا ہاتھ چھوڑ دیا۔ اس کے بعد ہم نے ایٹمی تجربات کیے تو امریکی پھر ناراض ہوگئے اور اقتصادی پابندیاں بھی لگائیں۔ نوگیارہ کے بعد جب وہ افغانستان پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہوئے تو پھر ہمارے پاس آگئے۔ مشرف کے دورمیں وہ ایک بار پھر ہمارے ہوگئے۔ وہاں طالبان کمزور ہوئے تو وہ دوبارہ ہمارے پیچھے پڑ گئے۔ امریکا ہمیں صرف اتنا دیتا ہے کہ ہم ناک پانی سے باہر رکھ کر سانس لیتے رہیں۔ اب ہندوستان سے ان کی محبت بے پناہ ہوگئی ہے تو افغانستان میں بھی ہمارا کردار محدود کیا جارہا ہے، جس کے بعد ہم چین اور روس کا سہارالے رہے ہیں کیوں کہ اب ان سے تو کسی بھلائی کی توقع نہیں۔ یہ جو چھچھورے قسم کے لوگ کہتے پھرتے ہیں کہ ہم نے پاکستان کو 40بلین دیے ، ایسا نہیں ہوا۔ نو گیارہ کے بعد سات بلین کی بات کی ، ان میں سے پانچ بلین تو ہم نے انہی پر خرچ کردیے، جس میں ری امبرسمنٹ اور سی ایس ڈی کے اخراجات شامل تھے۔ دو بلین اس کے علاوہ دیا۔ دوسری طرف جب سیسی نے 56فی صد ووٹ لے کر منتخب ہونے والے مرسی کی حکومت ختم کی تو پہلے سعودی عرب سے بارہ بلین دلوائے اس کے بعد چار بلین ڈالر امریکا نے دیے، یعنی دو دن میں 16بلین دیے گئے۔ ہمیں سات سال لٹکاتے رہے۔ ہمیں یہ کہتے رہے کہ آپ اس پر خوش رہیں، دوبلین کی حیثیت کیا ہے کہ اس پر خوش رہیں۔ 

 

سلامتی کونسل میں مشرق وسطی پر بات کرتے ہوئے آپ نے یہ کہا تھا کہ کوئی بھی تبدیلی یا انقلاب بیرونی مدد کے بغیر نہیں آتا۔ 2010میں ”عرب بہار“ کا آغاز ہوا۔ اس صورت حال اور خطے میں آج کے حالات کا کیا باہمی ربط دیکھتے ہیں؟

حسین ہارون: عرب اسپرنگ میں امریکا کی باقاعدہ مدد شامل تھی۔ لیبیا کبھی موجودہ حالات کا شکار نہ ہوتا اور قذافی کبھی نہیں جاتا۔ انہوں نے یمن سے ”طالبان“ لیے اور انہیں بن غازی میں اتارا گیا۔ انھیں تربیت فراہم کی، طرابلس میں بھی یہی ہوا۔ نیٹو اوپر سے بم برساتی رہی جس کی وجہ سے بالآخر وہ حکومت ختم ہوئی۔ مصر میں تو یہ طے کرچکے تھے کہ یہاں ایک مرتبہ انتخابات ہوجائیں، جمہوریت کے غبارے سے ہوا نکل جائے تو پھر آمر کو لے آئیں گے۔ میں نے شام کے معاملے میں کہا تھا کہ کئی سو سال بعد اس علاقے میں حالات معمول کی طرف آرہے ہیں، اس معاملے کو نہ چھیڑیں اور اگر ایسا کیا گیا تو یہ پانچ سو سال اور جنگ کی طرف چلے جائیں گے۔ لیکن انہوں نے یہ بات نہیں سنی، پہلے شامیوں کو پیسے دیے، جب کارروائیاں ہوئیں اور شامی جب واویلا کرتے ہوئے نکلے امریکا نے ان کے لیے اپنے دروازے بند کردیے۔ میں یہ تسلیم کرتا ہون کہ بظاہر بشار الاسد بہت ظالم ہے۔ لیکن ان کی وجہ سے ہزاروں شامی بچے اور عورتیں جو پناہ کی تلاش میں نکلے تھے، دربدر ہوئے ، سمندر کی نذر ہوگئے۔ ایسا طوفان کھڑا ہوا کہ اینجلا مرکل کے دس فیصد ووٹر صرف اس لیے کم ہوگئے کہ اس نے پناہ گزینوں کے لیے اپنے دروازے کھولے۔ اس سب کے ذمے دار یہ لوگ ہیں۔ یہ صورت حال عرب اسپرنگ کی پیدا کردہ ہے۔ امریکا نے پورے یورپ کو عدم استحکام کا شکار کیا۔ لیبیا میں جو مال اور اسلحہ دیا گیا وہ سینیگال سے لے کر ایتھوپیا تک گیا۔ جس کی وجہ سے سب صحارن افریقا تباہی کا شکار ہوا۔ 

 

ہماری خارجہ پالیسی میں چین کو حاصل ہونے والی مرکزیت کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟

حسین ہارون: ہماری چین سے متعلق پالیسی اچھی ہے۔ یہ مسئلہ ہے کہ موجودہ اور سابقہ حکومت نے ان معاہدوں میں پیسے بنائے ہیں۔ جس طرح قطر کے ساتھ گیس کے معاہدے میں مال بنایا گیا ہے۔ زرداری صاحب اور موجودہ حکومت نے جو بجلی کی بڑی بڑی ڈیلز کیں جس میں ہم مہنگی بجلی بنا رہے ہیں، ان سے آج تک انہیں پیسے ملتے ہیں۔ 

 

آپ اکثر پاکستان میں قائم جمہوری نظام پر تنقید کرتے ہیں۔ ریاست کا کوئی نہ کوئی نظام ہوتا ہے، آپ کے نزدیک وہ کیا ہونا چاہیے؟

حسین ہارون: پاکستان میں سمجھا جاتا ہے کہ الیکشن ہونے کا نام جمہوریت ہے۔ 70ءکی بات ہے موجودہ کینیڈین وزیر اعظم کے والد پیئر ٹروڈور کراچی آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے بھٹو سے کہا تھا کہ ابھی آپ منتخب ہوئے ہیں لیکن آپ کو اقتدار نہیں ملا، کینیڈا میں آج میں منتخب ہوتا ہوں تو کل مجھے اقتدار مل جاتا ہے، آپ کو منتخب ہوئے سال ہوچکا اور آپ کو معلوم نہیں کہ اقتدار ملے گا بھی یا نہیں۔ پھر انہوں نے بھٹو کو کہا تھا کہ تیسری دنیا میں یہ ضروری نہیں کہ ووٹ لینے والے کو اقتدار بھی ملے۔ صورت حال یہ ہے کہ ہمارے ہاں جعلی انتخابات ہوتے ہیں۔ کون سا انتخاب ہے جس پر اعتراض نہیں ہوئے۔ 70کے انتخابات کو قدرے شفاف تسلیم کیا جاتا ہے لیکن جنرل عمر نے حمودالرحمن کمیشن میں بیان دیا تھا کہ اُس دور میں انھیں الیکشن کنٹرول کرنے کے لیے پچاس کروڑ دیے گئے تھے۔ لیکن الیکشن کنٹرول نہیں ہوسکا، لوگوں نے پیسے لیے اور ووٹ مجیب کو دیا۔ اس کے بعد فوج نے آپریشن کردیا۔ بات واضح ہے کہ پیسے بھی خرچ ہوئے، بات بھی نہیں بنی، کارروائی کرنا پڑی اور ملک بھی دولخت ہوگیا۔ بھٹو صاحب جو پارلیمانی جمہوریت لے کر آئے اورا اسے سمجھتے تھے، انہوں نے بلوچستان پر فوج کشی کی۔ بات یہ ہے کہ پارلیمانی جمہوریت برطانیہ میں چلتی ہے۔ ہندوستان میں کچھ چلی ہے۔ میرا موقف یہ ہے کہ جمہوریت وہ ہے جو یونان نے بنائی تھی جنگ لڑنے کے لیے۔ انہوں نے فوج کو نظام میں شامل کیا تھا۔ برطانیہ میں نظام تبدیل ہوتا رہا۔ میگنا کارٹا کے بعد طے ہوا کہ بادشاہ اشراف کو اقتدار دے گا اور اسے کے بعد کئی ارتقائی مراحل طے ہوئے۔ یہاں جمہوریت کچھ بھٹو سمجھتے تھے، یا کسی حد تک ان کی بیٹی۔ بھٹو کے داماد اور نواز شریف اس جمہوریت کو سمجھتے ہی نہیںہیں۔ نواز شریف کی پالیسی یہ ہے کہ ان کا کنٹرول نظام پر کیسے مضبوط ہو، جمہوریت کنٹرولڈ نہیں ہوتی۔

تو پھر کیا مارشل لا ہونا چاہیے؟

حسین ہارون: آپ عجیب بات کررہے ہیں۔ مجھے یہ بتائیے امریکا کتنی بڑی جمہوریت ہے وہ کیوں مشکل وقت میں فوجیوں کو لا کر عہدوں پر بٹھاتے ہیں۔ ٹرمپ نے چار اہم عہدوں پر فوجیوں کو نہیں رکھا؟ رونالڈ ریگن نے ایک جنرل الیگزینڈر ہیگ کو سیکریٹری اسٹیٹ بنایا۔ آئزن ہاو ¿ر خود الیکشن جیتے۔ کولن پاول کو آگے بڑھنے موقعہ دیا جارہا تھا لیکن وہ خود آگے نہیں بڑھے۔ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی ملک فوج کے بغیر نہیں چل سکتا ہے۔ مل کر چلنا ہوتا ہے، کسی کو نکال کر فوج لانے کی بات نہیں ہے۔ ملک کے نظام کے کئی شعبے ہوتے ہے ان کے اپنے تقاضے ہیں۔ جس ملک کی فوج مضبوط نہیں ہوتی ان کا کیا حال ہوتا ہے۔ جاپان کے پاس فوج نہیں تھی، شمالی کوریا نے ان کی ناک میں دم کر رکھا ہے۔ افغانستان کے پاس فوج نہیں تھی، اب بنائی جارہی ہے۔ عراق کی فوج ختم ہوئی اب بنائی جارہی ہے۔ امریکا نے جمہوری طور پر منتخب ہونے والے مرسی کو ہٹا کر سیسی کو لا بٹھایا۔ جمہوریت کا نام لے کر بیووقوف بنانے والی باتیں نہیں کرنی چاہییں۔ سندھ میں مہاجر سندھی تقسیم کا ڈھونگ رچا کر تباہی لائی گئی۔ حسین حقانی نے دو ٹکے لے کر فوج اور جمہوریت کا ٹکراو ¿ دکھا دیا کہ جمہوری لوگ تو سارے بے کار ہیں فوج پر وار کریں وہ سیاست داں خود باز آجائیں گے۔ آپ کی جمہوریت کیا ہے، آصف زرداری اور نواز شریف۔ ان لوگوں نے ارب ہا روپے کی کرپشن کی ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ایسا نظام ہو جو باہمی مشاورت سے چلے۔ کسی غلط فہمی میں مت رہیے۔ جب بلوچستان میں مشرقی پاکستان جیسے حالات پیدا کیے جائیں گے تو کون کھڑا ہوگا، سیاستدان؟ ہمیں مسلسل بیووقوف بنایا جارہا ہے۔

آپ اقوام متحدہ میں تھے اور حسین حقانی اسی دور میں سفیر بھی رہے۔ دونوں کا تقرر تو ایک ہی حکومت نے کیا تھا۔

حسین ہارون: کچھ عرصہ وہ اس دور میں سفیر رہے۔ میں ان سے کم ملتا تھا کیوں کہ مجھے ان کی پاکستان مخالف سرگرمیوں کا علم تھا۔ یہ تو زدراری صاحب سے پوچھنا چاہیے تھا کہ انہیں کیوں سفیر لگایا تھا۔ چھوڑیں ، آگے بڑھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (بہ شکریہ روزنامہ ۹۲ نیوز)

 

 

 

 

No comments:

Post a Comment