Tuesday, October 3, 2017

تجھے ہم ولی سمجھتے : سید کاشف رضا



 ولی رضوی جنھیں سب صحافی ولی بھائی کہتے تھے، رات چل بسے۔ کیا مزے کے آدمی تھے لیکن آخری عمر میں اس زوال کا شکار جو متعدد صحافیوں کو ایک آدھ غلط فیصلہ کرنے کے نتیجے میں بھگتنا پڑتا ہے۔ 


جب ان سے متعارف ہوا تھا تو وہ جنگ کے میگزین انچارج تھے۔ انھی دنوں وہ پریس کلب کے سیکرٹری منتخب ہوئے۔ یہ ان کا دور عروج تھا۔ فقط مسکراتے نہیں تھے، ہنستے کھلکھلاتے رہتے تھے۔ پھر ان سے نیوز ون میں ملاقات ہوئی۔ تب ان کی طبیعت کے اس پہلو کا اندازہ ہوا کہ کہیں کھو سے جاتے تھے۔ الیکشن دو ہزار آٹھ کے لیے ایک پروگرام کا انھیں میزبان بنایا جس میں میں بھی بطور تجزیہ کار بیٹھتا۔ کبھی کبھی ولی بھائی سوال کرکے سو جاتے سو ہم نے طے کیا کہ میزبان میں ہی بن جاؤں اور انھیں مہمان بنا لیں۔ 
 کچھ برس سے پریس کلب کے ساتھ ساتھ آرٹس کونسل میں بھی نظر آتے۔ انھیں دیکھ کر صاف لگتا کہ مالی اور جذباتی ناآسودگی سے دو چار ہیں۔ آرٹس کونسل میں حلقہ ء ارباب ذوق کا اجلاس شروع ہوتا تو میں انھیں بھی پکڑ کر لے جاتا۔ کبھی وہ کہتے کہ ابھی آ رہا ہوں اور پھر غائب ہو جاتے۔
 ہنسنے کا انھیں بس بہانہ چاہیے ہوتا۔ ایک بار میری بات پر خوب ہنسے جب میں نے ان کے دیرینہ شغف کے تناظر میں انھیں غالب کا یہ مصرع سنایا
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
 ولی بھائی چلے گئے۔ ان کا قہقہہ کانوں میں گونجتا رہ گیا۔

No comments:

Post a Comment