Sunday, October 1, 2017

کہانیوں کا جمیل

انسانی احساس کی گہرائی تک پہنچ کر اسے منظر کرنے کا فن محمد جمیل اختر کے ہاں نہ صرف موجود ہے، بلکہ وقت کے ساتھ نکھرتا جارہا ہے۔

 

مختصر کہانی، جسے مبشر علی زیدی کی "سو لفظوں کی کہانی" نے صحافتی دنیا میں اوج بخشا، اس کی زندگی کی بابت تو سوال کیا جاسکتا ہے، مگر صاحب، اس کی رسائی اور اثرپذیری طے شدہ ہے۔ نہ صرف لاکھوں افراد تک یہ یومیہ پہنچ رہی ہے، بلکہ آج سیکڑوں قلم کار اس میں طبع آزمائی کر رہے ہیں۔ 

ہاں، کچھ ایسے نام بھی ہیں، جنھوں نے اپنی مختصر کہانی کو صحافتی رنگ میں رنگنے نہ دیا، خالص افسانوی اندازہ اختیار کیا، اور یوں ان کی کہانی میں کہانی کا حسن نتھر کر آیا۔

ایسا ہی ایک نام محمد جمیل اختر کا ہے۔

اس نوجوان کے ہاں مختصر کہانی فقط چونکاتی نہیں ہے، یہ فقط ٹوئسٹ نہیں، جو آپ کو یاد رہتا ہے، بلکہ انسانی احساس ہے، جس کی گہرائی تک پہنچ کر منظر کرنے کا فن جمیل کے ہاں نہ صرف موجود ہے، بلکہ وقت کے ساتھ نکھرتا جارہا ہے۔  یہ سماجی المیوں کو منظر کرتی کہانیاں ہیں، جو ختم ہونے کے بعد بھی جاری رہتی ہیں

یہاں اس باصلاحیت نوجوان کی چار کہانیاں پیش کی جارہی ہیں۔ آپ بھی اپنی رائے دیجیے۔

اقبال خورشید

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 اولاد 

 (پہلی کہانی)


آدھی رات کو پاگل خانے میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔

 عملے کے لیے پاگلوں کو باہر پہنچانا ایک مشکل ترین مرحلہ تھا۔

 انہوں نے فائر برگیڈ کو فون کیا ، پاگلوں کی بیرکوں کے دروازے کھول کر خود باہر نکل آئے اور ایک بڑے سے اسپیکر پر اعلان کرنے لگے کہ عمارت میں آگ بڑھک اٹھی ہے سو تمام پاگل باہر آ جائیں۔

 سب پاگل چیختے چلاتے باہر آگئے، لیکن ایک پاگل نے باہر آنے سے انکار کردیا اور چلانا شروع کردیا کہ اس کا بچہ اندر رہ گیا ہے سو باہر نہیں آئے گا۔

 اسپیکر پر اعلان کرنے والے صاحب نے اسے سمجھایا کہ جلد باہر آو تمہارا کوئی بچہ نہیں ہے۔ 

پاگل نے کہا " تو میرے تکیے کے نیچےکیا ہے ؟" 

" وہ تو تصویر ہے " 

سپیکر والے صاحب نے کہا۔

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

   دیوار 

(دوسری کہانی)

 

" کیا شہر کے چاروں طرف سے دیوار بنانی ہے ؟"

 "جی ہاں چاروں طرف۔"

" کوئی دروازہ؟ " 

" نہیں کوئی نہیں "  

" کوئی کھڑکی ؟ " 

 " بالکل نہیں " 

 " مگر پھر؟ " 

" کسی اور کو بلاو یہ دیوار نہیں بناسکتا "

 " نہیں ، نہیں ، میں نے ایسا کب کہا؟ " 

" ابھی " 

" میں نے تو کہا کہ لوگ باہر کیسے نکلیں گے؟" 

" اس کی فکر نہ کرو ، انہیں معلوم ہی نہیں کہ وہ اندر ہیں کہ باہر "

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 اندھیرا

(تیسری کہانی) 


 " یہ آواز کہاں سے آ رہی ہے؟ " 

" کنویں سے "

 " کون ہے؟ " 

" میں ہوں " 

" میں کون؟ " 

" میں ایک اندھا ہوں " 

" کنویں میں کیا کر رہے ہو؟ " 

" پاؤں پھسل گیا تھا " 

" باہر آو " 

" نہیں، یہاں باہر کی نسبت کم اندھیرا ہے" 

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

حل 

(چوتھی کہانی) 


" دیکھو تمہارے بچے کا علاج ہوجائے گا ، لیکن تمہیں جلد رقم کا انتظام کرنا ہوگا " 

ڈاکٹر نے اس کے بچے کا معائنہ کرتے ہوئے کہا

 " صاب کوئی رعایت "

 " دیکھو یہ کوئی پھل سبزی کی دکان تو ہے نہیں کہ تم سے رعایت کی جائے ، علاج کی جو رقم بن رہی ہے ، وہی بتائی گئی ہے " .

 اس نے ایک نظر اپنے بچے کی طرف دیکھا اور گھر کا سامان ایک ایک کرکے گننے لگا

 سائیکل ... لیکن سائیکل تو ایک ہی ہے ... جس ریڑھی پر وہ سبزی لگاتا تھا وہ بھی ایک ہی تھی ۔

اس نے دکھ سے بچے کی طرف دیکھا

اس کا بچہ بھی ایک ہی تھا یکدم اس کی آنکھوں میں چمک دوڑی۔

 اس کے پاس گردے دو تھے

 


2 comments: