Saturday, September 30, 2017

ہمارا معاشرہ بالکل فضول ہے: عبداللہ حسین

 یہ محبت سے جنم لینے والی سردیوں کی بے انت تنہائی تھی، جس سے نبرد آزما ہونے کے لیے میں نے خود کو ایک طویل حزنیہ کے حوالے کر دیا۔ اور بعد میں اس فیصلے پر جشن منایا۔


”اداس نسلیں“ سے گزرنے کے بعد تین انکشافات ہوئے۔ پہلا؛ یہ پُرقوت ماجرا محبت، جنگ اور ہجرت کے نئے گوشے آشکار کرتا ہے۔ دوسرا؛ قارئین کو اِسے دوبارہ پڑھنے سے باز رکھنا ناقدین کے بس کی بات نہیں۔ اور تیسرا؛ یہ آپ کو گرویدہ بنا سکتا ہے۔

البتہ اِس کے مصنف سے یوں روبرو ہونے کی خواہش کہ غیرمربوط سوالات سے اُسے تھکا سکوں، تب پیدا ہوئی، جب ”باگھ “کی دوسری قرات کے دوران میں نے جانا کہ بیرونی جبر سے گُندھا یہ قصّہ ہر اُس ناول کے مقابلے میں، جو کبھی میں نے پڑھا، خود کو پڑھوانے کی زیادہ قوت رکھتا ہے۔ اِس کی بہ ظاہر سادہ، مگر جاوداں نثر میں بہاﺅ ہے۔ زندگی کے ناگزیر حقائق بیان کرنے کے لیے ناول نگار نے ایک ایسا جال بچھایا ہے، جو پہلی سطر پڑھتے ہی آپ پر آن گرتا ہے:
”رات کو اسدی۔“ یاسمین نے کہا تھا۔ صبح کی روشنی میں اُس کا چہرہ دمک رہا تھا۔
یہ محبت کے نام و نشاں پیدا کرنے والے عبداللہ حسین کا تذکرہ ہے، جو ان کے راستے میں دکھائی دیتے ہیں، اور کبھی ماند نہیں پڑتے۔
دبدبہ وہ پہلا احساس ہے، جو عبداللہ حسین سے متعلق مجھ میں پیدا ہوا، جسے اخبارات اور ویب سائٹس پر شایع ہونے والی اُن کی تصاویر نے مہمیز کیا، اور ایک مودبانہ فاصلہ میں نے ضروری جانا۔ یہ کچھ برس قبل لاہور میں ہونے والی ایکسپریس اردو کانفرنس تھی، جس کی بھاگ دوڑ نے مجھے ٹیلی فون لائن کے ذریعے اُن سے جوڑ دیا۔ اُدھر لاہور میں بھی سامنا ہوا، پر مودبانہ فاصلہ قائم رہا۔ پہلی دراڑ اُس پل پڑی، جب سیشن کے تمام اسپیکرز کے بعد، جو پی ایچ ڈی ڈاکٹر تھے، عبدا اللہ حسین نے، جو صدارت کے منصب پر فائز کیے گئے، مائیک سنبھالا، اور کہا: ”آج متعلقہ موضوع پر سیر حاصل گفت گو ہوئی۔“ اور ایک لمحے کا مسکراتا توقف کیا: ”اب اس لفظ سیر حاصل کا مطلب مجھے نہیں آتا!“
ہاں، یہ تب تھا، جب میں نے اداس اور نادار لوگوں کی کہانی بیان کرنے والے اس قد آور فکشن نگار میں شگوفے کھلتے دیکھے۔ اس فاصلے کو کم کرنے میں کراچی کی ایک کانفرنس میں مستنصر حسین تارڑ کے گرد گھومتے اُس سیشن کا بھی کچھ ہاتھ ہے، جس میں اسٹیج پر موجود عبداللہ حسین کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے، صاحب مجلس سمیت، پورا ہال اٹھ کھڑا ہوا۔ محمد حنیف کا تذکرہ بھی ضروری، جس نے دوران انٹرویو انھیں اِس عہد کا سب سے ”غیراداس“ مصنف قرار دیا۔
تو عبداللہ حسین کے تخلیق کردہ پُرتاثیر ادب کے بعد، یہی وہ عوامل تھے، جن کے باعث کراچی کی ایک معتدل صبح جب میں نے اُنھیں، چھڑی ٹیکتے، آرٹس کونسل میں داخل ہوتے دیکھا، تو ان کا تعاقب خود پر لازم کیا۔ اور جانا کہ ٹی شرٹ اور ٹراﺅزرز میں ملبوس یہ ادیب حقیقی معنوں میں انتہائی غیراداس ہے۔ ایک زندہ دل انسان۔
یہ اُس مکالمے کی کہانی ہے، جو ٹکڑوں میں بٹا، جس کی تکمیل کے دوران جگہیں بھی تبدیل ہوئیں، پر یہ دھیرے دھیرے، فطری لاابالی پن کے ساتھ، آگے بڑھتا رہا۔ اِس میں آف دی ریکارڈ باتیں ہوئیں، قہقہے لگے، اور ایک لمحے کو اُن کے فہمائشی انداز سے روبرو ہونے کا بھی موقع ہاتھ آیا۔
عبداللہ حسین تخلیقی ادب کو ایک حد تک ذاتی شے تصور کرتے ہیں، مگر ابلاغ کی اہمیت کے قائل ہیں۔ یہی وہ کلیہ ہے، جس پر وہ حتی الامکان کاربند رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ذرا اُن کے حالاتِ زندگی پر اچٹتی سے نگاہ ڈال لی جائے:
اصل نام: محمد خان۔ سن پیدایش: 14اگست1931۔ جائے پیدایش: راول پنڈی، جہاں والد ملازمت کے سلسلے میں مقیم تھے۔ پانچ برس کی عمر میں اپنے آبائی شہر، گجرات میں قدم رکھا۔ اگلے سولہ برس وہیں رہے۔ 1952میں بی ایس سی کرنے کے بعد ضلع جہلم کی ایک سیمنٹ فیکٹری میں بہ طور کیمسٹ ملازم ہوگئے۔ پھر داﺅد خیل (میانوالی)کی سیمنٹ فیکٹری میں بہ طورکیمسٹ تقرر ہوا۔ 1959میں کولمبو پلان فیلو شپ کے تحت کیمیکل انجینئرنگ میں ڈپلوما حاصل کرنے کینیڈا چلے گئے، مگر اس سے قبل داﺅد خیل میں ایک واقعہ رونما ہوچکا تھا، جہاں کی یک سانیت نے قلم سنبھالنے کی تحریک دی، اور یوں ”اداس نسلیں“ کا آغاز ہوا، جس کی تکمیل میں پانچ برس لگے۔
ناول کی اشاعت کے لیے” نیا ادارہ “نے ہامی بھری۔ اُس وقت ان کی کوئی تحریر شایع نہیں ہوئی تھی، سو طے پایا کہ وہ ناول کی اشاعت سے قبل ایک کہانی لکھیں، جو ”سویرا “میں شایع ہو کر انھیں بہ طور ادیب متعارف کروائے۔ یوں 1962میں ”ندی“ منصہء شہود پر آئی، جس کا شمار ناقدین اُن کی بہترین تخلیقات میں کرتے ہیں۔ 1963میں ”اداس نسلیں“کی اشاعت نے تہلکا مچا دیا۔ بہتوں نے اِسے اردو کے بہترین ناولوں میں شمار کیا۔ آدم جی ادبی ایوارڈ حصے میں آیا۔
 

ساٹھ کی دہائی کے آخر میں وہ انگلینڈ چلے گئے تھے۔ 1976میں مستقل قیام کے ارادے سے وطن لوٹے، پر اِدھر حالات سازگار نہ پاکر دوبارہ بیرون ملک سدھارگئے۔1981میں پانچ کہانیوں اوردو ناولٹوں پر مشتمل مجموعہ”نشیب“شایع ہوا ۔ اُن کے ایک ناولٹ ”واپسی کا سفر“ پر بی بی سی نے فلم بھی بنائی، جس میں ہالی وڈ کے اداکاروں کے ساتھ معروف بھارتی اداکار اوم پوری نے بھی کام کیا۔ ”نشیب“ پر پی ٹی وی نے ڈراما سیریل بنائی، جسے بے حد پسند کیا گیا۔ ”اداس نسلیں“کے اٹھارہ برس بعد ان کا دوسرا ناول”باگھ “شایع ہوا۔ عبداللہ حسین کو ذاتی طور پر یہ ناول ”اداس نسلیں“سے زیادہ پسند ہے۔ 1989میں ”قید“ کی اشاعت عمل میں آئی۔ ”رات“ 1994میں چھپا، جس کے دو سال بعد اُن کا ضخیم ناول ”نادار لوگ“منظر عام پر آیا۔ 2012 میں چھے کہانیوں پرمشتمل مجموعہ”فریب“شایع ہوا۔ انگلینڈ میں قیام کے دوران عبداللہ حسین نے ”اداس نسلیں“کا ترجمہ بھی کیا، جو چھپا، تو اسے انگریز ناقدین کی توجہ بھی حاصل ہوئی۔ سنڈے ٹائمز نے اپنے تبصرے میں اِسے بے حد سراہا۔ 

انگریزی میں اُن کا ناول شایع ہوچکا ہے۔ "افغان گرل" کے نام سے ایک ناول زیرطبع ہے۔ سینئر مترجم، محمد عمرمیمن کے قلم سے اُن کی نگارشات کے تراجم Stories of Exile and Alienation اورNight & other stories کے عنوان سے انگریزی میں چھپ چکے ہیں۔

اب گفت گو پیش خدمت ہے:

اقبال: آپ انتہائی خوش باش، زندہ دل آدمی، اور تذکرہ اداس نسلوں کاکرتے رہے؟
عبداللہ حسین: مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آتی۔ جو لوگ تبصرہ وغیرہ کرتے ہیں، سب ہی نے یہ لکھا کہ میری تحریر، میرے کرداروں میں یاسیت ہے، غم زدگی ہے، ٹریجڈی ہے۔ البتہ یہ میرا temperament نہیں۔ میں تو ایک خوش دل آدمی ہوں۔ ہر وقت ہنستا رہتا ہوں۔ لوگوں کو تجزیہ کرنا چاہیے کہ میرے مزاج اور میرے کرداروں میں یہ فرق کیوں ہے۔

اقبال: کیا آپ نے خود بھی یہ فرق محسوس کیا یا یہ فقط ناقدین کی رائے ہے؟
عبداللہ حسین: میں اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کرسکتا، مگر ہر ایک نے یہی کہا ہے۔ (ہنستے ہوئے) اب لوگ کہتے ہیں، تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں گے۔

اقبال: آپ مختلف سیمینارز میں یہ کہتے نظر آئے کہ آپ اردو نہیں جانتے، جس زبان میں کئی شَہ پارے تخلیق کیے، اس زبان سے لاعلمی کے اظہار کا سبب؟
عبداللہ حسین: ہم نے آٹھویں تک اردو پڑھی۔ پھرانگریزی پڑھنا شروع کی۔ سب یہی کہتے تھے کہ انگریزی پڑھو گے، تو نوکری ملے گی۔

اقبال: آپ کے والد بھی یہی کہا کرتے تھے کہ انگریزی پڑھو، ورنہ نیکر پہن کر چائے بیچنی پڑے گی
عبداللہ حسین: (ہنستے ہوئے) یہ بھی ایک اسٹوری ہے۔ انھوں نے 1899 میں میٹرک کیا تھا۔ ان کی انگریزی بہت اچھی تھی۔ گورنمنٹ سروس میں تھے۔ وہ مجھ سے کہتے تھے کہ انگریزی پڑھو۔ ورنہ دیکھا ہے ناں کہ اسٹیشنوں پر لوگ میلی سی نیکر پہن کر چائے بیچتے ہیں، تم بھی نیکر پہن کر چائے بیچو گے۔ اب چائے بیچنے میں تو مجھے کوئی عار نہیں تھا، مگر نیکر پہننے والوں کا جو نقشہ میرے ذہن میں آتا تھا، وہ اچھا نہیں لگتاتھا۔ تو میں نے انگریزی پڑھنے کی شروعات کی۔ اگلے بیس پچیس سال تک انگریزی پڑھی۔ کالج میں ہمارے ایک پروفیسر تھے؛ سعید خان۔ انھوں نے کہا؛ میں پورے سال آپ کو کچھ نہیں پڑھاﺅں گا۔ یہ دس ناولوں کی لسٹ ہے۔ ان میں سے کوئی تین پڑھ لیں۔ آخر میں ان ہی سے متعلق پوچھوں گا۔ اگر پڑھے ہوں گا، تو اپنے مضمون میں پاس کر دوں گا۔ تو اس طرح یہ سلسلہ دراز ہوتا گیا۔

اقبال: تو جب ناول لکھنے بیٹھے، اور جہاں اردو لفظ نہیں سوجھا، وہاں انگریزی یا پنجابی کا لفظ لکھ دیا؟
عبداللہ حسین: ہاں، جب مجھے کوئی لفظ نہیں آتا، تو میں اپنا لفظ بنا لیا کرتاتھا۔ بعد میں کچھ لوگوں نے کہا؛ عبداللہ حسین نے پنجابی میں ناول لکھا ہے۔ مگر جو کچھ مناسب قسم کے لوگ تھے، انھوں نے کہا کہ اُن کی اردو پر انگریزی اور پنجابی کا گہرا اثر ہے۔ شاید یہ بات بھی درست ہے۔

اقبال: ”اداس نسلیں“ کے نعیم کا شمار اردو ناول کے یادگار کرداروں میں ہوتا ہے۔ اوائل میں فکشن نگار کے سامنے اپنی ہی شخصیت ہوتی ہے۔ تو نعیم میں کہیں عبداللہ حسین بھی تھا؟
عبداللہ حسین: مجھ میں اور دیگر ناول نگاروں میں ایک فرق ہے۔ جتنے بھی ناول نگار ہیں، بشمول انگریزی کے، اکثریت کے پہلے ناول میں سوانحی عنصر ہوتا ہے۔ کیوں کہ ان کا تجربہ وہی ہوتا ہے، جسے وہ بیان کرتے ہیں۔ پھر اگر وہ مزید لکھیں، تو ان میں دوسروں کو موضوع بناتے ہیں۔ میں نے انگریزی کے ناول بھی بہت پڑھے ہیں، ان پر تنقید بھی پڑھی ہے۔ تو بیش تر پہلے ناولوں میں واضح آٹوبائیوگرافیکل عنصر ملتا ہے۔ مگر میرے کسی ناول میںیہ عنصر نہیں۔ ہاں، ایک دو کہانیوں میں ہے، جیسے ”نشیب“ کی کہانیاں۔ لیکن ناولوں میں ایسا کچھ نہیں۔ میں نے دوسروں کو اپنا کردار بنایا،اور یہ شعوری طور پر نہیں تھا۔ میرا خیال ہے کہ اچھے فکشن میں لکھنے والے کو غیرحاضر رہنا چاہیے۔

اقبال: گذشتہ پانچ عشروں نے ”اداس نسلیں“ کی شہرت کو مہمیز کیا۔ آپ کو لگتا ہے کہ اس کی شہرت کے باعث ”باگھ“ اور دیگر ناول نمایاں نہیں ہوسکے؟
عبداللہ حسین: ہاں، یہ درست ہے۔ مجھے اپنے ناولوں میں ”باگھ“ زیادہ پسند ہے۔ اب لوگ اس کا تذکرہ کرنے لگے ہیں۔ مگر شروع میں جب ”باگھ“ لکھا، ”نادار لوگ“ لکھا، تو وہ ”اداس نسلیں“ کے سائے میں آگئے۔ پیچھے چلے گئے۔

اقبال: ”باگھ“ اور ”اداس نسلیں“ کے درمیانی وقفے کے بارے میں کچھ فرمائیں؟
عبداللہ حسین: یہ بھی ایک کہانی ہے۔ ناول شایع ہونے کے بعد میں راتوں رات مشہور ہوگیا۔ اشاعت کے اگلے دن سے میرا شمار مشہور رائٹرز میں ہونے لگا۔ پھر میں سب چھوڑ کر انگلینڈ چلا گیا۔ لوگوں نے، میرے اپنے خاندان والوں نے کہا کہ آپ کیوں جارہے ہیں؟ آپ اتنے مشہور ہیں، کوئی رسالہ نکالیں۔ اس کے ایڈیٹر بن جائیں۔ بہت سے ادیب آپ کے اردگرد آجائیں گے۔ پھر ایک اخبار نکالیں۔ آپ سیاست میں جاسکتے ہیں۔ ملک میں بہت بڑی پوزیشن بن جائے گی۔ لیکن مجھے ان باتوں میں کوئی کشش محسوس نہیں ہوئی۔ میں انگلینڈ چلا گیا۔ میں نے ایک بڑے ناول نگار کا مقولہ پڑھ رکھا تھا: You are only as good as your second novel۔ یعنی آپ کا دوسرا ناول اچھا ہے، تو پھر آپ اچھے ناول نگار ہیں۔ ورنہ ایک ناول تو کوئی بھی لکھ سکتا ہے۔ تو میں نے ارادہ کر لیا کہ میں اس وقت تک دوسرا ناول نہیں لکھوں گا، جب تک یہ احساس نہ ہوجائے کہ میں پوری طرح تیار ہوں۔ تو تیرہ برس تک ایک لفظ نہیں لکھا۔ جب میں تیار ہوگیا، تو میں نے ”باگھ“ لکھا۔ اور مجھے احساس تھا کہ جو انتظار کیا ہے، وہ ٹھیک ہے۔ اگر میں فوراً دو تین فضول ناول لکھ لیتا، تو بات نہ بنتی۔

اقبال: ”اداس نسلیں“ اور” باگھ“ کی زبان میں فرق نظر آتا ہے، باگھ زیادہ چست اور گتھا ہوا ہے
عبداللہ حسین: آپ نے بہت اچھا لفظ کہا؛ گتھا ہوا۔ ہاں، وہ زیادہ توجہ کے ساتھ لکھا گیا۔ آپ حیران ہوں گے کہ مجھے انگلینڈ میں رہتے اتنے برس ہوگئے تھے، مگر میں نے ”باگھ“ میں انگریزی کا ایک لفظ بھی نہیں لکھا ۔ جب ناول چھپ گیا، تو لوگوں نے کہا؛ عبداللہ حسین کئی سال سے باہر رہ رہے ہیں، مگر ناول پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ یہ آدمی اپنے گاﺅں سے باہر نہیں نکلا۔ دراصل اگر آپ ناول نگاری کے آرٹ کے مطابق لکھیں، تو ناول بنتا ہے۔ ”نشیب“ کے دیبایچے میں مَیں نے لکھا؛ ادب ایک طویل المیعاد کام ہے، ناول کا اصل امتحان وقت ہے۔ نقاد یا تبصرہ نگار جو مرضی کہتے رہیں، فرق نہیں پڑتا۔ اگر بیس تیس سال بعد تحریر پڑھی جارہی ہے، تو پھر ٹھیک ہے۔ اگر غائب ہوجاتی ہے، تو پھر اچھی نہیں۔

اقبال: آپ نے متعدد بار ”اداس نسلیں“ کو محبت کی کہانی قرار دیا
عبداللہ حسین: ہاں، یہ میں نے کہا تھا۔ میں آپ کے لیے محبت کی تعریف کرنا چاہوں گا۔ وہ یہ نہیں ہے کہ آپ کے پڑوس میں ایک لڑکی رہتی ہے، آپ کا اور اس کا رابطہ ہوجاتا ہے۔ آپ کے گھر والے ان کے ہاں رشتہ لے جاتے ہیں۔ وہ بھی راضی ہوجاتے ہیں۔ آپ کی شادی ہوگئی۔ آپ بھی خوش، گھر اور محلے والے بھی خوش۔ اور لوگ کہتے ہیں، یہ محبت کی شادی ہے۔This is nonsense۔ محبت کی تعریف یہ ہے کہ آپ اس کی خاطر کس کس شے کی قربانی دے سکتے ہیں۔ ”اداس نسلیں“ میں عذرا ایک نواب کی بیٹی ہے، نعیم ایک کسان کا بیٹا، جس کے پاس کسی قسم کے وسائل نہیں۔ اس کے لیے عذرا اپنے پورے خاندان سے، اپنی کلاس سے بغاوت کرکے سب کچھ چھوڑ دیتی ہے۔ نکتہ یہ ہے کہ What are you prepared to give up? تو اس نے نعیم کے لیے، جس کا بازو بھی کٹا ہوا تھا، سب کچھ چھوڑادیا۔ یہ تھی محبت کی شادی۔

اقبال: اِس میں طبقاتی تقسیم کو بھی آپ نے منظر کیا؟
عبداللہ حسین: (ذرا لاتعلقی سے) ہاں، طبقاتی تقسیم بھی کہانی میں آتی ہے۔ نعیم کا بھائی علی کارخانوں میں کام کرتا ہے۔ عذرا نے اپنے طبقے سے بغاوت کی تھی۔ تو یہ ہے۔

اقبال: ناول کی تفہیم میں ناول نگار سے رجوع کرنے کے آپ خلاف ہیں؟
عبداللہ حسین: دراصل ناول نگار سے اس کے ناول کے بارے میں سوال کرنا مجھے عجیب لگتا ہے۔ ناول نگار نے لکھ دیا، لوگ اپنی سوچ کے مطابق پڑھیں، اُس کا تجزیہ کریں۔ جتنا آپ نے ادب کا علم حاصل کیا ہوگا، اتنا اچھا تجزیہ ہوگا۔ اگر آپ ایم اے کر لیتے ہیں، اگلے پانچ چھے برس اپنا اور باقی دنیا کا ادب پڑھتے ہیں، تو تھوڑا بہت علم آجاتا ہے۔ اگلے بیس سال مستقل پڑھتے رہے، تو اور علم آگیا۔ جتنا زیادہ ادب کا علم ہوگا، اتنا اچھا تجزیہ ہوگا۔ قاری کو خود ہی تجزیہ کرنا چاہیے۔ ناول نگار سے پوچھنا زیادتی ہے۔ اب مجھے نہیں پتا کہ میرے ناول اور کہانیاں کہاں اور کیسے پیدا ہوئے۔ لکھنے والا، خاص طور پر فکشن لکھنے والا بہت سی باتوں سے لاعلم ہوتا ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ کہانیاں کہاں سے آئیں، کیسے پھیلتی چلی گئیں۔ اس سے سائنسی انداز میں سوال نہیں کیا جاسکتا۔ لکھنے والے کو بہت سی باتوں کا پتا نہیں ہوتا۔ فکشن میں دو جمع دو کا نتیجہ چھے بھی آسکتا ہے اور پانچ بھی۔

اقبال: تو یہ اُس کی Instinct ہے، جبلت، ایک غیراختیاری رجحان
عبداللہ حسین: ہاں۔ اور یہ صلاحیت صرف فکشن نگار میں نہیں، دیگر تخلیق کاروں میں بھی ہوتی ہے۔ مصرع یا نئی کہانی ذہن میں کیسے پھوٹتی ہے؟ گھاس کا پتا کیسے نکلتا ہے؟ یہاں تک کہ یہ بھی نہیں بتایا جاسکتا کہ ایک سائنس داں کے دماغ میں پہلا خیال کیسے آتا ہے۔ ہاں، بعد میں تحقیق کرکے اُسے دریافت کر لیا جاتا ہے، مگر آپ اس کے ذہن میں جنم لینے والے پہلے خیال کے بارے میں پوچھیں، تو وہ (سائنس داں)اُس کا جواب اطمینان بخش نہیں دے سکے گا تو ادب میں دو جمع دو چار کا کلیہ کام نہیں کرتا۔

اقبال: آپ مغرب میں رہے، وہاں ادیب کو جو احترام ملتا ہے، یہاں اس کا فقدان ہے۔ اس کا سبب؟
عبداللہ حسین: ہمارا معاشرہ بالکل فضول ہے۔ لڑائی جھگڑے چل رہے ہیں۔ ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے خدا حافظ سے اللہ حافظ ہوگیا۔ میں تو ان چیزوں پر یقین نہیں رکھتا۔ ہمارے ہاں مذہب کی اصل روح ختم ہوگئی ہے، صرف رسومات رہ گئی ہیں۔ مذہبی لوگوں کی شروع سے آرٹ سے لڑائی ہے۔ پس ماندہ ممالک میں یہ رجحان غالب ہے۔ خوش حال ممالک میں یہ جھگڑا ختم ہوگیا۔ میں پاکستان کو Unreal society کہتا ہوں۔ جھوٹ، دغا بازی۔یہاں ادیب کا کام بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ اسے انسانی قدروں کو اجاگر کرنا ہے۔ (کچھ سیکنڈز کا وقفہ لیتے ہوئے) مجھے ابھی ابھی خیال آیا کہ لوگ جو کہتے ہیں، میرے کرداروں میں مایوسی اور غم زدگی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے اپنے اردگرد انسانی قدروں کی پامالی نظر آتی ہے۔ اور میں دیکھتا ہوں کہ لوگ اِسے نارمل سمجھ رہے ہیں۔ شاید اس وجہ سے میرے اندر مایوسی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے، مگر وہ میری شخصیت نہیں۔ (مسکراتے ہوئے) اب یہ ایک بالکل نئی بات میں نے بتائی ہے۔ آپ کسی اور پیرایے میں لکھ دیں، بہت بڑے نقاد بن جائیں گے۔

اقبال: اردو فکشن کا مستقبل آپ کو کیسا نظر آرہا ہے؟
عبداللہ حسین: لوگوں میں لکھنے کی امنگ ہے۔ بہت سے لوگ لکھ رہے ہیں۔ افسانے اچھے لکھے جارہے ہیں، اور خاصے لکھے جارہے ہیں۔ تو مستقبل تو ہے۔

اقبال: آپ نے انسانی قدروں کی تذلیل کا تذکرہ کیا، تو فکشن نگار کو ان کی نشان دہی کرنی چاہیے؟
عبداللہ حسین: ہاں۔ یہ ادیبوں، فلسفیوں اور سوشل سائنٹسٹ کا کام ہے۔ تعلیم ہی سے ہر شے نکلتی ہے۔ تعلیم سے روشنی پیدا ہوگی، تو انسانی قدریں بھی اجاگر ہوں گی۔ ان کی نشوونما ہوگی۔ اگر تعلیم نہیں، تو ادیب بھی کوئی کردار ادا نہیں کرسکے گا۔ سوشل سائنٹسٹ تو ایک خشک قسم کا مضمون لکھ دیتا ہے، جو کچھ ہی لوگوں پر اثر کرتا ہے۔ مگر ادیب کا کام لوگوں کے دلوں تک پہنچتا ہے۔ شاعری میں، کہانی میں ایک کشش ہوتی ہے۔ الف لیلہ کے وقت سے، شہرزاد کے وقت سے انسان کہانی سے مسخر ہے کہ اب آگے کیا ہوگا۔ اگلے موڑ پر کیا ہے۔ ادیب کا کام لوگ آسانی سے جذب کر لیتے ہیں۔ اگر وہ انسانی قدروں کے بارے میں لکھے، تو وہ موثر ثابت ہوتا ہے۔

اقبال: تو کیا ادیب کو تبدیلی کے لیے، اصلاح کے لیے ادب تخلیق کرنا چاہیے؟
عبداللہ حسین: تحریک الگ معاملہ ہے۔ اس کے مقاصد ہوتے ہیں، منشور ہوتا ہے، جہاں تک ادیب کا تعلق ہے، اس کے ہاں یہ عمل لاشعوری ہونا چاہیے۔ جس طرح ترقی پسندوں نے ایک مہم شروع کی تھی کہ ایسا ادب تخلیق کیا جائے، ویسا ادب تخلیق کیا جائے، وہ ناکام ہوگئی۔ یہ غیرشعوری معاملہ ہے۔ ادب اچھا ہے، تو وہ لوگوں تک پہنچے گا، اور ان کے لاشعور کا حصہ بن جائے گا۔ جب صبح آپ کی آنکھ کھلتی ہے، تو ذہن میں کوئی کہانی یا کوئی شعر منڈلا رہا ہوتا ہے۔ یعنی لاشعور میں دفن خیال نیند کے بعد ظاہر ہوجاتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ادب آپ کے شعور میں اس گہرائی تک چلا گیا کہ وہ آپ کے لاشعور کا حصہ بن گیا ہے۔ اِسی سے تبدیلی آتی ہے۔

اقبال: ”اداس نسلیں“ پڑھا گیا، سراہا گیا، مگر اس کا ترجمہ نہیں ہوا، یہ کام آپ کو خود کرنا پڑا۔ قرة العین حیدر کو بھی یہ مرحلہ خود ہی انجام دینا پڑا تھا
عبداللہ حسین: ہمارے لوگ سست اور کاہل ہیں۔ محنت نہیںکرتے۔ اس لیے ہم زندگی کے کسی شعبے میں ترقی نہیں کرسکے۔ تنزلی کی طرف جارہے ہیں، کیوں کہ ہم محنت سے جی چرانے والے لوگ ہیں۔ اتنے ضخیم ناول کا ترجمہ کرنا بڑی محنت کا کام ہے۔ چالیس برس تک میں انتظار کرتا رہا۔ سب کہتے کہ جی بڑا اچھا ناول ہے۔ بھئی، اگر اچھا کہتے ہو، تو اس پر طویل تجزیاتی مضمون لکھویا اس کا انگریزی میں ترجمہ کرو۔ تنگ آکر میں نے خود ہی ترجمہ کیا۔

اقبال: کیا ہمارے ہاں اس معیار کے مترجم ہیں، جو اردو ادب پارے کو انگریزی میں ڈھال سکیں؟
عبداللہ حسین: ہاں ہاں، بہت اچھی انگریزی لکھنے والے لوگ ہیں۔ انگریزی اخبارات میں ٹھیک ٹھاک مقالے لکھتے ہیں، مگر ہمارے لوگ کاہل ہیں۔ غیرتخلیقی ہیں۔ آج تک ہمارے معاشرے میں کوئی تخلیقی کام نہیں ہوا۔ہمیں کرکٹ دیکھتے ہوئے پچاس سال ہوگئے، اس عرصے میں ”پاکستان زندہ باد“ کے علاوہ کوئی نعرہ ایجاد نہیں کرسکے۔ مجھے تو اس سے Nausea ہوتا ہے۔دوسرے ملکوں میں آپ دیکھیں فٹ بال کے لیے کیسے گانے لکھے گئے، نعرے بنائے گے۔ تو یہ غیرتخلیقی لوگ ہیں۔

اقبال: آغاز ایک ضخیم ناول سے، پھر مختصر ناول، طویل مختصر افسانہ؛ مزاج کے زیادہ قریب کیا ہے؟
عبداللہ حسین:اس وقت میرا پسندیدہ رجحان ناویلا ہے، جسے ہمارے ہاں ناولٹ کہتے ہیں۔ ناولٹ کی تعریف ہی اور ہے۔ ناولٹ ہے ڈائجسٹوں میں خواتین کے لیے رومانوی طرز پر لکھی جانے والی طویل کہانیاں۔ ناویلا سنجیدہ فکشن ہے، جو سو سے ڈیڑھ سو صفحے کا ہوتا ہے۔ آج کل میری توجہ کا مرکز یہی ہے۔

اقبال: انگریزی میں بھی ایک ناویلا لکھ رہے ہیں؟
عبداللہ حسین: جی بالکل۔ وہ مکمل کر کے ایجنٹ کو دے دیا ہے۔ اب اردو میں ایک ناویلا شروع کیا ہے۔ ساتھ چھوٹی بڑی کہانیاں لکھوں گا۔ چھے کہانیوں کا مجموعہ ہوگا۔ میرے ذہن میں اُن کے خیالات ہیں۔ ہوسکتاہے، تین ناویلا ہوجائیں اور تین مختصر کہانیاں۔ یعنی چھے کا ہندسہ ہے۔ آج کل تو جو کچھ  لکھتا ہوں، چھپوا دیتا ہوں (قہقہہ)۔

اقبال: ہمارے ہاں ادیب رائلٹی کے معاملے میں شکوہ کرتے نظر آتے ہیں۔
عبداللہ حسین: ایک طویل عرصے تو یہ مسئلہ رہا، مگر اب چند ادیبوں کو، جن کی کتابیں بکتی ہیں، رائلٹی ملتی ہے۔ لیکن مزے کی بات ہے کہ خود پیسے دے کر کتاب چھپوانے والے بھی بہت آگئے ہیں۔ سب کو شوق ہے کہ ان کی کتاب آجائے۔ بہت سے پبلشر ہیں، جو کہتے ہیں؛ ہم چھاپ دیں گے، اتنے پیسے لگیں گے۔ اور لوگ دے دیتے ہیں۔ البتہ اب رائلٹی دینے کا رواج ہوگیا ہے۔ ”سنگ میل“ والوں نے سب سے پہلے شروع کیاتھا۔ مجھے اچھی رائلٹی دیتے ہیں۔ تارڑ، انتظار حسین اور دیگر کو دیتے ہیں۔ اب میری کتابیں، چاہے سے چار پانچ سال بعد آئیں، مگر ٹھیک تعداد میں بک جاتی ہیں۔

اقبال: آپ اب 83 برس کے ہو گئے، تو لکھنے کا ڈھب کیا ہے؟ دن کا وقت مقرر یا شام کا؟
عبداللہ حسین: میں کرسی پر بیٹھ کر ہاتھ سے لگتا ہوں۔انگریزی ٹائپ کرتا ہوں۔ وقت کوئی مقرر نہیں۔ کبھی صبح لکھتا ہوں، کبھی شام۔ میں فارغ آدمی ہوں ناں۔ کہیں مجھے جانا نہیں۔ سو رہا ہوں، تو سو رہا ہوں۔ تو جو بھی وقت ملتا ہے، اِسی میں صرف کرتا ہوں۔

اقبال: زبیر رضوی کے پرچے ”ذہن جدید“ میں اردو ادب کے پروفیسرز کے درمیان ایک سروے ہوا، جس میں ”اداس نسلیں“ کو ”آگ کا دریا“ پر فوقیت دیتے ہوئے اردو کی تاریخ کا بہترین ناول قرار دیا گیا۔
عبداللہ حسین: ہاں، وہ ”ذہن جدید“ والوں نے کروایا تھا۔ قرة العین کا ”آگ کا دریا“ دوسرے نمبر پر آیا تھا۔ وہ اس وقت زندہ تھیں۔ میں نے سوچا، بھئی انھیں تو بڑا صدمہ پہنچے گا۔ تو میں نے ایڈیٹر کو خط لکھا۔ میں نے کہا: لوگوں نے اس سروے میں”اداس نسلیں“ کو ووٹ دیے ہیں، ان کی نوازش، لیکن میں خود قرة العین حیدر کو اردو کا سب سے بڑا ناول نگار مانتا ہوں۔ ویسے انھوں نے لکھا ہی بہت ہے۔ ساری عمر یہی کام کیا۔ ہم تو ادھر اُدھر کھیلتے رہے۔ خط بھیج کر اُنھیں بھی اطلاع دے دی۔ وہ بھی خوش ہوگئی ہوں گی۔

اقبال: آپ دو ناولوں کے درمیان موازنے کے رجحان کو کیسے دیکھتے ہیں؟
عبداللہ حسین: ہونا تو نہیں چاہیے۔ ناولوں کا الگ الگ مزاج ہوتا ہے، مگر لوگ کرتے آرہے ہیں، انھیں اورکوئی کام ہی نہیں ہے۔

اقبال: آپ کے ہم عصروں میں انتظار حسین ایک بڑا نام ہے
عبداللہ حسین: میں اُنھیں سراہتا ہوں۔ وہ 90 سال کے ہو گئے ہیں۔ ساری عمر لکھا۔ طویل اورمختصر کہانیاں۔ ناول۔ کالم۔ ان کی زندگی کا اثاثہ ادب ہے۔ اور یہ بلاشبہہ قابل تعریف ہے۔ انٹرنیشنل مین بکر پرائز والوں نے انھیں زندگی بھر کے کام پر چنا ہے۔

اقبال: اردو ناول پر بات ہو، تو تذکرہ ”آگ کا دریا“ اور ”اداس نسلیں“ سے آگے نہیں بڑھتا، کیا اور کوئی اچھا ناول نہیں لکھا گیا؟
عبداللہ حسین:لکھے گئے ہیں، اچھے ہیں۔ چند میں نے پڑھے بھی ہیں۔ مرزا اطہر بیگ نے دو ناول بہت اچھے لکھے۔ مستنصر حسین تارڑ نے کم از کم دو ناول اچھے لکھے ہیں۔ عاصم بٹ کاپہلا ناول اچھا ہے۔
اقبال: ادب کے شایقین کے لیے کیا تجویز کریں گے؟

عبداللہ حسین: میں اِس طرح کی تجاویز پر یقین نہیں رکھتا۔ یہ ادب کے اساتذہ کا کام ہے۔ سب کچھ پڑھنا چاہیے۔ میں تو یہ کہوں گا کہ جتنا زیادہ آپ پڑھیں گے، اتنا علم وسیع ہوگا۔ ایک مقام پر یہ صلاحیت پیداہوجائے گی، تب آپ ناول کے اچھے یا برے ہونے سے متعلق خود ہی فیصلہ کرسکیں گے۔ میرا تو خیال ہے کہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ پڑھنا چاہیے۔

اقبال: آپ اردو ناقدین سے مطمئن نہیں۔ کیا یہی شکایت ہے کہ وہ پڑھتے نہیں؟
عبداللہ حسین: سست ہیں۔ چالیس سال پرانے دور میںجی رہے ہیں۔ نئی چیزیں پڑھتے نہیں۔

اقبال: بیرونی ادیبوں میں کون پسند ہیں؟
عبداللہ حسین: ولیم فاکنز میرا فیورٹ ہے، لیکن سب سے بڑا ناول نگار تو دوستوفسکی ہے۔ مارکیز کا آج کل Craze ہے، مگر مجھے اس کے ناول سمجھ میں نہیں آئے۔ ہاں، میلان کنڈیرا نے ایک نئی قسم کا ناول ایجاد کیا ہے۔ یہ بڑی بات ہے۔ جیسے میں نے ”فریب“ کی کہانیوں کو دو تین حصوں میں تقسیم کر کے لکھا ہے، پہلے حال کا تذکرہ، پھر ماضی کی کہانی۔ میں نے یہ نیا تجربہ کیا۔ لوگوں نے پسند کیا۔

اقبال: اردو فکشن نگاروں کا اتنا چھوٹا سا قبیلہ، اِس میں بھی گروہ بندیاں؟
عبداللہ حسین: گروہ بندیاں تو ہر جگہ ہوتی ہیں۔ ہمارے ہاں سیاست کی وبا پھیل گئی ہے۔ ذرایع ابلاغ میں سب سے مضبوط ہے ٹی وی۔ اُس پر سیاست کے علاوہ کوئی بات نہیں ہوتی۔ سیاست ہی کو انٹرٹینمنٹ بنا دیا ہے۔ یہ بڑی مصیبت ہے۔ سیاست کی نیچر گروہ بندی ہے۔ تو وہاں سے یہ وبا ادب میں بھی آگئی ہے۔ کراچی والوں سے مجھے شکوہ ہے۔ اردو فکشن میں پنجاب کا بڑا حصہ ہے، جسے آپ نظرانداز نہیں کرسکتے، لیکن آپ ماننے کو تیار نہیں، گروہ بنا لیتے ہیں، تو آپ کو متعصب ہی کہا جائے گا۔ خیر، میری تو یہ لوگ بہت عزت کرتے ہیں۔ اور پھر مجھے اِس عمر میں ان باتوں سے کوئی فرق بھی نہیں پڑتا۔

اقبال: ہمارے ادیب اور شعراءیا تو سوٹ میں نظر آتے ہیں، یا کرتے پاجامے میں، آپ کا لباس سب سے مختلف۔ یہ سہولت ہے یا روایت سے بغاوت کی شکل؟

عبداللہ حسین: مجھے کپڑوں کا کوئی شوق نہیں۔ میں کراچی میں ایک ہوٹل میں ٹھہرا ہوا تھا۔ ہمارے ایک نوجوان دوست میرے کمرے میں آئے۔ میری چپل ٹوٹی ہوئی تھی۔ اُنھوں نے مجھ سے تو کچھ نہیں کہا، مگر اپنے ایک دوست سے کہنے لگے؛ بھئی عبداللہ حسین کی چپل ٹوٹی ہوئی تھی، اُن کے لیے کچھ پیسوں کا انتظام کیا جائے (قہقہہ)۔ تو میرا یہی معاملہ ہے۔ لباس اور کھانے پینے کے معاملے میں رکھ رکھاﺅ کا قائل نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: یہ انٹرویو اجرا میں "کہانی سے مکالمہ" کی سیریز کے تحت شایع ہوا تھا۔

No comments:

Post a Comment