Monday, September 25, 2017

وکلا تحریک کے بعد جج بہت پبلسٹی مائنڈڈ ہوگئے تھے: جسٹس حاذق الخیری

جو ہندوستان میں جھونپڑیاں چھوڑ کر آئے تھے، انھوں نے محلوں کے کلیم جمع کروا دیے


اگر56ءکا دستور قائم رہتا تو پاکستان کبھی نہ ٹوٹتا،تمیز الدین کیس میں فیڈرل کورٹ کا فیصلہ پاکستان کے لیے تباہ کن ثابت ہوا،پارلیمنٹ کے مسائل عدالتوں میں لانا درست نہیں


کرکٹ میچ والے دن تمام مصروفیات ترک کر دیتا ہوں، قانون داں کو ادب اور فلسفہ ضرور پڑھنا چاہیے، بھٹو کیس میں سراسر بے ایمانی ہوئی،جو وکلا جج پر ہاتھ اٹھائےں انھیں عبرت کا نشان بنا دینا چاہیے
سابق چیف جسٹس فیڈرل شریعت کورٹ اور معروف قانون داں، جسٹس (ر) حاذق الخیری سے خصوصی ملاقات
اقبال خورشید

آسمان پر اب بھی بادل تھے۔
صبح کی بارش کے بعد موسم خوش گوار ہوگیاتھا۔ سڑکوں پر کہیں کہیں بارش کا پانی کھڑا تھا۔ ہماری منزل صدر کے علاقے میں واقع الاکو کمپاﺅنڈ تھا، جہاں ایک پرانے دفتر میں، قانون کی کتابوں کے درمیان ایک نابغہ روزگار شخصیت سے ملاقات متوقع تھی۔
 سینئر قانون داں اور سابق چیف جسٹس فیڈرل شریعت کورٹ، جناب حاذق الخیری کا تعلق برصغیر کے ایک معتبر علمی و ادبی گھرانے سے ہے، جس کے حقوق نسواں اور تعلیم نسواں کے لیے شروع کردہ پرچے ”عصمت “نے برصغیر کی خواتین پران مٹ نقوش چھوڑے۔ جی ہاں، وہ معروف ادیب اور مُصلح، علامہ راشد الخیری کے پوتے ہیں۔
آگے بڑھنے سے قبل جسٹس صاحب کے خاندان کا تفصیلی تذکرہ ضروری ۔ وہ علامہ کے بڑے بیٹے مولانا رازق الخیری کے سپوت ہیں، جنھوںنے پاکستان سے عصمت نکالا، اورکراچی میں”علامہ راشد الخیری اکیڈمی“ قائم کی۔ جسٹس صاحب کی والدہ، آمنہ نازلی کا شمار اپنے وقت کی معروف خواتین لکھاریوں میں ہوتا تھا۔ شوہر کے انتقال کے بعد انھوں نے عصمت کی ادارت سنبھالی۔بعد میں بچوں نے اس سلسلے کو آگے بڑھایا۔اچھا، قانون کا شعبہ جسٹس صاحب کا اکلوتا حوالہ نہیں۔بہ طور مدرس بھی پوری ایک نسل کی آب یاری کی۔معروف درس گاہ، ایس ایم لا کالج سے عشروں وابستہ رہے۔ پرنسپل کا عہدہ بھی سنبھالا۔
ادب سے رشتہ پراناہے۔بچپن میں جم کر مطالعہ کیا۔قلم اٹھایا، تو فکشن کی سمت گئے۔ ان کے افسانوں کا ایک مجموعہ شایع ہوچکا ہے۔ ڈرامے بھی لکھے، جنھیں ”وہ آدمی“ کے زیر عنوان کتابی شکل دی۔اس کتاب میں ملا واحدی، آغا ناصراور کمال احمد رضوی جیسی جید شخصیات کی آرا درج ہےں۔ اِس کتاب کا انگریزی میں بھی ترجمہ ہوا۔ آپ بیتی ”جاگتے لمحے“ کے عنوان سے آئی، جسے انتظار حسین اور محمد علی صدیقی جیسی ممتاز شخصیات نے سراہا۔اس کے تین ایڈیشنز شایع ہوچکے ہیں۔
جسٹس صاحب مضبوط عدلیہ کے خواہش مند ضرور ہیں، مگر یہ بھی کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ کے مسائل عدالتوں میں نہیں لانے چاہییں۔”جو مسئلہ پارلیمنٹ میں طے ہونا چاہیے، اس کے لیے عدالتوں کا رخ کرنا درست نہیں۔ مولوی تمیز الدین کیس لے کر عدالت میں آگئے۔ اُنھیں کیا ملا؟ منتخب نمایندوں کا کیس عوام کی عدالت میں جانا چاہیے۔پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے، مگربدقسمتی سے پارلیمنٹ کو خود منتخب نمایندے اہمیت نہیں دیتے۔ آج کتنے ممبر پارلیمنٹ میں آتے ہیں؟“
اب کچھ دیر ٹھہر کر ان کے حالات زندگی پر نظر ڈال لی جائے


٭ کوچہ چیلال، کرکٹ اور کشمیر
وہ 5 نومبر 1931 کوکوچہ چیلال، دہلی میںپیدا ہوئے۔ ادھر مسلمانوں کی اکثریت تھی۔ گودادا( علامہ راشد الخیری ) کے انتقال کے وقت عمر چار برس تھی، مگر بگھی میں اُن کے ساتھ جو سفر کیے،ان کی ہلکی ہلکی جھلکیاںذہن میں محفوظ ہےں۔ والد کو ایک اصول پسند شخص کے طور پر یاد کرتے ہیں۔والدہ کے بے حد قریب تھے۔بتاتے ہیں، بچوں کی پرورش ان کے ذمے تھی۔ پھر گھر کا انتظام اور ادبی سرگرمیاں بھی تھیں، مگر انھوں نے کمال مہارت سے سب میں توازن قائم رکھا۔
یوں تو ذہین تھے، مگر طالب علم کوئی خاص نہیں تھے۔ ہم نصابی سرگرمیوں میں زیادہ دل چسپی تھی۔ میچز کی کمنٹری پورا گھر بڑی توجہ سے سنا کرتا۔اینگلو عربک اسکول، دریا گنج کے وہ طالب علم تھے۔ اُس کی کرکٹ ٹیم کے کپتان بھی رہے۔ گھر سے نکلنے والے جرائدکے علاوہ دیگر کتب بھی مطالعے میں رہتیں۔ گرمیوں کی چھٹیاں یہ گھراناکشمیر، مسوری اور نینی تال میں گزارتا تھا۔ آٹھ بہن بھائیوں میں جسٹس صاحب کا نمبرتیسرا ہے۔ بڑوں کے مانند اِس خاندان کے بچوں نے بھی اپنے اپنے شعبوں میں نام کمایا۔ بڑے بھائی سعد راشد الخیری فارن سروس سے متعلق رہے۔ طارق الخیری ”عصمت“ سے وابستہ رہے۔ شارق الخیری نے بینکنگ سیکٹر میں زندگی گزاری۔ ان کی ایک بہن رازقہ خیری دست کاری اور گھریلو صنعتوں کے مشہور پرچے ”جوہر نسواں“کی مدیر رہیں۔ صائمہ خیری بہت اچھی شاعرہ تھیں۔ زائرہ خیری نے تدریس کا پیشہ اپنایا۔صفورا خیری نے صحافت کے میدان میں جھنڈے گاڑے۔


٭ہجرت، وکالت اور پہلی فیس
جن اسباب نے خاندان کو ہجرت کی تحریک دی، ان میں ایک سبب یہ بھی تھا کہ والد کو ہندوستان میں اردو کا مستقبل مخدوش دکھائی دیتا تھا۔پہلے خود کراچی آئے۔ یہاں زمین خریدی۔ 12 اگست 47ءکو حاذق الخیری کا خاندان دہلی اسٹیشن سے ٹرین میں سوار ہوگیا۔ ٹرین چلی ضرور، مگر چند گھنٹوں بعد اسٹیشن لوٹ آئی ۔اوریہ ان کی خوش قسمتی تھی کہ حالات بگڑ چکے تھے،اور ان کی ٹرین سے پہلے روانہ ہونے والی ٹرینیں پنجاب میں کٹ گئی تھیں۔کچھ عرصے بعداُن کا خاندان بہ راستہ کھوکھرا پار کراچی پہنچا۔ اوائل میں رشتے داروں کے ہاں قیام کیا۔
ہجرت کے بعد خاندان نے کراچی میں ڈیرا ڈال لیا۔حاذق الخیری نے جیکب لائن اسکول سے میٹرک کیا۔آرٹس سے 54ءمیںگریجویشن کیا۔جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز اورسندھ مسلم لا کالج سے قانون کی ڈگری لی۔ نظریاتی جُھکاﺅ اس زمانے میں لیفٹ کی جانب تھا۔ کافی ہاﺅس میں لیفٹ والوں کے ساتھ نشستیں ہوتی تھیں، مگر وہ کسی تنظیم کے رکن نہیں رہے۔
معروف قانون داں جسٹس نور العارفین کی سرپرستی میں تربیتی مراحل طے ہوئے۔الاکو کمپاﺅنڈسے (جہاں ہماری ان سے ملاقات ہوئی) پریکٹس شروع کرنے والے پہلے وکیل تھے۔بعد میں ادھر کئی وکلا نے دفتر کر لیے۔ اس کمپاﺅنڈ کی شہرت کا حوالہ یہ بھی ہے کہ ”اولڈ اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن آف کراچی یونیورسٹی“ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس وہاںہوا کرتے تھے۔ ”یونی کیرینز“ کی بنیاد بھی وہیں رکھی گئی۔ ”عصمت“ کا دفتر تو آج بھی وہیں ہے۔وکالت کے آغاز میں انھیں فیس مانگتے ہوئے جھجک محسوس ہوتی تھی، تو کئی کیس مفت لڑے۔ اسی وجہ سے والد ازراہ مذاق انھیں ”مفتی حاذق الخیری“ کہا کرتے تھے۔خیر،مارشل لا کے زمانے میں ایک کرمنل کیس سے اُن کے سفر کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ پہلی فیس 500 روپے تھی۔ 

٭وکیل سے محتسب اعلیٰ اور پھر چیف جسٹس

تیزی سے کامیابی کے زینے عبور کیے۔ 61ءمیں ایس ایم لا کالج میں پڑھانا شروع کیا۔81ءمیں وہ اس  پرنسپل ہوگئے۔بار کی سیاست میں پیش پیش رہے۔ 73-74 میں ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکریٹری ہوئے۔ سندھ بار کونسل کے ممبر رہے۔ 88ءمیں وہ سندھ ہائی کورٹ میں جج ہوگئے۔ 93ءمیں ریٹائرمنٹ کے بعد پھرپریکٹس شروع کر دی۔ سرکار ان کی صلاحیتوں کی معترف تھی۔ 99ءمیں وہ محتسب اعلیٰ، سندھ ہوگئے۔ 2004 میں اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبر بنے۔ اس کی لیگل کمیٹی کے چیئرمین رہے۔ ویمن پروٹیکشن ایکٹ 2006 اُنھوں نے ڈرافٹ کیا۔ یہ موقف اختیار کیا کہ ہمارے قوانین میں جو سزائیں ہیں، ان میں سے چند اسلام کے منافی ہیں۔ زنا کا الزام عائد کرنے والوں پر، تھانے کے بجائے چار گواہوں کے ساتھ سیشن جج کے پاس جا کر شکایت درج کروانا لازم ٹھہریا ۔ اِس اقدام کواُن کے مطابق شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا، مگراِس کے بعد زنا کے الزامات میں واضح کمی آئی۔

5 جون 2006 کو انھوں نے چیف جسٹس فیڈرل شریعت کورٹ کااہم ترین منصب سنبھالا۔اصول پسند آدمی ہیں۔گو شرط نہیں تھی، مگر انھوں نے اسلامی نظریاتی کونسل کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔جون 2009 تک وہ اِس کلیدی عہدے پر فائز رہے۔ پھر واپس الاکو کمپاﺅنڈ لوٹ آئے۔


٭ذکر دو بڑے فیصلوں کا
فیدڑل شریعت کورٹ کے تجربات بھی زیر بحث آئے۔ کہتے ہیں،اگر کسی پاکستانی شہری کے نزدیک کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف ہو، تو اُسے فیڈرل شریعت کورٹ میں چیلنج کیا جاتا ہے۔ جیسے ضیا دور میں یہ قانون آیا کہ شراب پینے والے کی ضمانت نہیں ہوگی، اور اُسے 80 کوڑوں کی سزا دی جائے گی۔ اِس کے خلاف پٹیشن دائر کی گئی۔ ہم نے پٹیشنر کو سنا، علماسے مشاورت کی، اپنے طور پر تحقیق کی۔ فیصلہ دیا کہ یہ قانون قرآن اور سنت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ شریعت کورٹ نے اسے ختم کر دیا۔ اس پر میرے خلاف خاصا پروپیگنڈا ہوا۔ “
اعضا کی خریدو فروخت پر جب پابندی عائد ہوئی، توفزیشنز اور سرجنز کی تنظیموں نے ایک پٹیشن دائر کی،جس میں ایک آیت کو حوالہ بنایا گیا۔ ڈاکٹرادیب رضوی بھی اِس کیس میں Appear ہوئے، اور موقف اختیار کیا کہ اگر جان ہی بچانی ہے، تو اعضا رضاکارانہ طور پردیے جائیں،اِسے کاروباراور تجارت نہ بنایا جائے۔فیڈرل شریعت کورٹ نے بھی یہی فیصلہ سنایا، اور قانون کو قائم رکھا۔

٭ مطالعہ، جج کے لیے ضروری
جسٹس صاحب کے نزدیک اگر کسی قانون داں نے ادب اور فلسفہ نہیں پڑھا، تووہ نامکمل وکیل اور جج ہوگا۔ مطالعہ لازم ہے کہ اس سے جج کا ویژن وسعت اختیار کرتا ہے۔ انھوں نے بھی کیریر کے کسی موڑ پر ادب سے رشتہ کمزور نہیں ہونے دیا۔ پہلا افسانہ ”ساقی“ میں شایع ہواتھا۔61ءمیں افسانوں کا مجموعہ ”گزرتی شب“ کے عنوان سے چھپا۔ بعد میں ڈرامے کے شعبے میں طبع آزمائی کی۔ 68ءمیں پی ٹی وی کے لیے تبدیلی دماغ جیسے اچھوتے موضوع پر قلم اٹھایا، اور ”وہ آدمی“ تحریر کیا۔ ڈراما”دوسری کہانی“ عصمت میںچھپا۔لکھنے کا سلسلہ اب بھی جاری۔
ہم نے پوچھا،آپ نے مطالعہ بھی خوب کیا، لکھا بھی جم کر، کیا نوجوان وکلا مطالعے کے شایق ہیں؟کہنے لگے،”حکومت نے لا کے اداروں کی جانب کبھی توجہ نہیں دی۔ ہمارے زمانے میں انگریزی میں لیکچر ہوتے تھے، جو طلبا کی اکثریت سمجھنے سے قاصر رہتی۔آج بھی بیش تر طلبا نقل کرکے پاس ہوتے ہیں۔ اب ایسے لوگ بھلا کیا وکالت کریں گے، اورکیا جج بنیں گے۔“ ہم نے وکلا گردی سے متعلق سوال کیا، تو بولے،”وکلا کو حق ہے کہ جج پر نظر رکھیں، مگر ہجوم کی صورت دھاوا بولنا، توڑ پھوڑ کرنا، جج کو زدوکوب کرنا،یہ کہاں کا طریقہ ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ غنڈے، نقل کرنے والے وکالت میں آگئے ہیں۔ میرے نزدیک جو وکلا جج پر ہاتھ اٹھائےں، انھیں عبرت کا نشان بنا دینا چاہیے۔“


٭ دارالحکومت کی منتقلی اور احساس محرومی
ان لوگوں میں سے ہیں، جنھوں نے پاکستان بنتے دیکھا۔اس زمانے کے جوش و جذبے کے گواہ ہیں۔ اسی تناظر میں پوچھا، قیام پاکستان کے مقاصد پورے ہوئے؟ بولے،” یہ وہ پاکستان نہیں، جس کا ہم نے خواب دیکھا تھا ۔تب ہمارے پاس وسائل نہیں تھے، مگر لوگوں میں جذبہ تھا۔ تحریک پاکستان کے قائدین پر کسی قسم کی کرپشن کا الزام نہیں تھا۔ جھوٹے کلیم سے پاکستان میں کرپشن کی بنیاد پڑی۔جو ہندوستان میں جھونپڑیاںچھوڑ کر آئے تھے، اُنھوں نے محلوں کا کلیم جمع کروا دیا۔ ایوب کے مارشل لا سے بگاڑ کا آغاز ہوا۔ اگر56ءکا دستور قائم رہتا، تو پاکستان کبھی نہ ٹوٹتا، کیوں کہ اس میں مشرقی اور مغربی پاکستان کو یکساں اہمیت حاصل تھی،اردو اور بنگالی دونوں کوسرکاری زبان ڈکلیئر کیا گیا تھا۔ عوام کو نظرانداز کرتے ہوئے دارالحکومت منتقل کر دیا گیا۔ ون یونٹ بنایا گیا۔ چھوٹے صوبوں، بالخصوص مشرقی پاکستان میں احساس محرومی پیدا ہوا۔پھر ایوب خان نے اپنوں اپنوں کو نوازا۔ہمارا ایک حصہ کٹ گیا۔پھر صوبائیت کا عیب پیدا ہوگیا۔ ورنہ سن 70 تک کوئی یہ نہیں پوچھتا تھاکہ تم کہاں کے ہو۔“


٭ جج کی حدود اور ڈاکٹر سرٹیفکیٹ
تسلیم کرتے ہیں کہ عدلیہ میں نچلی سطح پر کرپشن ہے۔موقف ہے، کرپشن جو کرے، جس محکمے سے اس کا تعلق ہو، اسے سزا ہونی چاہیے۔انصاف کی فراہمی میں تاخیر کے لیے وہ ڈاکٹر سرٹیفکیٹ کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ بہ قول ان کے، لوگ
پیش نہیں ہوتے، ڈاکٹر سرٹیفکیٹ پیش کردیتے ہیں، وہ بازار سے مل جاتا ہے۔ اب جج اسے رد نہیں کرسکتا۔ اس ضمن میں سختی کی ضرورت ہے۔ جب کوئی بار بار تاریخ مانگے، تو اس پر پینالٹی لگائی جائے ۔ساتھ ججز کی تعداد بڑھائی جائے۔
عدلیہ بحالی تحریک پر اُنھیں اعتراض نہیں، مگر سمجھتے ہیں، جج کو اپنی حدود میں رہنا چاہیے۔” بدقسمتی سے اس تحریک کے بعد جج بہت پبلسٹی مائنڈڈ ہوگئے تھے۔ اخبارات اور چینلز پر ان کے ریمارکس کا ذکر ہونے لگا تھا۔ میں امریکامیں رہا ہوں۔ وہاں کسی کو پتا نہیں ہوتا کہ چیف جسٹس کون ہے۔یہی معاملہ برطانیہ میں ہے۔ وہ خاموشی کے ساتھ انصاف فراہم کرتے ہیں۔“ عام خیال ہے کہ عدلیہ پر اسٹیبلشمنٹ اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی ہے؟ کہتے ہیں،یہ عمومی رائے ہے، مگر اپنے طویل کیریر میں انھیں نہ تو ایسا کوئی مشاہدہ ہوا، نہ ہی تجربہ۔


٭کچھ ہلکی پھلکی باتیں
قانون کے میدان میں وہ جسٹس کارنیلس، جسٹس کیانی، جسٹس حمود الرحمان کو قابل تعریف، قابل تقلید ٹھہراتے ہیں۔ اخبارات باقاعدگی سے پڑھتے ہیں۔ کرنٹ افیئرز کے پروگرام توجہ کا مرکز رہتے ہیں۔ میڈیا کے کردار کو اہم خیال کرتے ہیں۔ شاعروں میں پہلا انتخاب غالب ۔ جگر اور فیض کو بھی سراہتے ہیں۔نثر میں جارج برناڈشا کے مداح۔ افسانے عصمت چغتائی کے اچھے لگے۔مہدی حسن اور اقبال بانو کی گائیکی سے محظوظ ہوتے ہیں۔عام طور سے سوٹ پہنتے ہیں۔ نیلے اور کتھئی رنگ کو ترجیح دیتے ہیں۔ 63ءمیں شادی ہوئی۔ چار بیٹیاں ہیں۔ سب کی شادی ہوچکی ہے۔ زندگی سے مطمئن ہیں۔شفیق والد ہیں۔ بہ قول ان کے، بیگم نے اس سفر میں بہت ساتھ دیا۔ تمام پریشانیوں سے دُور رکھا۔ انتہاپسند ی کو وہ ایک اہم مسئلہ گردانتے ہیں۔ اس ضمن میں نظریاتی محاذ پر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


٭بیماری، میچ دیکھنے کا بہانہ
کرکٹ سے دل چسپی آج بھی قائم۔ جس دن میچ ہو، تمام مصروفیات ترک کر دیتے ہیں۔ اس شوق سے ایک واقعہ بھی جڑا ہے۔ یہ وکالت کے زمانے کی بات ہے۔ بڑے اصول پسند تھے۔ کبھی غیرضروری طور پر جج سے تاریخ نہیں لیتے تھے، مگر کیا کیجیے، اس روز انڈیا پاکستان کا کراچی میں میچ تھا۔بتاتے ہیں،” میں نے ایک دوست کے ہاتھ سول جج، اﷲ نواز صاحب کو ایک درخواست بھجوا دی کہ ’جناب میں بیمار ہوں!‘ اور میچ دیکھنے پہنچ گیا۔ ٹی ٹائم میں، پیچھے سے کسی نے کاندھا تھپکا۔ مڑ کر دیکھا، تو اﷲ نواز صاحب بیٹھے تھے۔ اُنھوں نے خالص لکھنوی انداز میں کہا ’آداب عرض ہے، خیری صاحب ٹھیک ٹھاک ہیں!‘ سچ پوچھیں، تو میں بہت شرمندہ ہوا۔“


٭پاکستانی تاریخ کامہلک ترین فیصلہ
گورنر جنرل غلام محمد کی جانب سے اسمبلی تحلیل کرنا، خواجہ ناظم الدین کو برطرف کرنا اُن کے مطابق پاکستانی تاریخ کا مہلک ترین فیصلہ تھا۔” اسمبلی کے اسپیکر مولوی تمیز الدین نے سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی۔ ہائی کورٹ نے اس فیصلے کو قانون کے خلاف قرار دے دیا۔ حکومت نے اسے فیڈرل (سپریم) کورٹ میں چیلنج کر دیا۔ بینچ کے سربراہ جسٹس منیر تھے۔ انھوں نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو غلط ٹھہرادیا۔اس میں صرف ایک ڈی سیٹنگ فیصلہ تھا، جسٹس کارنیلس کا۔ تو مولوی تمیز الدین کیس میں فیڈرل کورٹ کا فیصلہ پاکستانی کی جوڈیشل تاریخ کے لیے تباہ کن ثابت ہوا۔اِسی سے نظریہ ضرورت کا جنم ہوا۔“ بھٹو کیس میں، ان کے بہ قول، سراسر بے ایمانی ہوئی۔ ”چار ججز کہتے ہیں، گلٹی۔ تین کہتے ہیں، نان گلٹی۔اور ایسے میں انتہائی سزادے دی گئی۔ پھانسی پر چڑھا دیا۔ عمر قید دے دیتے۔ یہ توسراسر زیادتی تھی۔“


No comments:

Post a Comment