Monday, September 25, 2017

کراچی کی سیاست میں پرویز مشرف کا کوئی مستقبل نہیں : فیصل سبزواری

بدعنوانی چاہے کلرک کرے چاہے وزیر اعظم، سب کا احتساب ہونا چاہیے

 

چاہیےپی ایس پی اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی کا تاثر ختم کرنے میں ناکام رہی

 پیپلزپارٹی کا نصب العین ہے کہ شہری سندھ کو محروم رکھو اور دیہی سندھ کے نام پر پیسہ بنا کر ہڑپ کر لو، مہاجر قاتل مہاجر مقتول کی سیاست اب ختم ہونی چاہیے

جب الطاف حسین اور پاکستان کے درمیان انتخاب کا وقت آیا، تو ہم نے پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا، عمران فاروق کے قاتلوں کو جلد از جلد عوام کے سامنے لایا جائے

ایم کیو ایم پاکستان کے مرکزی راہ نما اور سابق صوبائی وزیر، فیصل سبزواری سے اقبال خورشید کی خصوصی ملاقات

 

اُس سہ پہر پھوار پڑ رہی تھی۔

ایم کیو ایم پاکستان کے بہادر آباد میں واقع دفتر میں داخل ہونے کا تجربہ کچھ برس قبل عزیز آباد میں ایم کیو ایم کے سیکریٹریٹ میں داخل ہونے کے تجربے سے یک سر مختلف تھا، جس کے گردسیکیورٹی کا سخت حصار تھا۔ جگہ جگہ بیریئر نصب تھے، جو اُسی وقت کھلتے، جب وہاں تعینات افراد کو اندر سے ہدایت ملتی تھی۔موجودہ دفتر کا معاملہ دیگر ہے۔ ہمیں دیکھ کر چند چہروں پر سوالات ضرور ابھرے، مگر نہ توکوئی روک ٹوک ہوئی، نہ ہی تلاشی لی گئی۔ ابھی ایم کیو ایم کے شعبۂ اطلاعات کے انچارج، امین الحق کا نمبر ڈائل کیا ہی تھا کہ فیصل سبزواری عمارت میں داخل ہوئے۔

وہ کراچی کی سیاست کاایک مصروف دن تھا۔ اُسی روز آفاق احمد نے بیت الحمزہ کی تعمیر کا اعلان کیا، مصطفی کمال نے ایم کیو ایم کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا،اورفاروق ستار نے وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے پی ایس 114 کی مبینہ دھاندلی کے خلاف کورٹ میں جانے کا اعلان کیا۔

فیصل سبزواری کو 22 اگست سے پہلے بھی پارٹی کا معتدل چہرہ تصور کیا جاتا تھا۔وہ باقی راہ نماؤں کے برعکس انتہائی موقف اختیار کرنے سے اجتناب برتتے تھے۔ کراچی قیادت کی بانی قائد سے اظہار لاتعلقی کے کچھ عرصے بعد وہ واپس آئے، اور ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ جا کھڑے ہوئے۔ عام خیال ہے ، اُنھیں نئے سیٹ اپ میں کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ جب یہ سوال کیا، تو ہنسنے لگے،’’ اگرواقعی ایسا ہو، تو مجھے خوشی ہوگی، مگر اس میں حقیقت سے زیادہ ہمارے مخالفین کا گمان اور خوف شامل ہے۔میں ایک چھوٹا ساکارکن ہوں۔ کوشش یہ ہوتی ہے کہ اپنانقطۂ نظر وضاحت کے ساتھ بیان کروں۔54افراد پر مشتمل رابطہ کمیٹی کا رکن ہو۔باقی ارکان کی طرح میرے پاس بھی ذمے داریاں ہیں۔ میڈیا، سوشل میڈیا، طلبا تنظیم ، بلدیاتی، پارلیمانی امور کی نگرانی کرتا ہوں ۔‘‘

پاناما کیس پر بات نکلی، تو کہنے لگے، ’’سیاست سمیت زندگی کے ہر شعبے سے بدعنوانی کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ اگر ہماری عدالتیں اور ادارے خود بدعنوانی روکنے کی کوشش کی ہے، تو یہ اچھی بات ہے۔ جتنے لوگوں نے غیر قانونی دولت کما ئی، ان سے سوال کیا جانا چاہیے۔ ہمارا موقف ہے کہ بدعنوانی چاہے کلرک کرے چاہے وزیر اعظم، سب کا احتساب ہونا چاہیے۔‘‘گو ان کی پارٹی بھی وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر چکی ہے۔ البتہ اس کے نتیجے میں اُنھیں قبل از وقت انتخابات کا امکان دکھائی نہیں دیتا۔

پی ایس 114 میں پارٹی کی کارکردگی بھی زیر بحث آئی۔ بولے،’’انتخابات میں پیپلزپارٹی کے چار کارکنان رنگے ہاتھوں دھاندلی کرتے ہوئے پکڑے گئے، جن میں دو سعید غنی صاحب کے رشتے دار تھے، یعنی یہ طے ہے کہ وہاں دھاندلی ہوئی۔اس سے قطع نظر ایم کیو ایم پاکستان کو جو اٹھارہ ہزارہ سے زاید ووٹ ملے، وہ بہت حوصلہ افزا ہیں، اور اگلے انتخابات میں ہمیں اور آگے لے کرجائیں گے۔‘‘تو کیا لندن کی بائیکاٹ کال بے اثر رہی؟ کہنے لگے،’’اگر بائیکاٹ موثر ہوتا، تو ہمیں اصولاً اٹھارہ سو ووٹ بھی نہیں پڑنے چاہیے تھے۔ ‘‘

ایک مفروضہ ہے کہ اگرایم کیو ایم لندن کو اسپیس دی جائے، تو ایم کیو ایم پاکستان منظر سے غائب ہوجائے گی۔ کہتے ہیں،’’ضمنی انتخابات میں اس مفروضے کو پرکھنے کی گنجائش تھی۔اگر لوگ لندن کی بات سنتے، توبائیکاٹ کرکے گھر بیٹھ جاتے، جیسے اُنھوں نے 93ء اور 2001 میں کیا تھا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ کراچی کے عوام کو مثبت ،عدم تشدد اور عدم تصادم کی سیاست چاہیے، جو ایم کیو ایم پاکستان فراہم کر رہی ہے۔‘‘ہم نے پوچھا، کیا 22 اگست کے بعد الطاف حسین کی مقبولیت اورحمایت میں کمی آئی ؟بولے،’’جب الطاف حسین اور پاکستان کے درمیان انتخاب کا وقت آیا، توہم سمیت اکثریت نے پاکستان کے ساتھ کھڑنے ہونے کا فیصلہ کیا۔ ‘‘

اب کچھ دیر ٹھہر کر اُن کے حالات زندگی پر نظر ڈال لیتے ہیں:

 میرٹھ، ناظم آباد اور چارٹرڈ اکاؤنٹینسی

سن پیدائش:12 اگست 1975 ۔ جائے پیدائش: کراچی ۔ اجداد کا تعلق میرٹھ سے۔ نچلے متوسط طبقے میں آنکھ کھولی۔ناظم آباد میں پروان چڑھے۔ ان تمام مسائل کا سامنا کیا، جو اِس طبقے کے دیگرخاندانوں کو درپیش ہوتے ہیں۔اپنے والد، سید احترام علی سبزواری کو بے روزگاری کا کرب سہتے دیکھا۔ وہ ٹوبیکو انڈسٹری سے منسلک رہے۔اب اپنا چھوٹا سا کاروبار ہے۔ فیصل سبزواری کے بہ قول ، یہی کاروبار اُن کی گزر بسر کا بھی ذریعہ ہے کہ 2002 کے بعد ملازمتیں ترک کر دی تھیں،اور اب کلی طور پر سیاست سے منسلک ہیں۔

ایک بہن دو بھائیوں میں وہ بڑے ہیں۔ بچپن سے پُراعتماد ہیں۔شرارتیں بھی کیں، جن پر سزا ملا کرتی۔ کرکٹ اور ہاکی کھیلا کرتے تھے۔شمار ذہین طلبا میں ہوتا ۔ 91ء میں میٹرک کرنے والے یہ صاحب ہم نصابی سرگرمیوں میں پیش پیش رہے۔ 93ء میں گورنمنٹ کالج ناظم آباد سے پری انجینئرنگ کامرحلہ طے ہوا، تو جامعہ کراچی کے اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کا حصہ بن گئے، مگر پھر یونیورسٹی چھوڑ کر انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان چلے گئے۔ اب PIMSAT سے BBA کیا۔ اکنامکس میں پرائیویٹ امیدوار کی حیثیت سے ماسٹرز کیا۔ چارٹرڈ اکاؤنٹینسی کی مختلف فرم میں ملازمتیں کیں، مگر 2002الیکشن کے بعد یہ سلسلہ ترک ہوا۔


  میں سیاست میں کیوں آیا؟

کم عمری ہی میں پارٹی کا حصہ بن گئے۔ دراصل اُن کے چچا، اسلم سبزواری اور راشد سبزواری ایم کیو ایم سے منسلک تھے۔ جب جب کراچی میں آپریشن ہوتا، اِس گھرانے کو معاشی و معاشرتی مسائل سے نبردآزماہونا پڑتا۔ ایم کیو ایم کی طلبا تنظیم APMSO کا حصہ کالج کے زمانے میں بنے۔ تب آنکھوں میں پائلٹ بننے کا سپنا تھا،لیکن 92ء میں آپریشن شروع ہوگیا، جس کی وجہ سے گھر سے بھاگنا پڑا۔ اس واقعے نے پڑھائی کو خاصا متاثر کیا۔ 96ء میں APMSO کی جانب سے ایم کیو ایم کے شعبۂ اطلاعات میں ذمے داریاں سونپی گئیں۔ 98ء تک اِسی حیثیت سے مصروف رہے۔جب نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں آپریشن ہوا، تووہ دبئی چلے گئے۔ وہاں ایک فرم میں کام کرتے رہے۔ 2000 میں لوٹ کر APMSO کے مرکزی سیکریٹری نشر و اشاعت منتخب ہوئے۔ الیکشن 2002 میں پی ایس 118 کا ٹکٹ ملا۔اس وقت عمرستائیس برس تھی۔ صوبائی اسمبلی تک رسائی ایک خوش گوار لمحہ تھا۔ 2003 میں APMSO کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ مئی 2005 تک یہ ذمے داری نبھائی۔الیکشن2008 میں پی ایس126 گلستان جوہر سے کامیابی اپنے نام کی۔2013 میں بھی اسی حلقے سے فاتح ٹھہرے۔

انتخابی سیاست کے تجربات پوچھے، تو کہنے لگے،انتخابی امیدوار تودولہے کا کردار ادا کرتا ہے، اصل کام یونٹ اور سیکٹر کی سطح پر ہوتا ہے۔’’2002 میں تو لوگ مجھے جانتے ہی نہیں تھے۔ میں بس سے اتر کر پیدل الیکشن آفس تک جاتا تھا۔بعد میں میڈیا کی وجہ سے لوگ پہچاننے لگے ۔‘‘ مئی 2008 میں صوبائی وزیر برائے امور نوجوانان کی حیثیت سے حلف لیا۔ جب وزیر بننے کے بعد سیکریٹری سے پوچھا کہ شعبے میں کیا ہورہا ہے؟ تو پتا چلا کہ نہ تو دفتر ہے، نہ افسر ہے! ترقیاتی فنڈصفرہیں۔انھوں نے اپنے تئیں کوشش کی۔ کیریرکونسلنگ،یوتھ فیسٹولز کا سلسلہ شروع کیا۔یوتھ ڈیویلپمنٹ سینٹرزکے ذریعے نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیاں فراہم کرنے کی کوشش کی۔2013کے انتخابات کے بعد کچھ عرصے وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر رہے۔


  وہ قیامت کے دن

سیاسی سفر میں دو دن بہت کٹھن تھے۔بہ قول ان کے،28 اگست 92 کو ایم کیو ایم کی جانب سے ناظم آباد میں خواتین کی قرآن خوانی کا پروگرام منعقد کیا گیا تھا، جس پر پولیس نے دھاوا بول دیا، اور دو سو سے زاید خواتین کو گرفتار کرلیا گیا۔میرے گھر کی چھ خواتین کو، جن میں میری چھوٹی بہن بھی شامل تھی، جو اسکول کی طالبہ تھی، گرفتار کیا گیا۔ والدہ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ وہ رات بہت بھاری تھی۔ ہمارے گھر کی خواتین تھانے میں بند تھیں، اور ہم کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ اِسی طرح نصیر اللہ بابر کے دور میں7 جولائی 95ء کی رات بھی بہت بھاری تھی، جب میرے چچا کو شہید کیا گیا، جس بہیمانہ طریقے سے اُنھیں قتل کیا گیا، وہ بہت ہی کرب ناک تھا۔‘‘


  بائیس اگست سے پہلے اور بعد کی کہانی

کچھ حلقوں کے مطابق اُن کا ایم کیو ایم پاکستان کا حصہ بننا متوقع تھا کہ لندن قیادت پہلے ہی اُن سے ناراض تھی، رابطہ کمیٹی کی رکنیت معطل کر دی گئی تھی، اور وہ مایوس ہو کر بیرون ملک چلے گئے تھے، مگر فیصل سبزواری اس کہانی کو ذرا الگ انداز میں بیان کرتے ہیں۔ ’’میں 2015 میں ایک ماہ کے لیے پاکستان سے باہر گیا تھا۔ پھرواپس آگیا۔ میری فیملی چلی گئی تھی۔ لوگ کہتے ہیں کہ قیادت مجھ سے ناراض تھی۔ اب میں امریکاگیا ہوں 12 مارچ 2016 کو ،اور اس سے دو روز پہلے براہ راست الطاف حسین کا پیغام آیا،پھررابطہ کمیٹی لندن کی کال آئی۔ وہ مجھے رابطہ کمیٹی میں لینا چاہتے تھے، میں نے معذرت کی کہ میرے بچے پاکستان میں نہیں ، مجھے ان کا خیال رکھنے کے لیے جانا ہوگا۔‘‘

رکنیت کی معطلی کی بابت کہا،’’رات چار بجے ایک خطاب ہورہا تھا۔ میں اس میں نہیں تھا، تو رکنیت معطل کرنے کی بات کی گئی، مگر عملاً ایسا نہیں ہوا۔ الٹا مجھے منا کر واپس لایا گیا۔ میں این اے 246 کی انتخابی مہم میں آگے آگے تھا۔ یہ تو ہوئی پہلی بات۔ دوسری بات یہ ہے کہ میں مارچ میں پاکستان سے گیا، تواپریل میں لندن سے فون کرکے کہہ دیا گیا کہ اب آپ پاکستان نہیں جائیں گے۔ میرے باہر جانے کی وجہ تو سیکیورٹی خدشات تھے، مگر لندن قیادت کواندیشہ تھا کہ اگر میں پاکستان لوٹا، تو پی ایس پی میں شامل ہوجاؤں گا۔ حالاں کہ میرا ایسا کبھی کوئی ارادہ نہیں تھا۔میں 22 اگست کے بعد واپس آیا، کیوں کہ مجھے لگتا تھا ایم کیو ایم کے ووٹرز کو مسائل سے نکالنے کے لیے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔‘‘جب واپس آگئے، اُس کے بعد لندن قیادت نے نہ توکبھی براہ راست نہ ہی بلواسطہ رابطہ کیا۔

 مشرف اور مصطفی کمال

ہم پوچھا کیے، مصطفی کمال سے توآپ کی دوستی ہے، اُنھوں نے کبھی رابطہ نہیں کیا؟ بولے،’’کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی حوالے سے لوگوں نے رابطہ کیا۔ مجھے تک یہ بات پہنچائی، مگر میں اپنے اس فیصلے پر مطمئن ہوں کہ مجھے ایم کیو ایم کے ساتھ ہی اپنی سیاست کرنی ہے۔‘‘سوال کیا، کیا پی ایس پی کو اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ حاصل ہے، تو کہا ،’’ پشت پناہی کا تاثر توعام ہے، جسے وہ ختم کرنے میں سراسر ناکام رہے ہیں۔ اور اب تو ختم کیا بھی نہیں جاسکتا۔‘‘

جب یہ خیال جڑ پکڑنے لگا کہ الطاف حسین سے الگ ہونے والے یونٹ کی قیادت پرویز مشرف سنبھال لیں گے، تو ایم کیو ایم پاکستان نے اس کے رد میں دو ٹوک موقف اختیار کیا۔ فیصل سبزواری کہتے ہیں،’’ احترام ہونا الگ بات ہے، سیاسی طور پر انھیں لیڈر مان لینا الگ بات ۔ مجھے کراچی کی سیاست میں ان کا کوئی مستقبل نظر نہیں آرہا۔‘‘


ایم کیو ایم پاکستان: مسائل اور مستقبل

دریافت کیا، ایم کیو ایم کے لیے اگلا چیلنج کیا ہے؟ بولے،’’ہمیں اپنا تنظیمی اسٹرکچر مضبوط کرنا ہے۔ ہمارے کچھ کارکن پاکستان سے باہر ہیں، کچھ جیل میں ہیں، کچھ ایسے بھی ہیں،جو پی ایس پی یا لندن کے ساتھ ہیں۔ البتہ اکثریت ہمارے ساتھ کھڑی ہے۔اگلے انتخابات کے لیے امیدواروں کے انٹرویوز شروع کر دیے ہیں۔ خواہش یہ ہے کہ دفاتر کھل جائیں، اسیر کارکن رہا ہوجائیں، لاپتا کارکن واپس آجائیں، تاکہ ہم عدم تصادم، عدم تشدد کی مثبت اور ترقی پسندانہ سیاست بھرپور طریقہ سے کر سکیں۔‘‘ایم کیو ایم کے سیکریٹریٹ خورشید بیگم ہال کی تجدید کی خواہش رکھتے ہیں ۔ قانونی راستہ اختیار کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ جب ہم نے 90کا ذکر کیا، تو بولے،’’وہ الطاف حسین صاحب کا گھر ہے۔ اس پر پارٹی کا کلیم نہیں۔‘‘

کیا مستقبل میں پی ایس پی، حقیقی اور ایم کیو ایم کے اتحادکا امکان ہے؟ بہ قول ان کے،’’ہم تصادم نہیں چاہتے، مگر ہم اتحاد بھی کرنا نہیں چاہتے۔ ایک ایجنڈے پر اتفاق کرنے کے لیے تیار ہیں کہ اب مہاجر قاتل، مہاجر مقتول کی سیاست ، تشدد کی سیاست ختم ہو، ا س کے لیے ایم کیو ایم اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔‘‘

ڈاکٹر عمرا ن فاروق کیس کا ذکر ہوا۔ ان کے مطابق اسکاٹ لینڈ یارڈ تفتیش کر رہی ہے، حکومت پاکستان نے یہاں کچھ لوگ پکڑے ہیں۔’’ ہماری خواہش ہے کہ جلد از جلد جن لوگوں نے یہ قتل کیا ہے، جنھوں نے کروایا ہے، انھیں عوام کے سامنے لایا جائے، سخت ترین سزا دی جائے۔‘‘


  وہ پاکٹ منی سے بچوں کے رسائل خریدنا

مطالعے کی عادت وراثت میں ملی۔ دادااورچچاکو پڑھتے ہوئے دیکھا۔ پاکٹ منی سے بچوں کے رسائل خریدا کرتے تھے۔ ایم کیو ایم سے تعلق نے انقلابی شاعری کی جانب متوجہ کیا۔ فیض اور جالب کو پڑھا۔قلمی نام سے مزاحمتی شاعری کرتے رہے۔ مشاعرے پڑھے۔ تخلیقات نے رسائل میں جگہ پائی۔ افتخارعارف ان کے پسندیدہ شاعر ہیں۔ان کا مجموعہ ’’کتاب دل و دنیا‘‘ بہت پسند۔ سبط حسن کی کتابیں بھی مطالعے میں رہیں۔بچپن میں اشتیاق احمد کو پڑھا تھا۔ انگریزی فکشن کا بھی ذائقہ چکھا۔آج کل وہ Lesley Hazleton کی کتابThe First Muslim پڑھ رہے ہیں۔مستقبل میں Confessions of an Economic Hit Man اور نصیر ترابی کی کتاب شعریات پڑھنے کا رادہ ہے۔


بہ طور شاعر مقبول نہیں، غیرمقبول تھا

ایک عرصے سے شعر کہہ رہے ہیں، مگرشعری مجموعہ لانے کا ارادہ نہیں۔ ’’میں اچھا شعر پڑھنے کا شوقین ہوں۔ جب اپنے اشعار پڑھے، تو اندازہ ہوا کہ وہ اتنے اچھے نہیں۔ افتخار عارف کاایک شعر ہے:

زندگی بھر کی کمائی یہی مصرعے دو چار

اس کمائی پہ تو عزت نہیں ملنے والی

تو میرا بھی یہی معاملہ ہے۔‘‘شاعر تھے، وجیہہ تھے، زمانۂ طالب علمی میں طالبات میں مقبول رہے ہوں گے؟ کہنے لگے، ’’نہیں، بلکہ غیرمقبول رہا،کیوں کہ ہم نعرے زیادہ لگاتے تھے، شعر کم پڑھتے تھے ۔پھر کبھی کسی کو متاثر کرنے کے لیے شعر نہیں کہا۔‘‘رکن صوبائی اسمبلی بننے کے بعد مشاعرہ پڑھنے کی کئی بار دعوت ملی، مگر یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ جب وہ رکن اسمبلی نہیں رہیں گے، تب اگر فن کی بنیاد پر دعوت دی گئی، تو ضرور قبول کریں گے۔ہاں، اس زمانے میں ایک آدھ مشاعرے کی نظامت کی۔ ہمیں بھی اپنا ایک شعر سنایا۔

عَلم، لباس، قلم اور چشم غم زدَگاں

ہوئے ہیں سرخ تو لرزا ں ہے کائنات لکھو


  کچھ کھٹی میٹھی باتیں

فیصل سبزواری گرمیوں میں کرتے پاجامے کو ترجیح دیتے ہیں۔ہلکے رنگ بھاتے ہیں۔ معتدل موسم پسند۔ دال چاول سے رغبت ۔ اداکاروں میں نصیر الدین شاہ کو سراہتے ہیں۔ موسیقی سے گہرا شغف ہے۔ زندگی سے مطمئن ہیں۔ اخبارات باقاعدگی سے پڑھتے ہیں۔ سیاحت کا بھی شوق ہے۔دیگر سیاسی جماعتوں کے راہ نماؤں سے بھی اچھی سلام دعا ہے۔ اس ضمن میں عمران اسماعیل ، رانا ثنا اللہ اور مکیش چاؤلا کا نام لیتے ہیں۔

2001 میں شادی ہوئی۔ پسند کی شادی تھی۔ خدا نے تین بیٹیوں سے نوازا۔بچوں سے دوستانہ روابط ہیں۔ گھر والے وقت کی کمی کی اکثر شکایت کرتے ہیں۔ ’’مجھے اِس معاملے کا شدت سے احساس ہے کہ میں مصروفیات کی وجہ سے خاندان کو وقت نہیں دے پاتا۔‘‘

........................................


  فوجی آپریشن اور تحفظات

فوجی آپریشنزسے متعلق کہنا تھا،دہشت گردوں کی سرکوبی کا ٹارگٹ تو کسی حد تک فوج اور پولیس نے پورا کیا، مگر دہشت گردی کی سرکوبی کا مرحلہ ابھی باقی ہے۔’’ کیا یہاں مدرسہ ریفارمز ہورہی ہیں، نصاب میں تبدیلی کی جارہی ہے، کالعدم تنظیموں پر پابندی پر عمل درآمد ہورہا ہے؟ یہ اقدامات دہشت گردی سے نبرد آزماہونے کے لیے ضروری ہیں۔‘‘کراچی آپریشن کے مثبت پہلوؤں کو سراہتے ہیں ، مگر تحفظات بھی ہیں۔ ’’اچھا ہوتا اگر آپریشن کی ایک مونیٹرنگ کمیٹی، ازالہ کمیٹی بنائی جاتی۔ جو زیادتیوں کی شکایات آئی ہیں،اور بعض جگہ بہت جائز شکایات آئی ہیں، انھیں سن لیا جاتا، تو یہ آپریشن زیادہ شفاف اور موثر ہوتا۔ جرائم کی سرکوبی ہوئی ہے، بہت اچھی بات ہے، اسی لیے ہم نے آپریشن جاری رکھنے کی بات کی، ان تحفظات کے ساتھ کہ شکایات کا ازالہ کیا جائے۔اس وقت آٹھ سو سے زیادہ کارکنان جیلوں میں ہیں۔عید سے قبل کراچی جیل سے کالعدم تنظیموں کے کارکنوں کے فرار کے بعد جو آپریشن ہوا، اس کی وجہ سے ایم کیو ایم کے کارکنوں کوشدید اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ سیاسی کارکن ہیں، مگر ان کے ساتھ عادی مجرموں جیسا سلوک ہوا۔‘‘


  انتخابات میں عوام کی رائے سامنے نہیں آتی

پیپلزپارٹی سے متعلق ان کا موقف دو ٹوک ہے۔کہتے ہیں،’’پیپلزپارٹی کا نصب العین یہ ہے کہ شہری سندھ کو محروم رکھو اور دیہی سندھ کے نام پر پیسہ بنا کر ہڑپ کر لو۔ اس بنیاد پر ایم کیو ایم سمیت سندھ کے ہر باسی کا ان سے اختلاف ہے۔ سوائے لوٹ مار کے انھوں نے کوئی کام نہیں کیا۔ان سے مفاہمیت کی کوئی صورت نہیں۔ہاں، اگر وہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ٹھوس کام کریں، تو ہم ان کی تعریف کریں گے۔‘‘

اگر پی پی نے ترقیاتی کام نہیں کروائے، توپھر عوام انھیں ووٹ کیوں دیتے ہیں؟ فیصل سبزواری کے نزدیک اس کی پہلی وجہ تو بھٹو صاحب سے عوام کا رومانس ہے۔’’پھر پیپلزپارٹی نے ہر بار حکومت میں آنے کے بعد چھوٹے بڑے وڈیروں کے ذریعے ووٹ بینک کنٹرول کیا۔ گذشتہ انتخابات میں جو امیدوار پیپلزپارٹی سے ہارے، انھیں بھی پیسے اور عہدے دے کر اپنے ساتھ ملا لیا ۔ توسندھ میں الیکشن Manageکیے جاتے ہیں، عوام کی رائے سامنے نہیں آتی۔‘‘


الطاف حسین سے پہلی... اور آخری ملاقات

فیصل سبزواری نے 87ء میں الطاف حسین کو پاپوش نگرکے ایک جلسے میں پہلی بار دیکھا ۔ 89ء میں عید کے روز نائن زیرو پر مصافحہ کیا۔ 91ء میں جب ان کی عیادت کے لیے گئے، تو پہلی بار مکالمہ ہوا۔ باقاعدہ ملاقات 18 ستمبر 2003 کو ہوئی...اورآخری ملاقات 22 ستمبر 2014 کو لندن میں ہوئی تھی۔وہ رسمی ملاقات تھی۔ درجنوں لوگ تھے۔اس زمانے میں وہ کابینہ میں امور نوجوانان کے مشیر تھے۔بولے، ’’لوگ کہتے ہیں کہ پارٹی مجھ سے ناراض تھی۔ اب 51 ایم پی ایز میں سے صرف چار کو حکومتی عہدہ دیا گیا،اوراس سے پہلے میں لیڈر آف اپوزیشن بھی تھا، اگرپارٹی ناراض ہوتی،تویہ عہدے نہیں دیے جاتے۔ بہرحال، اس روز ان سے چند باتیں ہوئیں۔ مجھے نہیں لگا کہ وہ ناراض ہیں۔ یہ ضرور تھا کہ جس طرح مجھ سے توقع کی جاتی تھی کہ میں میڈیا میں ان کا دفاع کروں، وہ میں نہیں کرپارہا تھا،اور کربھی نہیں سکتا تھا۔ میرامزاج ذاتیات پر جانے کے بجائے دلیل کے ذریعے بات کرنا ہے۔‘‘


No comments:

Post a Comment