Thursday, September 28, 2017

ایک داستان گو کا تکیہ: اقبال خورشید

 

گیبرئیل گارسیا مارکیز نے کہا تھا ’’میں چے گویرا سے متعلق ہزار سال تک لاکھوں الفاظ لکھ سکتا ہوں‘‘میں مستنصر حسین تارڑ سے متعلق اس نوع کا کوئی دعویٰ تونہیں کرتا ، مگر یقین رکھتا ہوں کہ میرے پاس آپ کو سنانے کے لیے ایک دل چسپی کہانی ہے۔

 

تخلیق چاہے فکشن ہو، رقص ہو یا مصوری۔۔۔وہ مسرت سے جنم لیتی ہے۔ یہ اظہار میں پنہاں مسرت ہے،جو ادیب کولکھنے، شاعر کوگیت سنانے اور مصورکوکینوس پر رنگ سجانے کے لیے اُکساتی ہے۔ہاں، تخلیق منصۂ شہود پر آجائے، تب اُس کی پذیرائی کا تقاضا جنم لیتا ہے، تخلیق کار میں شناخت کی آرزو ہمکنے لگتی ہے اوراس کی تکمیل ضروری۔

اگر قومیں اپنے تخلیق کاروں کا یہ تقاضا پورا نہ کریں، تو دنیا کو بدل دینے والی کتنی ہی کتابیں درازوں میں پڑے پڑے دم توڑ دیں اور معاشرے ترقی کو ترستے رہیں۔آج جو اردوادیب ہمیں ادبی میلوں،کانفرنسوں میں چلتے پھرتے دکھائی دیتے ہیں یا وہ جوکچھ برس پہلے تک دکھائی دیتے تھے، جو اب رخصت ہوئے، اُن میں کچھ نابغے ایسے بھی، جن کی تحریر سے وہ ستھری نکھری خوشی جھلکتی ہے، جس سے وہ لکھتے سمے گزرے، مگر بدقسمتی سے اُنھیں اس معاشرے میں وہ پذیرائی نہیں ملی، جس کے وہ حقدار تھے۔

اس کے کئی اسباب، جیسے ناخواندگی، غربت، ظالم ناشر، غافل حکومت۔ کتنے ہی باصلاحیت تخلیق کار بھلا دیے گئے لیکن ٹھہریے، بے قیمتی اور ناقدری کے اس زمانے میں ایک ادیب ایسا بھی ہے،جس کی کتابیںہاتھوں ہاتھ لی جاتی ہیں۔ لٹریچر فیسٹول میں سیشن ہو، تو مداح امڈ آتے ہیں۔ آٹو گراف کے لیے لائن لگ جاتی ہے۔ مائیں بچوں کو لیے آتی ہیں کہ وہ اُن کے لیے دعا کرے۔ معاملہ یہیں تمام نہیں ہوتاجناب۔ فیس بک پر 70 افراد اُسے فالو کرتے ہیں۔ ’ریڈرز کلب‘ کے نام سے دیوانوں نے ایک گروپ بنا رکھا ہے، جہاں اس کی تخلیقات کا تذکرہ، تجزیہ ہوتا ہے۔۔۔ بلاشبہ یہ مستنصر حسین تارڑ کا تذکرہ ہے۔

گیبرئیل گارسیا مارکیز نے کہا تھا ’’میں چے گویرا سے متعلق ہزار سال تک لاکھوں الفاظ لکھ سکتا ہوں‘‘میں مستنصر حسین تارڑ سے متعلق اس نوع کا کوئی دعویٰ تونہیں کرتا ، مگر یقین رکھتا ہوں کہ میرے پاس آپ کو سنانے کے لیے ایک دل چسپی کہانی ہے۔کراچی لٹریچر فیسٹول میں جب ایک مداح نے اُنھیں’ چاچا جی‘ کہہ کر پکارا، تو یک دم مجھے وہ ٹی وی پروڈیوسر یاد آئی، جس نے یہ کہتے ہوئے مجھ سے اُن کا نمبر مانگا تھا کہ ’ہم چاچا جی کا انٹرویو کرنا چاہتے ہیں‘ میری تارڑ کہانی میں ’چاچا جی‘ کہیں نہیں۔

دراصل میں اُنھیں اس طرح شناخت نہیں کرتا۔ اس مارننگ شو کی یاد، جس میں وہ ہمیں کارٹون دکھایا کرتے تھے، اب میرے ذہن میں دھندلا گئی ہے۔۔۔مطالعے کے ابتدائی زمانے میں گھر کے شیلف میں اُن کی چند کتابیں دیکھیں، پڑھیں بھی، مگرکئی برس بعد جب خود کتابیں خریدنے کے قابل ہوئے،تو ذہن میں اُن کی شبیہ ایک ایسے مقبول سفرنامہ نویس کی تھی، جس کی کتابیں انتظارحسین اور عبداللہ حسین سے زیادہ فروخت ہوتی ہیں۔

میرے سر میں فکشن پڑھنے کا سودا سمایا تھا اورمجھے خبر ہی نہیں تھی کہ تارڑ صاحب فکشن بھی لکھتے ہیں۔ بھلا ہو اُس بزرگ نقاد کا، جس نے میری توجہ اُن کے فکشن کی سمت مبذول کروائی۔اُس نقاد نے آدھی زندگی انگریزی ادب پڑھایا، آدھی زندگی اردو ناول پر تحقیق کی، مگر شہرت کی دیوی کو لبھانے کی کوشش نہیں کی کہ وہ ایک شریف آدمی ہیں اور شہرت کی دیوی فقط لڑاکا، ضدی اور زودرنج نقادوں پر مہربانی ہوتی ہے۔

خیر، موئن جودڑو اور ہڑپا مجھے اپنی اُور کھینچتے تھے، ایسے میں ڈاکٹر ممتاز احمد خان کا وہ مضمون پڑھا، جو ’بہاؤ‘ پر تھا۔یہ وہ زمانہ ، جب مجھے صحافت میں تین برس ہوگئے تھے اور میں خود بھی فکشن لکھنے لگا تھا۔ جب خبر ہوئی کہ یہ موئن جودڑو کے زمانے کومنظرکرتا ہے، تو دل چسپی اوج پر پہنچی۔ دوڑا دوڑا گیا۔ ناول لے لیا اور پھر میں خس وخاشاک ہوا۔

اس پورے بیان کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ میں تارڑ کے ان عشاق میں سے نہیں جوعشروں سے اُن کے لکھے ہوئے ہر لفظ کو، چاہیے سفرنامہ ہو، ناول ہویا کالم، آنکھوں سے لگاتے آئے ہیں۔ میرے سمبندھ کے آغاز اُن کی سب سے اہم اور پرپیچ تخلیق’ بہاؤ‘ سے ہوتا ہے۔ اس تمہید کا مقصد یہ واضح کرنا بھی ہے کہ جب میں نے ’بہاؤ‘ پڑھا، تب تک میں آگ کا دریا، اداس نسلیں، بستی اور ’راجہ گدھ‘ کے علاوہ کئی غیرملکی شاہکار پڑھ چکا تھا۔یعنی میں کسی سے مرعوب ہونے کو تیار نہیں تھا، مگر جیسا میں نے کہا اس ناول نے مجھے خس وخاشاک کردیا۔ پھر قلعہ جنگی، ’ڈاکیا اور جولاہا‘ اور’ راکھ‘ پڑھے۔

ان سے ملنے، سوال کرنے کی ہوک بڑھتی گئی۔ بالآخر لاہورکی ایکسپریس اردو کانفرنس میںیہ مرحلہ طے ہوا ۔ ایک طویل مکالمہ ہوا۔ صحافتی سفرمیں سیکڑوں انٹرویوزکیے ہیں، جنھیں پسند بھی کیا گیا، مگر جتنا فیڈ بیک تارڑ صاحب کے، اجرا کے لیے کیے جانے والے انٹرویوکا ملا، اس کی مثال ملنا مشکل ۔ سب سے بڑا Compliment خود تارڑ صاحب کی جانب سے آیا تھا۔(اس کا تذکرہ پھر کبھی سہی)’بہاؤ‘ کا ذکرتو ہوگیا، مگر یہ’ اے غزال شب‘ ہے، جو موضوع کے اعتبار سے ان کی اہم ترین تخلیق۔

یہ قرض بھی تھا کہ جن ادیبوں نے سوویت یونین کا عروج دیکھا، وہ اس کا زوال آتے آتے لکھنا لگ بھگ ترک کرچکے تھے یا پھر ماضی کی یادوں میں خود کو مطمئن پاتے تھے۔ مارکیز ناول کے ابتدائیہ کو خصوصی اہمیت دیا کرتا تھا، یہی معاملہ تارڑ صاحب کا بھی ہے۔ انھوں نے چند متاثرکن ابتدائیہ لکھے، مگراس ضمن میں ’ڈاکیا اور جولاہا‘زرخیز تخیل اور تخلیقی اپچ کی انتہا ہے، ایک ناممکن صورت حال۔ ہم نے اپنے گزشتہ کالم میں لکھا تھا کہ اچھا ادیب کبھی پڑھنے والے کو خود تک محدود نہیں رکھتا، دیگر ادیبوں کو پڑھنے پر اُکساتا ہے۔

البتہ بڑا ادیب وہ ہے، جوایک قدم اور آگے بڑھے۔ آپ کی مطالعے کی کشتی کو مقامی ادب کے دریا سے نکال کر بین الاقوامی سمندرمیں لے جائے۔ اب بانو قدسیہ کو پڑھیں، تواشفاق احمد، ممتاز مفتی اور قدرت اللہ شہاب کو پڑھنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے، اور تارڑصاحب کو پڑھیں، تو مارکیز، ہوزے سارا ماگو اور اورحان پامک کو پڑھنے کی آرزو زور مارتی ہے، فرق واضح ہے۔

داستان گوئی اور زندہ دلی پنجاب کے خمیر میں ہے، تارڑ اُسی خمیرسے گندھے ہوئے ہیں۔ جب وہ 75 برس کے ہوئے، تو میں نے’ ساڑھے سات عشروں پر محیط اڑان‘ کے نام سے ایک مضمون لکھا تھا۔ اب تووہ 77 برس کے ہوگئے ہیں،آپریشنز سے بھی گزر چکے ہیں، مگر جتنی گرم جوشی اُن میں اِس بڑھاپے میں ہے، میں جوانی میں بھی اِس سے محروم ہوں۔

یہی گرم جوشی اور محبت انھیں ہردل عزیز بناتی ہے۔ کراچی میں بسنے والے محبت سے تولبریز ہیں، شائستہ ہیں، مگر شاید ہجرت، سیاسی انتشار، سبزے اور دریا سے دوری نے اُن کی شگفتگی اورگرم جوشی چھین لی۔ان کا شکریہ کا وہ اپنی زندہ دلی کا تحفہ لیے کراچی آتے ہیں اور جاتے ہوئے گرم جوشی چھوڑ جاتے ہیں۔

اچھا، ان کے عاشقوں نے ’’تکیہ تارڑ‘‘کے نام سے ایک گروپ بنا رکھا ہے، جس کے تحت وہ مختلف شہروں میں کبھی میوزیم،کبھی لائبریریوں،کبھی پارک، کھنڈر، دریا کنارے، پہاڑ کی چوٹی پر اور کبھی ایک سے دوسرے شہر کی سمت جاتی بس میں اکٹھے ہوتے ہیں۔ تارڑ صاحب کی کتابوں سے اقتباسات پڑھتے ہیں، اپنے تجربات بیان کرتے ہیں۔ خوشیاں بانٹتے ہیں اور یوں خوشیاں بڑھنے لگتی ہیں۔

گزشتہ اتوارکراچی میں تکیہ تارڑکا ایونٹ منعقد ہوا، تو مجھے بھی دعوت نامہ ملا، جس نے تجسس سے بھر دیا۔ بڑے اشتیاق سے شارع فیصل پر واقع ہمدرد یونیورسٹی پہنچا۔ ایک چھوٹا سا ہال عشاق تارڑسے بھرا تھا۔ ہر چہرے پر مسرت، آنکھیں دمکتی ہوئی۔ لہجے مسرور۔اس روز یکم مارچ کو آنے والی سال گرہ کا کیک کاٹا گیا۔ وہاں عقیدت اورمحبت کے جومظاہرے دیکھے،جو مسرت فضا میں تیر رہی تھی، اس کے تذکرے کے لیے الگ دفتر درکار۔ زندگی رہی، تو پھر بات ہوگی۔

No comments:

Post a Comment