Monday, September 25, 2017

اردو ادب پرلاہور نے گہرے اثرات مرتب کیے: اسد محمد خاں


جب تک مطمئن نہ ہوں، افسانہ چھپنے کے لیے نہیں دیتا


قرة العین حیدرایک پورا عہد ہیں، انتظار حسین اردو کاسرمایہ تھے
میرا نظریہ اتنا ہے کہ ادیب بے باکی سے اپنے دل کی بات کہہ دے
 جاگیر داری ملک کا بنیادی مسئلہ ہے، سیاست دانوں کے دعوے سن کر دُکھ ہوتا ہے
فکشن، ڈراما اور گیت نگاری کی ممتاز شخصیت ،اسد محمد خاں سے ایک ملاقات
اقبال خورشید

 


مستنصر حسین تارڑ اُنھیں اردو کا سب سے بڑا افسانہ نگار قرار دیتے ہیں۔محمد حنیف اُن کے افسانوں کوعالمی معیار کا پاتے ہیں۔ نیر مسعود کہا کرتے تھے: ” تمھاری نثر مجھے ہلا دیتی ہے۔“احمد ندیم قاسمی نے اُن کے ایک افسانے پر یوں رائے دی: ”اردو میں اگر افسانے کی صنف متروک بھی ہوگئی، تب بھی یہ افسانہ دائمی زندہ رہے گا۔“
ویسے اُنھیں اسناد کی ضرورت نہیں۔ تمغہ ¿ امتیاز ،شیخ ایاز ایوارڈ، دوحہ فروغ ادب ایوارڈ اور 2003 کی بہترین تصنیف کا بابائے اردو ایوارڈ، جو اُن کے مجموعے ”نربدا“ کو ملا تھاکا تذکرہ بھی ضروری نہیں۔ بس یہ کہہ دینا کافی ہے کہ وہ ”باسودے کی مریم“ اور” مئی دادا“ جیسی لازوال کہانیوں کے مصنف ہیں۔ 
ڈراما اور گیت نگاری اُن کے مقبول حوالے۔ریڈیو اور ٹی وی کے لیے لکھے گیتوں کی تعداد ڈیڑھ سو ہے۔ان میں ”انوکھا لاڈلا“، ”موج بڑھے یا آندھی آئے “، ”زمیں کی گود رنگ سے امنگ سے بھری رہے“ اور ”تم سنگ نیناں لاگے“ جیسے یادگار گیت شامل ہیں۔ ان کے ڈراموں نے بھی لاکھوں کو گرویدہ بنایا۔”شاہین“، ”منڈی“، ”الزام“، ”سفر“، ”دل دریا“، ”پارٹیشن ایک سفر“، ”زبیدہ“ اور ”شیر شاہ سوری“ اسی جید قلم کار کے کارنامہ ہیں۔ البتہ اصل حوالہ تو فکشن ہی ہے۔”مریم کے خیال میں ساری دنیا میں بس تین ہی شہر تھے۔ مکہ، مدینہ اور گنج باسودہ۔“اگرآپ نے ان کے قلم سے نکلی یہ سطر پڑھ لی، تو سمجھیں کہ اب فرار کا کوئی راستہ نہیں۔ افسانے سے بندھے آپ اختتامیے تک جائیں گے،”باسودے کی مریم“ کے معتقد ہوجائیں گے۔ ان کا اسلوب بڑا گتھا ہوا ہے۔ کردار یادگار ۔ لہجوں پر گرفت حیران کن۔ کہیں ہندی کا برتاﺅ، کہیں مزاح۔ الغرض پُرقوت افسانے لکھے۔اور یہ پختگی بے سبب نہیں۔ لغت دیکھتے رہتے ہیں۔کئی کئی بار لکھتے ہیں۔ جب تک مطمئن نہ ہوں، افسانہ چھپنے کے لیے نہیں دیتے۔سمجھ لیجیے، کہانی آخری وقت تک مانجھتے رہتے ہیں۔
نوجوانی میں وہ کامریڈوں کا ساتھ دینے پر گرفتار ہوئے ،ترقی پسند ادیبوں کو سراہتے ہیں،مگرافسانے پر مقصد کے غلبے کے قائل نہیں۔سمجھتے ہیں، اگر بین السطور بات کہہ دی جائے، تو پھرافسانے کو اشتہار بنانے کی ضرورت نہیں رہتی۔اسی وجہ سے انھیں عزیز احمد پسند ۔ اپنی بابت کہتے ہیں،”توتے کی طرح ایک بات رٹتے چلے جانے سے مجھے الجھن ہوتی ہے ۔میں نے پڑھا سب کو، مگر کسی کی تقلید نہیں کی۔ اپنا اسلوب بنایا۔ میرا نظریہ اتنا ہے کہ ادیب بے باکی سے اپنے دل کی بات کہہ دے۔“
کچھ کتابوںکا تذکرہ ہوجائے۔82ءمیں ”کھڑکی بھر آسمان“ (افسانے، نظمیں) شایع ہوئی۔ پھر افسانوی مجموعے”برج خموشاں“ اور ”غصے کی نئی فصل“ منظر عام پر آئے۔ ”رکے ہوئے ساون“ گیتوں کا مجموعہ تھا۔ ”نربدا اور دوسری کہانیاں“ 2003 میں شایع ہوئی۔ اُس وقت تک تحریر کردہ افسانے ”جو کہانیاں لکھیں“ کے نام سے چھپے۔ اُسی میں ”ٹکڑوں میں کہی گئی کہانی“ کے زیرعنوان سفرنامے اور تحریریں شامل تھےں۔ پھر ”تیسرے پہر کی کہانیاں“ اور ”ایک ٹکڑا دھوپ کا“ کی اشاعت عمل میں آئی۔ان کی تخلیقات انگریزی، ہندی، گجراتی، پنجابی، مراٹھی اور دیگر زبانوں میں ڈھل چکی ہیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے The Harvest of Anger & Other Stories کے زیر عنوان اُن کی 12 کہانیاں شایع کیں۔
اب اُن کے حالات زندگی پر نظر ڈال لیتے ہیں

٭ جب نواب کے نام کا خطبہ پڑھا جاتاتھا
وہ بانی ریاست بھوپال، سردار دوست محمد خاں کی نویں پیڑھی سے ہیں۔ 26 دسمبر 1932 کو قبیلہ اورک زئی کی شاخ میرعزیزخیل میں پیدا ہوئے۔ بتاتے ہیں، ریاست بھوپال تقسیم کے دو برس بعد ہندوستان میں ضم ہوئی تھی۔ اِس سے قبل نماز جمعہ میں نواب کے نام کا خطبہ پڑھا جاتاتھا۔ اُن کے والد، عزت محمد خاں فن مصوری کے شائق تھے۔ یہی شوق ٹیگور کے مشہورادارے شانتی نکیتن لے گیا، مگر اُن کے دادا، کمال محمد خاں کے قریبی دوست، ٹھاکر جگن پورہ نے یہ پاٹ پڑھا کر کہ”ہندو دھرم کا ستیاناس کرنے کے بعد ٹیگور مسلمانوں کو گم راہ کریں گے“ کمال محمد خاں کو قائل کر لیا کہ وہ بیٹے کو واپس بلوا لیں۔ عزت محمد خاں کا اس بات کا دکھ رہا۔ خیر، وہ ایک اسکول میں آرٹ ماسٹر ہوگئے۔مصوری بھی کرتے رہے۔ انھیں خدا نے اسد محمد خاں سمیت پانچ بیٹوں، پانچ بیٹیوں سے نوازا تھا۔
خاں صاحب بچپن میں کبھی نچلے نہیں بیٹھے۔ والدہ کے ذریعے اکثر والد کا پیغام ملتا: ”میاں شرارتیں چھوڑ دو، ورنہ خوب دُرگت بنے گی۔“مگر وہ باز نہیں آتے۔ بھوپال میں ہاکی کا کھیل بہت مقبول تھا۔ اوروں کے مانند انھوں نے بھی ہاکی کھیلی۔ 1949 میں میٹرک کیا۔پھربھوپال کے حمیدیہ کالج میں داخلہ لے لیا۔

٭ مصور باپ کا سوشلسٹ بیٹا 
والد توکانگریسی تھے، مگرخاندان میں مسلم لیگ کے لیے بھی خاصی قبولیت پائی جاتی تھی۔ جہاں تک اسد محمد خاں کا تعلق ہے، وہ تو نوجوانی میں سوشلسٹ ہوگئے تھے۔ یہ قصہ دل چسپ ہے۔حکومت نے کمیونسٹ پارٹی پر پابندی لگا دی ، تو کامریڈوں نے اسٹڈی سرکل بنا کر لیکچرز کا سلسلہ شروع کر دیا۔ بھوپال میںجب یہ لیکچرز ہوئے، تو وہ بھی شریک ہوئے۔ ذہن تبدیل ہوتا گیا۔جلد کمیونسٹوں کا حصہ بن گئے۔پوسٹرز لکھے کا کام انھیں سونپا گیا۔ایک مسجد کے باہر پوسٹر لگاتے ہوئے پولیس نے پکڑ لیا۔والدجانے مانے آدمی تھے، ماموں ایس ایس پی تھے، مگر انھوں نے خاندانی حوالہ نہیں دیا کہ ذہن پر نظریات سوا ر تھے۔آخر ایف آئی آر کٹ گئی۔ماموں نے فوراً لوٹ کر کیس اپنے ہاتھ میں لیا۔ ذرا پیشی کا منظر تو دیکھیں: ماموں کچھ دورکرسی پر براجمان ہیں، ایک اے ایس آئی کے ذریعے وہ بھانجے سے سوالات کررہے ہیں، اور ہر سوال کے جواب میں اسد محمد خاں کامریڈوں والے نظریات بیان کررہے ہیں۔ ماموں کو ہنسی آرہی ہے، مگر ضبط کیے بیٹھے ہیں۔خیر ، دو ہفتے تک اڑے رہے۔ پھر محلے کا ایک شخص، جو درحقیقت خفیہ پولیس میں تھا، کامریڈ کے روپ میں ملا، والدہ کی بیماری کا حوالہ دیا اورمعافی نامہ لکھوا لیا۔اس بات پر کامریڈ بہت ناراض ہوئے۔ دھمکیاں ملنے لگیں۔ادھر تایا کا اصرار تھا کہ ان لوگوں کے نام بتاﺅ، جنھوں نے تمھیں اِس راہ پر ڈالا، ان کی ٹانگیں توڑ دیں گے۔ حالات بگڑتے دیکھ کر والد نے کہا،اب یہاںرہنا ٹھیک نہیں۔ یا تو ممبئی جاﺅ یا پھر بڑے بھائی، عظمت محمد خاں کے پاس پاکستان چلے جاﺅ۔“انھوں نے پاکستان کا انتخاب ہوا۔

٭جب سوٹ کیس چوری ہوگیا
لوگوں نے کراچی جانے کا مشورہ دیا ، مگر ان کا دل لاہورمیں اٹکا تھا۔وہ شہر، جس کا کرشن چندراور منٹو کے افسانوں میں تذکرہ ملتا ہے۔ ادھر رشتے کے ایک ماموں بھی مقیم تھے۔کھرکھرا پار سے وہ حیدرآبادپہنچ۔ اسٹیشن پرپوٹلی سر کے نیچے رکھ کر سو گئے۔ کوئی اُن کا سوٹ کیس لے اڑا۔ خوشی قسمتی سے کزن کے مشورے پر سوٹ میں رکھے پیسے بروقت نکال لیے تھے ۔یوں بچت ہوگئی۔ حیدرآباد سے ایک نیا جوڑا خریدا، اورلاہورکا رخ کیا۔ماموں سے ملے۔ پھر سیالکوٹ گئے، جہاں بھائی زیر تعلیم تھے۔ دو قسطوں میں وہ ڈیڑھ برس لاہور میں رہے۔ مال روڈ کے چکر لگایا کرتے تھے۔وہاں نصب مجسموں کا بھی اپنے مخصوص ڈھب پر تذکرہ کرتے ہیں۔ منٹو کو بھی دیکھا۔پنجابی سیکھی۔ کچھ عرصے ریلوے سے وابستگی رہی۔ پھر بھائی کی بیماری مستقلاً کراچی لے آئی۔ یہاں عظمت صاحب کا انتقال ہوگیا۔ اس سانحہ کا سترہ اٹھارہ سال کے اسد محمد خاں نے تنہا مقابلہ کیا۔کچھ عرصے والدین سے بھی یہ خبر چھپائی۔ کہتے ہیں،”کراچی نے مجھے بڑا حوصلہ دیا۔ میں نے خود سے کہا، یہ ہمارا شہر ہے، اب یہاں جم کے رہنا ہے۔“
بعد کی زندگی یہیںگزری۔ہاں، بھوپال آنا جانا رہا۔ لیاقت آباد میں محکمہ ¿ آباد کاری سے ایک پلاٹ مل گیاتھا۔ وہاں کچا مکان بنا لیا۔ گریجویشن کے بعد جامعہ کراچی کے شعبہ ¿ انگریزی میں داخلہ لے لیا۔ اُسی زمانے میں چھوٹے بھائی، عصمت محمد خاں ایک ٹریفک حادثے میں ہلاک ہوگئے۔ اس سانحے اور معاشی ابتری نے تعلیمی سلسلہ منقطع کر دیا۔ 63ءمیں کراچی پورٹ ٹرسٹ کا حصہ بن گئے۔ 93ءمیںوہاںسے ریٹائر ہوئے۔
٭افتخار عارف کو ٹال دیا 
بچپن میں انگریزی جاسوسی ادب جم کر پڑھا۔ پھر سنجیدہ ادب کی جانب متوجہ ہوئے۔لائبریریوں کے چکر لگانے لگے۔لکھنے کا آغاز خاکہ نگاری سے کیا۔ گاندھی جی کی موت پر ایک نثری نوحہ لکھا تھا، جو اسکول میگزین کا حصہ بنا۔کراچی میں عزیز حامد مدنی اور اطہر نفیس جیسے شعرا کی صحبت میسر آئی۔ کبیر اور تلسی داس کوپڑھ رکھا تھا۔ جب اظہار کی خواہش جاگی، توہندی میں رچے گیتوں میں خیال ڈھلنے لگا۔ دھیرے دھیرے ادبی جراید میں تخلیقات شایع ہونے لگیں۔مدنی صاحب نے ریڈیو کے لیے خاصے گیت لکھوائے۔ ریڈیو میں ”نیوز ٹرانسلیٹر“ بھی رہے۔ فیچرز، خاکے اور بچوں کی کہانیاں لکھیں۔ یہ افتخار عارف تھے، جنھوں نے ٹی وی ڈ رامے لکھنے کی پیش کش کی۔ وہ ٹال گئے۔ پھر اطہر نفیس سے کہلوایا۔ یوں پی ٹی وی سے تعلق قائم ہوا۔ برسوں اس میدان میں مصروف رہے۔ پھر ہر شے پیچھے رہ گئی،اور انھوں نے کہانی کار کا روپ دھار لیا۔ 

٭ ساقی نے کہا،میں تجھے قتل کر دوں گا
بہ طور گیت نگار تو شناخت بنا ہی چکے تھے، کمرشل رائٹنگ پر غالب ادبیت کے پیش نظر دوستوں نے نثر میں بھی طبع آزمائی کا مشورہ دے ڈالا۔اِس ضمن میں ساقی فاروقی کا کردار کلیدی رہا۔انھوں نے اسد محمد خاں کے تراجم اور مضامین دیکھے، تو نہ صرف افسانہ لکھنے کی شرط عاید کر دی، بلکہ ایک ڈیڈ لائن بھی مقرر کر دی۔ ہنستے ہوئے کہتے ہیں، ”ساقی نے مجھ سے کہا، اب میں آﺅں گا، تو افسانہ موجود ہونا چاہیے، ورنہ میں تجھے قتل کر دوں گا۔“ 34 برس کی عمر میں یہ قدم اٹھایا۔پہلا افسانہ ”باسودے کی مریم“شاہ کار ٹھہرا۔ ایک ادبی نشست میں احمد ندیم قاسمی کے سامنے یہ افسانہ پڑھا ، تو اُنھوں نے فوراً فنون کے لیے لے لیا۔اس کی اشاعت نے پاک و ہند کے ادبی حلقوں کو چونکا دیا۔ فنون کے لیے ”مئی دادا“ لکھنے کا وعدہ کر لیا تھا، مگر اِس کی تکمیل میں پورا ایک برس لگا۔ جب مطمئن ہوگئے، تب ہی پیش کیا۔مستقبل میں ”ترلوچن“،” گھس بیٹھیا“ اور” غصے کی نئی فصل“ جیسے یادگار افسانے قلم سے نکلے۔ جید لوگوں کے ساتھ رہے۔ انھیں اپنے افسانوں کا بھی موضوع بنایا، مگرخاکہ نگاری کا تجربہ نہیں کیا۔حالاں کہ نثر کا آغاز اس صنف سے کیاتھا۔شایداس کا سبب وہ خاکہ نگار رہے ہوں، جو اس صنف تک محدود ہوگئے تھے۔ پھر طبیعت کہانی کی سمت مائل تھی۔

٭مگرناول کیوں نہیں لکھا؟ 
ناول نہیں لکھا، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ کبھی یہ خیال ہی نہیں آیا۔ ایک روز ارادہ باندھا تھا۔ کام شروع کیا ، مگر ایک باب ہی لکھ سکے۔ کہتے ہیں، ناول کی منصوبہ بندی نہیں ہوسکی۔ڈراما سیریل تیس تیس اقساط پر مشتمل ہوتی تھیں، اُن کے لیے منصوبہ بندی کرتے رہے۔ کمرشل کام بھی ضروری تھا کہ اہل خانہ کی ذمے داری تھی۔ جس محکمے میں تھے، وہاں تو لوگ کما کر کوٹھیاں بنا لیا کرتے ہیں، مگر اُنھیں یہ گوارا نہ تھا۔ بھوپال سے چلے تھے، تو والد نے نصیحت کی ، حرام سے بچنا، رزق حلال کے لیے اپنا کردار مضبوط رکھنا۔ تو خوب کمرشل لکھا۔کبھی کوئی قباحت محسوس نہیں ہوئی کہ کرشن ، منٹو اور سلیم احمد سمیت کئی بڑے ادیب بھی کمرشل لکھا کرتے تھے۔ اس کی وجہ سے تخلیقی کام میں بھی رکاوٹ نہیں آئی۔ سلیم احمد کے مشوروں کا ذکر کرتے ہیں، جو کہا کرتے تھے: ”دونوں ہاتھوں سے لکھو، سیدھے ہاتھ سے اپنے لیے، الٹے ہاتھ سے سیٹھ کے لیے ۔“ اچھا سیٹھ تلاش کرنے، اس سے معاملہ کرنے کے طریقے بھی بتائے۔ اگرچہ سلیم احمد افسانہ نہیں لکھتے تھے، اور اسد صاحب نے غزل نہیں کہی، اِس کے باوجود وہ شعر و ادب کے دشت میں اُنھیں مرشد و راہ نما قرار دیتے ہیں۔
ناول نگاری پر بات نکلی، تو قرة العین حیدر کا بھی تذکرہ آیا۔اُن کے مطابق وہ ایک پورا عہد ہےں۔ بڑے سے بڑا نقاد اردوادب میں اُن کی حیثیت سے انکار نہیں کرسکتا۔عزیز احمد اور نیر مسعود کا فکشن پسند۔ بیرونی ادب میں بورخیس اور مارک ٹوئن اچھے لگے۔ دونوں کی تخلیقات کا ترجمہ بھی کیا۔ابن صفی کی بھی تعریف کرتے ہیں۔ خواہش مند ہیں، محمد حنیف اردو میں بھی فکشن لکھیں کہ ان کا ڈھب بہت اچھا ہے۔لکھنے کی صلاحیت کو وہ عطیہ ¿ خداوندی سمجھتے ہیں۔ اردو ادب کا مستقبل ان کے نزدیک تابناک ہے۔ شرط یہ ہے کہ اردو والے امید نہ چھوڑیں، امنگ کے ساتھ لکھتے رہیں۔ جو لوگ ادب سے متعلق مایوسی کا اظہار کرتے ہیں، اُنھیں ذی شان ساحل،ثروت حسین، طاہرہ اقبال اور رفاقت حیات کی مثال پیش کرتے ہیں۔ اردو ادب، اُن کے نزدیک بین الاقوامی ادب کے سامنے کھڑا ہونے کی قوت رکھتا ہے، ضرورت اِس امر کی ہے کہ اُسے پرموٹ کیا جائے۔

٭ زندگی سے محبت کرنے والا آدمی 
وہ زندگی سے محبت کرنے والے آدمی ہیں۔ کہنا ہے، اس کے بغیر انسان کا گزارہ نہیں۔ نیم کلاسیکی موسیقی بھاتی ہے۔ دیوآنند کے مداح، معین اختر کی صلاحیتوں کے معترف ہیں۔ 65ءمیں شادی ہوئی۔ زوجہ اردو ادب کی استاد ہیں۔ خدا نے تین بیٹیوں سے نوازا۔ تینوں کی شادی ہوچکی ہے۔اُن کی خوشیاں اپنوں کی مسرت سے جُڑی ہیں۔ جاگیر داری کو ملک کا بنیادی مسئلہ گردانتے ہیں۔ سیاست دانوں کے دعوے سن کر دکھ ہوتا ہے۔ خواہش مند ہیں کہ اسکولوں کو اوطاق بنانے والوں کو جیلوں میں ڈال دیا جائے۔ ناشروں کی جانب سے ادیبوں کے استحصال کا بھی ذکر آیا۔البتہ وہ اپنے پبلشر (القا) سے مطمئن ہیں، جو کتابیں تواتر سے، اچھے گیٹ اپ کے ساتھ شایع کر رہا ہے،اوررائلٹی بھی دے رہا ہے۔
ہندوستان کی مقامی زبانوں کا ادب پڑھا۔ بالخصوص میراٹھی ادب۔ اس نے متاثر بھی کیا۔ ہم نے پوچھا،کیا سبب ہے کہ پاکستان میں مقامی زبانوں کا ادب نہیں پنپ سکا۔اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔بہ قول اُن کے، ہر زبان میں اچھے ادیب تھے، مگر وہ مرکزی دھارے کا حصہ نہ بن سکے،جس کا سبب سیاسی صورت حالات بھی ہے، اوراردو کی کم زور معیشت بھی! 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

٭ نیر مسعود ،اِس عہد کے سب سے بڑے افسانہ نویس
نیر مسعود کی نثر پڑھ کر وہ خود کو حالتِ وجد میں پاتے ہیں۔ جب ہم نے کہا، کچھ ناقدین ان کے فکشن کو آپ کے افسانوں کا ہم پلہ قرار دیتے ہیں، تو فوراً کہا،”نیر مسعود مجھ سے بڑے لکھنے والے تھے۔وہ اپنے عہد کے سب سے بڑے افسانہ نویس تھے۔ اللہ ان کی مغفرت کرے، انھوں نے مجھے بہت حوصلہ دیا۔ گو کبھی ملاقات نہیں ہوئی، مگر خط و کتابت مسلسل رہتی تھی، اور جب بھی خط موصول ہوتا، تو لگتا، ملاقات ہورہی ہے۔“پوچھا، انتظار حسین آپ کے ہم عصر تھے، Giants کے درمیان تھوڑی بہت رقابت بھی ہوتی ہے؟ ہنستے ہوئے بولے،”ہم تو کوئی Giantنہیں ۔ وہ ہمارے سینئر تھے۔اردو ادب کواُنھوں نے بہت نوازا۔ وہ اردو کا سرمایہ تھے۔ ہم ان کے حلقے میں تو شامل نہیں تھے،مگر ملاقاتیں 
 تھیں۔ لاہور جاتے، تو ان کے گھر بھی چکر لگاتے۔کانفرنسوں میں بھی ملاقات ہوتی رہتی


٭ مرشد کے ہاں ہولیں، پھر لاہور دیکھیں گے
لاہور اور اُن کا رشتہ پرانا ۔جوانی کے کچھ برس ادھر گزرے۔اب بھی وہاں سے بوئے دوست آتی ہے۔ سب سے پہلے محمد سلیم الرحمان کا ذکر آیا۔ کہتے ہیں، ”جب بھی ہم لاہور جاتے،یہ طے کرکے جاتے کہ سلیم الرحمان صاحب کی سمت ضرور جائیں گے۔ وہیںہماری القا پبلی کیشنز کے کرتا دھرتاڈاکٹر انوار ناصرسے ملاقات ہوئی، جن سے جلد ایک تعلق پیدا ہوگیا۔ اب جب بھی ہم لاہور جاتے، تو ڈاکٹر انوار کہہ دیتے: اب آپ میرے قبضے میں ہیں، جہاں چلیں گے، میرے ساتھ چلیں۔سلیم الرحمان تو گویا ان کے مرشد ہیں۔ توہم کہتے کہ ایک دفعہ مرشد کے ہاں ہو لیں، پھر لاہور دیکھیں گے۔“اس بات سے متفق ہیں کہ لاہور نے اردو ادب پر گہرے اثرات مرتب کیے۔”پنجاب کے بڑے احسانات ہیں۔ منشی پریم چند کی سب سے زیادہ کتابیں لاہور سے چھپیں، یہی معاملہ دیگر ادیبوں کا تھا۔“

٭ ہم نے جون سے سیکھا بہت
جون ایلیا سے خاصی ملاقاتیں رہیں۔ اُن کے رسالے انشا (جو بعد میں عالمی ڈائجسٹ میں ڈھل گیاتھا)کے لیے تواتر سے لکھا۔ اسی عرصے میں بے تکلفی پیدا ہوئی۔ ”ہم نے جون سے سیکھا بہت۔وہ کمال کے آدمی تھے۔لوگ اُن کے بارے میں بہت سی الٹی سیدھی بات کرتے تھے۔ البتہ ان کے انتقال سے ایک ڈیڑھ برس قبل اُن سے ملنا بند کر دیا تھا، کیوں کہ کچھ نامناسب لوگوں کا ہجوم اُن کے آس پاس آگیا تھا۔ “ہم نے پوچھا، کیا وہ نرگسیت کا شکار تھے؟ بولے’،’ آخر کے برسوں میں شایدیہ ہوگیا تھا، مگر جتنا وقت ان کے ساتھ گزارا، اس سے ہم بہت Rich ہوئے۔“





No comments:

Post a Comment